Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 63)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 63)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
وہ لوگ مائرہ کو واپس گھر پہنچا چکے تھے ۔
جس کی وجہ سے اب صارم کافی پر سکون ہو چکا تھا ۔
لیکن اسے روح کے لئے برا لگ رہا تھا جو یارم کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی ۔
وہ اپنی مرضی سے گئی تھی وہاں پہ ۔لیکن پھر بھی صارم ایک آخری بار اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا وہ یارم کے ساتھ رہنا چاہتی ہے ۔
اسی لئے آج اس نے روح کے گھر جاکر اسے ملنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
اگر وہ یارم کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو وہ کوٹ کے تھرو اسےطلاق دلوا سکتا تھا ۔
یارم اس طرح سے کسی لڑکی کی زندگی برباد نہیں کرسکتا ۔
وہ روح کو زبردستی اپنے ساتھ رکھ سکتا نہیں ہے بے شک وہ سے پیار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔لیکن وہ اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرنے دے گا ۔
صبح یارم نے اپنے ہاتھوں سے اسے ناشتہ کروایا شاید اسے اپنے ہاتھ میں بالکل بھی تکلیف نہیں تھی یا اس کے سامنے اپنی تکلیف پر کنٹرول کیے ہوئے تھا۔
جبکہ روح بنا کچھ بولے آرام سے اس کے ہاتھ سے کھانا کھا رہی تھی ۔
اب اسے اس شخص کا کوئی بھروسا نہ تھا نجانے یہ انسان کیا کیا کرسکتا تھا وہ بنا سوچے سمجھے اپنے آپ کو تکلیف پہنچا سکتا تھا تو روح کو کیوں نہیں ۔
خضر نے اسے بتایا تھا کہ وہ اپنے غداروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے روح بھی تو غدار تھی ۔
اتنا مت زور ڈالو اپنے ننھے سے ذہن پر اس کوسوچوں میں الجھا دیکھ کر بولا ۔
آج شام باہر ڈنر کرتے ہیں ۔بلکہ کچھ دنوں میں میں کہیں آوٹینگ کا پلین بنا تا ہوں ۔
میں دیکھ رہا ہوں اس سب کی وجہ سے ہمارے رشتے میں بہت دوری ہوگئی ہے ۔لیکن میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا ۔
سب کچھ پہلے جیسا ۔ میں ایک دو ضروری کام نپٹاکر جلدی واپس آ جاؤں گا ۔
اپنا خیال رکھنا ۔۔
وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا نکل گیا ۔جبکہ روح نہ جانے کتنی دیر وہیں بیٹھے دروازے کو دیکھتی رہی ۔جہاں سے یارم نکل کر گیا تھا ۔
مجھے مسز یارم سے ملنا ہے صارم نے آ کر چوکیدار سے کہا۔
آئی ایم سوری سر ہم کسی کو اس طر ح سے اند نہیں بھیج سکتے
بہتر ہوگا کہ آپ سر کی موجودگی میں آئیں۔ وہ ادب سے معذرت کرتے ہوئے بولا ۔
آپ اندر جا کے ایک بار روح کو بتائیں تو سہی کے انسپکٹر صارم اس سے ملنا چاہتا ہے ۔وہ ضرور مجھ سے ملنا چاہے گی صارم نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
سر یہ بات میڈم کو نہیں بلکہ سر کو بتانا ضروری ہے کیونکہ سر کی اجازت کے بغیر اندر کوئی نہیں جا سکتا ۔
اور اگر آپ سیدھی طرح سے یہاں سے نہ گئے تو مجھے مجبوراً ڈیول سر کو فون کرنا ہوگا ۔
اس بار چوکیدار برہم ہوا شاید وہ بھی اس کے بارے میں جانتا تھا ۔
دیکھو میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو میرا روح سے ملنا بہت ضروری ہے ۔
اس نے اپنی جیب سے کچھ نوٹ نکالتے ہوئے اس کے ہاتھ میں رکھے ۔
سر یہ غلطی نہ کریں ہم اتنے گئے گزرے نہیں کہ چند نوٹوں کے لیے اپنی ایمانداری بیچ دیں۔ چوکیدار نے اسی کے انداز میں نوٹ واپس اس کے ہاتھ میں رکھے ۔
عجیب ڈھیٹ انسان ہے جانے کا نام ہی نہیں لے رہا روح باہر آئی تو شفا کو بڑبڑاتے ہوئے سنا ۔
تو جھانک کر دیکھنے لگی کہ کون ہے ۔
چوکیدار انہیں اندر آنے دو۔ اس نےصارم کو تو نہ دیکھا تھا لیکن اس کی آواز پہچان چکی تھی ۔
لیکن میڈم سرنے ۔۔۔
جتنا کہا ہے اتنا کرو ۔۔وہ غصے سے بولی تو چوکیدار سر جھکا گیا ۔جبکہ صارم اندرآچکا تھا ۔
وہ صارم کو لے کر اندر آ گئی ۔
بیٹھو روح میں تم سے بہت ضروری بات کرنے والا ہوں میں جانتا ہوں یہ تمہارے لیے بہت مشکل ہوگا لیکن اگر تم آسان زندگی چاہتی ہو تو تمہیں یہ کرنا ہوگا ۔صارم نے بات شروع کی
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں میں کچھ سمجھی نہیں ۔وہ جانتی تھی کہ وہ یہاں اسی لیے آیا ہے تاکہ اسے یہاں سے نکال سکے لیکن وہ سمجھ چکی تھی کہ اس کا یارم سے دور جانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔
وہ کبھی اسے خود سے الگ نہیں ہونے دے گا ۔
روح میں تمہارے لئے طلاق کے کاغذات بنوا کر لایا ہوں
اگر تم ان پر سائن کر دو تو میں آسانی سے تمہاری طلاق کروا کے تمہیں یہاں سے بھیج سکتا ہوں اور پھر یارم بھی کچھ نہیں کر پائے گا ۔
میں جانتا ہوں یارم جیسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔
میں تمہارے لئے بس اتنا ہی کر سکتا تھا اس نے کاغذات اس کے سامنے رکھتے ہوئے پین اس کے ہاتھ میں تھمایا ۔
روح نے ایک نظر ان کاغذات کو دیکھا جب ایک دھماکے کے ساتھ دروازہ کھلا
اور اگلے ہی لمحے صارم کے منہ پر ایک زور دارمکا لگاجس سے وہ دور زمین پر جا گرا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم رکھنے کی وہ دھاڑتے ہوئے اس کے قریب آیا ۔
تم مجھ سے میری روح کو دور کرنا چاہتے ہو اس نے صارم کے گربان کو پکڑ کر اسے دوبارہ کھڑا کیا ۔
جبکہ اس کے اس طرح سے آنے پر روح کونے میں کھڑی ڈر کے مارے کانپ رہی تھی
بہت لحاظ کر لیا میں نے تمہارا آج میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا یارم نے اسے ایک زوردار جھٹکا دیا اور ساتھ ہی اپنی جیب سے پستول نکالا
جب خضر اور شارف تیزی سے اس کی طرف آکر ا سے تھامنے کی کوشش کرنے لگے ۔
اور خضر نے بڑی مشکل سے اس کے ہاتھ سے پستول نکالا ۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ روح کے سامنے ایسی کوئی حرکت کرے جس سے وہ اسے مزید ڈر جائے
وہ تینوں کسی ضروری کام کے لیے جارہے تھے جب چوکیدار نے فون پر اسے صارم کے یہاں آنے کی خبر دی۔یارم اپنا کام چھوڑ کر گاڑی سیدھی اپنے گھر کی طرف لے آیا ۔
کیا کرنے آئے تھے تم یہاں کیا کہہ رہے تھے تم روح سے وہ غصے سے پوچھ رہا تھا جبکہ شارف ٹیبل پر سے طلاق کے کاغذات اٹھا چکا تھا ۔
یہ تو طلاق کے پیپر ہیں شارف نے پیپرز دیکھتے ہوئے کہا یارم نے بے یقینی سے روح کی طرف دیکھا ۔
اور پھر نہ جانے کتنی دیر اس کی طرف دیکھتا رہا جو کبھی یارم کو تو کبھی ان کاغذات کو دیکھ رہی تھی ۔
