Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 53)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

روح کی آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں بالکل اکیلی تھی اس نے ایک نظر دہرا کر پورے کمرے کو دیکھا ۔

کل رات یارم نے اسے بارش میں باہر نکال دیا ۔پھر وہ اندر کیسے آئی ۔۔۔ اس کا لباس کس نے بدلہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا ۔

بارش ابھی تک جاری تھی ۔

اور سردی اب بھی اپنی شدت پکڑے ہوئے تھی۔

یارم نے اس سے کہا تھا کہ وہ اسے پاکستان نہیں جانے دے گا ۔اور کل رات ہمت کرکے اس نے بھی یارم سے کہہ دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں رہے گی ۔

اب اسے اپنی بات پر قائم رہنا تھا ۔چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ یارم کے ساتھ نہیں رہے گی ۔

وہ انہی سب سوچوں میں تھی جب دروازہ کھلا اور یارم ہاتھ میں سوپ کا باول لیےاندر داخل ہوا ۔

یارم ذرا سا مسکرایا ۔

ارے یارتم تو جاگ رہی ہو میں تو پلان کر رہا تھا کہ کیسے تمہیں جگاؤں گا ۔وہ اس کے پاس آ یا اور ماتھے پہ ہاتھ رکھا ۔

بہتر لیکن ابھی تمہیں بخار ہے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے آرام کرو میں یہیں ہوں ۔یہ سوپ پی لو بہتر فیل کروگی ۔

وہ ایک اسپو ن میں سوپ لئے اس کی طرف بڑھنے لگا ۔

مجھے نہیں چاہیے ۔وہ منہ پھیر گئی

روح اچھے بچے ضد نہیں کرتے ۔وہ پیار سے بہلانے لگا ۔

میں بچی نہیں ہوں۔ اور میرے ساتھ اس طرح سے بات نہ کریں آپ کی ساری حقیقت میرے سامنے ہے ۔اور آپ کو جو لگتا ہے کہ آپ مجھے زبردستی اپنے ساتھ یہاں رکھیں گے تو سن لے مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔

اب اس کے لئے آپ چاہے مجھے باہر بارش میں کھڑا کر دیں یا ہاتھ اٹھائیں ۔روح دھیمی آواز میں مگر غصے سے بول رہی تھی ۔۔

باپ رے یہ غصہ رات میں باہر بارش میں نکالنے کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ بے بی اتنا غصہ مت کرو یار کمزور سا دل ہے میرا ہارٹ اٹیک ہو جائے گا۔یارم مسکراتے ہوئے بولا ۔

مجھے فاطمہ بی بی سے بات کرنی ہے ابھی اسی وقت وہ اپنے ڈر پر قابو پاتی ٹھوس لہجے میں بولی ۔

یارم اسے ضد کرتے اور دیکھ کے کھٹکا تھا

اپنی ادائوں پر کنٹرول کرو بےبی ۔تمہارا یہ باغی انداز مجھے گستاخ ہونے پر مجبور کر رہا ہے وہ جھک کر اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بولا ۔

روح اسے دھکا دے کر دور ہونے لگی۔

جب یار م نے اسے ایک جھٹکے میں پکڑ کر بیڈ پر پھینک دیا۔اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قیدکرلیے ۔

تمہارا یہ جھگڑالو انداز مجھے زیادہ پسند آ رہا ہے۔مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا میری بےبی کو اتنا غصہ آتا ہے ۔وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔

یارم خدا کے لئے مجھے چھوڑ دیں بخش دیں مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔وہ اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئے بولی ۔

یارم ااس کی ناکام سی کوشش پرکُھل کرمسکرایا ۔

قدر ہی نہیں ہے تمہیں میری اس لیے دعاؤں میں مانگتی تھی تم مجھے یارم اسےزچ کرنے لگا۔

یارم چھوڑیں مجھے وہ اپنا آپ چھڑانے کی ایک اور ناکام سی کوشش کرنے لگی ۔

بکواس بند کرو کب سے برداشت کر رہا ہوں ۔تمہارا ہر انداز سر آنکھوں پر ۔مگر یہ بار بار چھوڑیں چھوڑیں والی رٹ بند کرو ۔نفرت ہے مجھے اس لفظ سے ۔آپ اگر میں نے تمہارے منہ سے یہ لفظ سنا تو بہت پچھتاؤ گی ۔

بہرحال میرا موڈ بہت اچھا ہے تو بھگاڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔بہت دنوں سے تمہاری من مانیاں برداشت کر رہا ہوں ۔

اب میں نخرے اٹھانے کے موڈ میں بالکل بھی نہیں ہوں ۔سو اب تم میری من مانیاں برداشت کرو اس کی صراحی دار گردن پر لب رکھتے ہوئے بولا ۔

روح اپنی بے قابو ہوتی دھڑکنں سنبھالتی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔

روح تم جانتی ہو کہ کہ میرے سامنے یہ مزاحمت بیکار ہے تو کیوں کوشش کر رہی ہو ۔۔۔؟

وہ اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے بولا ۔

اس پے اپنے پیار کی شدتیں لوٹاتا ۔وہ اسے بے بس کرگیا ۔

اس کا فون دو تین بار بج کر بند ہوچکا تھا لیکن اس نے نہیں اٹھایا ۔

اس کے بالکل قریب روح اس کے سینے پر سر رکھے گہری نیند سو رہی تھی ۔

یارم اس وقت صرف اسے محسوس کرنا چاہتا تھا فلحال وہ کسی قسم کی کوئی ڈسٹربنس نہیں چاہتا تھا ۔

کل رات اس نے اتنے زور سے فون پھینکا تھا لیکن پھر بھی وہ ڈھیٹ قالین پر گرنے کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ گیا ۔

لیکن اب بار بار اس کا بجنا یارم کو ڈسٹرب کر رہا تھا جس کی وجہ سے ا سچ میں اسے یا فون کرنے والے کو قتل کر دینا چاہتا تھا ۔

وہ فون نہیں اٹھانا چاہتا تھا لیکن روح کی نیند خراب ہونے ڈر سے اس نے فون اٹھا لیا ۔

کیا مسئلہ ہے شارف کیا ایلینز تمہیں دوسرے پلینٹ اٹھا کر لے گئے ہیں ۔کہ تم سے صبر نہیں ہو رہا اگر فون نہیں اٹھا رہا تو مطلب یہی ہے کہ میں بیزی ہوں ۔

اب رکھو فون جب میں بات کرنے کے موڈ میں ہونگا کال کر لوں گا ۔اس نے اتنا کہہ کر فون بند کر دیا ۔

جبکہ دوسری طرف شارف ڈیول ڈیول ہی کرتا رہ گیا ۔

فون کاٹ کر ایک بار پھر روح کی طرف متوجہ ہو گیا۔

اسے کل رات روح کا یہ انداز بہت اچھا لگا تھا ۔وہ اس سے ڈرے سہمے بغیر بات کر رہی تھی ۔

لیکن یہ بات الگ تھی کہ وہ جو بات کر رہی تھی وہ اسے پسند نہیں تھی ۔ یارم اسے وقت دینا چاہتا تھا

۔وہ اسے سنبھلنے کا موقع دینا چاہتا تھا جب تک وہ دل سے راضی نہ ہو یا اس کے قریب نہیں جانا چاہتا تھا ۔

لیکن روح کی باتیں سے ڈسٹرب کرنے لگی تھی ۔وہ اسے خود سے دور نہیں کر سکتا تھا ۔

اگر تمہیں اپنے پاس رکھنے کے لیے مجھے تمہیں سو پردوں میں چھپا کر رکھنا پڑا تو رکھوں گا ۔

اور تم مجھ سے دور جا پاؤ گی یہ صرف تمہاری بھول ہے اور کچھ نہیں ۔ابھی تم مجھے ایک پرسنٹ بھی نہیں جانتی ۔ جو میرا ہے وہ صرف میرا ہے ۔

