Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 87)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

یار م مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا کہ ہمارا اتنا بڑا دشمن کون ہے جو تمھارا پورا گھر جلا گیا ہے

آخر کس میں اتنی ہمت آ گئی ہے جس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے ۔

ایک بار میرے ہاتھ لگ جائے وہ زندہ نہیں چھوڑوں گا وہ تو خدا کا شکر ہے کہ تم لوگ یہاں نہیں ہو ۔وہ آدمی تم سے دشمنی لے کر تمہارے بارے میں مکمل انفارمیشن نہیں رکھتا اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ تم گھر پر نہیں ہو

یا شاید وہ آدمی جانتا ہے کہ تم لوگ یہاں نہیں ہو لیکن اسنے پھر بھی تمہارے گھر پر حملہ کیوں کیا ۔

تمہارے گھر سے کیا دشمنی ہے اگر اس کی کوئی دشمنی ہو گی تو تم سے ہوگی ۔

ایک تو ہم نے اس ملک کو بھی مار دیا ہماری ٹیم میں کون کون ہمارے خلاف کام کر رہا ہے ہم اب کچھ نہیں جانتے

خضر کیا ہوگیا ہے اتنی پریشانی کی بات نہیں ہے جتنا تم پریشان ہو رہے ہو ۔

ہاں اس نے میرا گھر جلا کے غلط کیا کیونکہ اس گھر میں میری بہت ساری چیزیں تھیں ۔

جس کا حساب اسے دینا ہوگا ۔

لیکن روح کو اس بارے میں کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے وہ بے کار میں پریشان ہو جائے گی ۔

صرف گھر ہی جلا ہے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا اور وہ جو بھی آدمی ہے مجھ سے دشمنی لے رہا ہے وہ یہ تو جانتا ہی ہوگا کہ میں کیا ہوں۔

تم گھر کو پھر سے ٹھیک کروا دینا اور باقی تم فکر مت کرو میں آکر سب کچھ سنبھال لوں گا ۔

اس بار میں کوشش کر رہا ہوں کی امی بھی میرے ساتھ آنے کے لئے مان جائیں ۔

جانتے ہو میں اور امی مل کر روح کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔روح کو لگتا ہے کہ امی کو پتہ ہی نہیں کہ روح کا شوہر انکا بیٹا ہے ۔

یار م نے اپنے ڈمپل کی نمائش کرتے ہوئے بتایا ۔

مطلب فاطمہ بی بی جانتی تھی کہ وہ تم ہو خضر نے حیرانگی سے پوچھا ۔

ہاہاہاہا خضرمیں ان کا بیٹا ہوں وہ میری ماں ہے کیا وہ مجھے فون پر پہچان نہیں سکے گی ۔

فون رکھتا ہوں میں امی کی رپورٹ لانے ڈاکٹر کے پاس جا رہا ہوں روح بھی میرے ساتھ ہے ۔

اور وہ اس کی بہن بھی اس کی بہن سے مجھے اچھا خاصا فائدہ ہو رہے ہو رہا ہے ۔یارم نے ہنستے ہوئے کہا

فائدہ مطلب ۔خضر نے پوچھا

فائدہ مطلب میں اس کی بہن کو لے کر اسکو بہت جلا رہا ہوں اگلے پچھلے سارے حساب نکال رہا ہوں ۔

اب اس نے مجھے اتنے دن تنگ کیا ہے تھوڑا تنگ کرنا تو میرا بھی بنتا ہے نہ ۔

چل بعد میں بات کرتا ہوں ۔

یارم نے ہنستے ہوئے فون رکھا ۔

چلیں تانیہ جی ۔اس نے روح کو اگنور کرکے تانیہ سے پوچھا ۔

جب تانیہ اس کی گاڑی کی پچھلی سیٹ کھولنے لگی ۔

اور روح اگلی

۔تانیہ جی پلیز آپ آگے بیٹھے نہ مجھے راستہ ٹھیک سے نہیں پتا ۔اور آپ نے ہی تو بتایا کہ روح جی بھی دبئی سے آئی ہیں ۔تو انہیں کہاں راستہ پتہ ہوگا ۔