اس بار تم نے حد کردی روح تمہاری یہ غلطی واقعی معافی کے قابل نہیں بہت ہی شوق چڑھا ہے تمہیں مجھ سے دور جانا ہے مجھ سے طلاق چاہتی ہو تم ۔
آج کے بعد تمہارے دماغ میں کبھی ایسی بات نہیں آئے گی ۔ایسا سوچنے سے پہلے ہزار بار تمہاری روح کانپے گی۔
یارم غصے سے کہتا اسے گھسیٹتے ہوئے بیسمنٹ کی طرف لے جانے لگا ۔
یارم مجھے۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔۔۔ پتا اس۔۔۔۔ بارے میں ۔۔پلیز۔ میرا یقین ۔۔۔۔۔کریں میری۔۔۔۔۔۔ بات سنیں ۔۔۔
روح اس کے ساتھ کھچتے روتے ہوئے بتانے لگی ۔
لیکن یارم کو اس بات کی پروا نہ تھی ۔
کہ وہ اس سے کیا کہہ رہی تھی ۔یارم نے بیسمنٹ میں آکر ایک دروازہ کھولا اور روح کو اندر ڈال کرکے دروازہ بند کردیا ۔
یہ تمہاری زندگی کی آخری غلطی ہے ۔
اس کی بعد تم مرتے دم تک ایسا کچھ کرنے کے بارے میں نہیں سوچو گی۔
یارم دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا
جبکہ صارم کو وہاں سے نکال کر شارف اور خضر بھی نیچے آ چکے تھے ۔وہ سمجھ چکے تھے اس بار بات یارم کے بس سے باہر جا چکی ہے
یارم پلیز مجھے یہاں سے باہر نکالیں ۔کیوں قید کیا ہے آپ نے مجھے نہ باہر نکالیں مجھے یہاں سے آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے وہ زور زور سے دروازہ کھٹکھٹاتی چلا رہی تھی ۔
شارف بھائی خضر بھائی کوئی تو کھولو ۔یہاں بہت اندھیرا ہے ۔پلیز مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔
اپنی بے بسی پر وہ روتے روتے اور زور سے چلانے لگی
دروازہ کھولو ۔پلیز کوئی دروازہ کھولو ۔
یہ بہت ہی چھوٹا سا کمرہ تھا یہاں ایک سے زیادہ انسان کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ۔
بیٹھنا تو بہت دور کی بات ۔ یارم کوئی اس سے بہت دور نہ تھا ۔بس کچھ انچ کے فاصلے پر تھا ۔اور انہی انچوں کے درمیان ایک دروازہ تھا ۔جس کی ایک سائیڈ روح اور دوسری سائیڈ یارم تھا ۔
اس کے سامنے شارف اور خضر کھڑے تھے
وہ زور زور سے چلا رہی تھی۔
لیکن یار م دروازے کے ساتھ کھڑا تھا ۔اسے روح کی کسی چیخ کسی پکار کا کوئی اثر نہ تھا ۔
روح چلاتے چلاتے تھک لگی۔ جب اسے لگا کے اس کے جسم پر کوئی چیز رینگ رہی ہے ۔
اگلے ہی لمحے سے پتہ چل گیا وہ چیز ایک بہت بڑا سانپ ہے ۔بے اختیار اس کی چیخ بلند ہوئی ۔
لیکن دروازے کے پار کھڑے شخص پر کوئی فرق نہ پڑا تھا ۔
ڈیول مجھے لگتا ہے شارف ایک قدم آگے بڑھا ۔
شسش۔ روح نے غلطی کی ہے شارف اسے سزا ملے گی۔
مجھ سے زیادہ پیار نہیں کرتے تم اس سے ۔اگر میں برداشت کر رہا ہوں تو تم بھی برداشت کرو ۔اور اگر نہیں کر سکتے تو چلے جاو یہاں۔
ڈیول کے کہنے کی دیر تھی شارف سے اس کی چیخیں برداشت نہیں ہو رہی تھی وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔
پلیز نکالو۔ ۔۔۔۔پلیز نکالو ۔۔۔۔۔ششش۔ ۔۔شارف بھائی ۔۔۔۔۔خضر بھائی۔۔۔۔۔۔ یارم ۔۔۔۔کوئی تو کھولو ۔
روح کی سانسس تھامنے لگی تھی ۔
وہ چیخے جا رہی تھی۔ اس کا سارا جسم کانپنے لگا تھا سانپ اس کے پورے جسم پررینگ رہا تھا ۔
روح کو لگا کہ جیسے اس کاخوف سے موت تک کا سفر شروع ہوچکا ہے