اور اب تمہیں اس بات کا احساس دلانے کا وقت آگیا ہے کہ تم پے سوائے میرے اور کسی کا کوئی حق نہیں ۔

تمہارے سر کے بال سے لے کر پیر کے ناخن تک تم میری ہو ۔اور تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں خودسے دور جانے دوں گا ۔

بہت پیاری ہو تم رو ح مگر جب ایسی بیوقوفیاں کرتی ہو نا اور پیاری لگتی ہو ۔

اور کتنا سوو گی ۔

اٹھو شاباش وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا ۔لیکن اس کے لبوں پر ہونٹ رکھتے ہی وہ کرنٹ کھا کر جاگی اور اس سے دور ہوئی۔

ہاہاہاہا ۔ یار یہ تو چیٹنگ ہے مجھے ٹھیک سے جگانے تو دیتی ۔وہ قہقہ لگا کر ہنستا اس کی طرف بھرا ۔

جبکہ روح اسے خود سے دور کرتی بھاگ کر واش روم میں بند ہوگئی۔

You are an angel sent into the life of a devil

(تم ایک شیطان کی زندگی میں بھیجا گیا فرشتہ ہو )

وہ مسکراتے ہوئے آنکھیں موند گیا ۔

آج میری اور شفاء نہیں آئی تھی ۔ یا شاید یارم نے چھٹی دی تھی خیر جو بھی تھا یارم خود ناشتہ بنا رہا تھا ۔

بےبی یہ ظلم ہے معصوم شوہر پر میں تمہاری اتنی حدمتیں کررہا ہوں اور تم ہوکے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتی مجھ سے ۔

دل کرتا ہے روٹھ جاؤں تم سے ۔لیکن پھر تم پے ترس آجاتا ہے مناؤ گی کیسے مجھے اسی لیے نہیں روٹھتا ۔

دیکھا کتنا احساس ہے مجھے تمہارا کتنی فکر کرتا ہوں اور ایک تم ہو ۔

چلو اب باہر آؤ نہ کھانا کھاؤ بھوکھا رہنے کا ارادہ ہے ۔

وہ محبت سےپوچھنے لگا ۔

بھوکا رہنے کا نہیں بھوکا مرنے کا ارادہ ہے ۔وہ بنا ڈر خوف کے اس کا ہاتھ جھٹک کر بولی ۔

اور تمہیں لگتا ہے میں تمہیں مرنے دوں گا سو فنی۔ میں نے کہا نہ بے بی تم مجھے ابھی ایک پرسنٹ بھی نہیں جانتی ۔

اگر تم مر بھی جاؤ گی نا تو بھی تو میں سکون سے نہیں مرنے دوں گا ساتھ آؤں گا ارے ہم تو زندگی اور موت کے ساتھی ہیں ۔

ہمیشہ ساتھ رہیں گے یہاں بھی اور وہاں بھی ۔

اور کیا جنت میں بھی مجھ سے بھاگتی پھرو گی تم یارم مسکراہٹ دباکے شرارتی انداز میں پوچھنے لگا ۔

آپ جو کرتے ہیں اس کے بعد آپ کو لگتا ہے آپ کو جنت ملے گی ۔اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگی شاید شرمندہ کرنے کی ایک کوشش تھی۔

افکورس ملے گی میری جان ۔میری بیوی اتنی نیک ہے پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہے میرے لیے اللہ کے سامنے سفارش نہیں کرے گی آف کورس کرے گی ۔

جو دنیا میں میرے لیے اتنی دعائیں مانگ کر مجھے حاصل کرسکتی ہے وہ کیا اللہ کے سامنے میری سفارش نہیں کر سکتی ۔

یارم اب بھی شرارتی انداز میں بولا ۔

آپ مجھے بار بار اس بات کا طعنہ تو نہیں مارئیں کہ میں نے آپ جیسے شخص کے لیے دعائیں مانگیں ۔

