Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 75)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

روکیں خضر بھائی ہم آپ کو ایسے ہی کمرے میں نہیں جانے دیں گے پہلے ہمارا نیگ نکالیں روح نے دروازے پر ہی اسے روک لیا

مطلب اب یہاں بھی پیسے دینے ہونگے بھوکی یہاں بھی مانگنے آ پہنچی ۔

لیلیٰ کو رخصت کر کے خضر کے نئے فلیٹ میں لایا گیا تھا اور یہاں بھی اس کے ساتھ سب لوگ آ گئے تھے

ہاں تو آپ کو کیا لگا ہم ایسے ہی آپ کو چھوڑ دیں گے بتائیں اندر جانے کی مرضی ہے یا نہیں روح نے پوچھا

تم دونوں صبح سے مجھے کافی حد تک لوٹ چکی ہو اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے تم دونوں کو دینے کے لئے یقین نہ آئے تو مجھے چیک کر سکتی ہو

اور اگر یقین آگیا ہو تو میری جان چھوڑ دو خضرنے بے بسی سے منت کی تھی

بالکل بھی نہیں آپ نے سوچا بھی کیسے کہ ہم آپ کی جان چھوڑ دیں گے اس بار تو ہم کچھ زیادہ لیں گے معصومہ نے زیادہ کہتے ہوئے روح کی طرف اشارہ کیا

زیادہ نہیں معصومہ بہت زیادہ آخر ہم نے اتنی خوبصورت لڑکی دی ہے حق بنتا ہے روح نے کہا

دیکھا کیسے پارٹی بدلی ہے تمہاری بہن نے یارم نے کہا

ظلم کی تو انتہا ہی ہوگئی شارف نے آہ بھرتے ہوئے یارم کے سامنے ہاتھ پھیلایا تویار م نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا

میرے بھائی اب اس کے پاس کچھ نہیں ہے ہمیں ہی اسے اندر بھیجنے کے لیے اپنی جیبوں کی قربانی دینی ہوگی شارف نے کہا

تو یارم نے اپنی جیب سے جو بھی ہاتھ آیا ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا پھر شارف نے بھی یہی عمل دہرایا اور پیسے اس کے حوالے کردیا

جس کے بعد دونوں نے ہنسی خوشی اس کا راستہ چھوڑ کر اسے اندر بیچ دیا

لیلیٰ بہت خوبصورت لگ رہی تھی خضر کا دل چاہا کیا آج اس کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردے

وہ اس کے قریب آ کر بیٹھا ۔

لیلی زرا سی پیچھے ہٹی ۔

تم شرما رہی ہو مجھ سے خضر نے مسکرا کر پوچھا

دماغ خراب ہوگیا میں کیوں شرمانے لگی تم سے لیلی اپنی شرم چھپا کر اس سے ڈاٹپتے ہوئے بولی

اچھا مجھے لگا شائد آج ہی کوئی شرم کر لو خضر شرارت سے بولا تو لیلیٰ نے اسے گھور کر دیکھا

خضر قہقہ لگا کر ہنستے ہوئے اس کی گود میں اپنا سر رکھ گیا ۔

بہت خوبصورت لگ رہی ہو مجھے پتہ ہے تم شرمانے والی چیز بالکل بھی نہیں ہو۔

خضر نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا

تھینک یو لیکن تم اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو لیلی نے اس کی تعریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کی پریشانی کی وجہ جاننا چاہی

کتنا اچھا ہوتا نا لیلیٰ آج روح مجھے بھائی کی جگہ ماموں بنا کر اس کمرے میں بھیجتی کتنا اچھا ہوتا نہ وہ میرے نکاح میں میری بہن کی جگہ میری بھانجی بن کر شریک ہوتی ۔خضر نے کہا

تم اسے بتا دیتے کہ تم اس کے بھائی نہیں اس کے ماموں ہو مجھے تو سمجھ نہیں آرہا کہ تم اس سے یہ بات چھپا کیوں رہے ہو ۔لیلیٰ نے پوچھا

کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھ سے نفرت کرے جانتی ہو لیلیٰ جب اسے پتہ چلے گا کہ میں اس کا ماموں ہوں اور میں یہ کام کرتا ہوں تو جانتی ہو اسے کتنا برا لگے گا وہ مجھ سے نفرت کرنے لگے گی اور میں اسکی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نہیں دیکھ سکتا

تم اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نہیں دیکھ سکتے اور یارم کو اس پر سختی کرنے کی مشورے دے سکتے ہو لیلی نے طنز کیا ۔

اندازہ بھی ہے تمہیں خضر تم نے یارم کو اس پر کتنی سختی کرنے پر مجبور کیا یارم نے جو کچھ بھی کیا تمہارے کہنے پر کیا تھا بھولو مت وہ تمہاری بھانجی ہے تم اپنی بھانجی پر اتنا ظلم کیسے ہوتے دیکھ سکتے ہو

تمہیں کیا لگتا ہے لیلیٰ کیا اس کی تکلیف دیکھ کر میں انجوائے کرتا ہوں مجھے مزا آتا ہے اپنی روح کو تکلیف میں دیکھ کر اسے درد دے کر مجھے خوشی ملتی ہے نہیں لیلیٰ اسے تکلیف میں دیکھ کر مجھے خود تکلیف ہوتی ہے اس کا درد میں محسوس کر سکتا ہوں ۔

لیکن شاید تم نے یارم کا درد نہیں دیکھا

ان چار ماہ میں یارم کس حد تک بدل چکا ہے تم نے شاید کبھی نوٹ نہیں کیا لیلیٰ ٰمیں نے نوٹ کیا ہے ٰ

یارم اس حد تک بدل چکا تھا کہ اسے یاد بھی نہیں رہا تھا کہ وہ کیا ہے لیلیٰ وہ بھول چکا تھا کہ وہ ایک درندہ ہے وہ بھول چکا تھا کہ وہ لوگوں کی جان لیتا ہے وہ بھول چکا تھا کہ وہ ڈیول ہے وہ اپنی پہچان کھو بیٹھا تھا میں نے اسے اس کی پہچان واپس دی ہے

وہ روح کیلئے بدل رہا تھا روح اس کے اندر تک بس چکی ہے لیلی اگر روح اس کی زندگی میں نہ رہتی تو یار م بھی نہ رہتا یار م روح کے لیے مر سکتا ہے اگر وہ اسے یہ سب کچھ چھوڑنے پر مجبور کرے تو وہ یہ سب کچھ چھوڑ دے گا

اور اگر اس نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا تو جو عہد ہم نے بچپن میں کیا تھا اس عہد کا کیا ہوگا وہ فیصلہ کہ ہم کسی عورت پر ظلم نہیں ہونے دیں گے کسی عورت کی آبرو کو لوٹنے نہیں دیں گے کسی کو سرے بازار بکنی نہیں دیں گے میں مانتا ہوں ہم ہر ایک عورت کو بچا نہیں سکتے لیکن اگر یارم یہاں سے ہٹ گیا اگر اس نے یہ کام چھوڑ دیا میں تم اور شار ف ہم کچھ بھی نہیں لیلیٰ

یارم ہے تو ہم ہیں

اور میں صرف اپنی بھانجی کے لیے ان ہزار ماؤں بہنوں کی عزت لوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا لیکن میں نے یہ بھی محسوس کر لیا تھا کہ یار م روح کے بغیر نہیں رہ سکتا اسی لیے میں نے یار م کو روح کر سختی کرنے کے لیے کہا تھا کہ زبردستی ہی سہی وہ اس کے ساتھ رہے کیوں کہ اگر روح اسے چھوڑ جاتی نہ تو یارم مر جاتا اور ہم ایک مردہ انسان کے ساتھ اپنا مشن کمپلیٹ نہیں کر سکتے

تمہیں پتا ہے جس طرح سے قانون کی دنیا میں مینشنز ہوتے ہیں اسی طرح ہماری دنیا میں بھی مشن ہیں یہ بات الگ ہے کہ ہم قانون کو توڑ کر اپنا مشن پورا کرتے ہیں

