Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
میں نے تو اس وقت ہی کہا تھا اس لڑکی کو گھر سے نکال دو جب اس کا باپ مرا تھا تب تو تم نے میری بات سنی نہیں اس وقت تمہیں فری کی نوکرانی چاہیے تھی ابھی تو کچھ نہیں اس کی خوبصورتی تیری ساری بچیوں کی زندگی برباد نہ کر گئی تو نام بدل دینا اقصی خالہ جو کہ امی کی بچپن کی سہیلی تھی ان کے گھر میں آئی تھی تومیں کیا کروں تم ہی بتاو یہ لڑکی میری بچیوں کی زندگی برباد کر دے گی دوسری بار رانیہ کا رشتہ ٹوٹا ہے 29 سال کی ہوگئی ہے وہ لیکن ابھی تک کنواری بیٹھی ہے ہائے یہ منہوس تیری بیٹیوں کا نصیب کھا جائے گی اقصی خالا نے دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کہا اپنی بیٹیوں کو بٹھا ایک طرف اور جلدی سے اس کے ہاتھ پیلے کرکے اس کو رفع دفع کر تا کہ تیری بیٹیوں کے اچھے رشتے آئے خالہ نے کہا ارے کہاں سے کرو شادی میرے پاس اسکیلئے پھوٹی کوڑی نہیں ہے بڑی مشکل سے میں نے اپنی بیٹیوں کے لئے جہز جمع کیا ہے ارے تجھ سے جہز مانگ کون رہا ہے میں ایک عورت کو جانتی ہوں وہ نہ رشتے کرواتی ہے لیکن کچھ نہیں لیتی الٹے پیسے دیتی ہے اقصی خالہ نے سرگوشی والے انداز میں کہا کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا امی کا انداز بھی سرگوشانہ تھا ۔ ارے وہ کوئی دبئی میں شیخ رہتا ہے لڑکی خوبصورت اور کم عمر ہونی چاہیے فون پر لڑکی سے نکاح پڑھاتے ہیں اور دبئی بلا لیتے ہیں پہلے لڑکی اس شیخ کے ساتھ رہتی ہے اور بعد میں ۔ خالہ بولتے بولتے خاموش ہوگئی بعد میں ۔۔۔؟ بعد میں شیخ لڑکی کو آگے بھیچ دیتا ہے آخر جو لڑکی کے آباؤ اجداد کو رقم دیتا ہے وہ واپس وصول بھی تو کرنی ہوتی ہے کیا مطلب ہے لڑکی بیچ دیتے ہیں امی اب بات کو سمجھیں تھی توبہ توبہ معصوم سی لڑکی ہے میں اس کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کروں گی چند پیسوں کے لیے نہیں بیچوں گی امی نے فورا انکار کر دیا اقصی کی سہلی جو کافی عرصے سے مشہور تھی کہ لڑکیوں کے نکاح دبئی میں پڑھاتی ہے اس نے کہی بار کہا کہ میری بیٹیوں کے نکاح کروا دو لیکن اقصی خالہ ہمیشہ ہی ٹال دیتی ارے ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی میں یہ تھوڑی کہہ رہی ہوں اسے بیھج دو میں تو بس تم کہہ رہی تھی کہ راستے سے ہٹاؤ میں نے تو بس آئیڈیا دیا اب تمہاری بیٹوں کی زندگی برباد کر رہی ہے 25 سال کی تو ماریا ہوگئی ہے اور جب تک یہ یہاں رہیں گی تب تک تمہاری بیٹیوں کا کہیں کوئی چانس نہیں ہے اور جنہیں تم چند پیسے کہہ رہی ہوں نہ بی بیس لاکھ ہیں ارے دھوم دھام سے اپنی بیٹیوں کی شادی کر سکتی ہو تم خالا بس اتنا بول کر اپنا بیگ اٹھا کر اٹھنے لگی بیس لاکھ ۔امی کامنہ رقم سن کر کھل گیا ارے یہ تو کچھ بھی نہیں لڑکی خوبصورت اور کم عمر ہو جیی کہ روح ہے تو بیس پچیس اور تیس میں بھی بدل سکتے ہیں خالہ مزید لالچ دیتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئی
