Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 71)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

 آج دن ڈال دیئے گئے تھے ۔کل مایوں اور مہندی تھی ۔

سب لیڈیز کو آرڈر دے دیے گئے تھے کہ اپنی اپنی شاپنگ کر لو ۔

اور اس وقت لیلیٰ روح اور معصومہ شونو سمیت شوپنگ پر گئی ہوئی تھی ۔

لیلیٰ نے شادی کا ڈریس روح کی مرضی سے لیا جبکہ ولیمے کا ڈریس اس نے معصومہ کی مرضی سے لیا تھا ۔

مہندی کالہنگا اس نے خود پسند کیا تھا ۔

وہ روح کو بہت زیادہ اہمیت دے رہی تھی ۔ شاید وہ یارم کے لئے اس کی محبت دیکھ چکی تھی یا پھر خضرکی وجہ سے ۔ لیکن سچی یہی تھاکہ اب لیلی کے لیے روح بہت خاص ہو چکی تھی ۔

اب تو لیلیٰ روح کی اچھی دوست بن چکی تھی جبکہ شونوکی وجہ سے معصومہ بھی روح کے بہت قریب آچکی تھی۔

اب روح نے ان سب کو قبول کرلیا تھا وہ جانتی تھی وہ یارم سےدور نہیں جا سکتی وہ چاہے یا نہ چاہے اسے یہ سب کچھ قبول کرنا ہوگا ۔

تو پھر وہ کب تک یارم کو اس بات کی سزا دیتی رہتی ۔

روح یار تم یہ ساڑھی کیوں نہیں لیتی تم پر بہت سوٹ کرے گی لیلیٰ نے خوبصورت ساڑھی کی طرف اشارہ کیا ۔

نہیں یار میں یہ نہیں پہن سکتی بہت عجیب سی ہے ۔اور تو اور اس کے تو سلیوز بھی نہیں ہیں۔

یارم کو بھی ایسا لباس پسند نہیں ۔

روح نے منہ بنا کر کہا تو لیلیٰ نے مزید فورس نہ کیا ۔

لیکن پھر بھی اس کی ساری شاپنگ اپنی مرضی سے کی ۔

کیوں کہ روح کو اپنا ہوش ہی کہاں تھا وہ تو یارم خضر اور شارف کی شاپنگ کرنے میں مصروف ہو چکی تھی جو گھر پہ باقی کام سنبھال رہے تھے

حد ہے یار ہمیں کام پر لگا کے خود مزے مارنے چلی گئی ہیں مجال ہے جو ہمارے لئے ایک بھی چیز لی ہو گی۔

سب اپنی اپنی چیزیں خریدنے میں مصروف ہو گئی ہوں گی اور تو اور وہ معصومہ اسے تو بہانہ چاہیے شاپنگ کرنے کا

ہائے مجھے جلانے کے لئے سارے رنگ پہنے گی شار ف نے آہ بھر کرکہا ۔

وہ کیا ہوتا ہے ۔چولی گگرا لہنگا ۔لمبے لمبے دوپٹے ۔وہ لمبی لمبی سینڈر ۔اور پھر وہ کان کو چیڑنے والے جھمکے مجال ہے جو ہمارا خیال آجائے ۔

یار اتنا کیوں پریشان ہو رہے ہو اگر تمہیں چولی گگرا لمبے آئرنز اور سینڈل پہننی ہے تو میں تمہیں لے دیتا ہوں ۔

میری طرف سے تمہارے لیے میری شادی کا تحفہ خضر نے معصومیت سے کہا ۔

ہاں بھائی کیوں نہیں سب کچھ لے دے لیکن اگر تومجھے شادی کا تحفہ دینا چاہتا ہے تو میری شادی کرا دے ۔تاکہ وہ سب کچھ کوئی پہن بھی سکے ۔

تم دونوں یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو لائٹنگ لگا دی تم نے باہر کی ۔اس نے کمرے میں آکر خضر سے پوچھا۔

نہیں یار بس ابھی لگانے والا ہوں خضر نے اٹھتے ہوئے کہا ۔

یار جلدی کرو کیوں میری جان عذاب میں ڈالنے والے ہو ۔روح ہر دو تین منٹ کے بعد فون کر کے پوچھ رہی ہے

پلیز یار اٹھو اگر وہ کام ہوئے بغیر پہنچ آئی تو پھر چھوڑے گی نہیں ۔یارم نے مسیکن سی شکل بنا کر کہا تو دونوں کو ہنسی آگئی۔

دوبئی کا ڈان اپنی بیوی سے ڈرتا ہے ۔یار یہ خبر تو صبح کے نیوز پیپر میں آنی چاہیے خضرنے شارف کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے باہر لے جاتے ہوئے کہا ۔

