Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 97) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 97) Last Episode
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
روح تم اپنے یارم کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی
روح اٹھو پلیز دیکھو نہ میں مر جاؤں گا
پلیز اٹھ جاؤ میں کیسے رہوں گا تمہارے بغیر تم جانتی ہو میں نہیں رہ سکتا جانتی ہو نہ تم
چلو شاباش اٹھ جاؤ پلیز ہاتھ جوڑتا ہوں میں تمہارے سامنے دیکھو روح میں ہاتھ جوڑتا ہوں پلیز اٹھ جاؤ
وہ کسی دیوانے کی طرح بول رہا تھا
پلیز مجھے چھوڑ کے مت جاؤ روح میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر میں نے کہا تھا نہ تم سے میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا کہا تھا نا
پھر کیوں جا رہی ہو اٹھ ورنہ ورنہ یارم کہتے ہوئے اٹھا اور آگے پیچھے دیکھنے لگا ۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سی دیوانگی تھی ۔
وہ کمرے کی ہر چیز کی طرف نظریں دوہراتا جو چیز ہاتھ آئی اسے توڑتا چلا گیا ۔
اس کے سر پر جنون سوار تھا
کچھ ہی دیر میں صاف ستھرے کمرے کا نقشہ بدل چکا تھا ہر چیز بکھر چکی تھی صاف ستھرا کمرہ کچھ ہی دیر میں پھیلا ہوا تھا
لیکن روح کے وجود میں کسی قسم کی کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی وہ اس کے قریب آیا اسے جنجھوڑ کر رکھ دیا
بس بہت ہوگیا مزاق اٹھو ورنہ میں تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا روح میں بہت برے طریقے سے پیش آؤں گا تم میرے غصے سے واقف ہونا جانتی ہو نہ میں کیا کرسکتا ہوں اٹھو بہت ہوگیا
وہ اسے اپنے سینے میں بھیجے بولے جا رہا تھا جبکہ روح اس سے بے خبر بے جان پڑی تھی ۔
کیا ہوا ہے خضر اداس لگ رہے ہو وہ ابھی کچھ دیر پہلے کام سے واپس آئے تھے
لیلی کب سے اس کی بے چینی کو نوٹ کر رہی تھی
لیلی آج صبح سے ہی نجانے کیوں مجھے لگ رہا ہے کہ کچھ بہت برا ہونے والا ہے
مجھے روح کے پاس جانا ہے میں اسے ملنے جا رہا ہوں ۔
کچھ دیر میں واپس آ جاؤں گا خضر نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
میں بھی چلتی ہوں بہت دنوں سے میں مل نہیں سکی روح سے آج میں اور معصومہ جانے کے بارے میں سوچ رہی تھی لیکن کام کی وجہ سے نہیں جاسکی لیلیٰ نے کہا۔
روکو میں معصومہ کو بھی بولتی ہوں
اس نے اپنا فون اٹھاتے ہوئے کہا
لیکن معصومہ تو شارف کے ساتھ ڈنر پر گئی ہے خضر نے کہا ارے اب تک تو ڈنر کر چکے ہوں گے تم جانتے ہو نہ اگر اسے نہیں بتایا تو پھر بعد میں بہت ہنگامہ کرے گی لیلیٰ نے فون کیا
سنو معصومہ میں اور خضر روح سے ملے جارہے ہیں اگر تم فری ہو تو شارف کے ساتھ وہی آ جاؤ
لیلیٰ نے اسے فون کر کے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے خضر باہر نکل چکا تھا ۔
وہ لوگ گھر میں داخل ہوئے تو کچھ عجیب سا محسوس ہوا عجیب سناٹا تھا کچھ تو گڑبڑضرور تھی
یارم۔ ۔۔ شارف نے یارم کو پکارا لیکن کوئی جواب نہ آیا سامنے والا کمرا یارم کاہی تھا
