Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 72)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 72)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
واپس آنے کے بعد بھی نہ جانے کتنی دیر یارم کی آواز میں کھوئی رہی
ہائے میں صدقے
میرے یار م تو سینگر ہیں وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی تو خضر اور شارف نے اسے دیکھا جو اپنی باتوں میں مصروف تھے
اوئے لڑکی تم تو اپنے میاں کی آواز سے باہر نہیں نکل رہی ہو وہ مخالف پارٹی ہے شارف نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔
ہاں وہ تو مجھے بھی پتا ہے لیکن یارم کی آواز اللہ کسی کی نظر نہ لگے وہ پھر سے بولی
تم ایسا کرو اسی کی پارٹی میں چلی جاؤ غدار کہیں کی شارف اب جل کر بولا ۔توروح نے اسے گھور کر دیکھا
گھورومت مجھے جس طرح سے تم اس کی آواز پر مری جا رہی ہونا روح میں یہی کہہ سکتا ہوں
۔آج انہوں نے ہم سے بہتر گانا گایا کل نہ جانے کیا کرینگے روح ہم لڑکے والے ہیں لڑکے والے ہمیشہ لڑکی والے سے بہتر اور زیادہ ہلا گلا کرتے ہیں شارف نے سمجھایا
ہاں شارف لیکن ہماری روح نے بہت اچھا گایا ہے ہماری روح نے بھی اچھا مقابلہ کیا ہے مخالف پارٹی کا خضر نے تعریف کی ۔
ایک منٹ ایک منٹ ہم شادی کر رہی ہیں یا جنگ یہ مقابلہ مخالف پارٹی یہ سب کچھ کیا ہے ۔
روح نے پریشانی سے کہا جہاں شادی کی تقریبات میں میدانِ جنگ چڑ چکا تھا
لڑکی کبھی کسی کی شادی پر نہیں گئی کیا شارف نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ مار کر اس کی عقل پر ماتم کیا
روح یہ ایک قسم کا وار ہے لڑکے والے کبھی لڑکی والوں کو اپنے سے بہتر نہیں ہونے دیتے ہیں ورنہ لڑکے کو ہمیشہ لڑکی کی غلامی میں زندگی گزارنی پڑتی ہے شارف نے سمجھایا
لیکن شارف بھائی خضر بھائی نے تو ویسے بھی لیلی کا غلام بن کر ہی رہنا ہے۔ دیکھا نہیں تھا آپ نے کیسے دیکھ رہے تھے لیلی کی طرف چھپ کر روح نے خضر کی چوری پکڑی تووہ ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔
مطلب ہمارا سب سے مضبوط ہتھیار ہی کمزور ہے شارف نے بے یقینی سے اسے شرم دلاتی نظروں سے دیکھا ۔
یار وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ خضر نے اپنی غلطی قبول کی
تم ٹھیک کہ رہی ہو روح اس کی حرکتیں ہی غلام والی ہیں شارف نے غصے سے کہا
وہی تو اس مقابلے کا رزلٹ ہی فیل ہے ہم سب مل کر شادی انجوائے کرتے ہیں چھوڑیں یہ مقابلہ وغیرہ روح نے کہا
تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو روح ہمیں تو رسمیں بھی ساتھ ہی کرنی چاہیے یہ کیا بات ہوئی وہ اتنی دور بیٹھی ہے اور میں یہاں خضر نے اداسی سے کہا۔
خضر بھائی مقابلہ نہ ہونے کی صورت میں بھی رسم الگ الگ ہی ہوں گی روح نے اپنی ہنسی چھپائی جس پر خضر کامنہ بن گیا ۔
صبح یارم اس سے ناراضگی ظاہر کر رہا تھا دن میں اس نے کہا کہ وہ روح رات میں سے منائے گی تو وہ راضی ہوگا جبکہ وہ ناراضگی اس نے کسی پر ظاہر نہ ہونے دی
کمرے میں شونو کو کر لے جاتے ہوئے اسے اچانک ہی یارم کا خیال آگیا
کل شونو کی وجہ سے یارم اس سے ناراض ہوا تھا اس نے شونو کو معصومہ کے پاس چھوڑا جس نے خوشی خوشی شونو کو رکھ لیا
اب اس کا کمرہ میں جانے کا ارادہ تھا پتا نہیں وہ اس سے ناراض تھا یا نہیں لیکن فی الحال روح اسی کے پاس جانا چاہتی تھی
وہ کمرے میں آئی تو کمرے کی لائٹ آف تھی
یارم سو گئے کیا ۔۔۔؟
وہ کہتے ہوئے آگے آئی
یارم سو گئے کیا ۔۔۔؟وہ کہتے ہوئے بیڈ کے قریب آ کر پوچھنے لگی
جب کسی نے اچانک اسے اپنی باہوں میں لیا اسے ہی ابھی تو میری پیاری سی بیوی نے مجھے منایا تک نہیں
یارم نے جھک کر اس کی گال کو چوما ڈارلنگ کیسے مناؤ گی مجھے وہ اسے باںہوں میں اٹھاتا بیڈ پر لے آیا۔
