Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 54)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

یارم کمرے میں آیا تو روح بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔وہ آہستہ سے چلتا اس کے قریب زمین پر آ کر بیٹھ گیا ۔

اور اپنا سر اس کی گود میں رکھ لیا ۔شاید وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے کی ہونے والی یارم کی شارف کے ساتھ گفتگو کے زہر اثر تھی اس لئے اس کی حرکت پر کچھ نہیں بولی

روح میں نے بہت سوچا کہ جو کام میں اپنی ماں کے لیے نہیں کر پایا وہ میں تمہارے لئے کیوں کروں ۔

لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ جس طرح سے مجھے میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی اسی طرح سے تم بھی چلی جاؤ گی ۔

روح رشتوں کے بغیر انسان بے جان ہو جاتا ہے ۔اور تم تو میرا واحد رشتہ ہو ۔ جس کے ساتھ میرے دل کا رشتہ ہے ۔

میں تمہیں خود سے دور نہیں کر سکتا وہ اس کے لئے چاہے مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے ۔

تمہارے لئے ایک قاتل کے ساتھ رہنا مشکل ہے نہ ۔تم مجھے اس لیے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں یہ کام کرتا ہوں ۔

ٹھیک ہے اگر اس کام کی وجہ سے تم مجھ سے دور ہو رہی ہو تو میں نہیں کروں گا یہ سب کچھ میں سب کچھ چھوڑ دوں گا ۔

وہ آہستہ آہستہ اس کا ہاتھ تھا مے بولا ۔

یار م آپ سچ کہ رہے ہیں اب سب کچھ چھوڑ دیں گے روح نے بے یقینی سے پوچھا ۔

تم میری زندگی ہو روح اسی لئے اب میں نے سوچا ہے کہ میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گا جو تم مجھ سے دور کردے

روح تم میری جان ہو تم سے دور ہونے کے بارے میں سوچتا ہوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں وہ اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھ کر بولا

روح پلیز مجھے چھوڑ کے مت جانا ۔میں سچ کہتا ہوں میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر ۔۔پلیز میرا یقین کرلو پلیز مجھے چھوڑ کے مت جانا ۔

میں نہیں جاؤں گی یارم میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی

وہ روتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گئی ۔

لیکن روح صارم تو میرے خلاف ثبوت ڈھونڈ رہا ہے ۔

میں صارم کو اپنے خلاف کوئی ثبوت نہیں دے سکتا ۔

کیونکہ اگر میں نے اسے اپنے خلاف ثبوت دے دیئے تو وہ مجھے قانون کے حوالے کر دے گا اور وہ لوگ مجرموں کے ساتھ کیا کرتے ہیں یہ تم جانتی ہو میں نے اتنے گناہ کیے ہیں روح کے کوئی مجھے بچا نہیں سکے گا صارم صرف مجھے جھوٹے دلاسے دیتا ہے ۔

وہ میرا بہت اچھا دوست ہے شاید وہ مجھے پھانسی سے بچا لے لیکن تا عمر قید سے نہیں بچا پائے گا ۔

میں ساری زندگی جیل میں سروں گا تم سے دور ہو جاؤں گا

یارم تو آپ وہ ثبوت کہیں چھپا دےنا تاکہ وہ صارم تک نہ پہنچ پائے ۔

وہ ثبوت تو صرف آپ کے پاس ہے نا اگر آپ کسی کو دیں گے ہی نہیں تو کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا ۔

اور آپ تو ویسے بھی وہ کام دوبارہ نہیں کریں گے ۔ہر گناہ کی سزا دی جائے ضروری تو نہیں وہ اس کے سینے سے لگی ہوئی بولی ۔

لیکن روح صارم کو تو مجھے گرفتار کرنے پر میڈل ملیں گے اس کی پرموشن ہو جائے گی ۔وہ کسی بھی حال میں ثبوت ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا ۔

اور پھر تمہیں مجھ سے دور کرنے ۔۔۔۔۔۔

میں نہیں کہیں نہیں جاؤنگی یارم میں ہمیشہ آپ کے پاس رہوں گی وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی ۔

صارم سے میں خود بات کرونگی ۔سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔آپ پلیز پریشان مت ہوں ۔آپ بس ایسے گندے کاموں سے توبہ کرلیں ۔سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا

روح پیار سےاسے سمجھانے لگی ۔جب یارم اسے اپنے سینے میں بھیجے ۔اپنے ڈمپل چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔

یارم پرسکون نیند سو رہا تھا جبکہ روح اس کے ساتھ بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اسے صارم سے کیسے بچائے ۔

یارم ۔یارم اٹھیں۔ اس نے یارم کو جگایا

کیا ہوا بے بی نیند نہیں آ رہی ۔۔۔؟ یارم نے پیار سے پوچھا۔

یارم وہ ثبوت کہاں ہیں۔ ۔۔۔؟

کون سے ثبوت ۔۔۔۔؟

یارم جو آپ کے خلاف ہے وہ ثبوت آپ نے کہاں رکھے ہیں دیں مجھے ۔روح نے کہا ۔

تم میری چابی چوری کرکے گئی تو تھی وہاں وہیں پر پڑے ہیں۔ یارم نے مسکرا کر کہا ۔

آپ کو وہ چابی واپس کہاں سے ملی۔روح نے شرمندگی سے پوچھا

بےبی تم ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کےبھول گئی تھی ۔زیرو نمبر دیتا ہوں تمہیں تمہاری جاسوسی کے ۔فیل ہو تو جاسوسی میں کیا کرو گی ان ثبوتوں کا کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔۔۔یارم مودے پہ آیا ۔

آپ وہ ثبوت مجھے دیں تو سہی روح نے کہا تو یارم چابی اٹھا کر باہر گیا ۔اور اپنے خلاف جتنے بھی ثبوت تھے سارے اکٹھے کرکے اس کے سامنے لا کر رکھے ۔

جس میں دو فائل ۔۔اور بہت سارے یوایس بیز تھی۔

اس دن یہ سب چیزیں سامنے ٹیبل پر پڑی تھی روح نے سب کچھ دیکھا بس ان چیزوں کو نظرانداز کر گئی ۔

اس کے حساب میں سامنے رکھی گئی چیزوں میں کیا ملنا تھا ۔یارم اس کی سوچ پڑ ھ کےکھل کر مسکرایا ۔

اب کیا کرنا ہے یہ سب کچھ صارم کو دینا ہے ۔یارم اس کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگا ۔

روح نے وہ سب کچھ اٹھایا ۔اور اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا باہر اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسے ڈر لگ رہا تھا یارم سمجھتا تھا ۔

وہ دونوں باہر آئے روح نے سب کچھ لان کے ایک کونے میں رکھا ۔اور پھر اسے ساتھ لئے کچن میں آئی۔

وہاں سے ماچس لی اور ان سب چیزوں کو جلانے لگی ۔

۔ ۔ ۔ یارم نے اسے نہ روکا اور نہ ہی کچھ کہا ۔

روح نے ایک ایک یو ایس بی کو جلانا چاہا ۔کچھ تو جل گئی لیکن کچھ لوہے کی ہونے کی وجہ سے نہیں جلی ۔

یارم یہ تو جل ہی نہیں رہی وہ ہوشیاری سے اپنے شوہر کے کارناموں کے ثبوت مٹا رہی تھی ۔یارم مسکرایا ۔

تم روکو میں ایک منٹ میں آتا ہوں ۔

وہ اسے کہہ کر اندر چلا گیا ۔جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی ۔جس میں نجانے کیا تھا

روح ہاتھ بچا کے یہ تیزاب ہے اس سے تمہارا ہاتھ بھی جل سکتا ہے ۔

یارم نے احتیاط سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر شیشے کی بوتل کھول کر ان چیزوں پر پھینک دی۔

لوہے کی یو ایس بی گلنے لگی تھی ۔

اور یارم کے خلاف سب ثبوت مٹ چکے تھے

آج تم نے مجھے آزاد کردیا ہے روح ۔ اب میں دوبارہ کبھی یہ کام نہیں کروں گا ۔یارم نے اس کا ماتھا چومتا اسے اپنے ساتھ لگا گیا ۔

اب تم اندر چلو ۔اور آرام کرو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔

یارم آپ چلیں نہ اندر ۔روح نے کہا ۔

ہاں بےبی میں بس ابھی آیا تم چلو جب تک کہ سب کچھ ٹھیک سے جل نہیں جاتا میں یہاہی روکوں گا ۔

روح ہاں میں گردن ہلاتی اندر اپنے کمرے کی طرف چل دی ۔

جبکہ یارم نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور اس پر نمبر ڈائل کرنے لگا

یارم ۔۔۔ یہ اس وقت مجھے فون کیوں کر رہا ہے صارم نے ٹائم کی طرف دیکھا جہاں گھڑی رات کے دو بجارہی تھی ۔

اس نے سوچتے ہوئے فون اٹھایا ۔

صارم سوری میں تمہیں رات کو ڈسٹرب کر رہا ہوں مجھے تمہیں یہ بتانا تھا کہ تمہیں بہت ہی بری خبر دینے والا ہو ۔

وہ ثبوت جن کے لئے تو میری روح کو میرے خلاف استعمال کر رہے تھے وہ تھوڑی دیر پہلے روح نے جلا دیے ہیں ۔

اب تو شاید ان چیزوں کی راگ بھی نہیں بچی آخر روح نے تیزاب سے جلایا ہے ان سب کو ۔

میری بیوی تو مجھ سے بھی زیادہ صفائی سے یہ کام کرتی ہے ۔یارم نے مسکراتے ہوئے اطلاع دی ۔

کیا بکواس کر رہے ہو تم صارم جیسے ہوش کی دنیا میں آیا ۔

آواز کم رکھو عروہ جاگ جائے گی پھر ہزار سوال پوچھے گی کس کس سوال کا جواب دو گے تم ۔

اور ایک اور بات کان کھول کر سن لو آج کے بعد اگر تم نے میری بیوی کو میرے خلاف استعمال کیا تو میں تمہارے ساتھ بہت برے طریقے سے پیش آؤں گا ۔

مائرہ مجھے بھی بہت عزیز ہے صارم لیکن یقین کرو روح سے زیادہ یارم خود بھی نہیں ۔

اب اگر تم وار کروگے تو وار سہنے کے لیے تیار رہنا ۔یارم کاظمی ہر بار بخشتا نہیں ہے ۔

یارم فون بند کر چکا تھا ۔

جبکہ اپنی نیند آرام سے پوری کرنے والے انسپکٹر صارم کی نیند حرام ہو چکی تھی ۔

تیاررہنا بےبی آج شام کو صارم کے گھرڈنرہے ۔میں کچھ حساب پورے کرکے واپس آؤں گا ۔

وہ گھر سے جاتے ہوئے بولا ۔

کہ اچانک اسے فاطمہ بی بی کی بات یاد آگئی ۔

لیکن وہ ایسی عورت کے بارے میں روح کو کیا بتاتا جس نے روح کو ہی بیج دیا ۔

پھر اس کے دل میں یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں وہ عورت شیخ شمس کے بارے میں نہ جانتی ہو کہ وہ مر چکا ہے اگر یہ راز روح پر ابھی کھل گیا تو ایک اور مسئلہ بن جائے گا اور فی الحال یارم اور کوئی نیا پنگا نہیں لینا چاہتا تھا ۔

وہ گھر سے نکل کر سیدھا آفس میں آیا تھا جہاں شارف معصومہ خضر اور لیلی بیتابی سے اس کا انتظار کر رہے تھے ۔

ان کی حالت سے وہ اچھے سے واقف تھا اس لئے کمرے میں داخل ہوتے ہی مسکرایا ۔

ڈیول شارف کیا کہہ رہا ہے کیا تم یہ کام چھوڑ رہے ہو ۔۔؟کیا تم نے کل اسے فون پر کہا ہے کہ تم مزید یہ سب کچھ نہیں کرو گے ۔

خضر نے پریشانی سے پوچھا ۔

آج میں اور روح صارم کے گھر ڈنر پر جا رہے ہیں ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ روح وہاں جا کر صارم کی باتوں میں آئے روح میرے پیچھے کھڑی مجھے سن رہی تھی اس لیے میں نے شارف سے اس طرح سے کہا تھا ۔

اور یارم مرتے دم تک یہ کام نہیں چھوڑے گا جب تک مظلوموں پر ظلم ہوتا رہے گا ۔

تب تک یارم جیسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے چاہے فرشتے بن کر پیدا ہوں یا شیطان بن کر