میں نے یارم کو روح پر سختی کرنے کے لئے کہا تھا کہ نہ تو یارم یہ کام چھوڑے اور نہ ہی روح اسے چھوڑ کر جائے

اور ویسے بھی وہ روح کے سامنے اپنی جھوٹی پہچان بنا رہا تھا وہ روح سے ہر بات میں جھوٹ بول رہا تھا ۔

وہ روح کی نظروں میں ایک بہت اچھا انسان بن کے رہنا چاہتا تھا ۔جانتی ہو لیلیٰ روح کو یہ سب کچھ قبول کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا کیوں کہ یار م نے اس کے سامنے ایک جھوٹی پہچان بنائی تھی ۔یارم نے اپنے آپ کو غلط طریقے سے اس کے سامنے پیش کیا تھا اگر پہلے دن ہی یارم اسے بتا دیں تاکہ وہ کیا ہے اور اس کے سامنے اپنی سچی پہچان بناتا تو روح میں کبھی اتنی ہمت ہی نہ تھی کہ اسے چھوڑنے کی بات کرے لیکن ڈر سے انسان اور زیادہ بے بس ہو جاتا ہے

اب روح بھی یارم کو بہت چاہتی ہے اس سے بہت محبت کرتی ہے اور اسے یقین ہے یارم کبھی اسے خود سے دور نہیں جانے دے گا ۔

اب صرف یارم ہی نہیں بلکہ روح بھی اس کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ وہ دونوں ہمیشہ ساتھ رہے

روح میری بچی ہے لیلیٰ اس سے زیادہ محبت میں کسی سے نہیں کرتا جو ظلم میری بہن کے ساتھ ہوا وہ میں کسی اور کی بہن کے ساتھ نہیں ہونے دیکھ سکتا ۔

تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی میرے چاچو نے میری بہن کو بیس ہزار میں بیچ دیا ۔

اور اس بیسں ہزار کی قیمت میری بہن نے دن رات مار کھا کے چُکائی ہے ۔خضر نے اپنی آنکھوں میں آیا آنسو بے دردی سے صاف کیا ۔

ہم جس دن پاکستان سے بھاگ کر یہاں آئے تھے نہ لیلیٰ اس دن ہم نے قسم کھائی تھی ہم اپنے سامنے آئی ہر مجبور عورت کو انصاف دلائیں گے اور ہم اپنے اس وعدے پر آج بھی قائم ہیں میں بھٹکوں کا نہیں اور یارم کو میں بھٹکنے دوں گا نہیں ہمیں مرتے دم تک اپنا عہد نبھانا ہے ۔

خضر نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے لیلیٰ کو شرمندہ کر دیا تھا ۔

لیکن خضرتمہیں کب پتا چلا کی روح تمہاری بھانجی

جب یار م اور روح ہنی مون پر گئے تھے اور یارم اپنا فون مجھے دے کر گیا تھاایک دن فاطمہ بی بی کا فون آیا تھا ان سے بات کر کے بہت اچھا لگا اور میں ان سے باتیں کرنے لگا باتوں ہوئی باتوں میں مجھے روح کے بارے میں بتانے لگی۔ اپنی باتوں میں انہوں نے تعظیم باجی کا نام لیا ۔

روح کے نام پر تو مجھے پہلے ہی شک تھا کیونکہ روح کا نام میں نے خود رکھا تھا ۔ روحِ نور ۔پھر انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی سوتیلی ماں اور تین سوتیلی بہنوں کے ساتھ رہتی تھی اس کے بعد میں نے ان کی ساری انفرمیشن نکالیں تو ساری سچائی اپنے آپ میرے سامنے آگئی

میں روح کا بیچینی سے انتظار کرنے لگا کہ کب وہ یہاں آئے گی اور میں اسے بتاؤں گا کہ میں اس کا ماموں ہوں ۔