بیٹا جلدی کام ختم کرو ورنہ اس خبر کا تو پتا نہیں یہ خبر ضرور آئے گی کہ دوبئی کاڈان اپنی بیوی کے ہاتھوں بے رحمی سے مارا گیا ۔

یارم نے ان کی سستی دیکھ کر کہا ۔

تو دونوں ہنستے ہوئے باہر نکل گئے

چل شارف بیٹا اوپر چڑجا میں تو نہیں چڑنے والا یار میری کل شادی ہے یہ نہ ہوشادی سے پہلے میرا ہاتھ پیر ٹوٹ جائے ۔

لیلیٰ نے تو ایک لمحہ نہیں لگانا قبول نہیں ہے کہنے میں خضر نے معصوم سی شکل بنا کر اسے اوپر چڑایا ۔

یار کیا لڑکے والے کی طرف ہوں لیکن لڑکی والوں کا سارا کام تو مجھے کرنا پڑرہاہے شارف نے منہ بنایا

ابے تُو تو صرف لڑکے والا ہے میں لڑکا ہوں مجھے اتنا کام کرنا پڑ رہا ہے میرا سوچ ۔خضر نے کہا ۔

تو شارف قہقہ لگا کر ہنس دیا

وہ واپس آئے تو روح کے مطابق سارا کام ہو چکا تھا ۔

لڑکوں نے بہت محنت کی تھی آج وہ سارے ہی تعریف کے قابل تھے ۔

لیکن لڑکیوں کا ارادہ ان کی تعریف کر کے سر چڑانے کا بلکل بھی نہ تھا اسی لیے اگنور کرکے آگے بڑھیں ۔

کل مہندی کی رسم میں بہت کام تھا

جبکہ ان لوگوں کا رات دیر تک بیٹھ کر انجوائے کرنے کا ارادہ تھا روح تو لڑکے والی تھی اس نے تو ڈھولکی بندوبست کر رکھا تھا ۔

اسی لئے آج رات وہ خوب دیر تک انجوائے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے

ایک طرف خضر تو دوسری طرف لیلی تھی۔

خضر کو اس طرف آنے کی اجازت نہ تھی تو لیلیٰ کو بھی اس طرف جانے کی اجازت نہ تھی ۔

اس وقت روح اور شارف بیٹھے گانے گا رہے تھے اور بیچ میں لوگوں نے خضر کو بٹھایا ہوا تھا ۔

دوسرے کمرے میں یارم برے آرام سے کرسی پر بیٹھا تھا جبکہ معصومہ زمین پر بیٹھی ۔لیلیٰ کو شاپنگ دیکھا رہی تھی

لڑکیوں کیا لڑکی والے کی طرف سے کوئی رسم نہیں ہوتی اس طرح خاموشی سے کیوں بیٹھی ہوکچھ ہلہ گلہ کرو

لڑکیوں کی شادی اتنی بورنگ ہوتی ہے کیا یارم نےکہا ۔

یہ ساری چیزیں تو اکثر دیکھتی رہتی ہو شادی ایک ہی بار ہونی ہے ان کی طرح کوئی گانے وغیرہ گاو دیکھو باہر تک آواز آ رہی ہے کس طرح سے جلا جلا کے گا رہے ہیں اوپر سے کتنے بُرےسنگر ہیں یہ لوگ ۔

ڈیول اگرتم اتنے ہی اچھے سنگر ہو تو تم گالو ویسے بھی یہاں پر جلنے سے بہتر ہے کہ ہم بھی کچھ کر ہی لیں جب تو میری ٹیم میں آئے تھے نہ تبھی میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ میری شادی بورنگ ہی ہونی ہے ۔

لیلیٰ نےاسے دیکھتے ہوئے کہا ۔

مطلب تمہیں لگتا ہے میں ان لوگوں کی طرح گانے نہیں گا سکتا ۔یارم کے لہجے میں غرور تھا

کیا تم گا سکتے ہو لیلی نے پوچھا

ان سے بہتر یارم جواب دیتے ہوئے زمین پر بیٹھا ۔

اور ان کی ساری چیزیں ایک سائٹ لگانے لگا معصومہ جلدی سے ڈھولکی لے کے آو ۔

دروازہ پورا کھول دو ہماری آواز بھی وہاں تک جانی چاہیے یارم نے دروازہ کھولنے کا آرڈر دیا ۔

اور پھر انہی کی طرح اونچی آواز میں گانا گانا شروع کیا

“سن سونیو سن دلدار “

“خود سے بھی زیادہ تجھے کرتا ہوں پیار ۔”

لیلیٰ نے منہ کھول کر اس کی طرف دیکھا اسے امید نہ تھی یارم اتنا اچھا گاتا ہے

یار م نے جسے ہی گانا گانا شروع کیا پار کمرے میں آواز پہنچ چکی تھی ۔

واؤ یہ کون گا رہا ہے سب سے پہلے روح بولی ۔

انکی ٹیم میں تو بس ایک ہی لڑکا ہے یارم اور کون ہوگا معصومہ سے اچھے گانے کے امید نہیں کی جا سکتی لیکن یار م

کیا میرے یارم میں اتنا اچھا گاتے ہیں ۔روح دونوں ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھیں معصومیت سے بولی تو خضر بےساختہ مسکرایا

ہاں وہ کالج میں بھی بہت اچھا تھا

ہاؤ سویٹ میں سن کے آتی ہوں

روح فوراً وہاں سے اٹھی اور ان کے دروازے کی طرف آئی

“لگتا ہے ڈر تو چھوڑنہ جائے”

“جائے تو جان سنگ لے جائے “

“دل کی دھڑکن آنکھوں کا دیدار “

“خود سے بھی زیادہ تجھے کرتا ہوں پیار “

یار م اپنی خوبصورت آواز میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہا تھا جبکہ دروازے پر روح اس کی آواز کے سحر میں پوری طرح سے رفتار بس ایسے ہی دیکھے جا رہی تھی

جب یارم کی بے اختیار نظر سامنے دروازے پر پڑی ۔اور اپنی جان کو سامنے دیکھ کر بے ساختہ اس کے ڈیمپل نمایاں ہوئے

“سن سونیا سونگ دلدار “

“خود سے بھی زیادہ تجھے کرتے ہیں پیار “

یارم گاتے گاتے اٹھا ۔

دروازے کے پاس آیا اور روح کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قریب کیا

وہ اسے اپنے ساتھ لگاتا آہستہ آہستہ موو کرنے لگا

“اپنا جہان سب سے جدا ہم بنائیں گے “

“پیاری سی خوشیاں چُن کر دنیا سے لائیں گے “

“اتنا تو کر مجھ پہ اعتبار”

“خود سے بھی زیادہ تجھے کرتا ہوں پیار “

جبکہ خضر اور شارف کو اس طرف آتا دیکھ کر معصومہ نے جلدی سے لیلیٰ کا گھونگھٹ کھینچا

روح آج تو انقلاب ہوگیا یارم سر نے تمہارے لیے گانا گایا اب تو تمہیں بھی اپنی محبت کا اظہار کرنا ہی پڑے گا معصومہ کی کہنے کی دیر تھی کہ ساتھ ساتھ سب نے تالیاں بجانا شروع کر دیا

روح نے ایک نظر سب کی طرف دیکھا جب یارم نے اس کا چہرہ تھام کہ اسے اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کردیا

پھر آنکھوں سے اشارہ کیا

“تیری پرچھائی سے دور کیسے جاؤ ں گی “

“تجھ میں بسی ہوں میں تجھ میں کھو جاؤں گی “

“میری پلکوں پہ تیرا اظہار “

“خود سے بھی زیادہ تجھےکرتی ہوں پیار “

“سن سونیا سن دلدار بس”

” خود سے بھی زیادہ تجھے کرتی ہو پیار “

وہ گاتے گاتے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی

“ؐخدا کی عنایت ہے ہمیں جو ملایا ہے”

“دیا پیار والا یہ دل میں جلایا ہے “

“ہے تو سانسوں میں آنکھوں میں میرے یار “

“خود سے بھی زیادہ تجھے کرتے ہیں پیار “

اس کو شرمایا ہوا دیکھ کر یارم نے اسے مزید اپنے قریب کر لیا ۔

جس پے سب نے دبی دبی ہنسی ہنسی

جبکہ خضر تو بس نظریں بچا کے لیلیٰ کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا اور معصومہ اسے خضر کی نظروں سے بچانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی ۔

چلو لڑکے والوں واپس چلو ۔شا رف جو انہیں اس قدر قریب دیکھ کر انہیں یاد دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ دونوں محالف پارٹی ہیں بول اٹھا ۔

اور پھر جب روح کو جیسے ہی یاد آیا کہ وہ دونوں مخالف پارٹی ہیں جلدی سے یارم کی باہوں سے اپنے ہاتھ کھینچے ۔ اور شرماتے ہوئے خضر کا ہاتھ تھاما جو ابھی تک لیلی کو دیکھنے کی کوشش میں لگا تھا باہر نکل گئی