روح منہ پھیر گئی وہ مسکرایا

خیر اب تو تم نے مجھے حاصل کر لیا ۔ اب بھگتو وہ مسکرا کر کہتا ایک دم سیریس ہو گیا۔

اور زبردستی اسے کھاکھلانے کہا۔

آپ بہت بُرے ہیں یارم۔اس نے پہلی بار یہ کہا تھا اس سے پہلے وہ کہتی تھی یارم آپ اچھے نہیں ہیں لیکن آج اس نے کہا تھا کہ آپ بُرے ہیں ہاں شاید بہت بُرا یارم بنا اپنی فیلنگز اس پر ظاہر کیے زبردستی سے کھانا کھلاتا رہا ۔

روح کو زبردستی کھانا کھلا کر اسے کمرے میں بھیج دیا جبکہ خود وہ آفس روم میں آیا تھا ۔

ابھی اسے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی یہاں بیٹھے کہ اس کے موبائل پر فاطمہ بی بی کی کال آنے لگی ۔

روح کی غیر موجودگی میں بھی ان کا فون کافی بار آتا تھا لیکن اس نے کبھی اٹھایا نہیں ۔

السلام علیکم۔اس نے فون اٹھاتے ہی اخترام سے سلام کیا ۔

وعلیکم السلام بیٹا روح سے بات ہو سکتی ہے ۔

اسے بہت ضروری بات بتا دی ہے ۔فاطمہ بی بی نے کہا

نہیں فاطمہ بی بی وہ تو گھر پے ہے آپ مجھ سے کہ سکتی ہیں جو کچھ کہنا چاہتی ہیں میں اسے بتا دونگا ۔یارم نے کہا ۔

بیٹا روح کو بتا دینا تھا تانیہ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے اس کی ماں اسپتال میں ہے ۔بہت برا حال ہے بچاری کا وہ کہتی تھی کہ وہ اپنی ماں سے بات کرنا چاہتی ہے میں نے اسے نمبر بھی دیا تھا لیکن اس نے کال نہیں کی ۔فاطمہ بی بی نے کہا ۔

جی وہ میں اس کی بات نہیں کروا پایا ۔میں روح کو بتا دوں گا آپ کا شکریہ بتانے کے لئے ۔۔۔ یارم نے فون بند کرکے ایک طرف رکھا ۔لیکن اسے بے چینی ہونے لگی کیا اسے روح کو یہ بات بتانی چاہیے ۔

وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ اس کا فون ایک بار پھر سے بجنے لگا۔

ہاں بولو شارف اس نے فون اٹھا کر کہا

ڈیول یہ وکرم بہت تیز آدمی تھا وہ لڑکیوں کا دھندا کرتا تھا ۔اور اس کے سارے آدمی ہمارے خلاف ہو چکے ہیں ۔خاص کرکے وہ شان ۔وہ تمہارے بہت خلاف ہو چکا ہے یہاں اس کی زبان نہیں کھل رہی تھی اور وہاں جاکے ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے ۔

ہاہاہا تم ایسا کروں ان سب کو ہماری طرف سے دعوت پر بلاؤ ہم سے دوستی کا ہاتھ بھرائیں گے

روح کو یہ سب کچھ پسند نہیں ہے شارف اب میں آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک کر دوں گا میں اپنی روح کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا ۔

شارف نہ جانے ابھی کیا کیا بول رہا تھا لیکن یارم فون بند کر چکا تھا ۔

اور پردے کے پیچھے کھڑی روح آہستہ سے باہر نکل گئی۔

میں نے تمہیں کہا تھا نا تم مجھے ایک پرسنٹ بھی نہیں جانتی ایک پرسنٹ بھی نہیں ۔

ہائے میری پیاری سی جاسوسن کتنی جاسوسی کروگی میری ۔تم تو بہت بہادر ہوگئی روح اب بہت مزہ آئے گا تمہارے ساتھ ۔

وہ مسکراتا ہوا بولا