Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 73)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

ابھی لیلیٰ کو لا کر اسٹیج بٹھایا گیا تھا مہندی کی رسم بس شروع ہونے والی تھی۔

سب بے فکر ہو کے بیٹھے تھے جب اچانک صارم کے آنے سے پریشان ہوگئے ۔

اسے یہاں کس نے بنایا ہے ۔کوئی بھی آج کے دن اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن صارم کو دیکھ کر سب کا منہ بن گیا تھا

جتنا بُرا تم نے کیا ہے صارم اس کے بعد تو شاید میں تمہاری کبھی شکل بھی نہ دیکھنا چاہتا لیکن کیا ہے کہ تم ہمارے جاننے والوں میں سے ہو۔(اس نے دوست کا لفظ استعمال نہیں کیا ) اسی لئے تمہیں اس شادی پہ بلایا یارم نے مروتاً ویلکم کیا ۔

جبکہ مائرہ اور عروہ کو خضر نے خود اسپیشلی انوائٹ کیا تھا ۔

رسم شروع ہونے والی تھی خضر کو لیلیٰ کے ساتھ بٹھایا گیا تو وہ اسے گھورنے لگی

گھورو مت آج ہماری رسم ایک ساتھ ہوگی ویسے بھی یہ شادی ہے کوئی میدان جنگ نہیں جہاں ہم لڑتے لڑتے شادی کریں گے ۔

ایسا میری گڑیا کا کہنا ہے ۔

اب آرام سے بیٹھ جاؤ کیونکہ تمہارے گھورنے سے بھی ہماری رسم ساتھ ہی ہوگی وہ تھوڑا سا مزید اس کے قریب کسکا ۔

خضر زرا پیچھے ہو کر بیٹھ جاؤ میری گود میں بیٹھنا ہے کیا لیلیٰ نے تپ کر کہا ۔

مجھے اعتراض نہیں ہے اگر جگہ کم پڑ گئی تو وہیں بیٹھ جاؤں گا خضر نے آنکھ دبا کر کہا ۔

ساری شادی کا مزا کرکرا کر دیا تم نے لیلیٰ نے بھنا کر کہا ۔

وہ جو خضر کی بےچینوں کو انجوائے کر رہی تھی خضر کا چھپ چھپ کر ان کے کمرے تک آنا چھپ چھپ کر اسے دیکھنا اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈنا لیلیٰ کو بہت مزا آ رہا تھا اور آج بھی وہ یہ سب کچھ انجوائے کرنا چاہتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا ۔

رسم شروع ہوچکی تھی سب سے پہلے عروہ اور صارم نے ان کو مہندی لگائی ۔

اللہ تمہیں خوش رکھئے تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رہے ۔عروہ مسکراتے ہوئے لیلٰی سے ملی۔

اپنے لئے اپنے جیسی ڈھونڈی ہے اچھا کیا کم ازکم تم تو کسی کی زندگی برباد نہیں کر رہے صارم نے خضر کو مہندی لگاتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا ۔

لیکن خضر جواب میں کچھ نہیں بولا اس وہ وقت اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

اب یارم اور روح کی باری تھی

سب سے پہلے کیا لگاتے ہیں یارم نے پوچھا ۔

اوہو یارم آپ کو تو کچھ بھی نہیں پتا یہ تیل والی پیالی اٹھائیں اور تیل خضر بھائی کے سر پر لگائیں روح نے طریقہ بتایا اور یارم نے پیالہ اٹھایا ۔

اور اس کے بعد جو حرکت یارم نے کی وہ لیلی کے ساتھ سب کے قہقے بلند کر گئی

یارم نے پورا کا پورا پیالا خضر کے سر پر انڈیل دیا ۔

کیا ہوا تم لوگ سب ہنس کیوں رہے ہو میں نے ٹھیک کیا نہ یارم معصومیت سے بولا ۔

یارم کے بچے زرا سا تیل لگانے کا کہا تھا تو نے تو مجھے تیل میں نہلا دیا ۔

پکا خضر دولہا بن کر کالا کلوٹا لگے گا بیٹا تیری یہ شادی تو برباد ہو گئی شارف نے لقمہ دیا

اب مہندی لگانی ہے یا رم نے انجان بنتے پوچھا ۔

کچھ نہیں لگانا میرے بھائی تو نے جتنا لگا دیا ہے بہت ہے تیرا آج کا کوٹا پورا ہو گیا خضر نے اس کے سامنے ہاتھ باندھے اب وہ نجانے اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا ۔

اوکے فائن میں تو صرف رسم ادا کر رہا تھا یا رم نے معصومیت سے کہا لیکن وہ اتنا معصوم تھا نہیں کہ کوئی اس کی باتوں میں آجاتا ۔وہ ہنستے ہوئے ان کے قریب سے اٹھ گیا ۔

میرے پیارے بھائی کو تیل سے نہلا دیا روح ٹاول سے کا سر اور منہ صاف کرنے لگی ۔

میری باری میری باری شارف نے شور مچایا ۔

ہاں اب آپ کی باری روح نے مسکرا کر کہا تو وہ بھاگتے ہوئے آگے آیا اور خضر کے ساتھ بیٹھ گیا ۔

معصومہ تم بھی بیٹھ جاؤ رسم کر لو بعد میں اکیلی رہ جاؤں گی یارم نے کہا تو شارف مسکرایا ۔

جبکہ اس کے اس طرح سے مسکرانے پر ناجانے کیوں معصومہ کو شرم نے آ گھیرا ۔

چلو معصومہ یارم نے پھر سے کہا تو معصومہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آ کر دوسری سائیڈ بیٹھی ۔اور رسم ادا کرنے لگی ۔

معصومہ نے ایک نظر اٹھا کے سامنے کھڑے صارم کی طرف دیکھا نہ جانے کیوں آج یہ شخص اسے بالکل اچھا نہ لگا تھا ۔

آج اس کے مقابلے میں شارف اسے اچھا لگ رہا تھا کیونکہ شارف دوغلا انسان نہیں تھا وہ جو دل میں رکھتا تھا وہی زبان پر رکھتا تھا ۔

وہ اس سے سچی محبت کرتا تھا صارم کی طرح اسے دھوکہ نہیں دے رہا تھا صارم کے ساتھ کھڑی عروہ ایک مکمل کپل تھے معصومہ کو اپنے آپ پر غصہ آیا اگر یہ سب کچھ سچ ہوتا تو کیا وہ عروہ کا گھر برباد کر دیتی ۔

اس نے جلدی سے نظریں پھیر کرشارف کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا

معصومہ نے ساری سوچیں ذہن سے جھٹک کر رسم ادا کی ۔پھر مسکرا کر شارف کی طرف دیکھا جو اس کی نقل کرکے رسم ادا کر رہا تھا ۔

کاپی کیٹ وہ بڑبڑا کر اٹھی ۔

تو شارف بھی اٹھ گیا

رسم ادا کرکے صارم عروہ کو لے کر چلا گیا ۔

جبکہ وہ سب اب بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے ۔لیلیٰ کا پردہ ختم ہوچکا تھا کیونکہ رسمیں ساتھ ہو رہی تھی

جس پر اس کا منہ بنا ہوا تھا ۔

لیلیٰ یار موڈ ٹھیک کرو نا ہم ایک ہی گھر میں رہ کر چھپ تو نہیں سکتے خضر اسے سمجھانے لگا

بالکل نہیں نکاح کے وقت دیکھنا تھا ہم نے ایک دوسرے کولیکن تم نے سب کچھ خراب کردیا اب مجھ سے بات مت کرو وہ غصے سے منہ پھیر گئی

لیلیٰ تمہیں دکھ اس بات کا ہے رسم سے پہلے خضر نے تمہیں دیکھ لیں یا خضر نے تمہیں دیکھ لیا شارف نے شرارت سے پوچھا

میرا مطلب ہے خضر کو اپنے آگے پیچھے لگے دیکھ کر تم کافی انجوائے کر رہی تھی یہ تو تمہیں دیکھنے کے لئے مرا جا رہا تھا ۔

مجھے پتا ہے یہی ریزن ہے تمہارا موڈ آف ہونے کا ابھی تمہارا ارادہ ہمارے دلہے کو مزید تنگ کرنے کا تھا جو فیل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے تمہارا موڈ آف ہے شارف نے اس کا راز کھولا

ارے نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے لیلیٰ نے بوکھلا کر کہا ۔

ہاں جیسے ہم تو کچھ جانتے ہی نہیں لیکن اگر تم کہتی ہو تو مان لیتے ہیں شارف نے شرارت سے کہا ۔

سب ملے ہوئے ہو تم لگتا ہے دلہن والی میں صرف اکیلی ہی ہوں ۔

تم سب تو اس کے ساتھ ہو ۔

صبح میں اکیلی بیٹھی ہوں گی اور تم سب برات لے کے آؤ گے دیکھ لینا تم لیلیٰ نے منہ بسور کر کہا ۔

نہیں لیلیٰ میں تمہارے ساتھ ہوں معصومہ جٹ اس کے گلے میں باہیں ڈال کر بولی ۔

اور میں بھی دیکھنا تم ہم ان لڑکے والوں کی کیسے بینڈ بجاتے ہیں یار م اس کے دوسری طرف آکر بیٹھا تو وہ بے ساختہ مسکرا دی۔

سب لوگ سونے کے لیے جا چکے تھے ۔جبکہ روح ایک نظر سارے انتظامات پر ڈال رہی تھی کیونکہ کل نکاح تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ کچھ بھی گڑبڑ ہو

جب اس نے باہر اکیلے کھڑے خضر کو دیکھا

اودلہا میاں سو جائیں ورنہ صبح روپ نہیں چڑے گا وہ شرارت سے کہتی اس کے قریب آ کر کھڑی ہوئی

جبکہ خضر کو پریشان دیکھ کر سیریز ہوگئی

کیا ہوا خضر بھائی آپ پریشان لگ رہے ہیں ۔

نہیں بس اپنی فیملی کو یاد کر رہا تھا خضر نے کہا

آپ کی فیملی ۔کہاں ہیں آپ کی فیملی روح نے پوچھا

تم ہو میری فیملی خضر نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکرائی ۔

میں تو ہوں ہی خضر بھائی لیکن میرے علاوہ اور کون کون ہے یہ بتائیں وہ پوچھنے لگی

میری فیملی میں اب کوئی نہیں ہے روح میرے ماں باپ تو میرے بچپن میں ہی انتقال کر گئے ہم دو بہن بھائی تھے ۔

میرے چاچا نے میری بہن کی شادی ایسے شخص سے کر دی جو پہلے سے شادی شدہ تھا اور مجھے بھی میری بہن کے ساتھ بھیج دیا تھا کہ بعد میں جائیداد میں ہمیں کوئی حصہ نہ دینا پڑے ۔

وہ آدمی دن رات میری بہن کو مارتا پیٹتا میں اس وقت بچہ تھا روح کچھ نہیں کر سکتا تھا اتنا بے بس کہ اپنی بہن کو مار کھاتے دیکھ کر صرف رو سکتا تھا ۔

عمر کم اور وقت پے علاج نہ ہونے کی وجہ سے میری بہن کے ہاں بچہ ہوتے ہی وہ مر گئی ۔

اور پھر مجھے گھر سے نکال دیا گیا ۔میں بھاگ کر یہاں آگیا خضر نے کہا

تو پھر اس بچے کا کیا ہوا بھائی وہ پوچھنے لگی ۔

جب کہ اس کے جواب میں خضر کچھ بھی نہیں بول پایا وہ چاہ کر بھی اسے نہیں بتا پایا تھا کہ وہ بچہ روح ہے اور کوئی نہیں ۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں یارم اچانک اس کے پیچھے سے بولا

میں خضر بھائی سے باتیں کر رہی تھی ۔

دولہے میاں تم بھی سو جاؤ باقی باتیں بعد میں کر لینا شاید وہ اس کی آنکھیں پڑھ چکا تھا تب ہی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا دلاسہ دیتے انداز میں بولا اور روح کو اندر لے گیا ۔

جبکہ خضر کتنی ہی دیر وہیں کھڑا رہا اسے آج بھی وہ دن یاد تھا

جب اس کی بہن بستر پر سسک سسک کے مر گئی اور اس شخص کے کان میں جوں تک نہ رینگی

وہ کیوں اتنا بے بس تھا کہ اسے بچا نہیں پایا ۔

وہ شخص اسے اپنی پہلی بیوی کے گھر لے کے گیا تھا ۔

جو اسی دن رات مارتی پیٹتی تھی کھانا نہ دیتی نوکروں کی طرح دن رات کام کرواتی ۔

اور شام کے سائے گہرے ہوتے ہیں اسے گھر سے باہر بٹھا دیتی وہ ساری رات سردی میں روتا تڑپتا بس ایک بار روح سے ملنے کی خواہش کرتا لیکن وہ ظالم عورت اسے روح کے پاس بھی نہ بھٹکنے دیتی ۔

پھر اس نے ایک دن سوچا کیوں نہ وہ یہاں سے کہیں دور چلا جائے پیسے کمائے اور پھر روح کو اپنے ساتھ لے کر ایک الگ گھر بنائے ۔

لیکن یہاں آنے کے بعد اس نے پیسے تو کمال لیے لیکن اپنی روح کے سامنے نظر اٹھا کر جینے کے قابل نہ رہا وہ کیسے اسے کہتا تھا کہ وہ ایک قاتل ہے

ہاں وہ روح کو کبھی یہ بات نہیں بتا سکتا تھا کہ اس کا ماموں ایک قاتل ہے ۔بےشک اس نے کبھی کسی معصوم کی جان نہیں لی تھی کسی بے گناہ کو اپنا نشانہ بنایا تھا ۔

لیکن قانون کی نظروں میں وہ ایک قاتل تھا ۔اورروح کی نظروں میں خود کو قاتل نہیں دیکھ سکتا تھا