Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 86)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 86)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
کیا ہوا روح تجھے نیند آ رہی ہے رات کو ٹھیک سے نہیں سوئی کیا۔ فاطمہ بی بی نے اسے سست دیکھ کر پوچھا ۔
اب ان کووہکیا بتاتی کہ ان کی بیٹے نے ساری رات اسے ایک پل کو بھی نہ سونے دیا ۔
نہیں فاطمہ بی بی ایسی تو کوئی بات نہیں ۔
میں تو بالکل ٹھیک ہوں ۔
مجھے تو ٹھیک نہیں لگ رہی آج میری رپورٹ لینے ڈاکٹر کے پاس جائے گی نہ تو وہاں سے اپنا بھی چیک اپ کروا لینا ۔
ہو سکتا ہے کوئی خوشخبری ہی ہو فاطمہ بی بی نے پیار سے اس کے گال کو چھوا ۔
خوشخبری ہی ہے مجھے پتا ہے روح نے شرماتے ہوئے کہا تو فاطمہ بی بی خوشی سے کھل اُٹھیں ۔
کیا سچ تجھے کیسے پتہ چلا ۔۔؟ فاطمہ بی بی نے پوچھا ۔
تو وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی جب یارم نے پیچھے سے انہیں پکارا ۔
امی کچھ بنادے بہت بھوک لگی ہے وہ لاڈ سے ان کے گلے میں باہیں ڈال کر بولا ۔
میرا بچہ ابھی بناتی ہوں ۔بلکہ روح تجھے پر اٹھا بنا کے دے گی بہت اچھا کھانا بناتی ہے ۔فاطمہ بی بی نے تعریف کی ۔
ارے امی اس کا تو میں کھاتا رہتا ہوں آپ کا بہت عرصے سے نہیں کھایا ۔یارم بےساختا بولا تو روح ا سے گھورنے لگی جبکہ فاطمہ بی بی حیران اور پریشان نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
میرا مطلب ہے مجھے میری امی کے ہاتھ کا پراٹھا کھانا ہے اور کسی کے ہاتھ کا نہیں یارم نے بات بدلی ۔
فاطمہ بی بی مسکرائی ۔
اچھا ٹھیک ہے میں تیرے لیے کچھ بناتی ہوں جب تک تم اور تانیہ جاؤ اور رپورٹ لے آؤ۔
فاطمہ بی بی نے کہا ۔
بلکہ ایسا کرو تھوڑی دیر رک جاؤ یارم کھانا کھا لیں پھر تم دونوں کو اپنے ساتھ لے جائے گا ۔
کہاں بازاروں میں خوار ہوتی پھرو گی ۔ماحول نہیں ہے لڑکیوں کو اکیلے بیجھنے والا ۔فاطمہ بی بی یارم کو کہتی کچن میں جا چکی تھی ۔
جبکہ روح نظریں زمین پہ گاڑے نہ جانے کیا سوچ رہی تھی جب اپنے گالوں پر نرم لمس محسوس ہوا ۔
روح نے چونک کر اسے دیکھا ۔
ِیارم کیا کر رہے ہیں آپ روح آگے پیچھے دیکھتی ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی ۔
میں نے کیا کیا یارم نے معصومیت سے کہا۔
یار م آپ پر نہ یہ معصومیت سوٹ نہیں کرتی تو ڈرامے مت کیا کریں ۔وہ انگلی دیکھا کر بولی ۔
جب یارم نے وہی انگلی پکڑ کے سے اپنی طرف گھسیٹا اور اب نشانہ اس کے ہونٹ تھے ۔
اس کے لبوں پر بھرپور مہر ثبت کرکے اب دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوا تھا ۔
اگر معصومیت سوٹ نہیں کرتی تو دکھانے بھی نہیں چاہیے مجھ پر صرف رومانس سوٹ کرتا ہے یہی کہنا چاہتی تھی نہ تم ۔وہ آنکھوں میں شرارت لئے پوچھ رہا تھا ۔
جب فاطمہ بی بی کی آواز آئی ۔
آجا یارم پراٹھا بن گیا ۔
فاطمہ بی بی کی آواز پر وہ ہنستے ہوئے کیچن میں چلا گیا۔جب کہ روح کا نیند سے برا حال ہو رہا تھا ۔
اللہ پوچھے آپ کو یارم ۔ بالکل بھی اچھا نہیں کر رہے آپ میرے ساتھ
امی میں آپ سے کہنا چاہتا تھا کہ اس دوسری لڑکی کو میرے ساتھ بھیجنے کی کیا ضرورت ہے صرف روح کو ہی بھیجیں نہ۔ وہ بڑے مزے سے انہی کے ہاتھوں سے پراٹھا کھاتے ہوئے بولا ۔
کیوں روح بھی تو ایک لڑکی ہے اسے میں تیرے ساتھ اس طرح سے کیوں بیجوں وہ اسے گھور کر پوچھنے لگی ۔
امی ۔اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ مجھے پتا نہیں ہے کہ آپ کو یہ پتہ ہے کہ روح میری بیوی ہے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے
یارم نے بھرپور اپنے ڈمپلز کی نمائش کرتے ہوئے کہا
اچھا تو تجھے سب پتا ہے ۔اس بار فاطمہ بی بی بھی مسکرائی تھی ۔
جی ہاں مجھے سب پتہ ہے آپ کو کیا لگتا ہے وہ آپ ایسے ہی کسی لڑکی کو باہر اتنی دیر اپنے بیٹے کے پاس کھڑا کر دیں گی ۔
اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ آپ آج سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے یہ بات جانتی ہیں ۔
میں آپ کو کل رات ہی سب بتانے والا تھا پر روح نے منع کردیا وہ نہیں چاہتی یہ بات آپ کو دکھ پہنچائیں ۔
اسے لگتا ہے میری شادی کے بارے میں سن کر آپ کو برا لگے گا ۔
اور میں جانتا ہوں کہ آپ اس دن سے سب جانتی ہیں جس دن ہم نے پہلی بار فون پہ بات کی تھی ۔
روح کا آپ کا نام لےکر پکارنا ہی مجھے شک میں ڈال گیا تھا
لیکن میں آپ سے زیادہ دیر یہ بات نہیں چھپا سکتا تھا ۔وہ بھی تب جب میں جانتا ہوں کہ آپ سب سچ جانتی ہیں ۔
یار م نے ان کا ہاتھ چوما ۔
وہ لڑکی بچپن سے جانتی ہے میری ہر بات وہ اپنا سارا وقت میرے ساتھ گزارتی تھی میں اکثر اسے بتاتی تھی کہ میرا بیٹا آئے گا اس کی شادی کروں گی ۔
کچھ خواب تھے جو میں نے سجائے تھے تیری شادی کے لیے اسی لیے روح کو لگا کے مجھے برا لگے گا تیری شادی کا سن کے ۔
لیکن سچ تو یہ ہے کہ تیری شادی کا روح کے ساتھ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی ۔
وہ کیا سچ میں ماں بننے والی ہے فاطمہ بی بی نے مسکرا کر پوچھا تو یار م نے ہاں میں سرہلایا ۔
میں دادی بننے والی ہوں ۔فاطمہ بی بی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی ۔
جبکہ یارم ان کی خوشی دیکھ کر بہت خوش تھا ۔
اب تو سارے غلط کام چھوڑ دے ۔صرف اپنی بیوی اور بچے کے بارے میں سوچ فاطمہ بی بی کی کہنے کی دیر تھی یارم کاموڈ پھر سے آف ہوگیا ۔
امی آپ سب کچھ جانتی ہیں پھر بھی اس طرح سے کیوں کہتی ہیں میں یہ کام نہیں چھوڑ سکتا ۔اور نہ ہی کبھی چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔
وہ بس اتنا کہہ کر اٹھ کر کمرے میں چلا گیا ۔
جبکہ فاطمہ بی بی آج بھی اسے اس راستے سے ہٹا نہیں پائی تھی جس راستے وہ بارہ سال کی عمر سے چلا تھا ۔
یارم جی دبئی تو ہمارے ملک سے بہت الگ ہوتا ہوگا نہ ۔
ویسے ہماری روح بھی پانچ مہینے دبئی میں رہ کے آئی ہے ۔
لیکن وہ دبئی کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتی وہ کہتی ہے کہ پاکستان زیادہ اچھا ہے
لیکن آپ تو اتنے سالوں سے دبئی میں تھے تو بتائیں نہ دبئی آپ کو کیسا لگتا ہے
تانیہ اس کے سامنے بیٹھی دبئی کی باتیں کر رہی تھی جبکہ روح بار بار دروازے سے جھانک کر یہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی آخر تانیہ اس کے شوہر سے کیا بات کر رہی ہے
جبکہ کل رات تانیہ کا یارم کی خوبصورتی پر تبصرہ اسے پسند نہ آیا تھا ۔
تانیہ اسے باہر کھڑے دیکھ کر دانت پستے ہوئے باہر آئی
کیا مسئلہ ہے تجھے کوئی کام کر مجھے ان سے باتیں کرنے دے ۔
کیا پتا تیرے ساتھ ساتھ میں بھی دبئی چلی جاؤں ۔
تانیہ نے اسے جانے کو کہا ۔
آپ کیسے چلیں گی تانیہ باجی روح نے حیران ہو کے اس سے پوچھا آخر اس کے ارادے کیا تھے ۔
ارے بے وقوف لڑکی جسے میں نے دل دیا وہ تو بے غیرت مجھے چھوڑ کر چلا گیا اب اپنی زندگی کے بارے میں مجھے کچھ تو سوچنا ہے اسی لئے میں نے سوچا کیوں نہ ان پہ ٹرائی کروں ویسے بھی ماشااللہ سے اتنے خوبصورت ہیں کہ ہمارا تو پورا خاندان جل کر راکھ ہو جائے ۔
اب اگر میری شادی ان کے ساتھ ہوگئی تو ہم دونوں دوبئی جائیں گے تو اپنے شوہر کے ساتھ میں اپنے یار م جی کے ساتھ
تُو اپنا کام کر میں ٹرائی مارتی ہوں ۔
تانیہ نے اسے پوری بات سمجھا کر وہاں سے جانے کا اشارہ کیا ۔
جبکہ یارم کے پتلے کان اس کا سارا پلان سن چکے تھے ۔
اور روح کا چہرہ دیکھ کر یارم کا دل چاہا کہ قہقہ لگا کر ہنسے لیکن اپنا قہقہ کنٹرول کرنے میں اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔
تانیہ جی میں بور ہو رہا ہوں پلیز تھوڑی دیر مجھے کمپنی دیں نا ۔۔۔ یارم نے تانیہ کے پیچھے سے آکر کہا ۔
روح جی تب تک ایک کپ چائے بنا دیجئے یارم نے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے اسے آرڈر دیا ۔
جبکہ تانیہ اس کے ساتھ آ کر واپس بیٹھ گئی ۔
اور روح اس کی شکل دیکھتے ہوئے باہر چلی گئی
جناب کو چائے چاہیے اور کمپنی چاہیے تا نیہ باجی کی ۔
وہ ایک ایک برتن پٹکتی اپنا رونا رو رہی تھی جبکہ فاطمہ بی بی کب اس کے پیچھے آ کر کھڑی ہوئی اسے پتہ بھی نہ چلا ۔
روح کیا کر رہی ہے بیٹا برتن ٹوٹ جائیں گے ۔وہ اپنی ہنسی چھپائے پوچھنے لگی
کچھ نہیں فاطمہ بی بی چائے بنا رہی ہوں آپ کے بیٹےکے لیے ۔
وہ اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے بولی
جب دیکھتے ہی دیکھتے روح نے پتی کے دو نہیں بلکہ چار پانچ چمچ بھر کر ڈال دیئے ۔
