Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 61)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 61)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
روح نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا وہ تو پانی کا ایک قطرہ تک نہیں پی رہی تھی ۔ کھایا تو یا رم نے بھی کچھ نہ تھا لیکن اس کی حالت ویسی نہیں تھی جیسی کہ روح کی۔ وہ چاہتا تو اس پر سختی یا زبردستی کر سکتا تھا ۔لیکن کل جس طرح سے روح اس سے دور ہوئی تھی وہ اس پر بالکل غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
یارم ڈر گیا تھا کہیں وہ سچ میں اسے چھوڑ کر نہ چلی جائے ۔ یہ الگ بات تھی اس کی پہنچ سے دور نہیں جاسکتی تھی ۔وہ اسے جتنا نرمی برت رہا تھا وہ اتنا ہی اسے منہ نہیں لگا رہی تھی
یارم کا غصہ پیار سب کچھ بےکار جارہا تھا ۔
بس ایک ہی رٹ کے مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا پاکستان جانا ہے اس نے یار م کا دماغ خراب کر رکھا تھا ۔
آج اس نے شان اور اس کے سب ساتھیوں کو دعوت پر بلایا تھا جس کی وجہ سے آج اس کا آفس جانا بھی بہت ضروری تھا لیکن روح کو بھوکا چھوڑ کر وہ کہیں نہیں جا سکتا تھا ۔
اس لئے ایک آخری کوشش کرنے وہ اس کے کمرے میں چلا گیا ۔
اور کل سے بھی اس کمرے میں نہیں آیا تھا کیونکہ روح نے کہا تھا کہ وہ اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی وہ اسے وقت دے رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کمپرومائز کرلے ۔
کیونکہ یہ بات تو وہ بھی سمجھ چکا تھا کہ وہ کبھی اپنی مرضی سے اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہے گی
روح اب تم مجھے مجبور کر رہی ہو کہ میں تم۔ پرسختی کروں پلیز کچھ کھا لو ۔
آپ مجھے جان سے مار دیں تب بھی کچھ نہیں کھاؤں گی ۔مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔وہ غصے سے منہ پھرتے ہوئے بولی ۔اس کے ہونٹ خشک ہو رہے تھے ۔
روح میری جان کب تک بھوکا رہنے کا ارادہ ہے ۔خدا کے لئے کچھ کھالو کیوں کر رہی ہو تم یہ سب کچھ اس طرح سے بھوکے پیاسے رہنے سے میں تمہیں چھوڑ دوں گا ۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا روح یہ سوچ بھی مجھے تکلیف دیتی ہے ۔تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی کہیں بھی نہیں ۔
اس لیے یہ فضول ضد چھوڑو اور کھانا کھا لو دیکھو نا تمہاری چکر میں میں نے بھی کل سے کچھ نہیں کھایا ۔یارم کو لگا شاید وہ اسی کا احساس کرلے ۔
میں نے آپ کے ہاتھ نہیں باندھے روح کو اس کا کھانا نہ کھانا برا تو لگا لیکن وہ اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔
روح میں آخری بار پوچھ رہا ہوں تم کھانا کھا رہی ہو یا نہیں وہ اب غصے سے بولا تھا ۔
روح کو اچانک ہی اس کا تھپڑ یاد آگیا ۔
روح نے سامنے شیشے کی طرف دیکھا جہاں اس کے گال پر یارم کے ہاتھ کا نشان تھا ۔
یارم اس کے اس طرح دیکھنے پر بے اختیار مسکرایا ۔
میں کیا کروں جان جب بھی یہ نشان جاتا ہے تم ضرور ایسی کوئی حرکت کرتی ہو کہ مجھے دوبارہ سے تمہیں یہ نشان دینا پڑتا ہے ۔
لیکن اب میں کنٹرول کروں گا آئی پرومس وہ اپنے لب اس کے گال پر رکھتے ہوئے بولا جب روح اسے دھکا دے کر پیچھے ہوئی ۔
روح میں کتنی بار بتا چکا ہوں مجھے تمہاری یہ حرکت نہیں پسند ۔وہ غصے سے گھور کر بولا تھا ۔
اور مجھے آپ پسند نہیں روح غصے سے ناک پھلا کر بولی یار م بے اختیار مسکرا یا ۔شاید وہ بھو ک اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں تھی ۔مگر بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
یارم کا دل اس کی قربت کے لئے مچل رہا تھا ۔لیکن فی الحال وہ روح کو تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
ایک دن کی بھوک تمہیں ٹھیک نہیں کر سکتی تم بھوکا رہ کر اس رزق کی بے قدری کر رہی ہو تمہیں اندازہ بھی ہے یہاں لوگ کتنے دن بھوکے سوتے ہیں ۔ اور تم سیدھے طریقے سے نہیں مانتی ۔۔ لیکن میں ہونا تمہاری عقل ٹھکانے لگانے کو ۔
ایک دن کھانا نہ کھانے سے تمہاری اکڑ نہیں جائے گی ۔اب جب تک تم خود کھانا نہیں مانگو گی کوئی تمہاری مانتیں نہیں کرے گا ۔
یارم اتنا کہہ کر اٹھ کر باہر نکل گیا ۔
اس وقت شان اس کا خاص آدمی ملک اور اس کے باقی سب آدمی ان کے آفس میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے ۔
یارم نے واقعی شان کو اس کے گینگ کا بادشاہ بنایا تھا لیکن شان کو اس بات کی قدر نہیں تھی ۔
وہ دور بیٹھ کے اسے دھمکیاں دے رہا تھا لیکن اس وقت اس کے سامنے بیٹھا نظر جھکائے کھانا کھانے میں مصروف تھا ۔
اس نے نظریں اٹھا کر یار م کی طرف نہ دیکھا سچ تھا شان کی ساری دھمکیاں صرف خضر اور شارف کے لیے تھی یارم کے سامنے وہ اب بھی زیرو تھا ۔
یارم بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔
اس کے اس طرح سے نظریں چرانے پر یارم بے اختیار مسکرا یا ۔
انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس کے بعد وہ نظر اٹھانے کے قابل نہ رہے ۔یارم نے مسکرا کر سمجھانا چاہا جبکہ اس کے لہجے سے ہی شان کو خطرے کی بو آرہی تھی ۔
تم لوگ بھی کھانا کھا لو اس نے سامنے کھڑے شارف اور خضر کو دیکھا ۔
ہمارے کھانے کا ابھی وقت نہیں ہوا خضر نے مسکرا کر جواب دیا شاید وہ اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے تھے
ڈیول تم تو ہمارا ساتھ نبھاؤ ۔شان نے دوستانہ انداز میں کہا۔
میں اپنی بیوی کے ہاتھ کا کھانا پسند کرتا ہوں ۔جب سے شادی کی ہے اس کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں کرتا
وکرم کہاں ہے ۔یارم کا جواب سن کر وہ بات بدلنے لگا ۔
اسی کا تو گوشت کھا رہے ہو ۔یا رم نے دوستانہ انداز میں ان کے سر پر دھماکہ کیا ۔
جبکہ اگلے ہی لمحے ڈائننگ روم کا حال بدل چکا تھا ۔
شان اور اس کے ساتھ آئے 11 لوگ وومیٹگ کرنے میں مصروف ہو چکے تھے ۔
وکرم نے میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اس نے خود ہی مجھے مجبور کیا اس کے ساتھ یہ کروں ۔
ورنہ شاید وہ بھی آج تمہارا کھانا بننے کی جگہ تمہارے ساتھ بیٹھ کر کھا رہا ہوتا ہے ۔
لیکن اس نے میری عزت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا یارم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا ۔
شان میں نہیں چاہتا کہ وکرم کی جگہ لوگ یہاں بیٹھ کر تمہارا گوشت کھائیں۔ موقع دے رہا ہوں سنبھل جاو۔
یارم کاظمی روز روز موقع نہیں دیتا ۔
مجھے معاف کردو ڈیول مجھ سے غلطی ہوگئی میں تمہارے خلاف کبھی کچھ نہیں کروں گا ۔تم نے مجھے ڈان بنا یااور میں تمہارے ہی حلاف جا رہا تھا خدا کے لئے مجھے معاف کردو مجھ سے غلطی ہوگئی ۔
معاف کیا ہے اسی لئے ابھی تک زندہ ہو۔اگر معاف نہ کرتا تو تم جانتے ہو تمہارا حال کیا ہوتا ۔
باقی کی باتیں رات میرے گھر پہ ہوں گی ۔اسے بھی ساتھ لے آنا اس نے ملک کی طرف اشارہ کیا ۔اسے ملک کچھ گڑبڑلگ رہا تھا
تمہارا خاص آدمی ہمارا بھی خاص ہے ۔مجھے یقین ہے کہ تم یہ دعوت کبھی بھولو گے نہیں ۔یارم کی بات پے پاس کھڑے شارف نے قہقہ لگایا ۔
میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہے اس نے گھورکر شارف کو دیکھا
نہیں وہ دراصل شارف نے کچھ بولنا چاہا ۔
کچھ زیادہ ہی سر چڑتے جارہے ہو شارف کنٹرول میں رہو مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہیں تمہاری اوقات یاد کراوں۔اس نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا ۔
روح نے کچھ کھایا اس نے گھر آکر پوچھا ۔
نہیں سر انہوں نے کچھ نہیں کھایا ۔
سر آپ کے لیے کھانا لگاؤں شفا نے پوچھا ۔
نہیں ۔جب تک روح کچھ نہیں کھا لیتی اس کے حلق سے ویسے بھی کچھ نہیں اترنا تھا ۔
وہ کمرے میں آیا تو روح پرسوں والے کپڑوں میں سست سی حالت میں بیٹھی تھی اس نے ابھی تک اپنے بالوں میں گنگا نہیں کیا تھا ۔
وہ سر گھٹنوں میں دیے زمین پر بیٹھی تھی
روح یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے ۔۔۔حالت دیکھی ہے تم نے اپنی یارم نے اس کے سر پے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جب روح اسے دھکا دے کر پیچھے ہوئی۔
پلیز مجھے ہاتھ مت لگائیں دور رہیں مجھ سے ۔نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ ۔
کیوں زبردستی کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ نہیں رہنا پلیز مجھے جانے دیں یہاں سے ۔روح روتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ نے لگی ۔
روح کیوں کر رہی ہو یہ سب کچھ ۔میرے پاس وجہ میری محبت ہے ۔پیار کرتا ہوں تم سے ۔نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر ۔اور تم کس حق سے مجھ سے دور جانے کی بات کر رہی ہو وعدہ کیا تھا تم نے مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤ گی اب تم کون ہوتی ہو مجھے چھوڑنے والی ۔
عشق کرتا ہوں تم سے ۔ میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر ۔اٹھو کپڑے بدلو بال ٹھیک کرو اپنے ۔میں تمہیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا
یارم نے ایک بار پھر سے اس چھونا چاہا جب روح نے پر پھر سے اسے دھکا دے کے خود سے دور کیا ۔
روح یہ تمہاری آخری غلطی ہے اس کے بعد تمیہں ہر غلطی کی سزا ملے گی وہ غصے سے اٹھ کر باہر نکل گیا ۔
لیکن اس کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ وہ کانپ کر رہ گِی ۔لیکن ہمت نہیں ہاری ۔
اب اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ یارم مجھ سے اسے دور جانے کے نہیں بلکہ طلاق کے بات کرے گی ۔
دن سے شام شام سے رات ہوگئی یارم کمرے میں واپس نہیں آیا اور نہ ہی وہ اس جگہ سے اٹھی ۔
وہ اپنی ساری ہمت جمع کرکے یارم سے طلاق کی بات کرنے کا سوچ رہی تھی
خضر۔ شان اور ملک ابھی ابھی آ کر اس کے آفس روم میں بیٹھے تھے ۔
