Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 51)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 51)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
معصومہ اپنا سارا سامان پیک کر چکی تھی جبکہ اس دوران لیلیٰ ہر وقت اس کے ساتھ تھی۔
لیلی نے اس کا سارا سامان پیک کرنے میں کافی مدد کی تھی ۔
بہت اچھی نہ سہی لیکن اس چھوٹے سے عرصے میں وہ دوست تو بنی گئی تھی ۔
جبکہ معصومہ یہ سوچ رہی تھی کہ اتنے عرصے سے یہ سب اس کا مذاق اڑا رہے تھے یہ سب جانتے تھے معصومہ کیا کر رہی ہے ۔
اوروہ شارف جو اس سے محبت کے دعوے کرتا تھا ۔۔کتنے آسانی سے اس نے کہہ دیا کہ وہ سب کچھ جانتا تھا اس کے بارے میں اور اسے شک تک نہ ہوا ۔
وہ تو اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے آئی تھی ۔اور اس کے باپ کا قاتل تھا کون۔۔۔۔؟
صارم جیسا انسان ۔نہ کہ ڈیول جیسا ۔اس کے باپ کو مارنے والے پولیس والے تھے ۔
اور وہ اتنے وقت سے سوچ رہی تھی وہ کہ صارم اس کے باپ کے قاتلوں کا پتا لگائے گا جب کہ وہ جانتا تھا کہ اس کے باپ کے قاتل کون ہے وہ تو بس اسے استعمال کر رہا تھا ۔
اور وہ کتنی آسانی سے استعمال ہو رہی تھی ۔
کاش وہ صارم کا ساتھ دینے کی جگہ ڈیول کا ساتھ دیتی ۔
آج اپنے باپ کے قاتلوں تک پہنچ چکی ہوتی ان سے بدلہ لے چکی ہوتی ۔
کیا تم یہاں سے جانا چاہتی ہو معصومہ لیلیٰ نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
نہیں ۔۔میں اپنے بابا کی موت کا بدلہ لینا چاہتی ہوں لیلی میں نہیں جانا چاہتی ۔وہاں میرا ہی کون ۔۔۔ تم نے کبھی ایک خالی گھر میں زندگی جی ہے میں وہاں خالی گھرمیں رہتی تھی پچھلے دو سال سے
ہمارا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے بابا ہر سال ہم سے ملنے آتے تھے میرے لئے ہزاروں گفٹز لاتے تھے ۔شاید وہ دنیا کے لئے اچھے انسان نہیں تھے لیکن وہ اس دنیا کے سب سے پیارے بابا تھے ۔معصومہ بھیگی آنکھوں سے مسکرائی
انہوں نے میری ہر خواہش کو پورا کیا ۔تمہیں پتا ہے لیلی جب مجھے پتہ چلا کہ میرے بابا اس طرح کا کام کرتے ہیں مجھے بہت افسوس ہوا ۔
میں بابا سے ناراض ہوگئی میں ان کا چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔
لیکن ایک دن امی نے مجھے سمجھایا کہ میرے بابا ایسے نہیں ہیں۔ وہ جو بھی کرتے ہیں صحیح کے لئے کرتے ہیں وہ غلط طریقے سے غلط کام کو روکتے ہیں میرے بابا غلط ہو کر وہ کام کر رہے ہیں ۔جوصحیح لوگوں کو کرنے چاہیے ۔
میرے بابا کے کام کرنے کا طریقہ غلط ہے لیکن میرے بابا غلط نہیں ہیں ۔
میں اپنے بابا سے بہت پیار کرتی ہوں ۔میرے بابا بہت اچھے تھے ۔زیادہ وقت ہمارے ساتھ نہیں رہتے تھے ۔۔
اتنی مشکل زندگی گزارنے کے باوجود بھی میرے بابا نے باپ ہونے کا فرض نبھایا ہے ۔مجھ سے اتنے دور رہنے کے باوجود بھی ہر دکھ اور سکھ میں میرے ساتھ تھے ۔جب دو سال پہلے امی کا انتقال ہوا تب وہ پاکستان آئے تھے ۔
میں نے بہت کوشش کی بابا کو بہت منایا کہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں لیکن وہ نہیں مانے ۔
وہ چاہتے تھے کہ میں ان سب چیزوں سے دور رہو ں۔ اور پھر ایک دن خضر سر کا فون آیا کے بابا نہیں رہے ۔
کسی نے میرے بابا کو بیدردی سے مار دیا ۔اور اسی دن میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں اپنے بابا کی موت کا بدلہ ضرور لونگی ۔میرے بابا غلط نہیں تھے نہ ہی وہ غلط کام کرتے تھے ۔تو پھر میرے بابا کو اتنے برے طریقے سے کیوں مارا گیا ۔ سب لوگ جنہوں نے میرے بابا کو مارا سخت سے سخت انجام کے حقدار ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ ڈیول سر ایسا ہی کریں گے ۔وہ ان لوگوں کو سزا ضرور دلوائیں گے ۔ہاں یہ افسوس ہے کہ میں اپنے بابا کے قاتلوں کا انجام اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پاؤں گی ۔
معصومہ روتے روتے زمین پر بیٹھ گئی جبکہ لیلیٰ اسے غور سے دیکھ رہی تھی ۔
تم ان لوگوں کا انجام نہیں دیکھ پاؤ گی مطلب تم کہیں جا رہی ہولیلی نے انجان بنتے ہوئے پوچھا ۔
کیا مطلب ۔۔۔؟ معصومہ سمجھ نا پائی ۔
مطلب معصومہ بی بی یہ سامان ہم اس لیے پیک کر رہے ہیں کیونکہ تمہیں ہم فلیٹ میں شیفٹ کر رہے ہیں ۔پولیس کو شک ہو چکا ہے ۔لیکن تم کہیں جا رہی تھی کیا لیلیٰ مسکراتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھی ۔
مس معصومہ صدیق تم ڈیول کی ٹیم کا حصہ ہو ۔ہاں تم غلط راستے پر نکل گئی تھی تھوڑی سی بہک گئی تھی مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم تمہیں اس طرح سے چھوڑ دیں گے ۔
ہاں تم نے غلط کیا تمہیں وہ فون روح تک نہیں پہنچانا چاہیے تھا تم جانتی ہو ڈیول اس معاملے بھی کتنا ٹچی ہے ۔تمہیں خود اندازہ ہے کہ وہ روح سے کتنی محبت کرتا ہے ۔
تم نے شارف کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں کیا اس کے جذبات تمہارے لئے بہت کھڑے تھے ۔
لیکن اس سب کے باوجود بھی ڈیول نے تمہیں معاف کر دیا ہے ۔کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کل قیامت کے دن وہ صدیق سے نظریں نہ ملا پائے ۔تمہیں پتا ہے معصومہ تمہارا باپ دن میں پچیس بار تمہارا نام لیتا تھا ۔
مجھ سے کہتا تھا تم بالکل میری بیٹی جیسی ہو تمہیں پتا ہے تمہارے لئے ساری شاپنگ یہاں سے میں کرکے بھیجتی تھی ۔
ہم سب مل کر تمہارے لئے شاپنگ کیا کرتے تھے ۔
کیونکہ ہم سب میں سے فیملی صرف صدیق کی تھی۔وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ ہم اس کا دوسرا خاندان ہے ۔اور تمہیں لگتا ہے کہ ہم تمہیں اس طرح سے یہاں سے بھیج دیں گے ۔کیا تم ہماری فیملی کا حصہ نہیں ہو معصومہ۔ لیلیٰ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
جبکہ وہ شرمندگی سے نظریں نیچے زمین پر گاڑےبیٹھی تھی
نہیں معصومہ تم بھی ہماری فیملی کا حصہ ہو۔صدیق نہیں رہا لیکن تم تو ہونا ہمارے ساتھ ۔اور ڈیول کو یقین ہے کہ اب تم انسپیکٹر صارم جیسے گھٹیا انسان کی باتوں میں کبھی نہیں آؤگی ۔
جلدی سے اپنا سامان لو اور باہر آؤ میں گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں اور یہ رونا دھونا بند کرو ڈیول کے ٹیم کے لوگ روتے نہیں ہیں ۔لیلی جو کب سے پیار سے اسے سمجھا رہی تھی آخر میں سختی سے بولتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
اب تم کبھی بھی اسے دیکھنا نہیں چاہو گے نہ خضرنے مشروم کا گلاس بھر کر اس کے سامنے رکھا ۔
میرے یار ہمیں کوئی اور بات کرنی چاہیے شارف دکھی انداز میں بولا ۔
کوئی اور بات نہیں ہم یہی بات کریں گے تمہیں مجھے گرنٹی دینی ہوگی کہ تم کبھی زندگی میں اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھو گے اس نے تمہارا دل توڑا ہے اب یہ بات الگ ہے کہ تمہارا یہ نازک دل دن میں سو بار ٹوٹتا ہے ۔
اوئے اس بار سیریس والا ٹوٹا ہے شارف دکھی عاشق کی طرح بولا ۔
اتنی سختی سے میرا دل پہلے کسی نے نہیں توڑا ۔اگر تم میرے جذبات کی قدر نہیں کر سکتے تو چلے جاؤ یہاں سے ۔
شارف نے مشروم پیتے ہوئے کہا ۔
بھائی آپ بھی پی لیں آپ بھی تو دکھی ہیں آجکل ۔شارف کو اچانک یاد آگیا کہ ڈیول اس کا بھائی ہے ۔
نہیں میری بیوی مجھے چھوڑ کر نہیں گئی ۔اور نہ ہی میں اسے جانے دوں گا اور ویسے بھی میری بیوی کو اس کی اسمیل پسند نہیں ۔
یارم نے شراب کا گلاس خود سے دور کرتے ہوئے کہا ۔
آج کے بعد کسی لڑکی پر یقین نہیں کروں گا ۔سب لڑکیاں دھوکے بازہوتی ہیں ۔شارف ہاتھ ہلا ہلا کر دکھی انداز میں بول رہا تھا
جبکہ اس کے اس انداز پر خضر ہنس ہنس کے پاگل ہو رہا تھا ۔
ایک بات تو کلیئر ہے اگر اب وہ تیرے سامنے بھی آجائے تو تُو اس کی شکل تک نہیں دیکھے گا ہے نہ ۔۔۔۔؟ خضر نے پھر سے کہا ۔
میرے باپ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں اس کی شکل نہیں دیکھوں گا یہی سننا چاہتا تھا نہ تو وہ میرے سامنے آئے گی میں اسے نظر پھیر لوں گا یہی سننا چاہتا تھا اب پڑ گئی دل میں ٹھنڈ ۔وہ غصے سے چلاتے ہوئے بولا
جبکہ ہاتھ دونوں خصر کے گریبان پر تھے ۔
ہاں پڑگئی ٹھنڈ ۔اب تجھے بھی ٹھنڈ پڑواتا ہوں ۔
کہیں نہیں جا رہی تیری معصومہ وہ یہی رہے گی ہمارے ساتھ ہماری ٹیم کے لیے کام کرے گی شارف وہ صدیق کی بیٹی ہے اور صدیق ہمارے لئے کیا تھا ۔یہ تو بھی جانتا ہے ہم صدیق کی بیٹی کو دربدر ٹھوکریں کھانے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے
وہ شارف کا گال تھپتھپا کر مسکرا کر بولا ۔
مطلب مطلب معصومہ نہیں جائے گی اس نے دونوں کے چہروں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
ہاں وہ تو نہیں جائے گی لیکن تم تو اب کبھی اس کی شکل نہیں دیکھو گے اسے دیکھتے ہی اپنا منہ پھیر لو گے ۔خضر نے پھر سے شرارتی انداز میں کہا ۔
جس پر شارف نے بے بسی سے ایک نظر یارم کی طرف دیکھا ۔جو اس کے اس طرح سے دیکھنے پرقہقہ لگا کر ہنسنا تھا ۔
یار میں نشے میں ہوں نشے میں تو انسان کچھ بھی بکواس کردیتا ہے سیریس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
شارف معصوم سی شکل بنا کر بولا
یارم گھر آیا تو کل کی طرح آج بھی وہ باہر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی ۔
وہ بھی اس کے قریب صوفے پر جُڑ کر بیٹھ گیا ۔
میرا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔؟ بہت محبت سے پوچھا
ہا۔۔۔ہاں۔وہ اس سے فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔
کوشش بےکارہے مت کیا کرو تم مجھ سے دور نہیں جاسکتی ۔اس نے آنکھوں میں سختی لیے اس کی اس حرکت کو روکنا چاہا ۔
روح خاموش ہو کر بیٹھ گئی ۔
بہت مس کیا آج تمہیں۔ اس کے گال پر اپنا ہاتھ رکھا اس کا چہرہ قریب کرتے ہوئے بولا ۔
یارم کھانا لگ گیا ہوگا ۔اس نے دور ہونے کی ناکام سی کوشش کی ۔
ابھی میرا کھانا کھانے کا موڈ نہیں ہے ۔یارم نے اپنے لب اس کے گال پر رکھے ۔روح اپنے آپ کو سنبھالتی تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔
یہ کیا حرکت ہے روح تمہیں پتا ہے یہ مجھے پسند نہیں ۔آنکھوں میں سختی لیے غصے سے بولا تھا ۔
یہاں۔۔۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔میری ۔۔۔۔۔۔شش۔ ۔۔۔شفا کبھی ۔۔۔۔۔بھی آ سکتی ہیں ۔۔۔۔اس لیے ۔۔۔روح نے بہانہ بنانے کی ناکام سی کوشش کی لیکن یارم کو اچھا لگا تھا ۔
ہمم صحیح کہہ رہی ہو چلو روم میں چلتے ہیں ۔یارم اس کا ہاتھ تھامے بنا اسے بولنے کا موقع دیئے روم میں لے آیا ۔
اور دروازہ لاک کرکے اپنا جیکٹ اتار کے دور پھینکا ۔
اب یہاں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ اس کا ہاتھ کھینچ کا اسے خود سے قریب کرتے ہوئے بولا ۔
یارم۔ ۔۔آپ کہہ رہے۔ ۔تھے نہ ہم۔ ۔۔۔۔کہی باہر ۔۔۔۔۔چلتے ہیں۔۔۔۔ ڈنر کے لیے ۔۔۔۔۔۔لانگ ڈرائیو ش۔ ۔۔۔شاپنگ ۔۔۔وہ بامشکل اپنی بات مکمل کر پائی۔
جبکہ یارم اسے اپنے قریب کئے اس کے بال تک کھول چکا تھا ۔
آج میرا کہیں جانے کا موڈ نہیں ہے آج سارا وقت میں تمہارے ساتھ گزاروں گا ویسے بھی آج بھی کافی دیر ہوچکی ہے کل کی طرح ۔کل تمہارا موڈ نہیں تھا آج میرا موڈ نہیں ہے ۔اس کے صراحی دار گردن پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا ۔
پلیز ۔۔۔۔۔چ۔ ۔۔۔۔چلتے ہیں ۔۔۔نہ ۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔ اپنے۔۔۔۔۔۔ لئے کچھ سامان۔۔۔۔۔۔۔ لینا ہے ۔۔۔روح نے اس کی پناہوں سے نکلنے کی ناکام سی کوشش کی ۔
روح کیوں تڑپا رہی ہو مجھے ۔کتنے دنوں سے میں دور ہوں تم سے ۔تھوڑا سا تو احساس کرو۔وہ اسے ایک بار پھر سے کھینچ کر اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے بولا ۔
