Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 89)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 89)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
ابھی ابھی تو یارم کو اس کی فیملی واپس ملی تھی وہ خوش رہنے لگا تھا جینے لگا تھا اور ابھی یہ خبر ۔
ابھی تو اپنی ماں کو جی بھر کے دیکھ بھی نہیں پایا تھا ۔
ٹھیک سے اس کی گود میں سر رکھ کر سو بھی نہیں پایا تھا ۔
کیسے گزاری اس نے اس کے بغیر زندگی پوچھ تک نہیں پایا تھا ۔
یہ خبر یارم کا اندر تک ہلا گئی تھی اس کی ماں جانتی تھی کہ اسے کوئی بیماری ہے
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اتنی بڑی بیماری سے لڑ رہی ہے ۔
یارم بنا کچھ بولے چپ چاپ گھر آیا تھا ۔
اس کی اداسی دیکھ کر روح بھی کچھ نہ بولی سارا راستہ خاموشی میں کٹ گیا ۔
وہ گھر آیا تو روح نے خاموشی سے رپورٹ ان کو تھما دی ۔
ارے کیا لکھا ہے رپورٹ میں فاطمہ بی بی نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
اس میں لکھا ہے کہ آپ کو کینسر ہے ۔
وہ بھی لاسٹ اسٹیج ۔آپ کی طبیعت بہت عرصے سے خراب تھی لیکن آپ نے چیک اپ نہیں کروایا ۔
ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اب آپ نہیں بچ سکتی ایک مہینے سے بھی کم وقت ہے آپ کے پاس ۔
ڈاکٹر نے کہا ہے کنسر ایسی بیماری ہے جو شروع ہوتے ہی اپنے سائیڈ فیکٹ دکھانے لگتی ہے ۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ آپ کو اندازہ تھا کہ آپ کو کوئی بیماری ہے لیکن آپ نے اپنا علاج نہیں کروایا ۔
کیا آپ مجھے بتانا پسند کریں گی کہ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا اس بارے میں فائل کو ایک سائیڈ پر پٹکتا وہ ان سے پوچھنے لگا ۔
یارم یہ ذرا سی بات ۔۔۔۔
ذرا سی بات نہیں ہے یہ امی آپ مرنے والی ہیں ایک مہینہ تک نہیں ہے آپ کے پاس آپ کا کینسر لاسٹ اسٹیج پر پہنچ چکا ہے نہیں بچ سکتی آپ ۔اور آپ کو لگتا ہے یہ معمولی بات ہے ۔وہ اتنی اونچی آواز میں دھاڑا کہ روح کانپ کر رہ گئی ۔
یارم بیٹا تم بات تو سنو میری فاطمہ بی بی نے کچھ کہنا چاہا جب یار م نے اپنا ہاتھ اٹھا کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا
اور بنا کچھ کہیں اندر چلا گیا
یارم تو یہاں کیا کر رہا ہے باہر چل میں نے تیرے پسند کی بریانی بنائی ہے ۔
آج میں تجھے اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گی جس طرح سے بچپن میں کھلاتی تھی ۔
بہت ضدی تھا تو ہےتو اب بھی بہت ضدی لیکن تیرے بچپن میں تیری ماں کی چلتی تھی
تو جب بھی ضد کرتا تھا میں دو لگا کے تیرا منہ بند کر دیتی تھی فاطمہ بی بی ہستی ہوئی اس کے قریب بیٹھی ۔
جوبیڈ سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھا تھا ۔
آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ آپ کو کوئی بیماری ہے وہ بنا ان کی طرح دیکھے بولا ۔
میں بالکل ٹھیک ہوں یارم بس میرا وقت پورا ہوگیا ہے اور یہ بیماری یہ تو بس ایک بہانہ ہے سبھی انسان مرتے ہیں سب کو اپنے گھر جانا ہے اور ہر انسان کا اصل کر وہ دو گز زمین ہے جس میں وہ ہمیشہ کے لئے سما جاتا ہے یہ دنیا فانی ہے عرضی ٹھکانا ہے ۔
