Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 68)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 68)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
ملک تم میری اتنی ہیلپ کر رہے ہولیکن مجھے ایک بات کا جواب تو دو شارف نے بات کا آغاز کیا
ہاں بولو کیا پوچھنا چاہتے ہو
تم میری اتنی مدد کیوں کر رہے ہو میرا مطلب ہے تمہاری خضر کے ساتھ کیا دشمنی ہے ۔شارف نے پوچھا
میری اس کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن وہ کیوں بیکار میں ڈیول کی نظر میں اتنا اہم بنا ہوا ہے جبکہ اس میں ایسا کچھ نہیں تم اس سے بہتر ہو ۔
لیکن پھر بھی تمہیں سب میں کیا فائدہ ۔اب تم اتنے اچھے تو ہو نہیں کہ میرے پیار میں یہ سب کچھ کر رہے ہو ۔شارف نے پوچھا
مجھے یہ فائدہ کہ خضر کو نکال کر تم مجھے ڈیول کی ٹیم میں لاوگے شان کے ساتھ کام کرنے کا کیا فائدہ وہ خود ایک غلام ہے ۔
اس کے ساتھ غلاموں والی فیلنگ آتی ہے جبکہ ڈیول کے ساتھ چلتے ہوئے ایسا لگتا ہے ۔جیسے ونر جا رہا ہو
شان کے ساتھ ہی کیا ۔۔کچھ بھی نہیں وہ خود بھی زیرو ہے اور اپنے ساتھ اپنے سارے ساتھیوں کو بھی زیرو کر رہا ہے ۔
ہممم۔ ۔ویسے تم یہ سب کچھ کس کے لئے کر رہے ہو شارف نے پوچھا
میں یہ سب کچھ اپنے لئے کر رہا ہوں شارف مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں ۔
یہاں پر جینے کے لیے اپنے لیے سب کچھ کرنا پڑتا ہے ۔
میں ڈیول کی نظروں میں آنا چاہتا ہوں اس کے لئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔
تم تو صرف اس کی بیوی کو اٹھارہے ہو میں اس کی بیوی کو مار بھی سکتا ہوں ۔
ملک نے سگریٹ جلاتے ہوئے کہا ۔
ایسا سوچنا بھی مت وہ بہت پیار کرتا ہے اس سے روح ڈیول کی کمزوری ہے
اسی لیے تو میں پہلا حملہ ہی اس کی کمزوری پر کر رہا ہوں ملک نے ہنستے ہوئے کہا
وہ گھر آیا تو روح اب بھی منہ بنائے بیٹھی تھی
وہ ہنستے ہوئے اس کے قریب آیا
میڈم آپ نے کہا تھا آپ خود ہی راضی ہوجائیں گی تو پھر کب تک ارادہ ہے آپ کا راضی ہونے کا وہ اس کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگا
شسش میں ڈرامہ دیکھ رہی ہوں پلیز مجھے ڈسٹرب نہ کریں روح نے انگلی منہ پر رکھتے ہوئے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔
یارم نے ایک نظر سکرین پر دیکھا جہاں کوئی انڈین ایکٹریس اپنے تمام تر جلوے بکھیرے ڈانس کر رہی تھی ۔
روح کیا ناچ گانا دیکھ رہی ہو ۔روح ادھر دیکھو نہ میری طرف میں بات کر رہا ہوں تم سے ۔یارم نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا
کیا مسئلہ ہے ڈرامہ دیکھنے دیں مجھے ۔اور آپ بات کیوں کر رہے ہو مجھ سے میں ناراض ہوں آپ سے ہٹے پیچھے وہ اس سے تقریبا ایک فٹ کا فاصلہ بناتے ہوئے بولی ۔
ہاں تو میں منانے کی کوشش کر رہا ہوں نا یارم اور اس کے قریب ہوا