معصومہ کو خاموشی سے عجیب سا خوف محسوس ہوا تو وہ شارف کے پیچھے ہوگئی
خضر بھی کافی گھبرایا ہوا تھا اس خاموشی میں کچھ تو ایسا تھا جو انہیں بےچین کر رہا تھا ان سب کو دیکھتے ہوئے لیلیٰ نے ہمت کی اور کمرے کے اندر داخل ہوئی لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی ہمت بھی جواب دینے لگی
یارم بیڈ پر بیٹھا روح کے بے جان وجود کو اپنے سینے میں بھیجے ہوئے تھا لیلیٰ نے ایک نظر مشین کی طرف دیکھا اور سب کچھ سمجھ گئی اس نے یارم کو حوصلہ دینا چاہا لیکن ہمیشہ کی طرح آج وہ یارم کو یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ سب کچھ خراب ہوچکا تھا ۔
کبھی نہ ٹھیک ہونے کے لیے شارف کو لگا جیسے کوئی دیوانہ اپنے محبوب کا آخری دیدار کر رہا ہے ۔
جبکہ معصومہ اپنی سیسکیاں روکے وہی دروازے پر رک چکی تھی ۔
خضر کو اب تک یقین نہ آیا کہ اس کی گڑیا جاچکی ہے ہمیشہ کے لئے لیکن اس نے آج بھی ہمت نہیں ہاری اسے ماموں ہونے کا نہیں بلکہ دوست ہونے کا فرض ادا کرنا تھا اس نے آگے بھر کر یارم کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا ۔
یارم کو اس کے ارد گرد کوئی محسوس ہوا تو اس کی آنکھوں میں نہ جانے کب سےرکے آنسو بارش کے قطروں کی طرح بہہ نکلے ۔
اور پھر یارم اپنی روح کو اپنے سینے میں بھیجے دھاڑیں مار مار کے رویا پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔
ایک درندہ ایک ڈیول ایک شیطان جسے ایک فرشتہ صفت لڑکی سے عشق ہو گیا ۔
اور پھر یارم نے اپنی روح کو کھو دیا ۔
جسے اس کے لیے بنایا گیا تھا یارم کو اس طرح اسے روتا دیکھ کر کوئی بھی اپنے آپ پر کنٹرول نہ کر سکا
وہ کچھ محسوس نہیں کر رہا تھا اگر اسے کچھ پتہ تھا تو بس اتنا کہ اس کی روح اسے چھوڑ کر جا چکی ہے
اس کا سب کچھ ختم ہو چکا ہے اسے لگا جیسے وہ اپنی آخری سانس لے رہا ہے
اس کی روح کے ساتھ اس کی روح بھی پرواز کر رہی ہے سب اسے دلاسہ دے رہے تھے لیکن وہ انہیں سن کہاں رہا تھا ۔
اس سے اپنے کندھے پر حرکت محسوس ہوئی پھر اس کی شرٹ کو کسی نے اپنی مٹھی میں بھیجا یارم نے بے یقینی سے اپنی دائیں طرف دیکھاخضر اس کے قریب بیٹھا رو رہا تھا جبکہ لیلیٰ بیڈ پر بیٹھی تھی شارف کچھ فاصلے پر تھا اور معصومہ دروازے کے قریب کھڑی تھی ۔
پھر اسے اپنے سینے پر ٹھنڈی سانسیں محسوس ہوئی
یا۔ ۔۔۔ر۔ ۔۔م۔ ۔۔۔ہلکی سرگوشی نما آواز میں اسی کسی نے پکارا تھا
لیکن اس نے اپنے سینے کی طرف دیکھنے کی بجائے مشین کی طرف دیکھا جس پر کوئی حرکت نہ تھی اس نے اپنا وہم سمجھ کر جھٹلا دیا
پھر اسے اپنے دل کے ساتھ ایک اور دل دھڑکتا محسوس ہوا اب مزید اس حرکت کو اگنور نہیں کرسکتا تھا وہ حقیقت میں جینے والا آدمی تھا حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا تھا ۔
لیکن وہ اسے دیکھنے پر مجبور ہوگیا ۔
روح۔ اس نے اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے پکارا جیسے یقین کر رہا ہو کہ وہ اسے چھوڑ کر نہیں گئی ۔
روح کی آنکھیں بند تھی لیکن وہ سانس لے رہی تھی ۔
اس کے لب لریز رہے تھے خضر نے بے یقینی سے دیکھا یارم روح تو زندہ ہے ۔
یارم دیکھو دیکھو روح خضرنے خوشی سے چکہتے ہوئے کہا ۔
اس کی بات سن کا شارف تیزی سے آگے بھرا ۔
لیکن یہ مشین اسے مونیٹر کیوں نہیں کر رہی شارف کا دل چاہا مشین اٹھا کر باہر پھینک آئے ۔
کیونکہ روح اس مشین کے ساتھ کنیکٹ ہی نہیں ہے دیکھو وائر زمین پر پڑی ہے لیلی نے وائرکو دیکھتے ہوئے کہا
لیکن روح بغیر مشین کے زندہ کیسے ہے مطلب
روح کیسے مشین کے بغیر سانس لے رہی ہے
وہ مجھے پکار رہی تھی میں نے روح کی آواز سنی روح بتاؤ سب کو کہ تم نے مجھے پکارا آنکھیں کھولو شاباش پلیز آنکھیں کھولو روح بتاؤ سب کو کہ تم نے مجھے پکارا تھا بتاؤ سب کو یار م اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے اس سے پوچھ رہا تھا ۔
لیکن روح کے جسم میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوئی روح بولو پلیز وہ اسے اپنی باہوں میں لیتے ہوئے یارم نے کہا تو روح نے پھر سے ذرا سی آنکھیں کھولی ہو اس کے ہونٹ ذرا سے کھلے شاید وہ مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
یار م کی سانس میں سانس واپس ایسے لگی جیسے وہ جی اٹھا ہو اس کی زندگی پھر سے شروع ہو چکی ہو ۔
اسے لگا جیسے اس کو اس کی سب سے بڑی خوشی مل گئی اسے اس کی زندگی مل گئی سے سب کچھ مل گیا
روح نے اسے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ اٹھانا چاہا لیکن نہیں اٹھا پائی تو یارم نے فوراً اس کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگایا آئی لو یو آئی لو یو سو مچ پلیز مجھے چھوڑ کے مت جانا پلیز مت جانا میں مر جاؤں گا ۔
آئی لو یو سو مچ کسی کی پرواہ کیے بغیر اس نےاپنے لبوں سے اس کے ماتھے کو چھوا ۔
روح پلیز مجھے کبھی چھوڑ کے مت جانا میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔
مجھے کچھ نہیں چاہئے تمہارے علاوہ ا سے اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے بولا تو سب بے ساختہ مسکرائے
وہ ابھی کومہ سے باہر آئی ہیں انہیں نارمل ہونے میں وقت لگے گا ان کی بوڈی پارٹس سن ہو چکے ہیں
فی الحال ان کے لیے یہ سب کچھ بالکل نیا ہے جیسے چھوٹے بچے کے لیے ہوتا ہے
جس طرح سے آہستہ آہستہ وہ سب کچھ سیکھتا ہے روح کو واپس اب کچھ سیکھنا ہوگا ۔
کومہ سے باہر جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی فورا ہی دوڑ نے بھاگنے لگے گی ان کے لئے سب کچھ بالکل نیا ہو چکا ہے
جس کے بعد انہیں ایک نئے طریقے سے نئی زندگی شروع کرنی ہوگی ۔
ان کا جسم 2 ماہ سے بے جان تھا نارمل ہونے میں واپس آنے میں واپس اپنی روٹین میں آنے میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن بہت جلدی وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی ۔
وہ خطرے سے باہر ہیں اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ وہ جینے کی امید چھوڑ چکی تھی وہ اپنے آپ کو بے جان محسوس کر رہی تھی لیکن وہ نہ صرف ہوش میں آئیں ہیں بلکہ سب کچھ سمجھ رہی ہیں آپ ان کا بہت سارا خیال رکھیں ان شاءاللہ وہ جلدی پہلے جیسی ہو جائیگی ڈاکٹر یارم کو سب کو سمجھا کر چلا گیا
