Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 49)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

ان لوگوں کی نظروں سے چھپ کر وہ واپس اپنے کمرے میں آگئی ۔چابی یارم کے پاس تھی اور اسے کسی بھی طریقے سے وہ چابی یارم سے نکلوانی تھی ۔

صارم ٹیھک کہتا تھا اس کے لیے یہ کام اتنا مشکل نہیں ہے ۔

وہ یارم سے آسانی سے وہ چابی لے سکتی ہے ۔

لیکن صارم نے اسے منع کیا تھا کہ وہ یارم کو بالکل بھی شک نہ ہونے دے ۔

وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اب یارم کو شک ہوئے بغیر کیسے اپنا کام کرے ۔جبکہ یارم تو اس کی سوچ تک پڑھ سکتا تھا

آج اتنے دنوں کے بعد وہ یارم کے گھر واپس آنے کا انتظار کر رہی تھی ۔کیونکہ سوال اب ان کے فیوچر کا تھا ۔وہ ایک قاتل کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی تھی اس نے کسی بھی طرح یارم کو سیدھے راستے لانا تھا ۔

یارم گھر آیا تو اسے باہر بیٹھا دیکھا وہ ۔مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا

اسےطرح سے باہر اپنے انتظار میں بیٹھا دیکھ کر اسے خوشی ہوئی تھی نہ جانے وہ اس کا انتظار کر رہی تھی یا نہیں لیکن بہت دنوں بعد اسے اس طرح سے دیکھا تھا

میرا پیارا بے بی وہ اس کا ماتھا چوم کر بولا ۔

جس پر وہ ذرا سی مسکرائی اسے اس طرح مسکراتے ہوئے دیکھ کر یارم کو کچھ عجیب لگا ۔

یارم کو یقین تھا کہ وہ روح کو اپنی حقیقت کے ساتھ اپنے آپ کو قبول کرنے پر مجبور کردے گا لیکن اتنی جلدی۔

اب کیسی طبیعت ہے تمہاری ۔۔۔؟ وہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے میں مزید پوچھنے لگا

بہت بہتر ۔وہ بہت تھوڑی سی آواز میں بولی تھی لیکن یارم کے لیے یہ بھی بہت تھا ۔

گڈ طبیعت ٹھیک ہے تو چلو کہیں باہر سے ہوکے آتے ہیں ویسے بھی اتنے دنوں سے یہاں بور ہو رہی ہو چلو ڈنر کہیں باہر کریں گے اور پھر ایک پرسکون لانگ ڈرائیو پرچلیں گے اس نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے لبوں سے لگایا

اور ساتھ ہی اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔

یارم اب بہت دیر ہوچکی ہے میرے خیال میں ہمیں اب نہیں نکلنا چاہے ۔اور ویسے بھی ابھی میرا کہیں جانے کو دل نہیں کر رہا ۔روح نے اپنی طرف سے بہت احتیاط سے کہا تھا کہیں اسے شک نہ ہو جائے

اسی لیے شاید یارم نے اور زور نہ دیا ۔

چلو ٹھیک ہے جیسی میری جان کی مرضی ۔وہ مسکراتے ہوئے اٹھا آج اسے واپس نارمل دیکھ کر اسے بہت خوشی ہورہی تھی اس کے چہرے سے ہی روح اندازہ لگا سکتی کہ وہ کتنا خوش ہے ۔

آج تمہیں اس طرح اسے دیکھ کر ویسے بھی فریش ہو گیا ہوں لیکن میں پھر بھی فریش ہو کے آتا ہوں جب تک تم میری سے کہو کہ وہ کھانا لگائے

وہ اسے ہدایت دیتا بیڈروم کی طرف چل دیا ۔

جب روح کا سارا دھیان اس کے ہاتھ پہ تھا جس میں اس نے ایک کی چین پکڑ رکھا تھا ۔اور اس کی چین میں وہ اکلوتی چابی تھی جسے یارم ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا

کھانا آرام دہ ماحول میں کھایا گیا

یارم اسے کسی نا کسی بات میں لگائیں باتیں کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ وہ اس کی ہر بات کا نارملی جواب دینے کی کوشش کر رہی تھی

بہت کوشش کے باوجود بھی وہ اس کے سامنے مسکرانے میں ناکامیاب رہی تھی ۔

جب اندر سے انسان اداس ہوتو لبوں پر چاہ کر بھی مسکراہٹ نہیں آتی ۔روح کا بھی یہی حال تھا

بیڈروم میں آنے کے بعد بھی یارم کافی دیر تک اس سے باتیں کرتا رہا ۔

روح میں بہت خوش ہوں تمہیں اس طرح سے دیکھ کر ۔

تم نہیں جانتی کہ تم نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے ۔تمہیں پتا ہے تمہارا یارم تمہارے بغیر مر جاتا ۔

تم نے اپنے یارم کو بچا لیا ۔آئی لو یو سو مچ۔میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں کبھی تمہارے سامنے یہ سب کچھ نہیں لاؤں گا

جیسا پہلے تھا سب کچھ ویسا ہی رہے گا ۔تم سب کچھ بھول جاؤ جو بھی ہوا جو بھی تم نے دیکھا ان سب چیزوں کو اپنی دماغی سے نکال دو ۔

میں تم سے وعدہ کرتا ہوں سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا ۔

اس کا سر اپنے سینے پر رکھے وہ اسے یقین دلارہا تھا ۔

جبکہ روح کا دھیان اس کی باتوں پر نہیں سائید دراز پر رکھی اس کی کی چین پر تھا ۔

وہ یارم کے سونے کا انتظار کر رہی تھی ۔

اس کے سونے کا انتظار کرتے کرتے نہ جانے کب اس کی اپنی آنکھ لگ گئی ۔

نہ جانے رات کا کونسا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی ۔اس نے سائیڈ پے دیکھا جہاں یارم تھا ہی نہیں ۔

اسے یقین تھا کہ یارم اسی کمرے میں ہے اس کے پاس یہی موقع تھا سب کچھ دیکھنے کا ۔

وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آئی ۔اس کے اندازے کے مطابق یارم اسی کمرے میں تھا

اس نے کمرے کے دروازے سے چھپ کر دیکھنا چاہا ۔

کمرے میں اس کے علاوہ کوئی اور آدمی بھی تھا ۔

مگر نہ جانے کون۔اس نے اس آدمی کو پہلے کبھی یہاں نہیں دیکھا تھا ۔

شاہد یارم کا کوئی ساتھی اس کے گناہوں میں ملوث کوئی انسان

جبکہ یارم اپنے ہاتھ میں بلیڈ پکڑے اپنا سر دبا رہا تھا ۔

تم تو باہر آ چکے ہو ناشان اب تمہیں وکرم دادا سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے وہ میرا مجرم ہے اور میرے پاس ہے ۔یارم نے ایک نظراسے دیکھتے ہوئے کہا

دیکھوڈیول مت بھولو وکرم دادا کے بہت احسان ہیں تم پر تم اسکے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو وہ بھی صرف ایک لڑکی کیلئے ۔

وہ صرف ایک لڑکی نہیں ہے ۔میری بیوی ہے وہ ۔۔ میری محبت ہے اور اس آدمی نے میری بیوی پر غلط نظر ڈالی ہے وہ ساری زندگی وہیں رہےگا جہاں یارم کاظمی اسے رکھے گا ۔

تمہاری خلاف جو ثبوت میں نے ڈھونڈا تھا وہ تمہارے حوالے کر چکا ہوں اگر جینا چاہتے ہو تو چلے جاؤ یہاں سے اور جا کر وکرم دادا کی کرسی پر بیٹھ جاؤ اگر اس کو ڈھونڈنے نکلوگے تو اپنی پہچان بھی کھو بیٹھو گے ۔

