Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 48)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 48)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
وہ کافی دیر باہر ہی رہی اور ان لوگوں کو دیکھتے رہی آخر وہ کس طرح سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔
شفا ہر تھوڑی دیر کے بعد کسی کو فون کرتی ۔
جبکہ میری باربار اسے مسکرا کر دیکھتی۔
وہ دونوں آدمی باہر ہی تھے شاید انہیں اندر آنے کی اجازت نا تھی اس لئے تو اتنے دنوں سےاس نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا
روح کو آج موقع ملا تھا یہ گھر ٹھیک سے دیکھنے کا ۔
وہ جب سے آئی تھی اس نے اس گھر کو ٹھیک سے نہ دیکھا وہ اپنے برتھ ڈے والی رات اس گھر میں آئی تھی اس کے اگلے دن ہی ان لوگوں نے اسے کڈنیپ کر لیا ۔
اس کے بعد جو حقیقت اس کے سامنے آئی اس کو یہ گھر دیکھنے کا شوق ہی نہ رہا ۔
یہ گھر ضرورت سے زیادہ بڑا تھا ۔
جو کہ دو منزلوں پر مشتمل تھا ۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا اس گھر میں دس سے زیادہ رومز تھے ۔ایک بڑا سا سوئمنگ پول ۔کافی کھلا اور بڑاگارڈن ۔دیواروں کے ساتھ لگے رنگ برنگے پھولوں کے پودے ۔یہاں ہر رنگ ہر نسل کا پھول موجود تھا ۔
وہ لوگ مسلسل اس پر نظر رکھے ہوئے تھے جب کہ روح بے نیاز ی سے پورے گھر کو آرام سے دیکھ رہی تھی ۔
وہ گھر میں واپس آئی تو اس کی نظر اس کمرے پر پڑی ۔
جواب بھی بند تھا ۔
اور اس کی چابی یارم کے پاس تھی اس نے وہ دیکھی تھی۔
یہ چابی تب بھی یارم کے پاس بھی جب وہ لوگ دوسرے فلیٹ میں رہتے تھے ۔یارم ایک چابی ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا ۔ہنیمون پر بھی جس چھوٹے سے چاقو سے اس نے اُس جانور کو مارا تھا ۔وہ چابی اسی چاقو کے ساتھ تھی ۔۔یارم نے ایک بار بھی اس کمرے کا دروازہ نہ کھولا تھا ۔
پتا نہیں اس کمرے میں ایسا کیا تھا ساگھر کھلا تھا بس یہ ایک کمرہ لاک تھا ۔
پتا نہیں یارم یہ کمرہ لاک کیوں رکھتا تھا ۔
روح کو یقین ہو گیا کہ میری اور شفا اپنے اپنے کام میں مصروف ہو چکی ہیں تو وہ آرام کرنے کا کہہ کر اپنے کمرے میں آگئی ۔
ان لوگوں کو بتانا ضروری نہیں تھا ۔
لیکن پھر بھی اس نے کہا تھا کہ اسے کوئی ڈسٹرب نہ کرے وہ سونا چاہتی ہے ۔
جس پر شفا نے مسکرا کر کہا میم آپ آرام کریں کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا ۔
پھر وہ اپنے کمرے میں آگئی
یس سر میںم بالکل ٹھیک ہیں ابھی انہوں نے پورا گھر دیکھا ہے
آپ فکر نہ کریں ہم ان کا خیال رکھ رہے ہیں ۔
شفا نے کہا
اس نے کچھ کھایا یارم نے فکر مندی سے پوچھا ۔
یس سر انہوں نے ابھی لنچ کیا ہے ۔
اور کہا ہے کہ کوئی انہیں ڈسٹرب نہ کرے وہ آرام کرنا چاہتی ہیں ۔
شفاء نے بتایا
ہاں ٹھیک ہے تم لوگ اسے بالکل ڈسٹرب مت کرنا ۔یارم نے مطمئن ہوکر فون رکھا ۔
آج کل روح رات کو بھی سکون سے نہیں سوتی تھی ۔جس کی وجہ سے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔
یارم بھی یہی چاہتا تھا کہ روح آرام کرے اور بالکل ریلیکس ہو جائے ۔
وہ اس پر بالکل غصہ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کسی چیز کو لے کرٹینشن لینے دیتا ۔
وہ جانتا تھا کہ روح آہستہ آہستہ ہی سہی لیکن اس حقیقت کو قبول کرلے گی کہ یارم کیا ہے ۔