میں نے کہا تھا میں اپنے آپ راضی ہو جاؤں گی تو پھر آپ کیوں کوشش کر رہے ہیں پرے ہٹے سکون سے ڈرامہ دیکھنے دیں مجھے ۔
روح۔۔۔ یارم نے لاڈ سے پکارا ۔
یارم اٹھیں یہاں سے آپ میرا ڈرامہ خراب کر رہے ہیں روح نے ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے تم راضی ہو جاؤ پھر تم ڈرامہ دیکھ لینا جب تک تم راضی نہیں ہوتی میں تمہیں کوئی ڈرامہ نہیں دیکھنے دوں گا
آپ جائیں یہاں سے تو شاید میں آپ سے راضی ہونے کے بارے میں کچھ سوچ سکتی ہوں ۔۔روح نے منہ بنا کر کہا تو یار م کے ڈمپل نمایاں ہوئے
مطلب ڈرامہ اتنا امپورٹڈ ہے ۔میاں جائے بھاڑ میں یارم نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا ۔
ہاں تو میں ناراض ہوں نا روح نے کسی مجرم کی طرح یاد دلایا ۔
ہاں تو میں منا رہا ہوں نا وہ بھی اسی کے انداز میں بولا ۔
لیکن میں خود راضی ہوجاؤں گی روح نے سمجھانا چاہا ۔
روح تمہارے پاس دو گھنٹے ہیں اگر تم راضی ہو سکتی ہو تو ہوجاو ورنہ پھر میں تمھیں اپنے طریقے سے مناؤں گا ۔
یارم اٹھ کر اندر چلا گیا ۔
بندہ اپنی مرضی سے ناراض بھی نہیں ہوسکتا اپنی مرضی سے راضی بھی نہیں ہو سکتا روح اونچی آواز میں بول رہی تھی ۔
ہاں تو کس نے کہا ہے اتنے یونیک اسٹائل میں ناراض ہونے کے لیے وہ کہاں پیچھے رہنے والا تھا کہتا ہوں اپنے آفس روم میں چلا گیا ۔
ایک بات تو بتاو لیلیٰ اگر سر خضر نے تمہیں پرپوز کیا ہے تو تم ان سے شادی کے لئے ہاں کیوں نہیں کردیتی
اب تو تم بھی انہیں پسند کرتی ہومعصومہ اس کے پاس بیٹھ کر کہنے لگی
اس نے مجھے ابھی آکر پوز نہیں کیا معصومہ ڈیڑھ مہینہ پہلے کیا تھا اب کیا میں اتنے پرانے پرپوزل ہاں کروں گی ۔
اسے چاہیے کہ اب پھر سے مجھے پروپوز کرے ۔
میں پرانے پرپوزل پہ ہاں نہیں کرنے والی اسی چاہیے کہ ایک بار پھر سے مجھے اپنی محبت کا احساس دلائے ۔
اگر وہ اس امید پہ بیٹھا ہے کہ اس نے مجھے جو ڈیڑھ مہینہ پہلے پرپوز کیا ہے میں اس پہ ہاں کرو گی تو یہ اس کی غلط فہمی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔
لیلی ایک اداسے کہتی پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی جبکہ معصومہ نے اپنے پیچھے کھڑے خضر کو دیکھا ۔
جو اسی کے کہنے پر لیلیٰ سے یہ سوال پوچھ رہی تھی ۔
وہ بنا اس سے کچھ کہے اپنے کیبن کی طرف آگیا
محترمہ کو ڈیڑھ مہینے والا پرپوزل پرانا لگ رہا ہے اب پھر سے پرپوز کرنا پڑے گا ۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا کیونکہ اس بار اسے امید تھی کہ لیلیٰ اسے انکار نہیں کرے گی ۔
یارم نے آوٹنگ کا پلان بنایا ہے وہی میں لیلیٰ کو پروپوز کرونگا ۔وہ مسکراتے ہوئے سوچ رہا تھا
تمہیں یقین ہے ڈیول گھر پر نہیں ہے ۔اگر وہ گھر پہ ہوا نہ تو بہت پرابلم ہو جائے گی
میں نہیں جارہا شارف نے قدم پیچھے کرتے ہوئے کہا