روح بیٹا یہ کیا کر رہی ہے اتنی کڑوی چائے کس کے لیے بنا رہی ہے ۔
فاطمہ بی بی پریشانی سے آگے بڑھ کر اس سے پوچھنے لگی
فاطمہ بی بی ان کے سر میں درد ہے اس لئے کڑوی چائے پینے گے تو جلدی آرام آئے گا ۔
پھر ہم نے جانا بھی تو ہے آپ کی رپورٹس لانے ۔
روح اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے چائے کی پتی والا ڈبہ بند کرنے لگی ۔
جبکہ فاطمہ بی بی اپنے بیٹے کی شرارت پر اس کو ملنے والی سزا کے بارے میں سوچ کر بہت خوش تھی ۔
جائیں فاطمہ بی بی یہ چائے اپنے بیٹے کو دے آئیں ۔
اس نے ٹرے ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
تو نے بنائی ہے تو جاکے تو ہی دے فاطمہ بی بی مسکراتے ہوئے سبزی کاٹنے لگی ۔
اور روح ٹرے اٹھا کر باہر نکل آئی
ابھی روح نے کمرے میں قدم رکھا ہی تھا جب فاطمہ بی بی نے تانیہ کو آواز دے کر اپنے پاس بلایا ۔
اور وہ اٹھ کر باہر چلی گئی ۔
یار م کی زبان کا ذائقہ تو چائے کا پہلا سیپ لیتے ہیں بہت خراب ہوچکا تھا ۔
یہ چائے بنا لی ہے تم نے ایسی ہوتی ہے چائے تانیہ کے جاتے ہی وہ پھٹ پڑا ۔
ہاں چائے بنائی ہے اور ایسی ہی چائے بنانی آتی ہے مجھے ۔وہ بھی کمر پہ ہاتھ رکھے لڑاکا عورتوں کی طرح بولی ۔
جب یارم نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کے اسے اپنے قریب کیا ۔
بہت خراب چائے بنانی آتی ہے تمہیں لیکن کیا ہے نہ مجھے اس کا ذائقہ ٹھیک کرنا آتا ہے وہ اس کے لبوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے بولا ۔
نہیں یارم تانیہ باجی واپس آنے والی ہونگی وہ فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔
جب یارم نے ایک جھٹکے سے مزید اپنے قریب کر لیا ۔
تو میں کیا کروں ۔۔تم نے مجھے اتنی کڑوی چائے بنا کر دی ہے اب کچھ میٹھا ہوجائے ۔
نہیں یارم ۔تانیہ باجی اس کی بات منہ میں ہی رہ گئی ۔
اس کے انداز میں شدت دیکھ کر روح نے پیچھے ہٹنے کی ناکام کوشش کی ۔
جب تانیہ کے قدموں کی آواز سن کر یارم نے اسے خود سے دور کیا ۔
یار م جی آپ نے چائے پی لی چلیں ۔وہ کیا ہے نہ روح کو بھی ہم نے چیک کروانا ہے ۔ورنہ یہ ہمارے ساتھ نہیں آنا چاہتی تھی ۔
تا نیہ نے مسکراتے ہوئے بتایا جبکہ وہ یہ بھی نوٹ نہ کر پائی کہ اس کے کچھ فاصلے پر کھڑی روح اپنی حالت کو نارمل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی ۔
جب کہ یارم آرام سے بیٹھا چائے پی رہا تھا
لگتا ہے چائے بہت اچھی بنی ہے تانیہ نے مسکرا کر کہا تھا یارم بھی مسکرایا
اس سے زیادہ مزیدار چائے تو میں نے آج تک نہیں پی شاید آپ بناتی تو اس سے بھی زیادہ اچھی بنتی ۔یار م نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا ۔اور اسے جلاتا ہوا باہر نکل گیا ۔جبکہ تانیہ بھی کمرے سے باہر نکل گئی
آپ بناتی تو اس سے بھی اچھی بنتی وہ اس کی نقل اتارتی پیچھے آئی ۔