پھر وہ انتظار ڈرمیں بدلنے لگا ۔یارم نے فون پر مجھے بتایا کہ اس نے وہاں دو لوگوں کی زبان کاٹ دی ہے جس کے بعد روح کے ری ایکشن نے یارم کوڈرادیا

وہ سچائی جان بغیر میرے ساتھ تو ہے لیلیٰ ۔۔ اگر اسے سچ پتا چل گیا تو یقین مانو وہ کبھی میرا چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہے گی

کیونکہ یارم کی سچائی پتہ چلنے کے بعد اس نے کس طرح سے ری ایکٹ کیا ہے سب جانتے ہیں میں کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نہیں دیکھ سکتا لیلیٰ ۔

خضر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔

تم فکر مت کرو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیلیٰ نے اس کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھا ۔

ویسے تمہیں بالکل بھی شرم نہیں آ رہی حضر نے موضوع بدلا۔

میں تم سے شرماؤ گی اتنی بھی برے دن نہیں آئے میرے لیلیٰ اتراکر بولی۔

اور اگر میں تمہیں شرمانے پر مجبور کر دوں تو خضر نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے اوپر گرایا ۔

بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ۔لیلیٰ نے ایک ادا سے کہا

اور اگر میں ابھی دکھانا چاہوں تو ۔۔۔؟خضر شرارت سے کہتے اس کے چہرے پر جھکا تھا ۔

لیلیٰ نے ہنستے ہوئے اس کی پناہ میں اپنی جگہ بنائی

انھیں فلیٹ میں چھوڑ کر وہ چاروں واپس اپنے اپنے گھر آگئے تھے ۔

وہ گاڑی روک کر کمرے میں آیا توروح اپنا ایڈریس چینج کر چکی تھی ۔

ارے یہ کیا تم نے چینج کر لیا یارم نے منہ بنایا ۔

ہاں تو انہی کپڑوں میں سوجاتی۔

نہیں میرا انتظار ہی کر لیتی میں آتا تمہاری تھوڑی سی تعریف کرتا اور ویسے بھی ابھی تک تو میں نے تمہارے ساتھ ڈانس بھی نہیں کیا ۔

یارم نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنی باہوں میں لے لیا ۔

میں بہت تھک چکی ہوں مجھے بہت نیند آ رہی ہے روح نے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے نخرے دکھائے ۔

اور میں تمہیں سونے دوں گا جوک آف دا ڈے ۔یار م نے کہتے ہوئے اسے اپنی باہوں میں بھرا

روح نے شرماتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ لیا ۔

تمہیں پتا ہے رؤح تم کیا ہو وہ اس کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے پوچھنے لگا

کیا۔ ۔۔۔؟اس نے پوچھا

اینجل ۔۔۔ایک فرشتہ جیسے شیطان کے لیے بنایا گیا ہے ۔یارم بالکل سیریس انداز میں بول رہا تھا

تمہیں پتا ہے روح تمہیں میرے لیے بھیجا گیا ہے اور میں کیا ہوں

ڈیول ایک شیطان لوگوں کی جان لینے والا حیوان ۔جسے کبھی کسی پر ترس نہیں آتا لیکن تم نے اسے محبت کرنا سکھایا ہے ۔

مجھے کبھی چھوڑ کے مت جانا روح میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر ۔

آپ مجھ سے کبھی جھوٹ مت بولے گا یارم چھوٹا بڑا جیسا بھی ہے ہمیشہ سچ میں سب کچھ سہہ لونگی سب کچھ قبول کرلوں گی لیکن اب مزید جھوٹ میں برداشت نہیں کروں گی

وعدہ کرے آپ کبھی بھی کوئی بھی سچائی مجھ سے نہیں چھپائیں گے ۔اس نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا یارم نے فورا اس کا ہاتھ تھام کر چوم لیا ۔

کبھی نہیں میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا ہمیشہ سچ بولوں گا وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر بولا

یہ جانے بغیر کے ایک بہت بڑا سچ اس نے اب تک روح سے چھپایا ہے ایک بہت بڑا جھوٹ بولا ہے جس کے سامنے سارے سچ بے مول ہیں