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا ہم پوری پلاننگ کر کے آئے ہیں اور اب تم اندر جانے سے منع کر رہے ہو ملک نے غصے سے اس کی طرف دیکھا
مجھ سے نہیں ہوگا میں یہ نہیں کر سکتا وہ کافی ڈرا ہوا تھا شاید اسے ڈیول کا ڈر تھا
بکواس بند کرو شارف اندر چلو میرے ساتھ ورنہ تمہارے حق میں بہتر نہیں ہوگا اگر پکڑا گیا تھا تو تمہارا نام سب سے پہلے لوں گا اب وہ غصے سے بولا ۔
وہ زبردستی سے اپنے ساتھ لے جا رہا تھا ۔جب اسے لگا کے کسی نے اس کے سر پر کچھ مارا ہے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو خضر کھڑا تھا ۔
جبکہ ملک زمین پر بے ہوش پڑا تھا
کسی نے اس پر ٹھنڈا پانی پھینکا وہ ہر بڑا کر اٹھا تھا ۔
آنکھیں کھول کے دیکھا تو ایک کرسی کے ساتھ بندھا تھا جبکہ خضر اس کے سر پر کھڑا تھا ۔
اس نے آگے پیچھے نظر گھما کر دیکھا ڈیول سامنے کرسی پر بیٹھا تھا جبکہ شار ف یہاں کہیں نہیں تھا
میں تمہارے پیچھے ہوں میرے عزیز دوست مجھے یہاں دیکھو ۔کسی نے بہت پیاری سی آواز میں کہا تھا ۔
غصے سے ملک کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔
جبکہ خضر نےاس کا چہرہ دیکھ کر قہقہ لگایا تھا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے دھوکا دینے کی ۔ملک سمجھ چکا تھا کہ یہ سب کچھ شارف کی چال تھی وہ اسے پھسا رہا تھا اور کچھ حد تک کامیاب بھی رہا تھا
جب یارم آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آیا
میرے خلاف جنگ کر رہے تھے مجھے برا نہیں لگا لیکن تم میرے معصوم بیوی کو اٹھنے والے تھے ۔
تم میری بیوی کو کڈ نیپ کرنے والے تھے ۔
وہ بھی میرے آدمی کے ساتھ مل کر تمہیں لگا کہ میں ایسا ہونے دوں گا کیا واقع ہی اتنا آسان ہے یہ ملک ۔وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔
جب کہ اس کے ہاتھ میں بلیڈ وہ پہلے ہی دیکھ چکا تھا
تم مجھے نہیں مار سکتے ڈیول کیونکہ تم جانتے ہو اگر میں نے تمہیں نہیں بتایا کے تمہارے خلاف پلیننگ کون کر رہا ہے تمہیں اور کوئی نہیں بتا پائے گا صرف میں جانتا ہوں کہ وہ کون ہے
جو تمیں پھنسانا چاہ رہا ہے تمہاری جگہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تم جانتے بھی نہیں ہو تمہارے ساتھ کیا کیا کرنے کے بارے میں سوچ ریا ہے ملک ہنستے نے ہوئے کہا اس کے چہرے پر کوئی ڈر نا تھا اس کے ہنسنے پر یار م بھی ہنسنے لگا
اور تمہیں لگتا ہے ملک تم وہ واحد آدمی ہو جسے وہ بھیجے گا یہاں تمہارے بعد بھی بہت آئیں گے ۔
اور تم سب لوگ صرف پلیننگ کر سکتے ہو تم اور تمہارا باس پھر مجھے ٹریپ کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہو کر نہیں سکتے
میری معصوم بیوی کو اس میں نہیں گھسیٹنا چاہیے تھا یارم غصے سے بولا اس کے اندر کا درندہ جاگ چکا تھا جسے وہ بہت دنوں سے سلائے ہوئے تھا ۔
