Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 43)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

وہ کہاں تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی بس ایک اندھیرا گراج نماکمرہ تھا اور اندھیرے سے تو وہ بچپن سے ہی ڈرتی تھی ۔

وہ لوگ کون تھے اور کیوں انہوں نے اسے تھپر مارے ۔

اور شونو۔۔۔۔ کتنی بے رحمی سے ان لوگوں نے شونو پر ہتھیار سے وار کیا ۔

وہ بیچارہ تو بس اپنی دوست کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا ۔

آج پہلی بار اسے احساس ہوا کہ یار م ٹھیک کہتا تھا ۔

شونو جس نسل کا کتا تھا وہ واقعی بہت خطرناک اور چالاک تھی ۔

یا اللہ میرا شونو ٹھیک ہو ۔اس نے بے اختیار دعا مانگی ۔

وہ اس وقت ایک اندھیرے کمرے میں بند تھی ۔وہ لو گ

اسے یہاں کیوں لائے تھے یقیناً یارم کے دشمن تھے جو اسے پھسانا چاہتے تھے ۔

کیا یارم کو پتہ چل گیا گا کہ وہ لوگ مجھے یہاں لے آئے ہیں ۔یا اللہ میری عزت کے محافظ آپ ہو پلیز میرے یارم کو یہاں بھیج دے ۔

وہ سسکتے ہوئے دعا مانگ رہی تھی

وہ تینوں تیزی سے وکرم کے اڈے میں آئے تھے جہاں وہ سب چھوٹے بڑے غنڈوں کو اپنے ساتھ ملائے کھڑا تھا ۔

اسے دیکھتے ہی یارم کا خون کھول اٹھا وہ تیزی سے اس کی طرف بھرا اس سے پہلے کہ وہ اس کا گریبان پکڑ تا غنڈوں نے اسے پکڑنا چاہا ۔

جبکہ یارم بے قابو ہوتا وکرم کی طرح طرف بھر رہا تھا ۔

غنڈوں نے شارف اور خضرکی تلاشی لی اور ہتھیار برآمد کرلئے ۔

روح کہاں ہے یارم چلایا اور اتنے زور سے چلایا کہ کمرے میں بند روح کو با آسانی کی آواز سنائی دی ۔

روح کے اندر کسی نے نئی زندگی پھونک دی ۔وہ دوڑ کر دروازے کی طرف لپکی ۔

جب کہ پیر میں موجود بیڑیوں نے اس سے مزید آگے قدم نہ بھرنے دیا ۔وہ چاہ کر بھی دروازے تک نہ پہنچ پائی۔وہ اندر سے چلانے لگی ۔۔ لیکن شاید اس گراج سے آواز باہر نہیں جاتی تھی تبھی تو یارم کو اس کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔

جبکہ باہر سے وہ یارم کی آواز کچھ حد تک سن پا رہی تھی اسے یقین تھا یارم اسے بچا لے گا ۔

یا اللہ تیرا شکر ہے ۔روح خدا کا شکر ادا کرتی یا رم کا انتظار کرنے لگی ۔

میں نے پوچھا روح کہاں ہے ۔۔۔۔؟وہ پھر سے چلایا تھا

پتہ ہے کیا ڈیول ۔۔میں تمہیں بچپن سے کچھ نہ کچھ سکھاتا رہا ہوں اب بھی سکھاؤنگا ۔

اپنی کمزوری کو کبھی اپنے دشمن پر ظاہر نہ ہونے دو اپنی کمزوری کو اپنے دشمن سے چھپا کے رکھو ۔لیکن یہاں پر تم نے غلطی کردی اور ایک اچھا استاد ہونے کے ناطے میں تمہیں تمہاری غلطی سدھارنے کا موقع دیتا ہوں ۔

میں تمہیں آخری بار کہہ رہا ہوں اس لڑکی کو میرے حوالے کر دو ۔اور ایک بار پھر سے دوستی کا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ

معافی مانگ لو مجھ سے میں تمہیں معاف کر دو گا آخر برا ہوں تمہارا

وکرم ٹھہر ٹھہر کر بولا ۔

میری روح کہاں ہے ۔۔۔۔؟یارم نے پھر سے پوچھا ۔

میں نے کہا معافی مانگو مجھ سے اور بھول جاؤ اس لڑکی کو ۔وکرم دہاڑا تھا ۔

کمرے کے اندر آتی کچھ آواز سنتی روح اس کی باتوں کا مطلب نہیں سمجھ پا رہی تھی وہ تو اب تک یہ بھی نہیں سمجھی تھی کہ وہ لوگ کس بارے میں بات کر رہے ہیں ۔

کیا وہ لوگ روح کے لئے یارم سے کوئی مطالبہ کر رہے ہیں۔ کبھی آواز تیز ہوجاتی تو کبھی آہستہ۔وہ ان کی مکمل بات تک نہیں سن پا رہی تھی ۔

جلدی فیصلہ کرو ۔ڈیول زندہ رہ کر مجھ سے واپس دوستی کرنا چاہو گے ۔یا میں تمہیں مار کر مثال قائم کروں ۔ویسے ماننا پڑے گا تمہیں ابھی تمہاری بیوی کو کڈنیپ ہوئے دس منٹ نہیں ہوئے اور تو میرے سر پہ آ پہنچے ہو ۔

روح کہاں ہے وکرم ۔۔۔؟وہ اس کی بات کاٹ کر ایک بار پھر سے چلایا ۔

ڈیول بھولو مت یہ میرا ایریا ہے اور میں تمہیں ایک سیکنڈ کے اندر اندر موت کے گھاٹ اتارسکتا ہوں اور اس کے بعد میں تمہاری بیوی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے وکرم اپنی بات مکمل کرتا ۔

یارم نے اپنی آستین سے ایک چھوٹا سا چاقو نکال کر اس کی طرف پھینکا جو اس کے گلے کے بیچوں بیچ اٹکا تھا ۔

اگلے ہی لمحے وکرم زمین پر گرا تھا ۔غنڈوں نے دادا کی طرف بڑھنے کی کوشش کی ۔

اور ساتھ ہی فائرنگ اسٹارٹ کر دی۔ اس سے پہلے کہ وہ لوگ وکرم تک پہنچتے یارم تیزی سے اس کے پیچھے آکر اسکی گردن پر اٹکے چاقو پر اپنا ہاتھ مزید دبا چکا تھا وہ درد سے بلبلا اٹھا ۔

کیا کرے گا تو میری روح کے ساتھ ۔۔۔؟۔کیا کرے گا تو میری دوست کے ساتھ بول سالے ۔۔۔۔۔؟کمزوری۔۔۔ کمزوری بول رہا تھا نہ تو۔ تو سن لے ہاں وہ لڑکی میری کمزوری ہے ۔۔۔۔اور کمزوری سے کہیں زیادہ وہ لڑکی میری ہمت ہے میری طاقت ہے ۔۔میری جان ہے وہ ۔۔۔تو نے میری جان کی جان لینے کی کوشش کی ۔۔

اس کی گردن پر دباؤ بڑھاتا ہوا بولا ۔

روح کہاں ہے ۔خضر نے ایک غنڈے کو دبوچتے ہوئے پوچھا۔

وہ سامنے والے کمرے میں ہے وہ اپنا آپ چھڑو آتے ہوئے بولا ۔

تھینک یو ۔۔۔ٹھاہ۔ ساتھ ہی خضر نے اس کے سینے کے بیچوں بیچ گولی چلا دی ۔

اچھا آدمی تھا ۔خضر نے افسوس سے کہا

ابے تھا نہیں ہے شارف نے اس کا دھیان زمین پر آدمی کی طرف دلایا

ٹھاہ ٹھاہ ۔

خضر نے ایک بار پھر سے گن لوڈ کی اور اسے دو گولیاں اور مار ڈالی۔

اب تو تھانہ ۔۔۔؟اس نے شارف سے کنفرم کرنا چاہا ۔

شارف نے ایک نظر زمین پر پڑی آدمی پر ڈالی اور پھر احسان کرنے والے انداز میں کہا

ہمم ۔ اور ساتھ ہی پھرتی سے سامنے کھڑے آدمی کو لات مار کر زمین پر گرا دیا ۔

ایک ایک کر سارے ہی غنڈے اب زمین پر پڑے تھے ۔کچھ ڈیول سے اپنے کیے کی معافی مانگ رہے تھے ۔تو کچھ خونخار نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔

شارف دادا ہمارے مہمان ہیں ۔ہمیں ان کی مہمان نوازی کرنی چاہیے انہیں مہمان بنا کر ہمارے قید خانے میں شان و شوکت سے رکھاو۔ یارم نے شارف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔

بے فکر رہو ڈیول دادا کی خدمت میں کوئی کمی نہیں ہوگی شارف بولا

میں روح کونکالتا ہوں ۔خضر سوچتے ہوئے اس کمرے کی طرف بھرا

شارف تم دادا کو سنبھالو اور یہاں سے نکلو ۔یارم نے ایک جھٹکے سے دادا کو اس کی طرف کیا ۔۔۔ جو ابھی تک درد سے بلبلا رہا تھا خون سے پوری قمیض لال ہوچکی تھی

چلیے دادا آپ کی خدمت کرتے ہیں شارف نے اس کے دونوں ہاتھ باندھ اور آگے کی طرف دھکا دیا ۔

جب کہ یارم نے اپنے کندھے کے زخم سےقمیض الگ کی ۔زخم اتنا گہرا تھا کہ اسے فوراً فرسٹ ایڈ کی ضرورت تھی

لیکن اس وقت اسے روح سے زیادہ امپورٹنٹ اور کچھ نہیں تھا وہ خضر کی پیچھے دروازے کی طرف بڑھا جب پیچھے سے کسی نے اپنے شکنجے میں جکڑا ۔

خضر تیزی سے دروازہ کھول کر اس کی طرف آیا کمرے میں روشنی سے اس کی آنکھیں چنچنائی ۔

خضر تیزی سے اس کے قریب آیا اور اس کے پاس بیٹھا ۔

تم ٹھیک ہو روح خضر اس کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگا ۔

بھائی ۔اپنے قریب اپنا دیکھ کر وہ سسک اٹھی ۔

وہ اپنے اپنوں کے پاس پہنچ چکی تھی ۔

روح بے اختیار اس کے سینے سے لگ کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

کچھ نہیں ہوا میری گڑیا سب کچھ ٹھیک ہے ہم آگئے ہیں نہ تم بالکل ٹھیک ہو ۔

وہ اسے اپنے ساتھ پیار سے لگائے بہلانے کی کوشش کرنے لگا گا ۔

اس سے پہلے کہ وہ اسے اپنے ساتھ اٹھاتا نظر اس کے پیر پر پڑی ۔روح تمہیں کتنا بڑا زخم آیا ہے چابی کہاں ہے اس کی اس نے بیڑیوں کو کھینچنے کی کوشش کی ۔

درد ہو رہا ہے ۔۔۔سوں سوں کرتے بولتی خضر کو اتنی کیوٹ لگی کہ وہ بمشکل اپنی ہنسی دبا کر اٹھا

میں چابی ڈھونڈ کے لاتا ہوں ۔

جلدی آئیں گا بھائی ۔روح نے سے جاتے دیکھ کر کہا

بس گڑیا میں ابھی آیا بس دو منٹ میں چابی ڈھونڈ کے لاتا ہوں ۔

انیس سال بعد اس نے کسی کو گڑیا کہہ کر پکارا تھا ۔

باہر نکل کر آگے پیچھے ہر طرف چابی ڈھونڈنے لگا ۔

روح خضر کا انتظار کر رہی تھی ۔وہ اب اپنے آپ کو سنبھالتی بڑی مشکل سے کھڑی ہوکر بیڑیاں گھسیٹتے دروازے کے قریب آنے کی کوشش کرنے لگی۔

لیکن یہاں پر اس نے جو منظر دیکھا تھا ۔

اس نے روح کا بھروسا نہیں بلکہ روح کو توڑ کر رکھ دیا ۔

بالکل سامنے اس کا یارم کسی تو گولیوں سے چھلنی کر چکا تھا ۔

ہاں وہ یارم ہی تھا اس کایارم۔