Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 95)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 95)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
یارم کون ہو سکتا ہے اتنی ہمت کون کر سکتا ہے خضر پریشانی سے بولا ۔
جوبھی ہے بچے گانہیں اتنی بیانک موت دوں گا کے اس کی روح تک کانپ جائے گی یارم غصے سے کہتا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ۔
جبکہ اسے کہیں جاتا دیکھ کر خضرفورا گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
لیلیٰ اور معصومہ صارم کی گاڑی میں ایئرپورٹ جارہے تھے ۔
لیلی معصومہ تم لوگ عروہ اور بچوں کو اندر لے کے جاؤ ہم روح کو ڈھونڈنے جا رہے ہیں
ابھی وہ لوگ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے صارم نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا جبکہ یار م گاڑی لے کر خضر کے ساتھ نکل چکا تھا
نہیں میں تم لوگوں کے ساتھ آوں گی لیلیٰ نے فیصلہ کن انداز میں کہا ۔
دیکھو لیلیٰ اگر تم ہمارے ساتھ آؤں گی تو دبئی سے کانٹیکٹ کون کرے گا یہ کام تم سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا صارم نے لیلی کو سمجھاتے ہوئے کہا
ہاں لیلیٰ وہ جو کوئی بھی ہے اس نے بہت سوچ سمجھ کر یہ کام کیا ہے یا تو وہ کوئی بہت پاورفل انسان ہے یا ضرورت سے زیادہ بے وقوف جس نے یار م جیسے انسان کو للکارا ہے
یہ کوئی عام آدمی نہیں ہوسکتا شارف نے صارم کی بات کی تصدیق کی
ٹھیک ہے میں دبئی سے کانٹیکٹ کرتی ہوں ہمارا کوئی ایک دشمن نہیں ہے
میں پتہ لگانے کی کوشش کرتی ہوں کہ کون ہو سکتا ہے جو ڈیول کی سب سے بڑی کمزوری سے واقف ہے لیلیٰ نے عروہ اور معصومہ کو چلنے کا اشارہ کیا
تو وہ دونوں بچے اٹھا کر گھر کے اندر چلی گئی جبکہ صارم اور شارف خضر اور یارم کے پیچھے جا چکے تھے او ہو شونو تو شارف کی گاڑی میں رہ گیا معصومہ نے پریشانی سے کہا
کوئی بات نہیں وہ بہت سمجھدار ہے
فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔
ہائے نہ جانے کون سی مصیبت انتظار کر رہی تھی میری معصوم بچی
یا اللہ میری روح کی حفاظت کرنا اس معصوم بچی نے بہت تکلیفیں سہی ہیں
اسے اپنی حفظ و امان میں رکھنا میری روح کی جان اور عزت آپ کے ہاتھ ہے
عروہ معصومہ اور لیلیٰ جب سے بچوں کے ساتھ واپس آئیں تھی تعظیم روئے جارہی تھی
جبکہ ماریہ اور تانیہ انہیں دلاسہ دے رہی تھی
آپ فکر نہ کریں آنٹی یارم سر ا سے کچھ نہیں ہونے دیں گے معصومہ نے حوصلہ دیا جبکہ لیلی اپنے لیپ ٹاپ پر نہ جانے کیا کر رہی تھی
اس نے دبئی میں ہر بندے سے رابطہ کیا لیکن ڈیول سے دشمنی لینے کی ہمت کسی میں نہ تھی لیلی مسلسل کام کر رہی تھی
عروہ اپنی جگہ پریشان تھی جبکہ معصومہ بے چینی سے ٹہل رہی تھی
ہم پولیس میں رابطہ کرتے ہیں تعظیم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
نہیں آنٹی اس کا کوئی فائدہ نہیں اور ویسے بھی صارم ہمارے ساتھ ہیں اگر انہیں ضرورت محسوس ہوئی تو وہ ضرور پولیس سے رابطہ کریں گے عروہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا
جبکہ اتنے میں لیلیٰ کو خضر کا فون آیا
اور اب تک لیلیٰ کو جتنی بھی انفارمیشن ملی تھی وہ خضر کو بتانے لگی
یارم لیلیٰ کہہ رہی ہے تمہارے دشمنوں میں تمہارے خلاف جانے کی ہمت کوئی نہیں کرسکتا
اس نے دبئی کے سب لوگوں سے کانٹیکٹ کرنے کی کوشش کی ہے ۔اور جتنی انفارمیشن اسے ملی ہے اس کے مطابق کوئی تمہارے خلاف نہیں جا سکتا
خضر نے کہا جبکہ یارم پاگلوں کی طرح گاڑی سڑک پر دوڑا رہا تھا
وہ کوئی بھی ہے میرے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے اسے پتہ ہے روح میری کمزوری ہے
اسنے میری کمزوری پر ہاتھ ڈالا ہے اور میں اسے زندہ زمین میں گاڑ دوں گا یارم غصے سے چلایا
وہ تقریبا ایک گھنٹے سے مسلسل گاڑی چلا رہا تھا اس کی نظر سڑک پر چلتی ہر گاڑی پر تھی
جب اسکے فون پر انجان نمبر سے فون آیا یارم نے ایک نظر خضرکو دیکھا پھر فون اٹھا لیا
ہاہاہا کیسےہو ڈیول واللہ یہ کیا پوچھ لیا میں نے تم ٹھیک کیسے ہو سکتے ہو تمہاری جان تو میرے پاس ہے
یار م کے ماتھے پر لاتعداد بل نمایاں ہوئے
تمہاری جان تمہاری سب سے بڑی کمزوری تمہاری بیوی میرے پاس ہے ڈیول
لیکن تمہارے یہاں آنے سے پہلے میں اس کے اتنے ٹکڑے کرونگا
راشد۔۔۔۔ یارم غصے سے چلایا
ہاں راشد وہی راشد جس کے بھائی کے منہ میں تیزاب ڈال کر تم نے مار ڈالا تھا
جس کے سامنے تم نے اس سے اس کا اکلوتا رشتہ چھین لیا تھا میرے بھائی نے مجھے باپ بن کر پالا اور تم نے پل بھر میں میرے سامنے اس کو موت کی نیند سلا دیا
اب میں تم سے بدلہ لوں گا ۔ہاں میں ڈیول یقین نہیں آرہا نہ کہ مجھ جیسا کمزور انسان کیسے تم جیسے انسان سے پنگا لے بیٹھا ۔
محبت۔۔۔ محبت سب کچھ کرواتی ہے ڈیول جس طرح سے تم نے مجھ سے میرا پیارا عزیز بھائی چھین لیا اسی طرح سے میں تم سے تمہاری عزیزو جان بیوی کو چھینوں گا
اب میں تم سے تمھارا اکلوتا رشتہ چھینوں گا مجھے پتا ہے تو مجھے ڈھونڈ کر مار دوں گا ۔اور مجھے موت کا خوف بھی نہیں ہے میں مرنے کے لئے تیار ہوں لیکن مرنے سے پہلے میں تمہیں ہاروں گا اپنا بدلہ پورا کروں گا ۔
خیر یہ تو تم سمجھ چکے ہوں گے کہ تم سے پنگا لینے سے پہلے میں نے اپنے دل سے موت کا خوف ختم کر ہی لیا ہوگا ۔
تم جلدی سے یہاں آجاؤ
لیکن تمہارے آنے سے پہلے تمہاری روح کے جسم سے اس کی روح پرواز کر جائے گی
تم کبھی کسی سے ہارے نہیں ہونا ڈیول لیکن اب تم ہارو گے میں جانتا ہوں تم مجھے زندہ نہیں چھوڑو گے لیکن اب زندگی سے زیادہ ضروری مجھے تمہیں ہارانا ہے تمہارا جھکا ہوا سر دیکھنا ہے ۔
میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا یارم پھر سے چلایا
شوق سے مار دینا لیکن پہلے اپنی روح کو تو بچا لو بیچاری تکلیف سے تڑپ رہی ہے میں تمہیں ایڈریس سینڈ کرتا ہوں ۔اگر ہے ہمت تو جلدی سے آکر اپنی روح کو مرتے ہوئے دیکھو
جتنی جلدی آؤ گے اتنی ہی جلدی اس کی جان بچا پاؤگے
غلطی کی میں نے تجھے چھوڑ کر تیرے بھائی کے ساتھ تجھے بھی ختم کردینا چاہے تھا یارم غصے سے بولا
ہاں لیکن اب کوئی فائدہ نہیں تمہارے پچھتاوے کا کیونکہ جس کے صدقے تم نے میری جان بخشی تھی آج وہ بھی مرنے جا رہی ہے
فون بند ہوچکا تھا اگلے چند سیکنڈ میں یارم کو ایک میسیج آیا اور یارم نے گاڑی فل سپیڈ میں آگے بڑھا دی
ہیلو خضر کچھ پتہ چلا ۔۔۔؟
صارم کہہ رہا تھا کہ ہمیں پولیس کو انفارم کرنا چاہیے
شارف نے کہا
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے یہ سب کچھ راشد کا کام ہے ۔
میں تمہیں لوکیشن سینڈ کرتا ہوں تم پہنچو خضر نے کہہ کر فون بند کر دیا ۔
یہ کتا یہاں کیا کر رہا ہے کس نے چھوڑ دیا اسے یہاں صارم نے ایک نظر پیچھے دیکھا
شاید معصومہ ٹنشن میں اسے بھول گئی
یہ سب راشد کا کام ہے خضر لوکیشن سینڈ کرنے والا ہے شارف نے بتایا
راشد میں اتنی ہمت کہاں سے آئی میرا مطلب ہے صارم نے کچھ کہنا چاہا .
اکثر سب سے کمزور کھلاڑی سب پے بھاری ہوتا ہے راشد سمجھ چکا تھا کہ اس کے بھائی کا بدلہ لینے کے لیے کوئی اس کا ساتھ نہیں دےگا بس کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی ۔ کہ کوئی یارم سے پنگا لیتا ۔اس لیے اس نے یارم کے بارے میں ساری انفارمیشن نکالی اور اس کی سب سے بڑی کمزوری پر حملہ کیا شارف نے تحمل سے اس کی بات کا جواب دیا اور خضر کے میسج کا انتظار کرنے لگا
کہاں ہو تم راشد میں یہاں پہنچ چکا ہوں یارم نے راشد کو فون کیا
مجھ سے ملاقات کرکے کیا کروگے ڈیول میں مرنے کے لیے تیار ہوں تم اپنی روح کو ڈھونڈو مجھے بعد میں سکون سے مار لینا راشد نے پرسکون انداز میں جواب دیا
کہاں ہو تم یارم غصے سے چلایا
اف ایک تو تم بھی نا یہاں ہوں اوپر سامنے دیکھو آرہا ہوں نیچے وہ چڑ کر بولا اور مسکراتے ہوئے زینے اترنے لگا۔
یہ کوئی بہت پرانی کھنڈر نما جگہ تھی اور وہ سامنے ٹوٹی پھوٹی سیڑھیوں سے اتر رہا تھا ۔
جب یارم تیزی سے اس کی طرف آیا اور اسے بُری طرح پیٹنے لگا اسے مارتے مارتے یارم نے اپنی جیب سے پستول نکالی ۔اور اسے شوٹ کرنے لگا
یارم ہوش میں آؤ پاگل ہوگئے ہو کیا خضر نے کہا
ڈونٹ خضر اسے روکو مت ڈیول مارو مجھے قسم سے مار ڈالو لیکن اگر میں مر گیا تو روح کے بارے میں کون بتائے گا تم ملک کو مار کر خود پر رسک لے سکتے ہو لیکن اگر تمہاری روح کو کچھ ہوگیا تو وہ آنکھوں میں شیطانیت لئے بولا ۔
تمہارے پاس بہت کم وقت ہے راشد اپنی موت کا انتظار کرو یارم نے اپنے سرخ انگارے نما آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا اور تمہاری روح کے پاس تھوڑا سا وقت بھی نہیں ہے ڈیول
میں اس کی دونوں نسیں کاٹ چکا ہوں
وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے یا شاید گن چکی ہوگی وہ مکرو انداز میں ہنسا تم ہار گئے یارم کاظمی میں نے تم سے تمہاری سب سے عزیز چیزچھین لی ۔
لیکن شاید وہ ابھی زندہ ہو وہ اس کھنڈر میں ہے اسے ڈھونڈ لو اگر ڈھونڈ سکتے ہو تو جاوجاؤ ڈھونڈو اسے وقت ضائع مت کرو کہیں وہ مر نہ جائے ۔
جاؤ اپنی روح کو تلاش کرو وہ مر جائے گی ڈیول اگر زندہ ہوئی تو راشد چھپا چھپا کر بولا
اس کی ہنسی میں پاگل پن شامل تھا جیسے اس کا مقصد ہی یارم کو برباد کرنا ہو ۔
اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہا تھا وہ یارم کو بے بس دیکھنا چاہتا تھا اور دیکھ رہا تھا
یارم پاگلوں کی طرح کھنڈر کا چپہ چپہ چھاننے لگا لیکن روح کہیں نہ ملی ۔
میں نے اس کی دونوں نسیں کاٹ دی ہیں
اگر زندہ ہوئی تو
بچا لو اسے
راشد کے الفاظ اس کے ذہن میں گونجنے لگے
نہیں روح کو کچھ نہیں ہوگا میری روح کو کچھ نہیں ہو گا ۔
شارف اور صارم متعلقہ جگہ پہنچ چکے تھے
راشد کو وہاں پاگل کی طرح ہنستے دیکھ کر وہ خضراور یارم کی طرف آئے جو بے چینی سے شاید روح کو تلاش کر رہے تھے ۔
ارے ڈیول تم نے اپنے ساتھیوں کو بلالیا
جاؤ جاو تم لوگ بھی ڈھونڈو کہیں وہ مر نہ جائے ہاہاہا وہ پاگلوں کی طرح ہنستا ان کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا تھا ۔
کتنے سست ہو تم لوگ اتنی دیر میں تو وہ مر جائےگی وہ قہقہ لگا کر بولا ۔
جب یار م نے ا سے گھسیٹ کر سامنے کیا
کہاں ہے میری روح بولو وہ دھاڑا تھا
ڈھونڈلو راشد پرسکون انداز میں بولا ۔
راشد بہت برداشت کر چکا ہوں میں بہت کم وقت ہے تمہارے پاس میں مجھے میری روح چاہیے ورنہ وہ اپنی پستول کو لوڈ کرتے ہوئے بولا
نہیں ڈیول میں تمہیں کچھ نہیں بتاؤں گا ۔ تم مجھے موت سے ڈرا رہے ہو تمہیں کیا لگتا ہے اگر مجھے موت کا ڈر ہوتا تو میں یہاں تمہارے سامنے کھڑا ہوتا ۔وہ بے خوفی سے بولا جبکہ یارم اس پہ گن تانے کھڑا تھا
نہیں یارم پاگل ہوگئے ہو کیا۔ روح کے بارے میں اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا صارم اسے سمجھانے کے لئے آگے بڑھا ۔
جب پیچھے سے اچانک گولی چلنے کی آواز آئی وہ جھٹکے سے مڑا سامنے زمین پر راشد تڑپ رہا تھا ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ان کے سامنے دم توڑ گیا ۔
اس شخص نے یارم کو ہارانے کے لیے اپنا آپ ختم کردیایارم تیزی سے اس کی طرف بڑھا ۔
نی نہیں نہیں راشد تم ایسے نہیں مر سکتے مجھے میری روح کے بارے میں بتائے بغیر نہیں مر سکتے تم اٹھو میں کہتا ہوں ڈیماٹ۔
I say open your eyes you .b…..
میں کہتا ہوں اٹھو وہ غصے سے اس کے بے جان وجود کو مارنے لگا اٹھو بتاؤ مجھے میری روح کہاں ہے بولو اٹھو ورنہ میری روح میری روح نہیں اس نے اس کی نسیں کاٹ دی ہیں اس باسٹر کو بولو اٹھے
خضر بولو اسے اٹھے میری روح مر جائے گی ۔
یارم پاگلوں کی طرح اسے جھنجھوڑ رہا تھا ۔
دیکھ میں تیرے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں پلیز مجھے بتادے میری روح کہاں ہے وہ مر جائے گی خضر میری روح مر جائے گی یارم نے اسے پیچھے کی طرف دھکادیا اور ایک بار پھر سے اسے جھنجوڑنے لگا
