Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 94)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

آج ڈیڑھ مہینہ ہو گیا تھا فاطمہ بی بی کو گزرے ہوئے ۔

تقریبا سب لوگ ہی سنبھل جاتے تھے ۔

یارم نے سب کو رونے کے لیے منع کیا تھا ۔

اور ان کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے سب نے یارم کے اس فیصلے میں اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا ۔

یار م بیٹا یہ تم کیا کہہ رہے ہو ابھی تمہیں آئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں کچھ وقت اور رک جاتے تعظیم نے اس کی جانے کی بات سن کر کہا ۔

نہیں آنٹی ۔بہت دن ہو گئے اب مجھے چلنا چاہیے اور ویسے بھی آپ یہاں ہے ہی کون میرا ۔

پاکستان سے جڑا میرا آخری رشتہ بھی اب ختم ہو چکا ہے ۔

لیکن بے فکر رہیں روح آئے گی آپ سے ملنے کے لیے یارم نے مسکرا کر انہیں دلاسہ دیا۔

یارم کل تک توآپ نے جانے کی بات نہ کی تھی اب اچانک آپ نے واپسی کا کیسے سوچا ۔

روح کو بھی آج ہی پتہ چلا تھا کہ یارم واپس جانا چاہتا ہے

روح ہمارا یہاں رہنے کا اب کوئی مقصد نہیں وہاں میرا کام ہے ۔

اور میں وہ کام نہیں چھوڑوں گا یہ تم جانتی ہو اسی لیے میں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

شارف لیلیٰ لوگ بھی یہاں پر کنفرمٹیبل نہیں ہیں یہ ان کا اپنا گھر نہیں ہے ۔

ہر انسان کو اس کے اپنے گھر کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اور انہیں بھی تو اپنے گھر جانا ہے اور اب ہمارا یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔

تم تیاری کرلو ہم پرسوں یہاں سے نکلیں گے ۔

یارم اس سے کہہ کر اندر چلا گیا ۔

سچ ہی تو کہہ رہا تھا یار م اب وہ یہاں کیوں رکھتے اکلوتا رشتہ تھا اس کا اس گھر ست ۔وہ بھی ختم ہو چکا تھا فاطمہ بی بی کے ساتھ گزارہ اپنا بچپن وہ کبھی بھولا تو نہیں سکتی تھی اور نہ ہی ان کی اچانک موت کو قبول کر پارہی تھی

ڈاکٹر کا کہنا تھا ۔

کہ ان کی موت کینسر سے نہیں ہوئی بلکہ وہ اچانک ہی وفات پا گئی ہیں کیونکہ کینسر کے مریض بہت تکلیف سہتے ہیں ۔شاہد اللہ نے انھیں تکلیف سے بچانے کے لیے جلدی اپنے پاس بلا لیا ۔

روح میرے ساتھ شاپنگ مال چلوگی مجھے کچھ چیزیں لینی ہے ضروری نہ ہوتی تو تمہیں نہ کہتی لیلی نے اس کے قریب آ کر کہا ۔

ہاں کیوں نہیں لیلیٰ میں تمہارے ساتھ چلوں گی لیکن ایک بار یار م سے پوچھ لوں۔

کل ان لوگوں کو یہاں سے جانا تھا اس سے پہلے لیلی اپنے لئے کچھ چیزیں خریدنا چاہتی تھی ۔

اسے خضر کا روک ٹوک کرنا اس پر حکم چلانا اسے اپنی مرضی کے کپڑوں میں دیکھنا یہ ساری چیزیں لیلی بہت اچھی لگتی تھی۔

آج تک کوئی نہ تھا جو اس کے ڈریسنگ سینس پر کومنٹ کرتا یا پھر اسے صحیح غلط کی پہچان بتاتا ۔

لیکن خضر اس کے ایک ایک موومنٹ کو نوٹ کرتا تھا اور لیلیٰ کو یہی چیزیں اچھی لگتی تھی ۔

کہ کس طرح سے وہ اس کی ہر ایک بات ہر ایک چیز کو نوٹ کرتا ہے ۔

لیلیٰ کو اس کا حکم چلانا اپنے آپ پر حق جتانا اچھا لگتا تھا اسی لیے وہ چاہتی تھی کہ وہ اس کی پسند کے کچھ ڈریسز خرید لی ۔