یارم پپ۔ ۔۔پلیز ۔۔۔۔۔۔روح کی بات ہے ادھوری ہی رہ گئی کیونکہ یارم اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا ۔
پھر آگلے ہی لمحے یارم نے اسے چھوڑ دیا میں باہر تمہارا انتظار کر رہا ہوں جلدی آؤ ۔
اپنی خواہش میں آج رات ہوئے کر لوں گا
وہ بس اتنا کہ کر چلا گیا ۔
جبکہ روح کو بچنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا ۔
یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ وہ اس کے قریب آیا لیکن اس سے پہلے جب بھی اس کے قریب آیا تھا تو اس کا یارم تھا کوئی قاتل نہیں کوئی درندہ نہیں ۔
اور آج وہ یارم کے قریب نہیں جانا چاہتی تھی۔
جب بھی یارم اس کے قریب کھڑا ہوتا اسے ایسا لگتا جیسے ابھی وہ اسے بھی مار دے گا بالکل ویسے ہی جیسے اس کی آنکھوں کے سامنے اس آدمی کو مار ڈالا ۔
اور نجانے اور کتنے ہی لوگوں کی جان لے چکا تھا ۔وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ کبھی ایک عام زندگی نہیں گزار سکتی تھی ۔
وہ اس کے قریب نہیں آنا چاہتی تھی ۔جلدی سے الماری کی طرف آئی جہاں یارم کے کپڑوں کے نیچے اس نے فون چھپا کر رکھا تھا ۔
اس نے جلدی سے وہ فون اس بیگ میں رکھا جو یارم نے اسے لے کر دیا تھا ۔
اور باہر آئی جہاں یارم اس کا انتظار کر رہا تھا
وہ اسے لے کر سب سے پہلے شاپنگ مال میں آیا تھا ۔
تمہیں جوجو چاہیے جلدی لو پھر ڈنر پر چلیں گے ۔
وہ اسے اپنے ساتھ لیے شاپنگ مال کے اندر آیا ۔
اسے کچھ نہیں چاہئے تھا بس بے مقصد ہی چیزیں دیکھنے لگی
وہ اس کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہا تھا ۔
اسے یہ سوچ کر برا لگ رہا تھا کہ وہ اس سے دور جانے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے ۔
لیکن وہ اس کی کنڈیشن بھی سمجھ سکتا تھا ایک عام زندگی گزارنا اتنی جلدی اس کے بس میں نہ تھا ۔
جلدی کرو روح۔ تم بیکار میں ٹائم ویسٹ کر رہی ہو ۔
اگر تمہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تو میں تمہاری ہیلپ کر دیتا ہوں ۔
وہ اس کے سامنے رکھے کہیں ڈریسز اٹھانے لگا ۔
یارم یہ سب مجھے نہیں چاہیے ۔میں اپنی پسند سے دیکھ رہی ہوں نہ روح نے سمجھانے کی کوشش کی ۔
نہیں روح تم اپنی پسند سے دیکھ نہیں رہی ہو تم صرف میرا وقت برباد کرنا چاہتی ہو ۔ اور تمہیں پتا ہے ۔ کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا ۔
لیکن یارم یہ مجھے پسند نہیں ہے ۔روح نے اس کے ہاتھ سے ڈریس لینا چاہے ۔
بے بی اگر تمہیں پسند نہیں ہے تو تم کسی کو دے دینا ۔لیکن میری یہ رات برباد کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت
ارے یارم بھائی کیسے ہیں آپ ۔۔۔۔
روح نے اپنے پیچھے سے ایک پیاری سی آواز سنی
میں بالکل ٹھیک ہوں عروہ کیسی ہو تم اور مائرہ کیسی ہے
یارم نے مسکرا کر پوچھا ۔