یار م کے کہنے کی دیر تھی تانیہ تو کھل اٹھی ۔

اور روح کو پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔

روح نے ایک زوردار دھماکے سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور پچھلی سیٹ کھولنے لگی ۔

جب یار م نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ریموٹ سے گاڑی لاک کر دی ۔

یہ تو کھل ہی نہیں رہی روح نے غصے سے دیکھ کر کہا ۔

یار م نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے گاڑی کھولی ۔

اتنی آسانی سے تو کھل گئی آپ بھی نا روح جی یارم نے اس کے گال پر میٹھی سے جسارت کرتے ہوئے کہا ۔

جبکہ اس کی کھلے عام اس حرکت پر روح غصے اور شرم سے سرخ ہو گئی ۔

جب کہ تانیہ بے خبر آگے بیٹھی ہے یارم کے ساتھ بیٹھنے کی خوشی منا رہی تھی ۔

کیوں نہ پہلے آئسکریم کھا لی جائیں یارم نے سامنے آئسکریم پالر دیکھتے ہوئے کہا ۔

روح جو کب سے ان کی باتوں سے اریٹیٹ ہو رہی تھی فوراً انکارکرگئی ۔

جی نہیں ہم جو کام کرنے آئے ہیں پہلے وہ کر لیتے ہیں وہ غصے سے بولی ۔

روح جی انسان کا موڈ بھی ہوتا ہے کچھ کرنے کا ہم وہیں جا رہے ہیں صرف رپورٹس ہی تولانی ہیں ۔

لے آئیں گے پہلے کچھ کھا لیں کیوں تانیہ جی وہ مسکراتے ہوئے تانیہ سے پوچھنے لگا ۔

جی بالکل یارم جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔

تو کونسا فلیور کھائیں گی آپ یارم نے ایک بار پھر سے مسکرا کر اسے دیکھا ۔

جبکہ تانیہ کو اس کے ڈمپل میں اپنا دل میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔

اسٹوبری وہ شرماتے ہوئے بولی ۔

کیا چوائس ہے آپ کی بالکل آپ کی طرح بہت میٹھی ۔یار م نے تو آج لائن مارنے کے سارے ریکارڈ ہی توڑ دیے ۔

جبکہ روح کا دل چاہا کے پوری آئس کریم مشین اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے ۔

روح جی آپ کونسا فلیور پسند کریں گی ۔اب و ہ پیچھے مڑ کراسے دیکھنے لگا جب روح نے بہت لاڈ سے چاکلیٹ کہا جو کہ یارم کا فیورٹ فلیور تھا ۔

بہت بورنگ چوائس ہے آپ کی مگر تانیہ جی آپ کا ٹیسٹ بہت اچھا ہے ۔

ہم دونوں اسٹوبری کھائیں گے ۔یارم کے کہنے کی دیر تھی کہ روح کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے ۔

وہ اس پر کسی اور کو فوقیت دے رہا تھا ۔وہ اپنے آنسو پیچھے دکھیلتی گاڑی سے باہر دیکھنے لگی ۔

جبکہ یارم اس کے آنسوؤں کا نوٹس لیے بغیر ہی باہر نکل گیا ۔

تھوڑی دیر کے بعد وہ آئسکریم لے کے واپس آیا

ارے یارم جی آپ اپنے لیے نہیں لائے اس نے روح کو اور تانیہ کو آئسکریم دی تو تانیہ نے پوچھا

وہ ایک ہی اسٹوبری فلیور تھی ۔یار م نے اداسی سے بتایا تو روح خوش ہوگئی۔

یار م جی آپ یہ کھا لیں ۔تانیہ نے فورا آفر کی

اب میں اکیلا کھاتا ہوں اچھا لگا ہم دونوں شیر کر لیتے ہیں وہ میں نے سنا ہے کہ شیئر کرنے سے پیار ۔۔۔۔یار م نے بات ادھوری چھوڑی تو روح نے گھور کر اسے دیکھا جبکہ یارم کی بات سن کر تانیہ کا چہرہ ایک بار پھر سے گلاب کی طرح کھلا دیا ۔

پھر تانیہ نے تھوڑی سی آئسکریم کھا کر اس کی طرف آئسکریم بڑھائیں اور جب یار م نے آئس کریم کا بائیٹ لیا روح کے ساتھ اس کا دل بھی کانپنے لگا ۔

اب مزید دیکھنا اس کے بس سے باہر تھا ۔

اور نہ ہی اب اس کے آنسووں نے کنٹرول ہونا تھا ۔

روح تم بھی اپنی آئسکریم یارم جی کے ساتھ شئیر کرو نہ یارم جی یہ چاکلیٹ بھی بہت اچھا ہوتا ہے آپ کو ٹرائی کرنا چاہیے ۔تانیہ نے جیسے اس کی مشکل آسان کردی

روح جی آپ میرے ساتھ اپنے آئسکریم شیئر نہیں کریں گی یار م کا تانیہ کے ساتھ آئس کریم شیئر کرکے کھانا اسے بالکل پسند نہ آیا تھا اس کا دل چاہا ایک سیکنڈ میں اس کے منہ انکار پر دے مارے لیکن پھر اسے اچانک یاد آگیا کہ یارم اس کا شوہر ہے تانیہ کا نہیں ۔

اور پھر یارم نے اس کا ہاتھ پکڑ کے آئیس کریم کا بائیٹ لیا تو روح کا دل خوش ہونے لگا ۔

اس کا معصوم چہرہ اس کے دل کی خوشی بیان کر رہا تھا ۔

یارم بے اختیار اس کی معصومیت پر مسکرایا ۔

ابھی دو منٹ پہلے وہ کتنی اداس تھی ۔

یارم چاہے اس سے اپنا بدلہ لے اس سے حساب پورے کرے لیکن سچ یہ تھا کہ وہ اس کے چہرے پر اداسی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔

حد ہو گئی ڈاکٹر کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہے کیا ۔پاکستان میں سب لوگ ایک جیسے ہیں کسی کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ۔دبئی میں چل کے دیکھو ایک دکان بند نہیں ہوگی اور یہاں پورا بازار بند ہے

یار م جی غلطی ان کی نہیں ہماری ہے ہمیں گھر سے سوچ سمجھ کر نکلنا چاہیے تھا آج جمعہ کا دن ہے اور جمعہ کے دن کلینکس بند ہوتے ہیں ۔

تانیہ نے اس کا غصہ دیکھ کر کہا جب یارم کا غصہ کنٹرول نہ ہوا تو روح بولی

یہ پاکستان ہے اور پاکستان میں جمعے کی قدر کی جاتی ہے آپ کے دبئی کی طرح نہیں کہنے کو تو وہ بھی اسلامی ملک ہے لیکن جمعے کے دن ساری دکانیں کیا پورا بازار کھلا ہوتا ہے ۔

روح نے غصے سے کہا ۔

بھانجی بھی ماموں کے جیسی ہی ہے بول کے دکھاؤ پاکستان کے خلاف ۔یار م کی بڑبڑاہٹ روح نے سن لی۔

لیکن اگنور کرکے وہ واپس گاڑی کی پچھلی سیٹ پر جا بیٹھی۔

کوئی بات نہیں آرام پھر چلے جانا ۔فاطمہ بی بی نے اس سے کہا۔ ۔

جبکہ گھر آنے کے بعد روح نے اپنی شکل نہ دکھائی تھی ۔

شاید اسے ضرورت سے زیادہ ہی جلا دیا ۔

ہاں ٹھیک ہے ہم صبح دوبارہ جائیں گے

وہ تانیہ کو ساتھ نہیں بیجنا ۔یارم نے فاطمہ بی بی سے کہا ۔

اور میں روح سے کیا کہوں گی کہ میں اسے کسی غیر مرد کے ساتھ کیوں بھیج رہی ہوں ۔

حد ہوگئی ہے کچھ بھی کہہ دیجئے گا مجھے پروا نہیں ۔بس یہ میرا آخری فیصلہ ہے کل میں اور روح جائیں گے ۔

یارم بس اتنا کہہ کر چلا گیا ۔

جبکہ فاطمہ بی بی اپنے ضدی بیٹے کو دیکھ رہی تھی

بیٹا ماں کو پھسا کے خود نکل گیا ہے ۔

روح بھی چاہیے اور اسے تنگ بھی کرنا ہے ۔

یااللہ شکر ہے آپ کا آپ نے یارم کے دل میں روح کے لیے محبت ڈالی ۔وہ مسکراتے ہوئے اللہ سے کہتی پھر کچن میں آگئی آج پھر انہوں نے یارم کی پسند کی کوئی چیز بنانی تھی

دیکھا کیسے فاطمہ بی بی نے ہمیں نیچا دکھانے کے لیے تانیہ کو اپنے گھر میں رکھ لیا ۔

امی آپ نہیں سمجھتی پورے محلے میں ہماری تھوتھو ہو رہی ہے ۔

انکے گھر میں جوان جہان آدمی آیا ہے ۔اور وہ دونوں چلو روح تو شادی شدہ ہے لیکن تانیہ ۔تانیہ کی وجہ سے پورا محلہ باتیں سنا رہا ہے آپ تو گھر سے نکلتی نہیں ہیں کیا آپ کو کیا پتہ چلے ۔

ماریہ روز کی طرح آج بھی باتیں سناتیں اپنے کمرے میں چلی گئی ۔

جبکہ وہ سوچ رہی تھی ۔

کہ ایک بیٹی کی شادی روح کے بھیجے ہوئے پیسوں سے کردیں ۔اس حرام پیسے کی وجہ سے آج بھی ان کی بیٹی سکھ میں نہیں ۔

تانیہ گھر سے بھاگ گئی ۔اور ماریہ کی لڑکوں کے ساتھ دوستی ان بیٹیوں کے لیے اس نے روح کو بیچ دیا تھا ۔

اور 18 سال پہلے اس معصوم لڑکے کے ساتھ کیا کیا نہ کیا ۔

اج اسے اپنی غلطیوں کا شدت سے احساس ہو رہا تھا ۔اگر فاطمہ بی بی کی طرح وہ بھی قابل ماں بنتی تو آج اسے اپنی اولاد کی بدتمیزیاں نہ سہی پڑتی

رات وہ اس کے سامنے نہ آئی۔اب اسے بے چینی ہونے لگی تھی ۔

یہ تو پکی بات ہے روح اس سے ناراض ہے ۔لیکن وہ اس کے سامنے کیوں نہیں آ رہی ۔

تین بار وہ اس کے کمرے تک گیا ۔لیکن وہ سامنے آنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی وہ تو کھانا کھانے کے لئے بھی باہر نہ آئی

اب یار م کی برداشت سے باہر ہورہا تھا ۔

اس نے تو فاطمہ بی بی سے بھی اچھی خاصی شکایتیں کردی ۔

لیکن انہوں نے کہا کہ وہ سو چکی ہے ۔

ایسے کیسے سو گئی ۔ابھی تو میں نے بات بھی نہیں کی اس سے ۔

بالکل ٹھیک نہیں کر رہی آپ کی بہو میرے ساتھ وہ غصے سے کہتا ان کی گود میں لیٹ گیا ۔

جبکہ وہ اس کی بیچینی پر ہنستے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔

خود اسے تنگ کرتا ہے پھر خود ہی اس کی بے رخی برداشت نہیں کر سکتا ۔فاطمہ بی بی نے ہنستے ہوئے کہا ۔

تھوڑی دیر کے بعد فاطمہ بی بی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔

جبکہ یارم کو نیند نہ ائی ۔

رات کے تقریبا ایک بجے وہ ان کے کمرے میں آیا ۔

بنا آواز پیدا کیے آرام سے روح کو اٹھا کے اپنے کمرے میں لے آیا ۔

اس نے یہ سب کچھ اتنے نہ محسوس انداز میں کیا کہ روح جاگی تک نہیں ۔

یار م نے اسے آہستہ سے لاکر بیڈ لٹیا۔اور پیار سے اس کے لبوں کو چھوا اور دوسری طرف آ کے خود لیٹ گیا ۔

اسے دیکھتے دیکھتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی ۔