اور کچھ نہ سہی خضرخوش ہی ہو جائے گا ۔

ٹھیک ہے تم دونوں جاؤ خضر تم دونوں کو چھوڑ آئے گا ۔

اور جب آنا ہوا مجھے فون کر دینا میں تمہیں لینے آ جاؤں گا ۔یارم نے اسے اجازت دیتے ہوئے کہا

معصومہ کو بھی اپنے ساتھ لے جاو وہ بیچار ی یہاں اکیلی رہ کر کیا کرے گی

اس سے پوچھا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا ۔وہ کہہ رہی تھی کہ ایک بار پورا گھر ٹھیک سے صاف کروائے گی اپنی نگرانی میں ۔اور اس سے کچھ خریدنا بھی نہیں تھا

روح اسے بتا کر جا چکی تھی ۔

جب وہ فاطمہ بی بی کے کمرے میں آیا تو دیکھا معصومہ بیٹھی فاطمہ بی بی کی تصویر پکڑے رو رہی تھی وہ اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا

کیا ہوا ۔۔۔وہ جانتا تھا اس تھوڑے سے وقت میں معصومہ فاطمہ بی بی کے بہت قریب آ چکی تھی ۔

یارم سر میری ماما کو بھی کینسر تھا اور ان کے آخری وقت میں کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا ۔

وہ بابا کو بہت مس کرتی تھی روزانہ فون کرکے کہتی کہ واپس آجائے ۔

اور بابا کہتے یہاں اور لوگوں کو ان کی ضرورت ہے ۔

مجھے تب بابا پر بہت غصہ آتا تھا مجھے غلط لگتے تھے لیکن اب نہیں سر میرے بابا ٹھیک تھے انہوں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا ۔

معصومہ نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔

ہاں معصومہ تمہارے بابا بالکل ٹھیک تھے انہوں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا انہوں نے جو کچھ بھی کیا اچھے کے لئے کیا ۔

اب یہ رونا دھونا بند کرو اور میرے لیے اچھی سی چائے والا ۔

میں بھی تو دیکھوں میری چھوٹی سی بہن کیسی چائے بناتی ہے ۔

یار م نے اس کا دھیان بٹانا چاہتا تو وہ مسکراتے ہوئے اٹھ گئی ۔

سچ کہتے ہیں لوگ ماں باپ ایک نعمت ہوتے ہیں اللہ کی طرف سے دیا گیا سب سے حسین تحفہ لیکن نہ جانے کیوں کچھ لوگوں کو اس رشتے کی قدر ان کے جانے کے بعد ہوتی ہے ۔

وہ شاپنگ مال میں اس وقت شاپنگ کر رہے تھیں ۔

جبکہ ایک لڑکا نہ جانے کب سے انہیں گھورے جا رہا تھا ۔ہاتھ میں سیگرٹ لیے اجڑی ہوئی حالت میں وہ کوئی غنڈا ہی لگ رہا تھا ۔

لیلی کا دل چاہا کہ جاکر اس کا دماغ ٹھکانے لگادے جو کب سے ان کا پیچھا کیے جا رہا ہے لیکن پھر اس نے یہاں تماشہ کرنا بہتر نہ سمجھا اور خضر کو فون کیا ۔

اور پھر اسے ساری بات بتائی اور خضر نے کچھ ہی دیر میں آنے کا وعدہ کرتے ہوئے فون بند کر دیا

وہ کافی دیر سے پارکنگ میں اس کا انتظار کر رہی تھی جب کہ وہ لڑکا نہ جانے کہاں جا چکا تھا جب خضر کی گاڑی سامنے آکر رکی ۔

خضرتم نے اتنی دیر لگا دی اور لڑکا نہ جانے کہاں چلا گیا ورنہ ۔

ڈونٹ وری میں اسی لڑکے کا دماغ ٹھکانے لگانے گیا تھا لیکن یارم کو غصہ آیا اور اس کا بازو توڑ دیا ۔

