Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 92)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

وہ ابھی ابھی ہوٹل میں پہنچا تھا سر آپ کاروم سیٹنگ فلور پر ہے بیرانے آکر بتایا

روم کیوں بک کروا دیا ہم تو بس ملنے والے تھے

مطلب خضر نے اسے روح کے ساتھ وہ پرسکون سا وقت دینے کے لیے روم بک کیا۔

وہ مسکراتے ہوئے روم کی طرف جانے لگا اسے لگا تھا روح ابھی تک نہیں آئی ہوگی لیکن بیڈ پر اس کا عبایا دیکھ کر وہ مسکرایا

واش روم کا دروازہ بند تھا وہ مسکراتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا

ہیلو لیلیٰ میرا مطلب ہے لیلیٰ مامی یارم کمرے میں آگئے ہیں میں کیسے ان کے سامنے جا سکتی ہوں لیلیٰ اور خضر اسے روم میں چھوڑ کر جا چکے تھے اور وہ واش روم میں خود کو قید کئے ہوئے تھی

روح دیکھو جو میں نے کہا ہے اگر تم نے نہیں کیا تو دیکھنا میں تمہاری وہ پٹائی کروں گی کہ بس بھولو مت میں تمہاری مامی ہوں اور مامیاں بہت ظالم ہوتی ہیں لیلیٰ نے اسے ڈراتے ہوئے فون بند کر دیا

کیوں کہ سامنے سے خضر آرہا تھا اس کے لیے آئسکریم لے کر یہ لیں میڈم آپ کی آئس کریم خضر نے آئس کریم اسے دیتے ہوئے کہا

تھینکیو لیلیٰ مسکرا ئی

ویسے ایک بات تو بتاؤ یہ تانیہ تمہارے ساتھ زیادہ نہیں چپکتی لیلیٰ نے جتانچتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اچھا شاید خیر کیا فرق پڑتا ہے وہ بھی میری بھانجی لگتی ہے خضر نے لاپرواہی سے کہا

او ہیلو مجھے فرق نہیں پڑتا کہ وہ رشتے میں تمھاری کیا لگتی ہے اور ویسے بھی تمہاری بھانجی کے طور پر میں صرف روح کو ہی قبول کر سکتی ہوں اس لیے بہتر ہوگا کہ اس سے کہ پاس زیادہ مت جاؤ ورنہ لیلی نے سیریس انداز ماس سے دور رہو ورنہ لیلیٰ نے واڑن کیا وہ تو خضر نے مسکرا کر ہاں میں گردن ہلائی

گڈبوائے لیلیٰ نے کہتے ہوئے بے ساختہ اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوا

لیلی یہ پاکستان ہے خضر نے یاد دلایا

تو کیا پاکستان میں اپنے ہیبی کو پیار کرنا الاؤڈ نہیں ہے لیلی نے معصومیت سے پوچھا

الاؤڈ ہے میری جان لیکن صرف اپنے کمرے میں

یوں باہر سرعام نہیں خضرنے سمجھایا تو لیلیٰ سوری بول کر بات ختم کر چکی تھی جبکہ خضر جانتا تھا کہ اس کی بات کو وہ بالکل بھی نہیں سمجھی

سنیں امی کی بہو باہر نکل آئیں

ورنہ مجھے بتا دیں میں چلا جاتا ہوں یارم اسے دیکھنے کے لئے جتنا بے چین تھا وہ اتنا ہی اس کا ضبط آزما رہی تھی اب یار م نے باقاعدہ واش روم کا دروازہ کھٹکھٹایا

جی یارم میں بس آ رہی ہوں روح بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اپنے آپ کو کونفیڈینس ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دروازہ کھولنے لگی

ہمت کر روح یارم پر تو نے یہ بات ثابت کرنی ہے کے تو پرانی نہیں بلکہ نئی روح اسٹائلش اور کانفیڈنٹ روح نے اپنے آپ کو ہمت دیتے ہوئے قدم باہر کی طرف اٹھائے

جہاں یارم بیچینی سے کمرے کے چکر کاٹتے ہوئے سگریٹ پی رہا تھا۔

جب موڑا تو نظر اسکی جینز پر شوٹ ریڈ ٹوپ پر پڑی سارے بال پونی ٹیل میں باندھے ہونٹوں پر گہری لال لپسٹیک لگائی پیروں میں ہائی ہیل پہن کسی بھی اینگل سے وہ اس کی سیدھی سادی روح نہیں لگ رہی تھی

ایک پل کے لیے یارم اس کے روپ میں کھو سا گیا جبکہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتے آگے بڑھی اور آگے ہی قدم پر ثابت ہو گیا کہ وہ اس کی معصوم سی سیدھی سادی روح ہی ہے

یارم نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا ورنہ وہ بری طرح زمین پر گرتی

اس کی باہوں میں جھولتی وہ آنکھیں بند کئے اس کی گرفت میں کانپ رہی تھی خوبصورت لب لریز رہے تھے یارم کا دل بیمان ہونے لگا ان لبوں کو چھونے کی حسرت شدت سے جاگی

جس پر لبیک کہتے ہوئے وہ اس کے لبوں پر جھکا روح کو یقین ہوتے ہی کہ وہ گرنے سے بچ گئی ہے فوراً اس کی گرفت سے نکلی اور یارم کی حسرت حسرت ہی رہ گئی وہ بڑی مشکل سے اپنے آپ کو گرنے سے بچا تی بیڈ پر آ بیٹھی اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر یار م نے اسے گھورا جبکہ وہ اس کی خواہش سے انجان اپنے آپ کو پرسکون کرکے لیلیٰ کی بتائی ہوئی باتوں کو سوچنے لگی

جی تو مسٹر یارم آپ سگریٹ پیتے ہیں اس نے زمین پر پڑے سگریٹ کے ٹکڑے کی طرف اشارہ کیا

جو شاید ا سے بچاتے ہوئے اس نے زمین پر گرا دیا تھا اس کے انداز پر وہ مسکرایا یعنی اسے مکمل تیاری کے ساتھ بھیجا گیا تھا

جی ہاں میں سگریٹ پیتا ہوں آپ کو کوئی پرابلم ہے میرے سگریٹ پینے سے یارم بھی اس کے سامنے بیٹھ کر بولا مجھے کیوں پروبلم ہوگی کونسا ہماری شادی ہوگئی ہے روح نے لاپروائی سے کہا

مطلب شادی کے بعد پروبلم ہوسکتی ہے یارم نے دلچسپی سے پوچھا

یہ شادی کے بعد سوچیں گے اگر شادی ہوئی تو میرا مطلب ہے ہم ایک دوسرے کو پسند آئے تو روح تو کانفیڈنس کے بھی سارے ریکارڈ توڑ کر بولی

تو کس طرح کا شوہر چاہیے آپ کو یار م نے پوچھا

(مجھے تو بس آپ ہی چاہیے) روح نے دل میں سوچا بیچاری نے صرف کپڑے ہی بولڈ پہنے تھے وہ اندر سے وہی بیوقوف سی روح تھی ۔

ویل ایجوکیٹڈ ہینڈسم کیئرنگ اس نے لیلیٰ والا جواب دیا جس پر وہ مسکرایا

آپ کو کس طرح کی بیوی پسند ہے روح کہتے ہوئے اس کے نزدیک آئی اور اس کے ہاتھ کو اپنے نرم سے ہاتھوں سے چھوا (لیلی تم بہت پیٹنے والی ہو میرے ہاتھوں میری معصوم سی روح کو کیا سے کیا بنا ڈالا ) یار م نے سوچا

اور اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا

خیر مجھے سیدھی سادھی یار م نے ابھی بولنا شروع ہی کیا تھا کہ روح اس کے مزید نزدیک آئی

میری جیسی روح نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کرتے ہوئے کہا

سیدھی سادی بھولی بھالی معصوم سی جیسے دیکھتے ہی سکون ملے میں دن میں ایک بار اس کی شکل دیکھ لوں تو پورا دن خوشگوار گزرے یارم نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے چہر سے ہٹاکر تھام لئے

جیسی کہ میری روح ہے یارم نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

اس کا مطلب اس دو گھنٹے کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہوا روح اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کھڑے ہو کر بولی ۔

تمہیں کس نے کہہ دیا کہ مجھے اس ٹائپ کی لڑکیاں پسند ہیں

یارم نے اس کے حلیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اس کی تیاری پر ایک مکمل نظر بھی ڈالی ۔

لیلیٰ نے روح نے منہ بنا کر کہا جیسے لیلیٰ کی شکایت لگا رہی ہو

میرا بچہ مجھے اس طرح کی لڑکی اگر پسند ہوتی تو وہاں کیا ایسی لڑکیوں کی کمی ہے مجھے تو میری روح کا انتظار تھا یارم نے اس کا ہاتھ تھام کراسے واپس اپنے قریب بٹھایا تو روح نے سب سے پہلے اپنے پیروں میں پہنے ہوئے ہائی ہیلز اتار کر دور پھینکے پیروں میں بھی درد ہو گیا میرے تو ۔

یارم دو منٹ انتظار کریں میں کپڑے چینج کرکے آتی ہوں روح نے اپنے پاس پڑا بیگ اٹھایا مطلب کہ وہ اس کی بھی تیاری کر کے آئی تھی یارم نے اسے اجازت دی تو وہ 5 منٹ کے بعد سادہ سا سفید رنگ کا سوٹ پہن کے آئی ۔

اور یارم کے قریب آکر بیٹھی

بےبی لپسٹک کیوں اتری کتنی پیاری تو لگ رہی تھی ۔

یارم نے آج پہلی بار اسے اس رنگ کی لپسٹک میں دیکھا تھا جس کی اکثر وہ اس سے فرمائش کرتی تھی

ابھی نہیں وہ شادی کے بعد روح نے ہمیشہ کی طرح لارہ لگایا

میں بہت مس کر رہا تھا تمہیں وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کرنے لگا اور اپنے دل میں مچلتی خواہش پوری کرنے لگا

یہ بھی شادی کے بعد روح جلدی سے بول کر پیچھے ہٹی

تو یارم بھی مسکرا کر پیچھے ہٹ گیا وہ اپنی ماں کی خواہش کیلئے اتنا تو کرہی سکتا تھا اسے پیچھے ہٹتا دے کر وہ پرسکون ہو کر بیٹھی

یارم میں جانتی ہوں آپ بہت پریشان ہیں لیکن یارم آپ اتنے کیوں بے بس ہوگئے ہیں ہم فاطمہ بی بی کو دبئی یا کسی دوسرے ملک لے چلتے ہیں جہاں ان کا علاج اور بہتر طریقے سے ہوسکے روح نے فکر مندی سے کہا

روح تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے اپنی ماں کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی تمہیں کیا لگتا ہے اگر ان کے بچنے کے چانس ہوتے تو کیا میں کوشش نہ کرتا روح وہ کینسر کے لاسٹ ا سٹیج پر پہنچ چکی ہیں جو دماغ سے پورے جسم میں پھیل چکا ہے وہ پہلے تکلیف برداشت کرتی رہی ہیں اور کسی کو کچھ بتایا نہیں

اور جب ہم کچھ نہیں کر سکتے ہمیں پتہ چلا روح ان کے پاس بس یہی چند دن ہیں میں نے ان سے کہا کہ میں نے کسی دوسرے ملک علاج کے لیے لے چلتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنا آخری وقت اپنے اپنوں کے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں

آزاد اور بے فکریارم نے روح کو فاطمہ بی بی کے بارے میں بتایا تو وہ اور پریشان ہوگئی

یارم مطلب ہم کچھ نہیں کر سکتے آنکھوں میں پانی آ چکے تھے

روح نے پھر سے پوچھا ایک آس ایک یقین کے شاید یارم کہہ دے کے کچھ ہو سکتا ہے لیکن یار م نے اسے جھوٹی امید بھی نہ دلوائی

نہیں روح ہم کچھ نہیں کر سکتے سوائے ان کا آخری وقت خوبصورت بنانے کے

یارم نے روح کے آنسو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگایا

ابھی تو سب کچھ ٹھیک ہوا تھا یارم سب کچھ خراب ہوگیا روح نے روتے ہوئے کہا

روح پلیز رونا بند کرو یہ ان کے آخری دن ہیں ہمیں یہ دن خوبصورت بنانے ہیں انہیں وہ خوشیاں دینی ہیں جن کی وہ تمنا کرتی ہیں وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا تو روح نے اثبات میں سر ہلایا

یہ تم کیا لڑکی کو تاڑرہے ہو لڑکے تمہیں کیا لگتا ہے مجھے پتہ نہیں چل رہا میرے گھر میں کونسی کبوتر گری ہو رہی ہے

فاطمہ بی بی نے باہر دھوپ میں بیٹھے شارف کے کان پکڑ کر کہا جو کب سے معصومہ کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے بیٹھا تھا ۔

اور اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتے وہ اپنا کام نہیں کر رہی تھی

وہ جو کبھی اس کے اس طرح سے گھورنے پر شرماتی تو کبھی غصے سے گھورتی

لیکن شارف ڈھیٹ بنا اسے گھورے جا رہا تھا جو فاطمہ بی بی تو کیا گھر میں آئے قرآن پڑھنے والے بچوں نے بھی نوٹ کر لیا

فاطمہ بی بی میں تو دیکھ رہا تھا کہ یہ اپنا کام ٹھیک سے کررہی ہے یا نہیں

شارف نے اپنا کان سہلاتے ہوئے کہا

تو کیا جنرل لگا ہے تو اس پر وہ اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرے گی تو سزا دے گا اسے چل جلدی سے جھاڑو اٹھا اور جاکر چھت کی صفائی کر ایک ایک کونہ چمکا کے اور اگر صفائی ٹھیک سے نہ ہوئی تو میں تیری وہ حالت کروں گی کہ پورا محلہ دیکھے گا فاطمہ بی بی غصے سے بولی

یارم کیا کم ہیلڑکا جانشین تھا کہ فاطمہ بی بی اس سے بھی زیادہ خطرناک نکلی

وہ بڑابر آتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا

آجائے یارم تو کہتی ہوں یہ کبوتر گریاں مجھے پسند نہیں اس کی بھی شادی کر پھر دل کھول کے ایک دوسرے کی آنکھوں کی پیاس بجھانا وہ اپنے کمرے میں جاتے ہوئے بولی

جبکہ ان کے باتیں سن کر معصومہ کا چہرہ غصے اور شرم سے سرخ ہوگیا حد ہے شارف کبھی باز نہیں آئے گا

معصومہ کمرے میں فاطمہ بی بی کو کھانا دینے آئی تو وہ سو رہی تھی

یارم نے سختی سے کہا تھا کہ انہیں وقت پر کھانا دیا جائے اور میڈیسن بھی

معصومہ نے سوچا اور انہیں جگاتے ہوئے ان کے قریب آئی ویسے بھی نماز کا وقت ہونے والا تھا

فاطمہ بی بی کھانا کھا لیں اور نماز کا وقت ہونے والا ہے وہ ان کے قریب آ کر کہنے لگی

لیکن وہ نہ ہلی جبکہ انکی نیند بہت کچی تھی وہ ذرا سی آہٹ سے جاگ جاتی تھی

فاطمہ بی بی معصومہ نے انہیں ہاتھ لگاکر جگانا چاہا لیکن وہ نہیں اٹھی معصومہ کو پریشانی ہونے لگی

شارف چھت کی صفائی کر کے خضر کے پاس جا چکا تھا جبکہ صارم اور عروہ شادی کی شاپنگ کے لیے گئے ہوئے تھے

اس نے ایک بار پھر سے فاطمہ بی بی کو جگانے کی کوشش کی

فاطمہ بی بی اٹھیں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا وہ ان کے پاس جا کر پوچھنے لگی

لیکن اس بار بھی وہ نہ جاگی تو معصومہ گھبرا گئی انہیں جگانے کی کوشش میں ناکام ہوتی وہ باہر کی طرف بھاگی اور تعظیم کے گھر کی دیوار تک آئی

آنٹی پلیز جلدی سے کسی کو بھیج دیں فاطمہ بی بی کو کچھ ہوگیا ہے وہ اتنا کہتی واپس کمرے کی طرف بھاگ گئی

فی الحال وہ ٹھیک ہیں لیکن آگے بھی ٹھیک رہیں گی ہم اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتے

دیکھیں انہیں اسپتال کی ضرورت ہے انہیں سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

آپ ان کس ہسپتال میں ایڈمیٹ کروائیں تاکہ ان کی صحت کو مزید نقصان نہ پہنچے

ڈاکٹر نے سمجھاتے ہوئے کہا

کیا آپ کے ہسپتال میں رہنے سے میں بچ جاؤں گی فاطمہ بی بی نے مسکراتے ہوئے پوچھا

میں جانتی ہوں کہ میں نہیں بچوں گی میں آخری وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں

میں جانتی ہوں میں سکون سے جی نہیں سکتی لیکن میں سکون سے مرنا چاہتی ہوں

یار م اب گھر چلو مجھے اس ماحول میں گھٹن ہو رہی ہے فاطمہ بی بی نے ڈاکٹر کو اگنور کرتے ہوئے یارم سے کہا تو وہ انہیں واپس گھر لے جانے کے لئے اٹھا

لڑکی پسند آئی وہ منہ سے آکسیجن ماسک اتار کر بولی جو یارم نے پکڑ کر دوبارہ لگا دیا

جی پسند آئی یارم نے جواب دیا

تو پھر جلدی سے رشتہ لے کے چلتے ہیں زیادہ دن نہیں ہیں میرے پاس یارم میرے دن ختم ہو رہے ہیں وہ بے بسی سے بولی تو یام رو دیا ۔

پلیز مت جائیں مجھے چھوڑ کر آج آخر وہ مرد سے بچہ بن گیا

جانا تو پڑے گا نا اللہ کا بلاوا آیا ہے اب انکار کی گنجائش نہیں ہے

آپ کہیں نہ ان سے کہ آپ کے بیٹے کو آپ کی ضرورت ہے وہ ویسے بھی تو آپ کی ساری باتیں مانتے ہیں یارم کسی چھوٹے بچے کی طرح ان سے لپٹ کر رو رہا تھا

ایسے روتے ہوئے بھیجے گا تومیں خوشی خوشی نہیں جا پاؤں گی

میں تم سب کو خوشی خوشی چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں مگر تم اس طرح سے روتے ہوئے رخصت کرو گے تو مجھے سکون نہیں آئے گا

فاطمہ بی بی بھی اس کے آنسو دیکھ کر رو دی تو یارم نے فوراً ان سے الگ ہوکر اپنی آنسو صاف کیے

نہیں رو رہا میں بالکل بھی پریشان نہیں ہوں

میں بالکل ٹھیک ہوں اور خوش ہوں وہ ان کے ماتھے پر بوسہ دے کر باہر نکل گیا شاید مزید ان کے سامنے اپنے آنسو روک نہیں سکتا تھا

باہر خضر صارم اور شارف اس کا انتظار کر رہے تھے اس کی آنکھیں دیکھ کر خضر نے آگے بڑھ کر اسے اپنے گلے سے لگایا تو صارم بھی ان دونوں کے ساتھ آ لگا شارف بھی اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا ہے ان کے ساتھ آگیا

سب اداس تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ انہیں خوش رہنا ہوگا اپنے لیے نہ سہی اپنی ماں کے لئے تاکہ وہ اسے خوشی خوشی رخصت کر سکیں