تو وہ روح کے پاس آیا اسے اپنے قریب دیکھ کر وہ مسکرائی ۔
ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تم جلدی بالکل ٹھیک ہو جاؤ گی پھر سے سب کچھ اچھا ہو جائے گا بس تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ
ہو جاو گی نا ۔۔۔۔؟یار م نے محبت سے پوچھا ۔
تو روح ہلکےسے نفی میں سر ہلا دیتے ہوئی شرارت سے مسکرائی ۔
ہہہم ستالو تم مجھے لیکن جب تم ٹھیک ہو جاؤ گی تب میں بھی تمہیں بہت ستاؤں گا یارم نے شرارت سے کہتے ہوئے اس کے گالوں پر اپنے لب رکھے تو روح نے گھور کر اسے دیکھا ۔
ہاں ہاں جانتا ہوں کہ میں بالکل بھی اچھا نہیں ہوں بس یہ میرے ڈمپلز بہت اچھے ہیں یارم نے اس کی مخصوص لائن بولتے ہوئے کہا
اوہ سوری میرے نہیں تمہارے ڈمپلز بلکہ صرف ڈمپلز ہی کیوں پورا کا پورا یارم کاظمی تمہارا ہے یار م نے اس کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا
روح تمہیں پتا ہے میں نے ساری نمازیں پڑھی ہیں تم بیمار تھی تو میں نے تمہاری جائےنماز پر بیٹھ کر لمبی لمبی دعائیں مانگیں ۔
اس سے جوکچھ مانگو وہ ضرور دیتا ہے صرف تم نے مجھے نہیں میں نے بھی تمہیں دعاؤں میں مانگا ہے ۔
اور میں نے بھی لمبی لمبی دعائیں مانگی ہیں اب اسپیشل چیز مانگنے میں وقت تو لگتا ہے نہ وہ کبھی روح کی بولی ہوئی باتیں دہرا رہا تھا وہ کھل کر مسکرائی جب یارم نے اسے اپنے سینے میں بھیج لیا ۔
دو ماہ بعد۔
روح کی حالت میں کافی سدار آ چکا تھا اب وہ خود سے چلنے پھرنے باتیں کرنے لگی تھی ۔
ہاں لیکن کچھ سوچتے سوچتے بھول جاتی کچھ کرتے کر رہی ہوتی تو یاد نہ رہتا یارم صبح اسے کچھ بتاتا تو وہ شام تک بھول جاتی ۔
لیکن پھر بھی وہ کافی بہتر ہوچکی تھی تعظیم روز اسے فون کرتی ایک آدھ مارے انسان کو واپس زندگی کی طرف لانا بہت مشکل ہوتا ہے
یارم نے بڑے بھائی کا فرض نبھاتے ہوئے تانیہ اور ماریہ کی شادی اچھی جگہ پر طے کر دی تھی ۔
اور اس نے شارف اور معصومہ کی شادی بھی اسی مہینے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسے یقین تھا اس سے نہ صرف شارف اور معصومہ خوش ہوجائیں گے بلکہ روح کی بھی صحت پر اچھا اثر پڑے گا
اور ایسا ہی ہوا روح ابھی سے شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو چکی تھی اس گھر میں بہت ساری چیزیں یاد آتی تو وہ پوچھنے لگتی ۔
یا رم نے اسے گھر کے جلنے کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کی روح کو پرانی کوئی بھی بات یاد آئے وہ چاہتا تھا وہ بیانک دن کسی خواب کی طرح بھول جائےجو ان کی زندگی میں بہت کچھ بدل گیا تھا ۔
اور اب روح آہستہ آہستہ وہ دن بھولتی جا رہی تھی
شارف اور معصومہ کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی تھی اس بار روح نے زیادہ تو کچھ نہ کیا تھا لیکن پھر بھی ساری رسموں میں بھرپور حصہ لیا تھا ۔
اور شادی کو کافی انجوائے بھی کیا تھا ۔
شارف اور معصومہ کی شادی خضراور لیلی کی شادی سے بھی زیادہ مزیدار تھی کیونکہ شارف خود بہت شرارتی تھا ۔
لیلیٰ کی طرح معصومہ کی رخصتی بھی یارم کے گھر سے دھوم دھام سے ہوئی تھی ۔
اور شارف کو بھی یارم نے ایک فلیٹ گفٹ میں دیا تھا ۔
جبکہ صارم کی طرف سے ان دونوں کے ہنیمون ٹکٹ بک تھے۔
زندگی کافی بدل چکی تھی اب یارم بہت کم وہ کام کرنے لگا تھا ۔
جو کچھ اس کی زندگی میں ہوچکا تھا اس کے بعد یا رم نےاپنے دل پر پتھر رکھ کر یہ کام چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
سچ تھا وہ کچھ غلط نہیں کرتا تھا وہ ان لوگوں کی جان لیتا تھا جینے کا حق نہیں ۔
لیکن اس سب کی وجہ سے جو کچھ روح اور اس کے بچے کے ساتھ ہوا وہ بھی بھولیا نہیں جا سکتا تھا ۔
روح بھی اس کے کام میں غیر دلچسپی محسوس کر رہی تھی ۔لیکن اس معاملے میں وہ کچھ نہیں بولی
شارف پریشانی سے ان کے گھر پے آیا تھا ۔
کیا ہوا شارف بھائی آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں روح نے پوچھا ۔
کچھ نہیں مجھے یارم سے ایک بہت ضروری کام ہے وہ اسے بنا کچھ بتائے اندر کمرے میں چلا گیا ۔
یارم صارم نے بتایا ہے کہ کچھ لوگوں نے ایک چار سال کی بچی کو زیادتی کا شکار بنا کر مار ڈالا ۔
اور پھر وہ لوگ ہاتھ بھی نہیں لگ رہے بہت بڑے لوگوں کے آدمی ہیں صارم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں بالکل بے بس ہے ۔
شارف نے یارم کو بتایا تو اس کا خون کھولنے لگا ۔لیکن اس نے اپنے چہرے کو بے تاثر بنانے کی کوشش کی ۔جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑ رہا ہو
شا رف مجھے ان سب باتوں سے کوئی مطلب نہیں ہے میں یہ سب کچھ چھوڑ دینا چاہتا ہوں ۔میں اپنی روح کی زندگی کو مزید مشکل میں نہیں ڈال سکتا
میں اپنی روح کی جان پر رسک نہیں لے سکتا ۔
یارم یہ تم کیا کہہ رہے ہو تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہوئے ایک معصوم سی بچی کو ان لوگوں نے اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور تم ۔۔۔۔۔تم اتنے خودغرص کیسے ہو سکتے ہو ۔۔کیا تم بھول گئے وہ کہ تم کون ہو کیا تم بھول گئے وہ وعدہ جو تم نے بچپن میں کیا تھا ۔
یارم اس راہ پر چلتے ہوئے تم نے نہ جانے کتنی لڑکیوں کی عزت بچائی ہے تو ایک چار سال کی بچی کو انصاف نہیں دلاؤ گے ۔
شارف نے اسے بے بسی سے سمجھانا چاہا ۔
خضر نے شارف کو یہاں آنے سے پہلے منع کیا تھا خضر نے اسے بتایا تھا کہ یارم یہ سب کچھ چھوڑ دینا چاہتا ہے لیکن شارف نہیں مانا
نہیں ۔۔۔۔۔نہیں شارف میں فیصلہ کر چکا ہوں اب تم جاؤ یہاں سے ۔
یار م نے بیٹھتے ہوئے کہا جب روح کمرے میں داخل ہوئی ۔
یار م نے ایک نظراسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا گیا جبکہ وہ شارف کو اگنور کرتی تھی آہستہ آہستہ اس کے قریب آئی ۔
اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ٹوٹا ہوا کی چین اس کے طرف بڑھایا ۔
یارم اسے زندہ مت چھو ڑیے گا اس شخص کو جینے کا کوئی حق نہیں ۔اس نے اس معصوم بچی کو جتنی بھیانک موت دی ہے اس سے زیادہ خطرناک موت آپ ا سے دیں گے
جب تک وہ شخص مر نہ جائے تب تک میں آپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہوں گی ۔
روح چاقو اس کے ہاتھ میں پکڑ آتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
جبکہ یارم بے یقینی سے باہر جاتا دیکھ رہا تھا ۔
یارم نے ایک نظر سامنے کھڑے شارف کی طرف دیکھا ۔
کیا اب بھی تم اس بچی کو انصاف نہیں دلواؤ گے یارم شارف نے پوچھا ۔
نہیں شارف میں اس شخص کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا ۔
وہ غصے سے دھاڑتے ہوئے باہر نکل گیا
جبکہ شارف نے ایک شکرگزار نظر باہر بیٹھی روح پر ڈالی ۔
جو اسے دیکھ کر مسکرائی تھی ۔
روح کو یقین آ چکا تھا کہ یارم کچھ غلط نہیں کر رہا تو پھر وہ ا سے کیوں روکتی بلکہ وہ تو اس محاذ میں یارم کا ساتھ دینا چاہتی تھی ۔
تین سال بعد۔
صارم اپنی زندگی میں بہت خوش تھا ۔وہ یہ بات سمجھ چکا تھا کہ کچھ کام قانون کے دائرے میں رہ کر نہیں کیے جا سکتے ایسے کام سرانجام دینے کے لیے یارم جیسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اس لیے اب وہ یارم کو تنگ کرنا چھوڑ کر اپنے باقی فرائض سر انجام دینے لگا تھا ۔
لیکن شارف کو تنگ کرنے کا کوئی موقع پر وہ اب بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتا
خضر آکے اپنی بیٹیوں کو سنبھالو ورنہ میں نے ان دونوں کو باہر کوڑے کے ڈبے میں پھینک دینا ہے ۔
لیلیٰ نے غصے سے اسے فون کیا ۔اس کی دو سال کی بیٹیوں نے لیلی کو تنگ کرنے کی قسم کھا رکھی تھی جبکہ جب سے یہ دو شہزادیاں پیدا ہوئی تھی لیلی نے اپنے کام میں کافی کمی کر لی تھی اب وہ صرف ضرورت کے وقت ہی کام کرتی تھی ۔۔اس نے اپنی ایک بیٹی کا نام عنایت دوسری کا مہر رکھا تھا
نہیں نہیں پلیز تم دونوں کو باہر مت پھینکنا میں تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا ۔
بس کچھ لوگوں کا دماغ ٹھکانے لگانا ہے ۔۔خضرنے سمجھاتے ہوئے منت کی تھی کہیں وہ سچ میں ہی نہ اس کی شہزایوں کو باہر نہ پھینک آئے ۔
ٹھیک ہے تمہارے پاس 15 منٹس ہیں اگر تم ان 15منٹس میں واپس آگئے تو میں کچھ نہیں کروں گی ۔
اور اگر تم نے سولوا منٹ لگایا تو اپنی اور اپنی بیٹیوں کی خیر منانا وہ فون بند کرکے باہر آئی ۔
جہاں پر ایک کواس نے بیڈ کے ساتھ منی ہتھکڑی میں باندھ کے رکھا تھا تو دوسری کو اس کے کچھ فاصلے پر دیوار کے ساتھ ۔
اور وہ اپنے باپ کی لاڈلیاں اپنے ہاتھ چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی ۔وہ دونوں بہت شرارتی تھی ۔اور صرف دو سال کی ہونے کے باوجود بھی لیلی کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی
جبکہ خضر کے حساب سے لیلی ایک بہت ظالم ماں ثابت ہوئی تھی ۔جبکہ اس کی بیٹیاں تو معصوم تھی
پریگننسی کے دوران لیلی نے ہمیشہ یہی کہا کہ ایسے بیٹا چاہیے ۔
جبکہ خضر کو بیٹی چاہئے تھی ۔وہ خضر کے کہنے کے مطابق وہ اسی بات کا بدلہ اپنی بیٹیوں سے لے رہی تھی
جبکہ شارف معصومہ اپنے چھوٹے سے معصوم بچے کے ساتھ اپنی زندگی کو حسین بنا رہے تھے ۔
مصارف شکل میں بالکل اپنے باپ پر تھا ۔لیکن اس کی معصومیت بالکل اپنی ماں جیسی تھی ۔کبھی کبھی وہ اتنا معصوم بن جاتا کہ شارف حیران رہ جاتا ۔اور کبھی کبھی اس کی شرارتیں پور گھر ہلا کے رکھ دیتی۔
لیکن اس کے باوجود وہ ان کے گھر کی رونق تھا
روح کو بالکل ٹھیک ہوتے کافی وقت لگا تھا۔
لیکن اس دوران یار م نے شونو سے اچھی خاصی دوستی کرلی تھی وہ اس کے لئے بہت اہم ہو چکا تھا جب سے اس نے روح کو بچایا تھا وہ اسے اور بھی زیادہ اہمیت دینے لگا تھا ۔
یارم بہت وقت تک اس کے قریب نہ گیا ۔اور پھر آہستہ آہستہ ان دونوں میں سب کچھ ٹھیک ہوگیا
اور پھر بہت جلد ہی ایک ننھے سے فرشتے نے ان کی زندگی کو بھی جنت بنا دیا ۔
یارم اب بھی خون سے سنے ہوئے کپڑے لے کر گھر آتا جو اکثر دوسرے کمرے میں اتار دیتا ۔روح سب کچھ سمجھنے کے باوجود اکثر اس سے کہتی کہ آپ فکر نہ کریں میں یہ کپڑے صاف کر دوں گی لیکن وہ کبھی بھی اس بات کو گوارا نہ کرتا کہ اس کی روح کسی کے گندے خون کو ہاتھ لگائے ۔
اس نے اپنے گناہوں کی دنیا کو روح سے ابھی بھی بہت دور رکھا تھا ۔
وہ سب کو جانتی تھی ۔لیکن پھر بھی یارم اس کے سامنے اس طرح سے ظاہر کرتا جیسے وہ ان سب چیزوں سے انجان ہے وہ روح جلد ہی سمجھ گئی کہ یارم کو اس کا ان سب چیزوں میں انوولو ہونا پسند نہیں تو روح نے بھی ان باتوں کو اگنور کرنا شروع کردیا ۔
جبکہ یارم کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا ہی بیٹا تھا جو اسے روح کے پاس نہ بھٹکنے دیتا ۔
دیکھ رویام یہ تیری ماں بعد میں میری بیوی پہلے ہے ۔
وہ اپنے نو ماہ کے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے بولا ۔
جو کہ اسے اپنی ماں کے قریب بیٹھنے نہیں دے رہا تھا ۔
وہ کب سے اپنے ننھے ہاتھوں سے اسے مکے مارے جا رہا تھا ۔
جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ بیڈ پر سوئے گا اور وہ اپنی جگہ کہیں اور ڈھونڈ لے ۔
یار م نے اسے کسی برے آدمی کی طرح سمجھانا چاہا کہ یہ جتنی تمہاری ماں ہے اتنی میری بیوی ہے لیکن رویام صاحب سمجھیں تب نہ ۔اس کے لئے اس کا باپ اس کا سب سے بڑا دشمن تھا جو اسے بےبی کاٹ میں سولاتا تھا اور خود اس کی ماں کے ساتھ سوتا تھا ۔
یارم کیوں میرے معصوم بچے کے ساتھ ضد لگا رہے ہیں آپ جا کے سو جائیں نہ صوفے پہ جب یہ سوجائے گا تب واپس آجائے گا نا
۔روح نے ہمیشہ کی طرح اپنے معصوم سے بچے کا ساتھ دیا تو یارم اسے گھورکر اٹھاکرصوفے پہ آگیا ۔
دنیا کے ہر دشمن کا مقابلہ کر سکتا ہوں لیکن اس ایک فٹ کے دشمن کا کیسے کروں ۔وہ زبردستی رویام اس کے گال کو چومتا صوفے پر آکر لیٹا
تو رویام نے بری طرح سے رونا شروع کردیا ۔
جبکہ روح اسے گھورتی رویام کو چپ کروا رہی تھی جو روتے ہوئے بھی اپنے ڈمپلز کےخوب نمائش کر رہا تھا ۔
وہ ایک پرسنٹ بھی روح پے نا تھا ۔
اس کی آنکھیں بھی یارم کی طرح تھی
جب کہ یارم نے پہلے دن ہی اسے اپنی روح کے ساتھ سوتا دیکھ کر اسے اپنا دشمن کہا تھا جو اس کی گود میں آتے ہی بری طرح سے رونے لگا ۔روح اور یارم نے اپنا نام جوڑ کر اس کا نام رویام رکھا تھا ۔جس نے ان کی زند گی کو جنت بنایا تھا ۔
ختم شد