غلطی کی اسے بتا کر پہلی بار تمہارے سامنے ہیرو بننے کا موقع مل رہا تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل گیا خضر نے ٹھنڈی آہ بھر کر لیلیٰ کی طرف دیکھا

میرے ڈیئر ہیبی تم ہمیشہ میرے ہیرو رہو گے ۔لیلیٰ نے چہکتے ہوئے کہا جبکہ روح اس لڑکے کا بازو ٹوٹنے کے بارے میں سن کر پریشان ہو چکی تھی

اور گھر جاتے ہی اس نے یارم سے اس بارے میں بات کرنے کے بارے میں سوچا تھا لیکن گھر جاکر اسے یارم سے بات کرنے کا وقت ہی نہ ملا ۔

اب رات کا کھانا کھا کے وہ اپنے کمرے میں آئی تو یارم پہلے سے کمرے میں تھا

یارم آپ نے اس لڑکے کا بازو توڑ دیا روح افسوس سے بولی۔

دل تو میرا اس کی آنکھیں نکالنے کو کر رہا تھا جو تمہیں دیکھ رہی تھی ۔یارم نے پرسکون انداز میں بیڈ کی کروان سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔

یارم آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کسی کو نہیں ماریں گے روح نے اسے اس کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے اس کے اندر احساس جگانے کی کوشش کی ۔

جب یارم نے اپنا سر اس کی گود میں رکھ لیا

ہاں جانم میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں کسی کو نہیں ماروں گا لیکن کسی کے ہاتھ پیر نہیں توڑوں گا یہ وعدہ تو نہیں کیا میں نے۔

یارم کاظمی اپنے دشمن کو اگر مارے نہ تو اسے جینے کے قابل بھی نہیں چھوڑتا یارم نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا جب وہ پیچھے ہٹی

میری بات نہ ماننے والا بھی میرا دشمن ہے اس نے روح کے اس طرح سے پیچھے ہٹنے پر کہا ۔

ہاں میں بھی دشمن ہوں آپ کی مار ڈالیں مجھے بھی روح نے روٹھتے انداز میں کہا ۔

مارنا ضروری تو نہیں میں اپنے ہر دشمن پراپنے دماغ کے حساب سےوار کرتا ہوں ۔

تو کیا کہتا ہے آپ کا دماغ میرے بارے میں مجھے کس طرح سے ماریں گے ۔روح نے در بہ در جواب دیا

ہا ہاہا یہی تو مسئلہ ہے جانم تمہارے معاملے میں دماغ کام نہیں کرتا صرف دل کام کرتا ہے ۔

اسے اپنے قریب کرتے ہوئے فرار کی ساری راہیں بند کردی

وہ سب لوگ جانے کے لئے بالکل تیار تھے سارا سامان گاڑی میں رکھ چکے تھے ۔

انہیں دس منٹ میں نکلنا تھا ۔وہ سب تعظیم کے گھر سے ان سے مل کر نکلے تھے جبکہ روح کو گلے لگائے مسلسل رو رہی تھی ۔

سب لوگ باہر گاڑی میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگے جب یار م اسے جلدی آنے کا کہہ کر نکلا ۔

اس نے گاڑی گلی کے نکر پر کھڑی کی تھی کیونکہ اگر یہاں کوئی گاڑی رکے تو دوسری گاڑی کے نکلنے کی جگہ نہیں بچتے تھی۔

روح سب سے مل کر تیزی سے باہر نکلیں جب یارم کے قریب سے ایک گاڑی اس گلی میں داخل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے روح گلی سے غائب ہوگئی ۔

بس اگر اسے کچھ سنائی دیا تھا تو وہ روح کی آخری😢 یارم کے نام کی چیخ تھی ۔😢

یارم تیزی سے گلی کی طرف بھاگا اور اسے دیکھتے ہوئے خضر اور شارف بھی اس کی طرف دوڑے ۔

لیکن ناجانے گاڑی کہاں غائب ہوچکی تھی وہ لوگ روح کو کہاں لے کر گئے

پتا تھا تو بس اتنا کی اس کی روح کو کڈنیپ کر لیا گیا ہے ۔

لیکن کس میں اتنی ہمت آ گئی کہ یارم کی بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے