Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 90)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

پتا نہیں ماریہ کو کیا ہوا ہے بہت چیخ رہی تھی ۔

نہ جانے وہ کہاں ہے نہ جانے کس حال میں ہوگی میری بیٹی ۔

تعظیم روتے ہوئے فاطمہ بی بی کو بتاتے ہوئے باہر کی طرف جانے لگی ۔

ایک منٹ مجھے ماریہ کا نمبر دیں ۔

ہم اس کا نمبر ٹریس کرکے اس تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اللہ سب بہتر کرے گا ۔

آپ پلیز ٹینشن نہ لیں

خضر نے ان کے ہاتھ سے فون لیتے ہوئے کہا ۔

تب ہی دروازہ بجا ۔

صارم اور عروہ اپنے بچوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔

اچھا ہوا صارم تم آ گئے جلدی سے یہ نمبر ٹریس کرو ہمیں جلدی سے جلدی یہاں تک پہنچنا ہے ماریہ کی جان خطرے میں ہے ۔

خضر موبائل صارم کی طرف بڑھانے لگا ۔

آپ گھبرائیں نہیں ماریہ کو کچھ نہیں ہوگا شارف نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے دلاسہ دیا ۔

جبکہ وہ بے جان سی وہی کرسی پر بیٹھ گئی ۔

یا اللہ میری بچی کی عزت کی حفاظت کرنا ۔یااللہ میں لاکھ گناہ گار سہی میری بیٹی کی جان بچالیں۔

یااللہ میری غلطیوں کی میرے گناہوں کی سزا میری بچیوں کو نہ دے

تعظیم روتے ہوئے بول رہی تھی

تانیہ اور روح اسے سنبھالنے میں لگ چکی تھی

نمبر ٹریس ہو چکا تھا ۔

وہ جلد سے جلد اس جگہ پر جا پہنچے جہاں سے انہیں ماریہ کی لاسٹ لوکیشن ملی تھی ۔

جگہ مکمل ویران تھی ۔

یقینا یہ کوئی زیرِ تعمیر بلڈنگ تھی ۔

لوکیشن تو یہی کی ہے لیکن یہاں پر تو کوئی بھی نہیں صارم نے کہا ۔

صارم پولیس والا بن کے مت سوچ قاتل بن کے سوچ ان کے لوکیشن اپنے آپ پتا چل جائے گی ۔

شارف اس کے کندھے پہ ہاتھ مارتا آگے بڑھ چکا تھا ۔

اب ایک غنڈا مجھے سکھائے گا کہ مجھے کسی کو کیسے بچانا ہے ۔

وہ دونوں ہاتھ سامنے باندھے پوچھنے لگا ۔

جبکہ خضر اور یارم انہیں اپنی باتوں میں الجھا دیکھ کر آگے بڑھ چکے تھے ۔

یارم یہ دیکھو یہ تو کسی لڑکی کا ایئر رنگ ہے۔

کافی بے دردی سے نوچا گیا ہے اس نے ایئررنگ پر لگے خون کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

خون تازہ ہے مطلب کے وہ لوگ زیادہ دور نہیں گئے ۔

چھوڑ دو مجھے خدا کے لیے چھوڑ دو ۔وہ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے بولی

ایسے کیسے چھوڑ دوں جانے من یہ اتنا میگافون اتنے مہنگے کپڑے یہ پیروں میں پہنی ہوئی سینڈل ۔یہ بیگ فری میں تو نہیں آیا ۔

ہر وقت مجھے چکمہ دے کر بھاگ جاتی ہے آج کیسے بھاگے گی ۔

آج تجھے ان سب چیزوں کی قیمت چکانی ہے بہت خرچہ کرلیا تیرے اوپر ۔

تم کہتے تھے کہ تم مجھ سے پیار کرتی ہو مجھ سے شادی کرو گے ۔اب تو میرے ساتھ اس طرح سے کر رہے ہو ۔اتنا پیار کرتے تھے تم مجھ سے تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو تمہیں تمہاری محبت کا واسطہ ۔ماریہ روتے ہوئے اسے اپنی محبت کا واسطہ دینے لگی ۔

ہاہاہاہا کون سی محبت ۔یہ سب کچھ تو میں نے تمہیں ایک رات کے لیے پانے کے لیے کیا اتنا خرچہ کیا تم پر اتنا کچھ دیا تو میں اور تم سیدھے طریقے سے میرے ہاتھ ہی نہیں آ رہی میں کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایک مہینے سے زیادہ وقت نہیں گزرتا لیکن تمہارے ساتھ کتنے عرصے سے ہوں ۔

اور تم مجھے ہی نخرے دکھا رہی ہو ۔

کیا تمہاری محبت سچی ہے ۔کیا تم سچ میں مجھ سے پیار کرتی ہو ۔

ھاھاھا نہیں سب جھوٹ ہے

کسی غریب سے تو تم لوگوں کو محبت ہوتی نہیں ۔کیونکہ کوئی غریب تم لوگوں کو یہ ساری چیزیں نہیں دے سکتا ۔

اگر تم لوگوں کو سچی محبت کی قدر ہوتی نا پھر کبھی تم مجھ سے شاپنگ کے لیے پیسے نہیں مانگتی ۔

اگر تمہیں مجھ سے سچی محبت ہوتی نہ ماریا تو اپنے گھر والوں سے چھپ کر مجھ سے بات نہ کرتی ۔

جو محبت سچی ہو نا اس میں ڈر نہیں ہوتا ۔

تم جیسی لڑکیوں کو کسی کی محبت کی ضرورت نہیں ہوتی تم لوگوں کو صرف پیسہ چاہیے اور مجھے تم جیسی لڑکیاں ۔

بس اب یہ رونا دھونا بند کرو اور میری اب تک کی ساری عنایتوں کی قیمت چکاو۔

یار یہ تو بہت شور مچا رہی ہے ۔اس کے ساتھ کھڑے دوسرے آدمی نے کہا ۔

کوئی بات نہیں اس کا منہ میں ابھی بند کرتا ہوں تیسرا اس کے قریب آتے ہوئے بولا

وہ اس کا منہ پکڑ کے زبردستی اپنے قریب کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

جب ایک زوردار دھکے سے وہ دور جاگرا۔

اس سے پہلے کے باقی دونوں کو سنبھلنے کا موقع ملتا خضر اور شارف ان پر ٹوٹ پڑے ۔

یارم نے اپنی جیب سے پستول نکال کر اس کے ماتھے پر رکھا ۔

نہیں یار م تم قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے صارم نے اسے سمجھاتے ہوئے پیچھے کرنا چاہا ۔

صارم ان لوگوں کو جینے کا کوئی حق نہیں ۔جو مرد عورت کی عزت نہیں کر سکتا میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔

یہ لوگ محبت کے نام پر لڑکیوں کو بیوقوف بناتے ہیں اور ایسے لوگوں کو جینے کا کوئی حق نہیں اس سے پہلے کہ وہ ٹریگر دباتا اسے روح کو دی ہوئی قسم یاد آگئی ۔

خضر میں اسے مارنا چاہتا ہوں لیکن نہیں مار سکتا وہ صارم کو اگنور کرتا خضر سے بولا ۔

تمہاری بھانجی مجھے بہت مہنگی پڑ رہی ہے خضر۔ اس بار وہ چلایا تھا جب خضر نے اپنا پستول نکال کے زمین پر بیٹھے اس آدمی پر گولی چلا دی ۔

اب ٹھیک ہے ریلیکس خضر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔

جبکہ صارم ان کی اس حرکت پر سرد آہ بھر کر رہ گیا

اور دوسرے دونوں خوفزدہ نظروں سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے ۔

پلیز ہمیں جانے دیجئے ہم نے کچھ نہیں کیا ہمیں معاف کر دیجیے ہماری کوئی غلطی نہیں ہے ۔

آج سے ہم کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھیں گے پلیز ہمیں جانے دیجئے ۔لڑکے بری طرح روتے ہوئے بول رہے تھے ۔

لیکن جس لڑکی کی طرف دیکھا ہے اس کا حساب تو چکانہ ہوگا اس سے پہلے نہ جانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ تم یہ حرکت کر چکے ہو گے ۔

اور ڈیول کے قانون میں اس گناہ کی کوئی معافی نہیں ۔

تم لوگ ماریہ کولے کر یہاں سے نکلو ۔میں اور خضر تھوڑی میں آتے ہیں ۔

اس نے شارف کی طرف اشارہ کیا تو وہ اس کے حکم کی تکمیل کرتا ہوا ماریہ کو لے کر وہاں سے نکل گیا

آپ لوگ پولیس میں ہے کیا ماریہ جو بہت بری طرح ڈری ہوئی تھی شارف نے اسے پانی لا کر دیا جیسے پیتے ہوئے وہ ان سے پوچھنے لگی ۔

شارف کچھ نہ بولا لیکن صارم نے ہاں میں گردن ہلائی ۔

کچھ ہی دیر میں خضر اور یارم آ چکے تھے ۔

تھینک یو سو مچ یارم بھائی آپ نے میری جان بچا لی اگر آپ نہیں ہوتے تو نہ جانے وہ لوگ میرے ساتھ کیا کرتے تھے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتی ماریا نے روتے ہوئے کہا

ماریا آج جو کچھ بھی ہوا اس میں ان سے زیادہ تمہاری غلطی ہے ۔

وہ لڑکے تمہیں دیکھنے کی بھی ہمت کیوں کر پائے کیونکہ تم نے ان کو موقع دیا ہے ایسا کرنے کے لئے۔اس نے تمہیں تحفے دیے تم نے لے لیے اس نے تمہیں شاپنگ کے لیے پیسہ دیا تم نے اڑا لیا ۔اس نے تمہیں مہنگی سے مہنگی چیز خرید کر دیں تو خوشی سے لیتی رہیں اور ان سب کو اسکی محبت سمجھتی رہی لیکن یہ سب محبت نہیں ہے ماریہ ۔

محبت ان سب چیزوں کی محتاج نہیں ہوتی ۔

کیامنہ دکھاتی اپنی ماں کو اگر یہاں تمہارے ساتھ کچھ غلط ہو جاتا تو ۔

وہ عورت جیتے جی مر جاتی اس کی ایک بیٹی اپنے ہی گھر میں سکھی نہیں ہے ۔دوسری بیٹی گھر سے بھاگ کر اس کا نام بد نام کر چکی ہے اور تم کیا کرنے جا رہی تھی تم خدا نہ خاستہ اگر ہم وقت پر نہیں پہنچتے تو کیا ہو جاتا آج کل کی لڑکی اس کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی ہیں ۔

جو آدمی تم پر پاگلوں کی طرح پیسہ لوٹاتا ہے وہ تمہاری محبت کی لالچ میں نہیں تمہارے جسم کی لالچ میں کرتا ہے ۔

میں ہر مرد کو غلط نہیں کہتا ۔کچھ ہوتے ہیں سچی محبت کرنے والے لیکن وہ ایسے نہیں ہوتے۔

ماریا خدا کیلئے سمجھ جاؤ ۔

یہ لوگ تم سے محبت نہیں کرتے محبت ایسی نہیں ہوتی ۔

آج جو کچھ بھی ہوا اس میں جتنی غلطی ان لوگوں کی تھی اتنی ہی تمہاری ہے اگر وہ غلط ہے تو سہی تم بھی نہیں ہو ۔

تم لوگ محبت کو کونسے ترازو میں تولتے ہو دولت کے جس کے پاس دولت زیادہ ہے وہ محبت زیادہ کرتا ہے تویہ صرف غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں

گھر چلو تعظیم آنٹی تمہارا انتظار کر رہی ہیں ۔وہ ایسے سمجھانے کی آخری کوشش کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ۔

ماریہ روتے ہوئے ان کے ساتھ آ بیٹھی

امی خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگی

آپ ٹھیک کہتی تھی امی وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ۔

وہ تو خدا کا شکر ہے کہ یارم بھائی اور ان کے دوست وہاں پہنچ گئے ورنہ میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتی ۔

مجھے معاف کر دیں امی میں نے آپ کی ساری باتوں کو غلط سمجھا میں آپ کو اپنا دشمن سمجھ بیٹھی تھی

ماریہ روتے ہوئے تعظیم کے گلے لگ کر بولی ۔

جبکہ وہ شکرگزار نظروں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔

فاطمہ بی بی فخر سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی ۔

مبارک ہو تم بھی غنڈوں میں شامل ہوگئے شارف نے صارم کے کان کے قریب کہتے ہوئے اپنی بتیسی کی نمائش کی ۔

جسے گھور کر دیکھتے ہوئے صارم فاطمہ بی بی سے باتوں میں مگن ہو گیا