یارم چاہ کر بھی اس سے دور نہیں رہ سکتا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ روح کو تکلیف پہنچا رہا ہے وہ اسے اپنے ساتھ زبردستی رہنے پر مجبور کر رہا ہے ۔
لیکن اس معاملے میں وہ خود بھی مجبور تھا ۔
وہ کمرے میں آئی اور چھپایا ہوا فون نکالا ۔
اور فون میں موجود ایک ہی سیو نمبر پر کال کرنے لگی جو اگلے ہی سیکنڈ اٹھا لی گئی ۔
ہیلو روح تم ٹھیک ہونا ۔صارم نے کہا
روح اس کے جواب میں کچھ بھی نہ بول پائی
روح تم ٹھیک ہونا سب کچھ ٹھیک ہے نہ یارم نے تمہیں کچھ کہا تو نہیں ۔
صارم نے فکر مندی سے پوچھا
نہیں میں ٹھیک ہوں ۔روح بس اتنا ہی بولی
کاش تم میرا یقین کرلیتی روح۔ میں نے تمہیں بتایا تھا وہ شخص کیسا ہے ۔لیکن میں سمجھ سکتا ہوں ۔ایک عام سی لڑکی کے لئے اس کے شوہر کی حقیقت برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے میں تمہاری فیلنگز سمجھتا ہوں روح ۔
میں سمجھتا ہوں اس وقت تم کس تکلیف سے گزر رہی ہو ۔
لیکن تم فکر مت کرو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔
تم بس مجھے یہ بتاؤ کہ یارم نے تمہیں کہاں رکھا ہے ۔
میں تمہارے فلیٹ میں بھی گیا تھا ۔لیکن اب وہاں کوئی نہیں رہتا ۔
آخر یار م تمہیں کہاں لے کے گیا ہے ۔
میں نہیں جانتی کہ یہ جگہ کہاں ہے بس یہ ایک بہت بڑا گھر ہے ۔روح نے جواب دیا
معصومہ شارف کے ساتھ تمہارے گھر جانے والی تھی تمہیں فون دینے کے لیے ہاں شاید اب معصومہ میری مدد کر سکے وہ تمہارے گھر گئی تھی نا اس نے اب تک میری بہت مدد کی ہے
اگر معصومہ میری ہیلپ نہ کرتی تو بہت پرابلم ہو جاتی لیکن جب سے معصومہ تمہارے گھر سے گئی ہے اس کے بعد میرا اس سے رابطہ نہیں ہوا ۔
اس نے بس مجھے میسج کرکے بتایا تھا کہ وہ فون تم تک پہنچا چکی ہے صارم نے بتایا
مجھے یہاں سے نکلنا ہے مجھے پاکستان واپس جانا ہے پلیز میری مدد کریں مجھے میرے گھر جانا ہے میں یہاں ان لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی یہ انسان نہیں حیوان ہیں۔
یارم نے ۔۔۔۔۔۔یارم نے میرے سامنے اس آدمی کی جان لے لی ۔وہ کہتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
روح پلیز رونا بند کرو میں تمہاری تکلیف سمجھ سکتا ہوں ۔
تم فکر مت کرو میں تمہیں وہاں سے نکلوں گا اورآئی پرومس میں تمہیں پاکستان واپس بھجوادوں گا ۔
لیکن اس کے لئے تمہیں میری مدد کرنی ہوگی ۔
کیسی مدد روح نے پوچھا
دیکھو روح یہاں یارم کے خلاف گواہی کوئی نہیں دے گا ۔لیکن تم نے اسے قتل کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
میں تمہیں گواہ کے طور پر عدالت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔صارم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
میں ۔۔۔میں کیسے روح پریشانی سے بولی
روح تم نے دیکھا ہے نہ اس نے کس طرح سے کسی کی جان لے لی ۔میں جانتا ہوں وہ شخص کوئی معصوم انسان نہ تھا بلکہ وہ بھی اسی کی دنیا کا ایک حیوان تھا ۔لیکن ہمارا معاشرہ ایک انسان کو دوسرے انسان کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا ۔
دیکھو روح یارم کو جب میں نے پچھلی بار گرفتار کیا تھا تب اس کی ایک ویڈیو میرے ہاتھ لگی تھی جس میں اس نے کچھ لوگوں کا قتل کیا تھا ۔
لیکن بہت ہی ہوشیاری سے وہ ویڈیو مجھ سے لے گیا ویڈیو آج بھی اس کے پاس موجود ہے وہ کبھی ایسی چیز ضائع نہیں کرتا ۔
تم اس کے گھر میں رہتی ہو اس کے ساتھ تمہیں بس وہ ویڈیو ڈھونڈنا ہے ۔اس ویڈیو کے علاوہ ایک فائل ہے جس میں یارم اپنے سارے کالے کارنامے سیو رکھتا ہے ۔
وہ جانتا ہے کہ وہ فائل سے پھس سکتا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی فائل کی وجہ سے وہ دوبئی کا ڈان ہے ۔
اس کی وجہ سے لوگ اسے ڈرتے ہیں ۔اس ویڈیو میں جس طرح سے اس نے بلیڈ سے ان لوگوں کا قتل کیا تھا ۔لوگ اس چیز سے ڈرتے ہیں ۔
وہ ویڈیو یارم کے سب دشمنوں کے پاس موجود ہے لیکن ہمیں کوئی نہیں دے گا ۔اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت ہے کہ یارم کے خلاف اٹھے
وہ تمھیں ڈھونڈ کر لانی ہوگی روح ۔ہم رابطے میں رہیں گے تم یہ فون چھپا دینا ۔
میں جانتا ہوں یہ تمہارے لیے بہت مشکل ہوگا روح لیکن یارم جیسے درندے کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کے لئے تمہیں میری مدد کرنی ہوگی ۔
اور یہ میرا وعدہ ہے کہ میں تمہیں ہمیشہ کے لئے پاکستان بھجوا دوں گا ۔صارم اس کے رونے کی آواز سن کر خاموش نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ یہاں پر نرم پڑ گیا تو ڈیول کو کبھی سزا نہیں دلوا پائے گا ۔
یارم۔۔۔۔۔۔ کو۔۔۔۔کک۔ ۔۔ کچھ ہوگا تو۔۔۔۔نی۔ ۔۔۔۔ نہیں نہ ۔۔وہ بڑی مشکل سے اپنے الفاظ کہہ پائی تھی ۔
میرا یقین کرو روح میں جتنی کم ہوسکے اتنی سزا یارم کو دلواؤں گا ۔۔۔ یقین کرو سزا کاٹنے کے بعد جب وہ تمہارے پاس واپس آئے گا تو انسان بن کے آئے گا حیوان بن کے نہیں ۔
میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں یارم کو پھانسی نہیں ہونے دوں گا ۔بس اتنا کہہ کے سامنے فون بند کر دیا
جبکہ پھانسی کا نام سن کر روح کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے
فون بند ہونے کے بعد بھی روح کافی دیر ایسے ہی روتی رہی۔
کیا وہ یارم کے ساتھ اس طرح سے کر سکتی تھی وہ کیسے اپنے ہی یارم کو اس طرح سے پولیس کے حوالے کر سکتی تھی وہ کیسے صارم کی بات مان کہ وہ ثبوت ڈھونڈتی لیکن یہ ضروری بھی تھا ۔
وہ ساری زندگی یارم کو ایک قاتل کے روپ میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔
اس کو ایک اچھا انسان چاہیے تھا ایک عام تھا انسان ۔
اسے کسی بھی طرح سے یارم کو ایک عام زندگی دینی تھی ۔
صارم نے اس سےوعدہ کیا تھا کہ وہ اسے پھانسی نہیں ہونے دے گا چاہے کچھ بھی ہو جائے پر کم سے کم سزا دلوانے کی کوشش کرے گا ۔
ان شاللہ یارم اس کے ساتھ عام زندگی گزارے گا ۔
اور یارم کو ایک عام زندگی کی طرف لانے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی ۔
وہ صارم کے باتوں کو سوچتے ہوئے ثبوت کو ڈھونڈنے کے لئے باہر آئی تھی۔ کہ نظر سامنے والے کمرے پر پڑی۔
نجانے کیوں اسے یقین تھا کہ یارم کے خلاف ثبوت اسے اسی کمرے میں ملیں گے ۔
وہ اس کمرے کے قریب آئی اور دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ لاک تھا ۔اگر نوکر اسے اس کمرے کے قریب دیکھ لیتے تو یہ خبر بھی یارم تک پہنچادیتے اس وقت وہ دونوں باہر دھوپ میں بیٹھی تھی ۔
اسے کسی بھی طرح یارم سے وہ چابی لینی تھی ۔
اور اس کے لیے اسے یارم کے ساتھ نارمل ہونا ضروری تھا