وہ ایک ہاتھ میں ہمیشہ کی طرح بلیٹڈ لیے دوسرے ہاتھ سے اپنا سر دبا رہا تھا ۔
شاید نہیں وہ یقیناً ٹینشن میں تھا ۔
جبکہ شان یہ سوچ رہا تھا کہ اس کو ٹینشن دینے والا کیا ابھی تک زندہ ہے ۔
وہ آہستہ آہستہ چلتی اسکے آفس روم تک ائی وہ نہیں جانتی تھی کہ اندر کون ہے اس سے پہلے کہ وہ دروازہ بجاتی وہ اس کی آہٹ پہچان چکا تھا ۔
اندر آ جاؤ بےبی ۔۔دستک دینے کے لیے اس کا ہاتھ واپس گر گیا ۔
یارم نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا
اس کی حالت دن سے بھی بدتر تھی ۔
یقیناً وہ اپنی تمام تر ہمتوں کا انبار جمع کرکے یہاں آئی تھی۔ وہ آکر اسکے قریب روکی
یار م سمجھ چکا تھا کہ اس سے ضروری بات کرنے آئی ہے
مجھے۔۔۔ آ۔۔پ سے طلاق۔۔ چاہیے می۔میں آپ کے ساتھ۔۔ ایک سیکنڈ۔۔ نہیں س۔کتی ۔۔
لڑکھڑاتی آواز میں اس نے اپنا جملہ مکمل کیا ۔
کمرے میں بیٹھے باقی تینوں وجووں پر پر قیامت گری تھی ۔
یار م مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کرتے اس کی بات پر مسکرایا تھا
یہاں بیٹھو میرے پاس اس نے ناصرف اپنے پاس رکھی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا بلکہ ہاتھ پکڑ کر اسے پاس بٹھا لیا ۔
اگلے ہی لمحے اس نے ایک بلیڈ نکالا ۔اور اس بلیڈ کی مدد سے اس کی کلائی پر ڈیزائن بنانے لگا روح نے درد کی شدت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ناکام
شاید اس درد کی بھی کوئی انتہا تھی اپنی کلائی پر ہونے والا حملہ اس نے پانچ باربرداشت کیا ۔
ہاتھ چھڑانے کی کوشش میں وہ مسلسل ناکام رہی تھی
آپ تو مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔۔؟وہ پوچھے بنا رہانا پائی ۔آنسو سے گلہ تک تر ہو چکا تھا
اس کے سوال پر وہ بے اختیار مسکرا یا
میں تم سے عشق کرتا ہوں ۔
تو ۔۔پھ۔ر یہ ۔سب ۔؟
یہ دنیا کو بتا رہا ہوں کہ میں جس سے محبت کرتا ہوں اس کی غلطیاں معاف نہیں کرتا تو جس سے نفرت کرتا ہوں ان کے ساتھ میں کیا سلوک کر سکتا ہوں ۔
اگلے ہی سیکنڈ ملک کرسی سے اٹھ گیا اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور ماتھے پر پسینے کی بے تحاشہ بوندے تھی ۔اٹھ کر کمرے سے باہر بھاگا کانپ تو شان بھی رہا تھا لیکن وہ اٹھ کر باہر نہیں گیا ۔ ۔جبکہ یارم کے ہاتھ میں ابھی تک روح کی کلآئی تھی ۔جیسے وہ ابھی بھی چھوڑنے کو تیار نہ تھا ۔
میں۔ نے ک۔کیا غلطی ک۔ی ہے ۔۔؟چھٹی بار بلیڈ اپنے ہاتھ کی طرف آتے دیکھ کر وہ پوچھنے لگی۔
میری جان تم مجھ سے دور جانا چاہتی ہو نہ مجھ سے طلاق چاہتی ہو۔۔؟ہوں۔ ۔؟
تمہارے لفظوں کی سزااس سے بُڑی ہونی چاہیے لیکن تمہارے معاملے میں میرا دل بہت نرم ہے ۔ اگر تم نے دوبارہ مجھ سے دور جانے کی بات کی تو میں اسی گھر کے اندر تمہارے لیے قبر کھود کر تمہیں زندہ گاڑ دوں گا ۔پھر روز صبح اٹھ کر اس پر فاتحہ پڑھا کروں گا ۔
اس کی کلائی کو سختی سے پکڑ کے بول رہا تھا ۔
خیر فلحال میں کچھ بہت ضروری کام کر رہا ہوں مگر تم یہ مت سوچنا کہ تمہاری سزا ختم ہوگئی اٹھو جاؤ کمرے میں ۔میں میٹنگ ختم کر کے آؤنگا پھر ہم یہیں سے شروع کریں گے ۔
وہ ایک ایک لفظ چھپاکر بولا تھا روح کو ابھی تک یقین نہ دے یار م نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ۔