مت بولو اگر وہ واپس آگیا تو تمہاری اوقات پھرایک کُتے سے زیادہ نہ ہوگی ۔

میں تمہیں ایک سلطنت دے رہا ہوں بادشاہی دے رہا ہوں غلامی چھوڑو اور حکومت کرو ۔

لیکن یارم کاظمی سے غداری کرنے کی غلطی مت کرنا ورنہ میں تمہیں تڑپا تڑپا کے ماروں گا ۔اس نے ایک ہاتھ میں پکڑے بلیڈ کے طرف اشارہ کیا ۔

میں وہ کرسی اس لیے دے رہا ہوں ۔تاکہ تم میرے وفادار رہو

اس کمرے میں سوائے کتابوں کے اور کچھ نہ تھا جگہ جگہ فائلزتھی ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کوئی لائبریری ہے۔

وہ یہی سوچ رہی تھی کہ یہاں اسے کونسا ثبوت ملے گا ۔ یہاں تو کتابوں کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔مگر نہ جانے یہ آدمی کون تھا اگر اسے کچھ پتہ تھا تو بس اتنا کے اسی کڈنپ کرنے والا بھی وکرم دادا تھا ۔

وہ لوگ ابھی بیٹھے وہی باتیں کر رہے تھے جب کہ روح کو ان کی کسی بات کی کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی ۔

وہ خاموشی سے دبے پاؤں جیسے آئی ویسے ہی واپس چلی گئی۔

تھوڑی دیر کے بعدیارم واپس کمرے میں آیا اور اس کے قریب آ کر لیٹ گیا۔

وہ بنا آواز کئے سوتی بنی رہی ۔

کل کا دن برباد ہوچکا تھا ۔وہ یارم سے چابی حاصل نہ کر پائی تھی ۔اب صبح بھی یارم ناشتہ کرکے جانے لگا تھا ۔

وہ اسے اس طرح سے جانے نہیں دے سکتی تھی اسے کسی بھی طرح سے وہ چابی حاصل کرنی تھی جو اس وقت یارم کے جیکٹ کی جیب میں تھی

یارم۔ ۔۔۔اس نے بہت ہمت کرکے اسے پکارا ۔

وہ دروازے پر روک کر زرا سا مسکرایا ۔اور اس کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگا

وہ آہستہ سے چلتی اس کے قریب آئی۔

یارم جانتا تھا کہ روح نے اسے کیوں پکارا ہے ۔

وہ مسکراتے ہوئے اس کے سامنے جھکا تھا ۔

روح کے لیے یہ لمحہ بہت مشکل تھا لیکن اسے صارم کے کہے پر عمل کرنا ضروری تھا ۔

وہ اس کے قریب آئی اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور اسے بالکل بھی پتہ چلنے دیے بغیر اس کی جیکٹ سے وہ چابی کھینچ لی ۔

جب اگلے ہی لمحے یارم نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا ۔

تھینک یو سو مچ روح میں تمہیں شکایت کا موقع نہیں دوں گا ۔وہ اس کا ماتھا چومتا باہر نکل گیا ۔

جبکہ روح نے بڑی مشکل سے اپنے ہاتھوں اور دوپٹے کے بیچ اس کی چین والے چاقو اور چابی کو چھپایا تھا ۔

یار م مسکراتا ہوا باہر آیا ۔

وہ آج بہت خوش تھا ۔

روح میری جان تم صارم کی باتوں میں آکر بھی میرے ساتھ اس طرح سے کر رہی ہو لیکن تم میرے پاس ہو اور میرے لیے یہی بہت ہے اور کوئی دو ٹکے کا پولیس والا اور وہ جاسوس معصومہ تمہیں مجھ سے چھین نہیں سکتے کبھی نہیں ۔

تم بھی کتنی بھولی ہو کسی کی بھی باتوں میں آ جاتی ہو۔لیکن میں ہوں نہ میں تمہیں کسی کی باتوں میں نہیں آنے دوں گا ۔

یارم نے سوچتے ہوئے اپنی جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا جہاں اس کی چین غائب تھی ۔

ہائے میری معصوم سی چورنی وہ دلکشی سے مسکرایا۔