مجھے تو ویسے بھی جانا تھا ۔اور پھر آپ میرا اللہ مجھے بلا رہا ہے ۔
وہ سب کو بلائے گا اور اس طرح سے پریشان ہو کر کیوں بیٹھا ہے ہاں اُٹھ میں نے تیرے لئے بریانی بنائی ہے اور فکر مت کر مسالے بھی تیز رکھے ہیں جس طرح سے تجھے بچپن میں پسند تھی ۔
فاطمہ بی بی پیار سے اسے بہلاتے ہوئے اس کے قریب سے اٹھنے لگی جب اگلے ہی لمحے یار م نے ان کی گود میں سر رکھا ۔
میں بہت برا ہوں میں آپ کے لئے کبھی کچھ نہیں کر پایا میں اولاد ہونے کا حق نہیں نبھا پایا میں نے آپ سے نہیں پوچھا آپ کو کیا چاہیے آپ کی خواہش کیا ہے آپ نے میرے لئے اپنی زندگی برباد کر دی ۔
اور میں آپ کو چھوڑ کر چلا گیا کتنا خود غرض ہوں میں اب بھی آپ کو نہیں جانے دینا چاہتا ۔اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں ۔
میں چاہتا ہوں آپ میرے پاس رہیں میں آپ کی گود میں سر رکھ کر سو جایا کروں آپ سے باتیں کیا کروں آپ کے ہاتھ کا کھانا کھایا کروں۔
کچھ بھی تو نہیں کر پایا میں آپ کے لئے کچھ بھی نہیں یارم اپنی آنکھ سے آنسو صاف کرتا ان کی گود میں لیٹا بتانے لگا
اچھا تو اس لیے رو رہا ہے کہ تو میرے لیے کچھ کر نہیں پایا ۔
کس نے کہا ہے تجھ سے کہ تو نے میرے لیے کچھ نہیں کیا تجھے پتا ہے تیرے یہاں سے جانے کے بعد میرے دل کی سب سے قریب میری روح تھی ۔
میں بہت پیار کرنے لگی تھی اس سے لیکن اس کی ماں بہنوں نے اس کے ساتھ کیا کیا اسے بیچ دیا ۔
نہ جانے وہ اس کے ساتھ کیا کیا ہوتا لیکن تونے میرے بیٹے نے اسے بچا لیا ۔
اسے اپنا نام دیا ۔اس سے نکاح کیا ۔میری خواہش تھی میری روح کی زندگی سمبھل جائے اور تو نے اس کی زندگی سنبھال لی بس ایک خواہش تھی میری کہ میں اپنے بیٹے کی شادی اپنے ہاتھ سے کروں۔
ساری رسم اپنے ہاتھوں سے ادا کرو ں۔
لیکن تو نے وہی روح سے شادی کرلی ۔
بچپن میں جب میں روح کو دیکھتی تھی نہ تو اکثر سوچتی تھی کہ اس کو میں اپنے گھر کی بہو بنا لوں گی ۔
پھر دیکھ اللہ نے میری کیسے سن لی ۔
وہ آہستہ آہستہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر دی بتا رہی تھی ۔
جب تانیہ نے انہیں کھانا لگنے کی خبر تھی ۔تو وہ زبردستی یارم کو اپنے ساتھ باہر لے آئیں
میں شادی کر رہا ہوں تاکہ میری ماں میری شادی کی ساری رسمیں ادا کرسکے اس نے کھانے کے میز پر دھماکہ کیا ۔
آپ کی خواہش ہے نہ امی کہ آپ میری شادی کی ساری رسمیں اپنے ہاتھ سے کریں
تو میں آپ کی یہ خواہش ضرور پوری کروں گا ۔
میری شادی کی ساری رسمیں آپ اپنے ہاتھوں سے کریں گی میں کل ہی اپنے سب دوستوں کو یہاں بلاؤں گا ۔
اور پھر روح سے شادی کروں گا ۔
اور آپ جس طرح سے چاہتی ہیں ویسے ہی ہوگی میری شادی ۔
یارم نے فاطمہ بی بی سے کہا تھا جبکہ روح اسے دیکھ رہی تھی ۔
تو کیا وہ انہیں سب کچھ بتا چکا ہے ۔
فاطمہ بی بی نے مسکراتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائی ۔
وہ ڈاکٹر کہتا ہے آپ کے پاس بہت کم وقت ہے ۔شاید ایک مہینے سے بھی کم اور میں اس ایک مہینے میں آپ کی ساری خواہش پوری کروں گا ۔
وہ جو میں نہیں کر سکا ۔یا رم نے اپنی آنکھ میں آیا آنسو گرنے سے پہلے ہی صاف کر دیا ۔
ہاں لیکن میری ایک اور خواہش بھی ہے کہ شادی دھوم دھام سے ہو اس میں بالکل بھی کوئی اداس نہ ہو سب کچھ خوشی خوشی ہو اور میرا بیٹا بہت خوش ہو۔
کیونکہ اگر دولہا اداس ہوگیا تو میں بھی اداس ہو جاؤں گی میں اداسی سے سب کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی یارم میں تم سب کو ہنستے مسکراتے ہوئے چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں ۔
میری یہ خواہش پوری کرو گے نہ ۔
فاطمہ بی بی نے اس کا اداس چہرہ دیکھ کر کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائی لیکن پھر بھی آنکھ میں آیا آنسو گال پر گر گیا ۔
بچپن میں نہ پورے محلے کی لڑکیاں تیرے ڈمپل پر مرتی تھی ۔میں سارا دن تیری نظر اتارتی رہتی تھی ۔
فاطمہ بی بی نے بات بدلتے ہوئے کہا وہ یارم کو مزید اداس نہیں کرنا چاہتی تھی
پتا ہے روح بچپن سے ہی تیرا شوہر پورے محلے کی لڑکیوں کا وہ کیا بولتے ہیں ہاں کراش بنا ہوا تھا ۔
کبھی ایک اٹھا کے لے جاتی کبھی دوسری اٹھا کے لے جاتی میں تو ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹا کر پوچھتی کہ میرا بیٹا کہاں ہے ۔
کبھی ایک کے گھر پر ملتا تو کبھی دوسرے کے گھر فاطمہ بی بی مسکرا کر اسے بتانے لگی ۔
نہ انہوں نے یارم سے شادی کی وجہ پوچھی اور نہ ہی روح کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ اس بارے میں کچھ جانتی ہیں
دو دن بعد خضر شارف لیلی معصومہ شونو سب لوگ پاکستان پہنچ چکے تھے ۔
فاطمہ بی بی جس طرح سے کہہ رہی تھی تیاری بالکل اس طرح سے ہو رہی تھی ۔
یارم ان کے سامنے مسکراتا لیکن تنہائی میں اداس رہتا ۔
اس کی اداسی کی وجہ ہر کوئی جانتا تھا ۔فاطمہ بی بی جانتی تھی کہ اس کی مسکراہٹ صرف انہیں کے سامنے ہے ۔
لیکن اس معاملے میں وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی
یہ اللہ کا فیصلہ تھا ۔
اور اب انہیں کوئی نہیں بچا سکتا تھا ۔
ان کی طبیعت بہت عرصے سے خراب تھی سب کچھ جاننے کے باوجود بھی وہ کبھی ڈاکٹر کے پاس نہ گئی وہ جانتی تھی انہیں کوئی بڑی بیماری ہے ۔
وہ اکثر بے ہوش ہوجاتی نے اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ان کے سر کے بال اب نہ ہونے کے برابر تھے ۔
لیکن ان سب کے باوجود بھی وہ کوئی دوائی نہیں کھاتی تھی ۔
لیکن اب یارم انہیں زبردستی میڈیسن دینے لگا تھا
اور کسی کی مانے نہ مانے لیکن یارم کی باتوں ہمیشہ مان لیتی تھی ۔
تعظیم کو جب سے پتہ چلا تھا کہ یارم فاطمہ کا بیٹا ہے جو روح کا شوہر ہے اور اس سے ملنے جانا چاہتی تھی
کیونکہ انہیں پتہ تھا 18 سال پہلے جب یار م یہاں سے غائب ہوا تھا اسی دن خضر بھی غائب ہو گیا تھا ۔
ہوسکتا ہے یارم خضر کے بارے میں کچھ جانتا ہوں اگر ایسا ہوا تو ان کے پاس یہ آخری موقع ہوگا اپنی غلطی کوسدھارنے کا
وہ اپنی ساری غلطیاں سدھاڑنا چاہتی تھی
یہاں تک کہ روح سے مل کر اسے معافی مانگنا چاہتی تھی لیکن ماریہ انہیں کہیں جانے ہی نہیں دے رہی تھی ۔
وہ روح کے سامنے اپنی ماں کا جھکنا برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔
آج صبح سے ماریہ گھر سے غائب تھی
اس کی لڑکوں کے ساتھ دوستی نے تعظیم کو تنگ کر رکھا تھا ۔
اب نجانے ماریہ نے کب گھر لوٹ کے آنا تھا ۔
وہ اٹھ کر فاطمہ کے گھر آگئی ۔
پورے محلے کو ہی یار م کی شادی کا کارڈ مل چکا تھا ۔
اور فاطمہ کو سب نے یہی بتایا کہ تعظیم نے روح کی شادی فون پر بھی یارم سے ہی کروائی تھی تب یار م یہاں نہیں آ سکتا تھا اس لیے فون پر نکاح ہوا ۔
لیکن اب وہ سارے رسم و رواج کے ساتھ دوبارہ ان کی شادی کریں گی
تنظیم یہاں آکر روح سے ملی اور اس سے اپنے کیے کی معافی مانگنے لگی ۔وہ نازک دل لڑکی اس عورت کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکی ۔
بس کریں امی آپ کیوں مجھے گناہگار کر رہی ہیں
نہیں روح مجھے میرے کیے کی معافی مانگنے دے میں نے تیرے ساتھ بہت برا سلوک کیا دن رات تجھے مارتی پیٹتی رہی جانوروں کی طرح تجھ سے کام لیتی رہی ۔
اپنی بیٹیوں کے لئے اور ان بیٹیوں نے میرے ساتھ کیا کیا مجھے کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا ۔
بس تو مجھے معاف کر دے روح میں تو تجھ سے معافی مانگنے کے بھی قابل نہیں ہوں وہ روتے ہوئے بولی ۔
امی میں نے آپ کو معاف کیا پلیز آپ رونا بند کریں ۔
روح انہیں چپ کرواتے ہوئے بولی ۔
روح مجھے تیرے شوہر سے ملنا ہے تیرا ماموں اسی دن سے غائب ہے جس دن سے تیرا شوہر یہاں سے غائب ہوا تھا ۔
ہوسکتا ہے تیرے ماموں کے بارے میں پتہ چل جائے ۔
تنظیم نے اک آس سے پوچھا ۔
جب روح نے پیچھے کھڑے خضر کی طرف اشارہ کیا ۔
وہ ہیں خضر ماموں ۔
دبئی میں سب سے پہلے میں انہیں سے ملی تھی روح نے مسکرا کر بتاتے ہوئے ان کی پریشانی دور کی ۔
ماشااللہ کتنا بڑا ہو گیا ہے مجھے تو دیکھنا تک گوارا نہ کرے گا ۔
تعظیم نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا ۔
پھر شرمندگی سے ایک بار پھر نظریں جھکا گئی ۔
ہمیں آپ سے کوئی گلہ نہیں تعظیم باجی جو نصیب میں لکھا ہوتا ہے وہ ضرور ملتا ہے ۔
شادی میں ضرور آئے گا ۔
خضر ایک پل کو ان کے قریب رکا اور اپنی بات مکمل کر کے واپس چلا گیا ۔
لیکن اس بات نے تعظیم کو بہت راحت پہنچائی تھی ۔
سب بیٹھیں باتوں میں مگن تھے جبکہ یارم زمین پر فاطمہ بی بی کی گود میں سر رکھے بیٹھا تھا
تعظیم ان کے ساتھ تیاریاں کررہی تھی جب ان کا فون بجا
تعظیم نے ماریہ کا نمبر دیکھتے ہوئے فون اٹھا لیا ۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے ماریہ کی اب تک کوئی خبر نہ تھی
وہ اکثر ہی اتنی دیر سے گھر آتی تھی اسی لئے فاطمہ بی بی نے اتنا دھیان نہ دیا لیکن آج اس نے انہیں فون کیا تھا ۔
فون اٹھاتے ہی انہیں ماریہ کی آواز سنائی دی
امی مجھے بچا لیں خدا کے لیے مجھے بچا لیں یہ آدمی مجھے مار ڈالے گا ۔
پلیز مجھے بچا لے امی ۔ماریہ چلاتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ تعظیم کھڑی ہو گئی ۔انہیں دیکھتے ہوئے سارے ہی اپنی اپنی جگہ پریشان تھے کہ اچانک ہوا کیا ہے
تو کہاں ہے کیا ہوا ہے تجھے بول بتا مجھے ۔
ماریہ تو کچھ بول کیوں نہیں بول رہی ۔
امی وہ میرے پاس آ رہا ہے پلیز امی بچا لیں مجھے
امی۔ ۔۔۔۔ایک چیخ کے ساتھ فون بند ہوگیا