میں آپ سے بہت ناراض ہوں ۔یہ کا طریقہ ہوا مائرہ سے جب جو آپ کا دل کرتا ہے مل جاتے ہیں ۔اور بہن کو بھول گئے ۔
عروہ منہ بنا کر شکایتیں کرنے لگی ۔
کیا کروں یار تمہاری بھابھی سانس نہیں لینے دیتی ۔کبھی یہ کبھی وہ صارم ٹھیک کہتا تھا شادی کے بعد پتا چلتا ہے آدمی کو کہ عورت کیا ہے ۔
اس نے روح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔جبکہ روح خاموشی سے کبھی یارم کو تو کبھی سامنے کھڑی اس پیاری سے لڑکی کو دیکھتی ۔جو بڑی سی شال میں اپنا آپ چھپائے کھڑی تھی یقینناً وہ پریگنیٹ تھی ۔
آپ لوگوں کو تو بس عورتوں پے الزام لگانے کے بہانے چاہیے جبکہ یہ تو شکل سے ہی دیکھ رہا ہے کہ کتنی معصوم ہے میری بھابھی ۔عروہ نے روح کو گلے لگاتے ہوئے کہا ۔
اسے یہ پیاری سی لڑکی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔
جبکہ اس کے پیچھے صارم کو آتے دیکھ کر روح کو ڈر لگنے لگا ۔
لو تمہارا شوہر آگیا ۔اسی سے پوچھ لیتے ہیں کہ ہم مرد لوگ ٹھیک ہیں یا تم عورتیں۔ کیوں صارم۔۔۔؟ یارم نے مسکراتے ہوئے صارم کو گلے لگایا ۔
نہیں یارم ان عورتوں سے بحث کرنے سے بہتر ہے کہ ہم کوئی اور ڈھنگ کا کام کرلیں ۔صارم نے باقاعدہ عروہ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ۔
اچھا ہوا صارم تم مجھےیہی مل گئے ورنہ میں آج نہیں تو کل تمہارے پاس ضرور آنے والا تھا ۔روح اپنا بیگ دینا ذرا اس نے روح کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور اس کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر ہی بیگ اس کے ہاتھ سے لے لیا ۔
اور پھر صارم کا دیا ہوا فون نکال کر صارم کی طرف کیا۔
یہ تمہارا فون واپس کرنے کے لیے آنے والا تھا میں تھینک یو سو مچ تم نے روح کو ضرورت کے وقت اپنا فون استعمال کرنے دیا اس نے صارم کے ہاتھ میں فون پکڑاتے ہوئے اس کی مٹی اپنے ہاتھ سے بند کی ۔
جس پر صارم نے ایک نظر روح کو دیکھا پھر بڑی مشکل سے مسکرا کر فون لے لیا ۔
ٹھیک ہے اب ہم چلتے ہیں ان شاءاللہ بہت جلد ملاقات ہوگی ۔یارم نے کہا
بہت جلد نہیں بلکہ پرسوں ملاقات ہوگی پرسوں آپ دونوں ڈنر ہمارے ساتھ ہمارے گھر پر کریں گے ۔مجھے صارم نے بتایا تھا آپ کی شادی کے بارے میں لیکن پھر انھوں نے یہ بتایا کہ آپ دونوں ہنیمون پہ جا چکے ہیں ۔
لیکن اب نو بہانہ پرسوں شام سات بجے آپ دونوں میرے گھر پے ہونے چاہیے بس بات ختم ۔عروہ نے آرڈر دیا جس پر وہ مسکرا دیا ۔
اب اپنی بہن کا حکم کو ٹال سکتا ہے کیا ۔وہ مسکرایا اور جھک کر مائرہ کے گال پر پیار کرتے ہوئے روح کا ہاتھ تھام کر جانے لگا
جبکہ روح کے ہاتھ پیر بری طرح کانپ رہے تھے ۔
وہ سب کچھ جانتا تھا اب وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا
کہیں اسے بھی اس آدمی کی طرح ۔۔۔اس سے اگر وہ کچھ بھی نہیں سوچ پائی مارکیٹ سے لے کر گاڑی تک کا سفر روح کے لیے دنیا کا سب سے مشکل ترین سفر تھا ۔