روح نے اس کے گلے میں باہر ڈالیں
آپ بتائیں کتنے ناراض ہیں اسی حساب سے مناؤں گی روح اسی کے انداز میں بولی
بہت بہت بہت زیادہ یارم اس کی چھوٹی سی ناک کو چھو کر بولا
بہت بہت بہت زیادہ ناراض مطلب آسانی سے نہیں ماننے والے روح نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی
بالکل نہیں بہت محنت کرنی پڑے گی میری چھوٹی سی جان کو یارم نے مسکرا کر کہا ۔
پھر تو نہیں منا پاؤں گی کیونکہ میں نے کبھی اتنا زیادہ روٹھے ہوئے انسان کو نہیں منایا
یارم نے ایک جھٹکے دے کر اس کو اپنے اوپر کیا ۔
ٹرائی تو کرو میں جلدی مان جاؤں گا یار م نے آفردی
آنکھیں بند کریں روح نے کہا
کس کرو گی یا رم نے مسکرا کر پوچھا
آف گندے۔۔ بندتو کریں پہلے روح نے گھور کر کہا
بےبی اس اندھیرے میں تمہاری گھوڑیاں محسوس سکتا ہوں لیکن کونسا کس کرتے ہوئے تم مجھے نظر آؤ گی یارم شرارتی انداز میں بولا ۔
لیکن کمرے میں اتنا اندھیرا بھی نہیں تھا کہ یارم کو نظر نہ آئے باہر لگی لائٹنگ کی وجہ سے اندر کبھی لائٹ آن تو کبھی آف ہورہی تھی ۔
لیکن پھر بھی تم کہتی ہو تو میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں
یارم کا ارادہ آج پکا اس سے کس لینے کا تھا تبھی تو اس نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں
روح نے آہستگی سے اپنا آپ اس کی باہوں سے چھڑآیا اور اس کے دل کے مقام پر لب رکھ دیے
پھر وہی اپنا کان رکھ کر لیٹ گئی آپ کو پتا ہے مجھے یہ جگہ بہت پسند ہے اور یہ آواز یارم آپ کو پتہ ہے مجھے لگتا ہے آپ ہر دھڑکن کے ساتھ میرا نام پکار رہے ہیں
ایسا لگتا ہے آپ اپنی ہر سانس کے ساتھ مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں مجھے لگتا ہھا میں آپ سے دور چلی جاؤں گی لیکن میں غلط تھی یارم میں تو آپ کی بغیر رہ ہی نہیں سکتی
اسی لیے صارم کے ہاتھوں طلاق کے کاغذات منگوائے تھے تم نے یارم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
نہیں یارم وہ پیپزمیں نے نہیں منگوائے تھے صارم بھائی خود لے کے آئے تھے کل وہ مہندی پر آئیں گے نہ آپ خود ان سے پوچھ لیجئے گا وہ کاغذات صارم بھائی خود لائے تھے مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ ایسا کچھ کرنے والے ہیں
روح نے کہا تو یارم کو ایک اپنی غلطی کا احساس ہوا اس نے روح کو اتنی بڑی سزا دی وہ سزا جس میں اس کی کوئی غلطی بھی نہیں تھی لیکن اس وقت وہ روح کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا
وہ تو ٹھیک ہے بےبی لیکن میں کس پھر بھی لوںگا یارم نے معصومیت سے کہا تھا اس کے سینے پر سر رکھے وہ بے اختیار مسکرا ئی
اور اگر میں نہ دوں تو۔۔۔؟ اب تو نخرے دکھانا بنتا تھا
مجھے لینا آتا ہے۔۔ بہتر ہے تم خود ہی دے دو یہ شرم حیا ایک طرف رکھو اور مجھے کس کرو ورنہ پھر بعد میں تمہیں پچھتانا پڑے گا
بعد میں میں ایک کس پر تو ہرگز نہیں ٹلنے والا ۔
اب کیا ایک کس پر ٹل جائیں گے روح نے بڑی معصومیت سے پوچھا
نہیں لیکن اگر تم خود ایک کس دو گی تو تہمیں زیادہ دیر پچھتانا نہ پڑے گا
یارم ۔ روح نےکچھ کہنا چاہا
تم ٹائم ویسٹ کر رہی ہو وہ لڑکی کس می یار م نے اسے اپنے قریب کھنچا اور روح کی کمر پر ہاتھ ڈالا روح نے پھر سے کچھ کہنے کی کوشش کی
روح آئی ایم ویٹنگ یارم نے کہا
یارم آپ کو پتا ہے
مجھے سب کچھ پتہ ہے روح اب کس می یارم نے اس کی بات کاٹی
اوکے بےبی میں نے آنکھیں بند کر لیں یار م نے بات ختم کرتے ہوئے
یارم کی آنکھیں بند تھی روح نے آخر ہارمان کا یارم کے ہونٹوں اپنے لب رکھے اور اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی
کمرے میں یارم کا قہقہ گونجا ۔
آج تمہارا بوڈی گارڈ کہاں ہے یارم نے اس کے سر کے بالوں کو پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
تو روح نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔
ہاں کہاں ہے تمہارا بےبی تمہارا پالا شا شونو یارم نے اس کی نقل اتاری
وہ معصومہ کے پاس ہے وہ اسے معصومہ کی عادت ہوگئی ہے بہت پسند کرتا ہے ۔
وہ بھی اسے میری طرح بہت پیار کرتی ہے روح نے سر واپس اس کے سینے پر رکھا جبکہ اس کی باتیں پھر سے شروع ہو چکی تھی اتنے دنوں سے یارم نے اس کی یہ باتیں نہیں سنی تھی
کتنا مس کرتا تھا وہ اپنی پرانی روح کو ۔آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا تھا یارم بہت خوش تھا
معصومہ کچن میں پانی لینے آئی اتفاق سے شارف بھی اسی وقت سے پانی لینے آ گیا
تم میرے پیچھے آئے ہو مصومہ نے اپنے پیچھے سے دیکھ کر پوچھا
اور اس کے ساتھ دوست کی طرح رہنا چاہتی تھی لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں وہ اس کے ساتھ اتنی روڈ ہوجاتی اس وقت بھی وہ اس سے بہت روڈ لی بات کر رہی تھی ۔
جو کہ شارف کو بہت تپا گئی تھی
حور ہو تم یا آسمان سے اتری کوئی پری ہو جس کے پیچھے آدھی رات کو میں کچن میں آؤں گا معصومہ کا لہجہ اسے بالکل پسند نہ آیا تھا اس لیے اسی کی طرح تلخ لہجے میں بولا ۔
تمہیں پتہ ہے معصومہ تمہارا مسئلہ کیا ہے تم اپنی ہار کو ایکپسیٹ نہیں کر پا رہی ہو
تم اپنے آپ کو اوور اسمارٹ سمجھ بیٹھی تھی لیکن بعد میں تمہیں پتہ چلا کہ تم نہیں ہو
تمہیں لگتا تھا کہ میں تمہارے پیار میں مر جا رہا ہوں لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ سب کچھ ہمارا پلان تھا
تم صارم کو پسند کرنے لگی لیکن وہ تمہیں دھوکا دے رہا تھا ۔
اور تمہیں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا تمہیں لگتا ہے کہ میں تنہائی میں تمہارا مذاق اڑاتا ہوں
لیکن ایسا کچھ نہیں ہے معصومہ ۔میں تو اپنی ہار کو قبول نہیں کر پایا۔
مجھے لگا تھا کہ میں تمہیں اپنی محبت سے قائل کرلوں گا میں تمہیں اس بات کا احساس دلانا چاہتا تھا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تو شاید تم بھی مجھے چاہنے لگو ۔
تم اس دن سے مجھ سے ناراض ہو اس دن کے بعد تم مجھ سے ٹھیک سے بات نہیں کر رہی ۔
اور اگر کبھی تم نے مجھ سے بات کی ہے تو اتنی روڈلی۔تم میرے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہی تھی میں نہیں صارم تمہیں دھوکہ دے رہا تھا اور مجھے اپنا نشانہ بنا رہا تھا میں نے کبھی تم سے شکایت نہیں کہ تم نے میرے ساتھ کیا کیا ہے ۔
تم سے روڈ مجھے ہونا چاہیے ۔ناراض مجھے ہونا چاہیے نخرے مجھے دکھانے چاہے۔ لیکن نجانے تم یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہو ۔
یہ سچ ہے معصومہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تم مجھے پہلے دن سے اچھی لگتی ہو میں تمہارے سامنے ہمیشہ سے اپنے جذبات کا اظہار کر رہا ہوں لیکن تم مجھ سے ناراض کیوں ہو تم ایک بار تو خود کو میری جگہ رکھ کر سوچو ۔
اگر میری جگہ تم ہوتی اور میں تمہارے جذبات کے ساتھ ایسے بھی کھلتا تو کیا کرتی تم ۔
کبھی زندگی میں مجھ سے منہ لگنا پسند کرتی کیا پھر بھی اس طرح سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی ہوتی ۔
نہیں تم تو اپنی ہی غلطی پر مجھ سے ناراض ہو گئی ہو
تم خود غلطی کرکے سزا مجھے دے سکتی ہو ۔
لیکن میں پھر بھی تم سے بہت پیار کرتا ہوں میں تمہارے جواب کا انتظار کر رہا ہوں ۔
مجھے جلدی سے جلدی اپنا فیصلہ سنا دو ۔تاکہ میں بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکوں ۔
شارف نجانے کب کا جا چکا تھا ۔جبکہ معصومہ کتنی دیر سوچتی رہی ۔
کیا وہ سچ میں اپنی غلطیوں کی سزا اسے دے رہی تھی ۔
کیا جو کچھ ہوا اس میں غلطی صرف اس کی اپنی تھی ۔
