Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 69)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

صبح یارم کی آنکھ کھلی تو روح اس کے بالکل قریب سو رہی تھی ۔

پہلے یارم کتنی دیر اسے دیکھتا رہا پھر شرارت سے اس کے لبوں پر جھک گیا۔

روح نے اگلے ہی لمحے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے خود سے دور کیا ۔

آپ کو شرم نہیں آتی کسی سوئے ہوئے انسان کے ساتھ ایسی حرکت کرتے ہوئے روح اپنی شرم ایک سائیڈ رکھتی غصے سے پوچھنے لگی ۔

جبکہ یارم بہت دلچسپی سے اس کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ رہا تھا

نہیں مجھے بالکل بھی شرم نہیں آتی میں بہت ہی بے شرم انسان ہوں اور تمہارے ساتھ کچھ بھی کرتے ہوئے تو مجھے بالکل بھی شرم نہیں آتی ۔

کہتے ہوئے یارم ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکا اور پیاری سی شرارت کی ۔

اس کے لبوں کو بخشتا ایک نظر اٹھاکر اسے دیکھا پھر مسکرایا

اس سے پہلے کہ وہ اس کی لبوں کو دوبارہ اپنا نشانہ بناتا روح اس سے دھکا مارتی اس کے قریب سے اٹھ گئی

آپ جیسے بے شرم لوگوں کو شرم دلانا اچھے سے آتی ہے مجھے ۔وہ اپنا حیا سے دمکتا چہرہ پھیر کر بولی

اب اٹھیں فوراً رات خضر بھائی نے فون کیا تھا نہ کہ ہم گھومنے جا رہے ہیں ۔

آپ کو اگر آنا ہے تو آ سکتے ہیں ہمارے ساتھ روح نے ایسے کہا جیسے اسی کا پلان ہوجانے کا ۔

میرے ہی پلان میں ۔میں تم سے تو اجازت نہیں مانگوں گا جانے کی یارم نے اسے بتا نا چاہا کے گھومنے کا پان اسی کا ہے ۔

یار م اس وقت میں کوئی بحث نہیں چاہتی میرا موڈ بہت اچھا ہے اور میں جا رہی ہوں تیار ہونے ۔

وہ خوشی خوشی جانے لگی کہ یارم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ۔

جس سے وہ سیدھی اس کے سینے پر گری

بےبی وہ جو لیلیٰ ہے نہ تیار ہونے میں تقریبا پانچ گھنٹے لگائے گی تب تک ہم اپنے ہونے والے بچوں کی پلاننگ کرتے ہیں نا ۔

اس کی بات سن کو روح ایک بار پھر شرم و حیا نے آ گھیرا

جبکہ یارم پیار سے کہتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ قید کر دیے ۔

یارم میرے ساتھ فری ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے اس وقت میں بالکل بھی آپ کی کوئی بات نہیں ماننے والی پیچھے ہٹیں۔ وہ نظریں جھکا کر بولی

جبکہ ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کی ۔

ہاں تم نے کہہ دیا اور میں پیچھے ہٹ گیا گویا یارم نے اس کا مذاق اڑیا ۔

کبھی تو دیکھ لیا کریں دن ہے رات ہے ۔اب صبح 10:00 بجے آپ کا رومینس کرنے کا موڈ ہو رہا ہے ۔

غلط بیانی مت کرو میں نے رومانس کی بات نہیں اپنے ہونے والے بچوں کی پلاننگ کی بات کر رہا ہوں

اب مجھے بالکل ڈسٹرب مت کرو ۔میرے بچے دنیا میں جلدی آنا چاہتے ہیں ۔

وہ اسے آنکھیں دکھاتا ایک بار پھر سے اس پر جھکا ۔

یارم ۔۔روح نے آخری کوشش کی اسے روکنے کی مگر وہ یارم ہی کیا جو رک جائے ۔

آخر روح نے اس کی شدتوں کے سامنے ہمت ہار کر اپنا آپ اس کے حوالے کر ہی دیا

خضر شارف لیلیٰ معصومہ چاروں گاڑی میں بیٹھے ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے ۔

جلدی کرو یار کہا بھی تھا۔ہم لوگ جلدی نکلیں گے اسی لئے تو رات کو بتایا تھا تاکہ سب لوگ وقت پر تیار ہو جاو تاکہ ہم وقت پر نکلیں۔

خضر نے صرف پہلی لائن ہی اونچی آواز میں بولی تھی باقی تو وہ صرف منمنایا تھا ۔

ہاں کیا کہہ رہے تھے تم یارم نے باہر آتے ہوئے اپنا سامان گاڑی کی ڈگی میں رکھتے ہوئے پوچھا ۔

کچھ نہیں میں تو بس پوچھ رہا تھا کہ تمہیں اور وقت چاہیے تو ہم یہاں انتظار کر لیتے ہیں تم لوگ آرام سے آ جاؤ خضرکی بات پر شارف کا قہقہ بلند ہوا ۔

اسے کیا دورے پڑنے لگے ہیں یارم نے شارف کو قہقہ لگاتے دیکھ کر پوچھا ۔

دفع کرو ڈیول تم تو جانتے ہو اس پاگل کو ۔خضر نے اس کا دھیان بٹایا ۔

جب روح بھی جلدی سے باہر آگئی ۔

آج یار م کی من مانیوں نے انہیں بہت لیٹ کر دیا تھا ۔

اس وقت بھی یارم اسے ایسی نظروں سے گھور رہا تھا کہ روح کو اس کے ارادے خطرناک لگے ۔

ہم چھ لوگ جا رہے ہیں روح نے خوشی سے پوچھا ۔

چھ نہیں سات معصومہ نے ایک چھوٹا سا ڈبہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔

جیسے روح نے خوشی سے تھام لیا اور یارم کی طرف دیکھنے لگی جو اسے کھولنے کا اشارہ کر رہا تھا ۔

روح نے ڈبہ کھول کے دیکھا تو اسے یقین نہیں آرہا تھا اس کا شونو زندہ تھا ۔

وہ بے یقینی سے اپنے سامنے ہلتے جلتے اپنے شونو کو دیکھ رہی تھی جو اپنی دوست کو دوبارہ پا کر بہت خوش نظر آ رہا تھا ۔

اس دن ہم تمہیں لے کر ہسپتال چلے گئے جبکہ معصومہ اور لیلیٰ شونو کو بچانے میں لگ گئیں ان دونوں نے اسے بچا لیا

اس کے سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے حالت اتنی خراب ہوگئی تھی کہ اس کا بچنا مشکل تھا اس لئے میں نے تم سے کہا کہ وہ مر چکا ہے ۔

کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تم بعد میں زیادہ اداس ہو یا اسے اپنے سامنے مرتے ہوئے دیکھو ۔

ویسے بھی لڑکیاں زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہیں ایسے جذبات شارف شرارت سے بولا تو معصومہ نے اسے گھور کر دیکھا ۔

تم کچھ زیادہ نہیں گھورنے لگی مجھے شارف نے بدلے میں اسے گھور کر پوچھا ۔

اچھا میں سمجھ کیا شارف نے فرضی کالر جاڑتے ہوئے اپنے آپ کو ہینڈسم کہنا چاہتا ۔

ڈونٹ وری میرا ٹیسٹ اتنا بھی خراب نہیں ہے ۔معصومہ نے اسے آگ لگائی اور جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی ۔

جبکہ یارم اور خضر دونوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسہ دیا تھا

وہ لوگ اس وقت دبئی کے سب سے برے بیچ پر موجود تھے ۔

یہ علاقہ ویسے بھی ہر طرف سے سمندر میں گھیرا ہوا تھا

ٹھنڈی ہوائیں چہرے کو جب کہ سمندر کی بڑی بڑی لہریں ان کے پاؤں کو چھو کر واپس چلی جاتی ۔

کھلتی دھوپ میں بھی روح کو سردی کا احساس ہو رہا تھا

لیلیٰ اور خضر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ننگے پاؤں گیلی مٹی پر ٹہل رہے تھے

جبکہ معصومہ اور روح دونوں اپنے شونو سے کھیل رہی تھی ۔روح نے جلدی ہی اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ معصومہ بھی شونو کے ساتھ بہت اٹیچ ہوچکی ہے

اور شونو بھی کافی حد تک معصومہ کے ساتھ گھول مل چکا تھا ۔

اب اس کی ایک نہیں بلکہ دو دو دوست تھی ۔

تھوڑی دیر کے بعد یارم نے روح کو کچھ دور آنے کا اشارہ کیا جبکہ شارف اسی کی طرف چلا آرہا تھا

روح تمیہں ڈیول بلارہا ہے ۔

اسے یارم کا پیغام دیتا ہوں شونو کی طرف آیا

مجھے یہاں ڈیول نے بھیجا ہے کوئی غلط مطلب مت نکالنا اس نے معصومہ کو دیکھ کر بولا ۔

میں کیوں غلط مطلب نکالوں گی معصومہ نے نہ سمجھی سے پوچھا ۔

سوری اب تمہارا کوئی بھروسہ نہیں ۔شارف بے نیازی سے کہتا اپنی جیب میں ہاتھ ڈالے ٹہلنے لگا جبکہ معصومہ اسے گھور کر رہ گئی

یارم روح کو لے کر بیچ کے ایک سائٹ کی طرف آ گیا ۔

تمہیں پتا ہے ہم یہاں کیوں آئے ہیں اس نے روح کا ہاتھ تھام کے پوچھا۔

گھومنے پھرنے روح نے معصومیت سے جواب دیا ۔

بےاختیار یارم کے ڈنپل نمایاں ہوئے۔

ہاں میرا بے بی وہ تو ہم آئے ہیں لیکن یہاں آج ایک اور خاص بات بھی ہے ۔یارم نے اسے خضر اور لیلیٰ کے بارے میں بتانا چاہا ۔

آج تمہارا بھائی تمہاری بھابھی کو پروپوز کرنے والا ہے اس نے لیلی اور خضر کی طرف اشارہ کرکے بتایا ۔

کیا سچی روح نے ایکسائٹڈ ہوکر پوچھا جس پر یارم نے اس مسکراتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائی

خضر چلتے چلتے اچانک ہی زمین پر بیٹھ گیا ۔

لیلیٰ نے گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹائے لیکن پھر مسکرا دی وہ جانتی تھی خضر کیا کرنے والا ہے ۔

معصومہ نے اڑتی اڑتی خبر اس تک پہنچا دی تھی۔

خضر اس کے سامنے زمین پر بیٹھا تھا پھر اس نے اس کا ہاتھ تھاما

میں نے سنا ہے کہ تم ڈیڑھ مہینے پہلے والے پرپوزل کا کوئی جواب دینے کا ارادہ نہیں رکھتی تو میں نے سوچا کیوں نہ ایک بار پھر سے تمہیں اپنی محبت کا احساس دلادوں۔

سو مس ام لیلیٰ ۔میں تمہیں مسز خضر بنانا چاہتا ہوں۔

کیا تم میری محبت کو قبول کرو گی ۔

خضر کو پورا یقین تھا وہ انکار نہیں کرے گی لیکن اس کے باوجود بھی اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔

بےاختیار ہی لیلیٰ کی آنکھ سے اک آنسو گرا جو اس نے فورا صاف کرنا چاہا لیکن دونوں ہاتھ خضر کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر پائی۔

ان آنکھوں کو چھپانے کی کوشش مت کرو لیلیٰ تم بھی ایک عام لڑکی ہو ایک عام لڑکی جیسی دل رکھتی ہو بہادر مت بناکرو ۔

یہ خضر تمہارے اندر باہر ہر انداز سے واقف ہے ۔

خضرکےبس کہنے کی دیر تھی جب لیلیٰ زمین پر بیٹھی اور اس کی باہوں میں سما گئی ۔

جبکہ ان سے کافی دور فاصلے پر کھڑی روح۔ یا رم سے چپکی ناچ رہی تھی ۔

جب کے اس کی اس معصوم حرکت پر یارم اسے اپنے ساتھ لگائے مسکرائے جا رہا تھا ۔

جبکہ دور معصومہ شونو کو اپنے گلے لگائے تالیاں بجانے میں مصروف تھی ۔

شارف پاس کھڑا اپنے لیے ایک ایسے ہی دن کا انتظار کر رہا تھا