یارم کا بلیڈ اس کے جسم پر کسی سانپ کی طرح رنگنے لگا ۔تھوڑی دیر میں اس کا پورا جسم لوہولوہان ہوچکا تھا وہ چیخ رہا تھا یارم کو اس کی چیخیں سکون دے رہی تھی
یارم نے اس کے جسم کا ایک ایک حصہ الگ کیا ۔
اس کی چیخوں کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی یہ حال گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھا
جس کا آج پہلی بار استعمال کیا گیا تھا ۔
وہ روح کو دو گھنٹے کا وقت دے کر آیا تھا لیکن اب آدھی رات سے بھی وقت اوپر جا چکا تھا اسے واپس جانا تھا نہ جانے روح اب تک سو چکی ہوگی ۔
اس کے کپڑے خون سے رنگے ہوئے تھے ۔
اس نے اب یہی دعا مانگی کہ روح سو ہی جائے کیوں کہ اگر اس نے سے اس حالت میں دیکھ لیا تو اسے مزید بدظن ہو جائے گی ۔
ملک کو اتنی بری موت دینے کے بعد بھی اس کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا
وہ وہی بیٹھ کر مزید وقت گزرنے کا انتظار کرنے لگا
رات کے تقریباً ڈھائی بجے وہ اپنے گھر میں داخل ہوا ۔
اس کی شرٹ خون سے لت پت تھی اور جسم سے بہت گندی بدبو آرہی تھی ۔
آنکھیں سرخ انگارے کی مانند تھی بال بُری طرح بکھر چکے تھے ۔اس کے اندر کادرندہ سینہ تانے کھڑا تھا ۔
اسے یقین تھا وہ سوچکی ہوگی ۔بیڈ روم میں جانے کی بجائے دوسرے کمرے میں گیا ۔اپنے جسم سے خون آلودہ گندے بدبودار کپڑے الگ کرکے اس کمرے میں ضرورت کے وقت پہننے والا کالا کُرتاشلوار سوٹ نکالا۔
کپڑے چینج کر کے وہ باہر آیا ۔اور ان گندے کپڑوں کو آگ لگا کر جلا دیا ۔
پرسکون ہو کر اپنے بیڈ روم میں آگیا ۔
جہاں اس کی روح مکمل حسن اور معصومیت لیے سو رہی تھی ۔
وہ دو دن سے اس سے بہت ناراض تھی۔ سنجیدگی نے شیطانی مسکراہٹ کی جگہ لے لی ۔
ابھی ابھی کالا کُرتا جو پہن کر یہاں آیا تھا ایک لمحے میں اتار کے اس کے منہ پر دے مارا ۔وہ بلبلا کر اٹھی۔
سامنے کھڑا یارم مکمل یقین کر کے وہ پورے ہوش و حواس میں اٹھ چکی ہے اس کے قریب بیٹھ گیا ۔
ہاتھ پکڑ کے اسے گھسیٹ کے اپنے قریب کیا ۔مجھے لگتا تھا تم مجھ سے ناراض ہو تو مجھے منانا چاہیے اب تم راضی نہیں ہو رہی تو مجھے اپنا فرض پورا کرنے دو ۔بہت معصومیت سے کہا ۔
جب کہ اس کے چہرے کے شیطانی مسکراہٹ صاف بتا رہی تھی کہ اس کا منانا اس کی محبت سے بھی زیادہ شدت پسندہوگا۔
روح نے ایک پل میں ہاتھ چھڑا کر اس سے فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کی ۔
لیکن یارم کی ایک ہی گھوری سے وہ اندر تک کانپ گئی۔
یارم نےگھورنا نہ چھوڑا تو خود ہی اس کے قریب آگئی
گڈ گرل ۔کھینچ کے اپنی باہوں میں لے کر ایک ہی پل میں ہی اسے بے بس کر کے گیا ۔
لیکن سچ تو یہ تھا کہ اس کے سامنے یارم خود بے بس تھا ۔
۔کیونکہ یارم کے اندر کا درندہ بھی روحِ نور سے عشق کرتا تھا۔
او اس کے عشق کے سامنے روح بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی
