Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 46)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 46)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
وہ یہی سوچتی اٹھ کر باہر آئی ۔جہاں یارم کچھ لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا نہ جانے یہ انجان لوگ کون تھے ۔
وہ سوچتے ہوئے ان کی طرف آئی ۔
آو بےبی میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا ۔اب طبیعت کیسی ہے تمہاری وہ اس کے قریب آ کر پوچھنے لگا ۔
روح جواب میں کچھ نہیں بولی ۔
یارم بھی اس کی اس نظراندازی کو نظرانداز کر گیا ۔
آو تمہیں کچھ لوگوں سے ملواتا ہوں ۔
اس نے ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک عورت جس کی عمر تقریبا 50 سال ضرور ہوگی ۔شکل سے تو انگریز لگ رہی تھی
جبکہ ساتھ 30 سال کی لڑکی تھی ۔جس نے عبایا پہن رکھا تھا ۔
ان کے پیچھے دو آدمی کھڑے تھے جو یقیناً یارم کے عمر ہم ہوں گے ۔
یہ” میری “ہیں اس نے عورت کی طرف اشارہ کیا آج سے کھانا یہ بنائیں گئی ۔
اور یہ شفا گھر کے کام کاج کرے گی ۔
یہ آصف ہے واچ مین اور رفیق گھر سے باہر کوئی بھی کام ہو تو یہ کرے گا آج سے تم اپنی صحت پر دھیان دو گی
بہت بیمار رہنے لگی ہو
آج سے میں اور تم بس ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔
وہ مسکرا کر اس کا ہاتھ اپنے لبوں تک لے کرگیا
ان لوگوں کے ہوتے ہوئے اس گھر میں آنے کی کوئی ہمت نہیں کرے گا ۔
دن میں یہ سب تمہارے ساتھ ہوں گے اور رات میں۔ میں ۔اب میں تمہاری جان پر کوئی رسک نہیں لے سکتا ۔
آپ سب کو میں نے آپ کے کام سمجھا دیے ہیں ۔
اس کے علاوہ سب سے ضروری کام ہے میری بیوی کا خیال رکھنا ۔
اور اس کام میں مجھے کوئی شکایت نہیں ملنی چاہیے ۔
وہ ان سب کو جانے کا بول کر روح کی طرف پلٹا ۔
تم ناشتہ کرلو ۔میں تمہیں تمہاری میڈیسن دیتا ہوں ۔
وہ بالکل نارمل ہی بات کر رہا تھا ۔
روح بھی اپنے آپ کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
وہ مجھے فاطمہ بی بی سے بات کرنی ہے ۔روح نے ہمت باندھ کر کہا
یارم نے ایک بھرپور نظر اس کی طرف دیکھا
روح پلیز پلاننگ مت کرو یار ۔میں نے کہا نہ سب کچھ بھول جاؤ ۔تم یہاں سے نکل نہیں سکتی ۔اور نہ ہی کسی سے بات کر سکتی ہو ۔
جب مجھے یقین ہو جائے گا کہ سب کچھ نارمل ہو چکا ہے میں تمہاری فاطمہ بی بی سے بات کروا دوں گا ۔
اور اپنے بچکانہ ذہن پر زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے ایسی گیمز بہت کھیل چکا ہوں میں ۔چلو ناشتہ کرو وہ اس کی پلاننگ پر پانی پھیر تا اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگا ۔
جبکہ روح کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کے دماغ تک اتنی آسانی سے کیسے پہنچا ۔
یہ لوگ جو یارم نے اسے کیلئے کام پر رکھے تھے وہ کام کم اور اس کی جاسوسی زیادہ کر رہے تھے ۔
میری نے کھانا لا کر اس کے سامنے رکھا ۔جسے اس نے کھانے سے انکار کردیا صبح تو یارم کے ڈر سے اس نے ناشتہ کیا تھا ۔
اور یارم کے علاوہ اس پر کوئی اپنی نہیں چلا سکتا تھا ۔اس لیے اس نے صاف صاف کھانے سے منع کردیا ۔
ان لوگوں کے ساتھ اس کا رویہ بھی ایسا تھا ۔ کہ ایک بات کے بعد وہ دوسری بات نہیں کرتے ۔
میم پلیز کھانا کھا لیجئے ورنہ ہمہیں سر کو کال کرکے بتانا ہوگا ۔شفا جو کب سے اس کے نخرے برداشت کر رہی تھی اس کے پاس آکر بولی
جس کو مرضی بتاؤ میں تمہارے سر سے ڈرتی نہیں ہوں وہ پتہ نہیں کیوں اتنی اونچی آواز میں بولی تھی ۔
شاید وہ اس پر ظاہر کرنا چاہتی تھی ۔کہ وہ یارم سے نہیں ڈرتی یا شاید وہ اپنا ڈر کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
میں بھی یہی چاہتا ہوں بےبی کے تم مجھ سے بالکل بھی نہ ڈرو وہ کب اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوا روح کو پتا بھی نہ چلا جبکہ اس کی آواز سن کر دل اتنے زور سے دھڑکا تھا کہ لگا ابھی باہر آ جائے گا ۔
اس نے پلٹ کر دیکھنے کی غلطی نہ کی ۔
مجھے لگا ہی تھا کہ تم ان لوگوں کی بات مان کا کھانا کبھی نہیں کھاو گی ۔اسی لئے تو اسپیشلی تمہارے لئے گھر واپس آیا ہوں ۔
چلو کھانا کھا لو ۔
اس کا کپکپاتا ہاتھ پکڑ کر یارم بے اختیار مسکرایا تھا ۔
پھر ناچاہتے ہوئے روح بنا کچھ بولے کھانا کھانے لگی اس بار جب یار م نے اسے اپنے ہاتھ سے کھلانے کی کوشش کی جس پر روح نے باقاعدہ یارم کو اپنے ہاتھ دکھائے تھے لیکن زبان سے یہ نہیں کہ پائی کہ میرے ہاتھ ٹوٹے نہیں ہیں ۔
ویسے تم نے مجھے بتایا نہیں کہ اس ڈرامے میں پھر آگے کیا ہوا ۔
اس کی برتھ ڈے والی رات وہ یارم کو کسی ڈرامے کی کہانی سنا رہی تھی اور پھر کہا تھا آگے جب آئے گی قسط بتاؤں گی ۔
یارم کوناتو اس کہانی میں انٹرسٹ تھا اور نہ ہی اس ڈرامے میں ۔
مگر کہانی سناتے ہوئے روح اتنی کیوٹ کیوٹ شکلیں بناتی تھی کہ یارم کو وہ کہانی سننے میں بہت مزہ آتا ۔
روح اس سے بالکل بات نہیں کر رہی تھی یارم کب سے اس کے قریب بیٹھا اسے کسی نہ کسی بات پر بولنے پر مجبور کر رہا تھا مگر ناکام رہا ۔
بےبی کب تک چلے گا یہ سب کچھ میں نے کہا نہ میں غلط نہیں ہوں تم ایک بار میں میری بات سمجھتی کیوں نہیں ہو ۔
روح ان لوگوں میں کوئی بھی معصوم نہیں تھا میں نے کسی معصوم کی جان نہیں لی بلکہ کتنے ہی معصوموں کو درندگی کا نشانہ بنایا تھا ان لوگوں نے۔ میں نے انہیں دنیا سے ہٹا کر نیک کام کیا ہے ۔
ایسے لوگوں کو دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں ۔
یارم نے دیکھا جانے کب سے اس کے پاس بیٹھی رو رہی تھی ۔
روح رونے سے کچھ نہیں ہوتا یہاں پر بہادر بن کے چلنا پڑتا ہے کمزور لوگوں کی دنیا میں کوئی اوقات نہیں ہے ۔
میں جب یہاں آیا تھا بہت کمزور تھا ۔
اتنا کمزور کہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے بھی خوف آتا تھا ۔
مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ نفرت اپنے باپ سے تھی ۔
اسی لیے میں نے اسے مار دیا ۔
روح نے بے اختیار اس کی طرف دیکھا مطلب صارم سچ کہہ رہا تھا وہ اپنے باپ کا قاتل تھا ۔
جانتی ہو روح میری ماں نے مجھے بچانے کے لئے میرے باپ کے قتل کا الزام خود پر لے لیا میں نے نہیں پھسایا تھا اسے میری ماں نے مجھے بچانے کے لئے نہ جانے زندگی کتنے سال جیل میں کاٹے ۔
وہ مجھے نیک انسان بنانا چاہتی تھی ۔ایک اچھا کابل انسان ۔لیکن جب اسے پتہ چلا کہ میں یہ کام کرتا ہوں میری ماں نے مجھے چھوڑ دیا ۔
وہ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی روح وہ کہتی ہے جس دن میں یہ سب کچھ چھوڑ دوں گا وہ مجھے مسکرا کر گلے لگا لے گی ۔
وہ بھی تمہاری طرح ہے بہت ضدی ۔
لیکن تمہاری طرح وہ بھی یہ نہیں سمجھتی کہ میں کچھ غلط نہیں کر رہا ۔
اسے تو میں نے اپنی زندگی سے دور جانے دیا لیکن تمہیں نہیں جانے دوں گا ۔
وہ تو مجھے چھوڑ کر چلی گئی روح لیکن تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا تمہیں میرے پاس رہنا ہوگا ۔
تمہیں یاد ہے نہ یاد ہے نہ تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤ گی ۔تو پھر کیوں اپنا وعدہ توڑ نا چاہتی ہوروح تم کہیں نہیں جا سکتی کہیں بھی نہیں ۔
بھول جاؤ سب کچھ سب کچھ بھول جاؤ جو بھی ہوا جو بھی تم نے دیکھا ہر ایک بات اور اگر نہیں بھول سکتی
تو سمجھوتا کرو ویسے بھی تو عورتیں کتنی باتوں میں سمجھوتا کرتی ہیں ۔
تم بھی کر لو ۔ ارے انسان اپنی زندگی میں اپنے پیاروں کو بھول جاتا ہے ۔تم صرف ایک بات نہیں بھول سکتی
بھول جاؤ روح اور یہ رونا دھونا بند کرو یہاں کمزور لوگوں کی کوئی واقات نہیں ہے
یہاں صرف طاقتور لوگوں کی چلتی ہے
وہ اس کے قریب بیٹھا اسے سمجھانے لگا ۔
جبکہ روح مسلسل رو رہی تھی ۔
پھر جیسے تھک کر اسے دیکھتے ہوئے بولی
ڈر نہیں لگتا ترس نہیں آتا انسانیت نہیں جاگتی آپ کی جب کسی کو اس طرح بےدردی سے مارتے ہیں آپ ۔۔۔؟روح نے روتے ہوئے پوچھا
آخر آپ انسان ہی ہیں نا انسانیت نہیں ہے آپ میں ۔۔۔۔۔؟
رحم ۔ ترس۔ ہمدردی کیا ایسا کچھ بھی نہیں ہے آپ میں ۔۔۔۔؟۔
روح چلا چلاکے تھک چکی تھی جبکہ یارم اس کے سامنے پرسکون انداز میں بیٹھا ہوا اسے سن رہا تھا ۔
بس اتنا ہی یا اور بھی کچھ بولنا چاہتی ہو یارم کے کہنے پر اس نے سر جھٹکا
پھر بعد میں یہ مت کہنا کہ میں نے تمہیں بولنے کا موقع نہیں دیا ۔وہ اس کی بات کو مذاق میں ڈال رہا تھا ۔
ہم ہر روز ڈسکوری چینل دیکھتے ہیں جس میں ایک شیر ایک بکری کا پیچھا کر رہا ہوتا ہے اسے دیکھ کر ہر انسان دعا مانگتا ہے کہ وہ بکری کسی نہ کسی طرح سے بچ جائے ۔
جبکہ وہ شیر ہر ممکن طریقے سے اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے
اس کا مقصد بکری کی جان لینا نہیں بلکہ اپنی بھوک مٹانا ہوتا ہے ۔
مگر وہ انسان نہیں ہوتا نا اس لیے سمجھ نہیں سکتا ۔
اس کے اندر انسانیت نہیں جاگتی ۔اور وہ بکری کو شکار کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔
اور شیر کی اس کوشش کے ساتھ ہم سب لوگ یہ دعا مانگ رہے ہوتے ہیں کہ وہ بکری بچ جائے ۔وہ اس شیر کا شکار نہ ہو
پھر بکری کے بچتے ہی ہم لوگ خوشی سے تالیاں بجانے لگتے ہیں ۔اور ٹی وی بند کر دیتے ہیں۔
اور پھر ہم بھی ایک بکری کو زبح کرکے بریانی کھاتے ہیں
تب ہمارے انسانیت کہیں نہیں جاگتی
ہمیں نہ اس بکری پر رحم آتا ہے اور نہ ہی اس سے ہمدردی محسوس ہوتی ہیں ۔
کیونکہ یہاں معاملہ پیٹ کا ہے ۔
تمہیں پتا ہے ڈسکوری پے اس بکری کو شکار ہوتے دیکھ کر بھی اصل میں ہمہیں اس بکری پر ترس نہیں آتا بلکہ ہم اس شیر سے نفرت کرتے ہیں
کیونکہ ہم اس شیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے نہ اس لیے اس طرح ترس ہمدردی اور رحم کی تقریریں کرتے ہیں ۔یارم نے جتلاتے ہوئے کہا
انسان ہیں نا انسانیت کی باتیں تو کریں گے ہی ۔یارم کے ڈمپل نمایاں ہوئے تھے .
شیر ہو یا انسان اپنی بھوک مٹانتے وقت ترس نہیں کھاتا۔ وہ مسکراتے ہو ئے بولا۔
روح سر جھٹک کر منہ موڑ گئی۔
تو کیا کسی کی جان لے کر آپ اپنی بھوک مٹاتے ہیں ۔کیا صارم کی بات سچ ہے کہ آپ درندے ہیں کسی کا خون دیکھ کر آپ کو سکون ملتا ہے وہ روتے ہوئے بولی ۔
مجھے اچھے لوگوں سے ہمدردی ہوتی ہے روح کسی کے ساتھ برا ہوتے دیکھ کر میری انسانیت جاگتی ہے ۔
ہاں میری انسانیت جاگنے کا انداز تھوڑا الگ ہے ۔
یقین کرو روح میرے اندر دکھاوے کی انسانیت نہیں ہے۔
اس دنیا سے برائی مٹا کر میرا درندہ سکون میں رہتا ہے
اور وہ صارم جو کہتا ہے کہ وہ انڈرولڈ کو اکھاڑ دے گا صرف دکھاوے کے لیے اسے صرف میڈل چاہیے اپنی یونیفارم پرستاروں کے علاوہ اسے کچھ نہیں چاہئے وہ یہ سب کچھ پرموشن کے لئے کرتا ہے ۔لیکن میرے اندر انسانیت ہے ۔میں انسانیت کے لئے کرتا ہوں میں کچھ غلط نہیں کرتا روح اور یہ کام میں چھوڑ نہیں سکتا کسی کے لیے بھی نہیں تمہارے لئے بھی نہیں ۔تمہیں مجھے اسی طرح سے قبول کرنا ہوگا
وہ اسے اداس نہیں کرنا چاہتا تھا ۔وہ تو بس اس کی مسکراہٹ واپس لانا چاہتا تھا ۔
لیکن شاید وہ اس کی باتوں کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھی اس کی نظروں میں یارم قاتل تھا ۔
روح پلیز میری طرف سے یوں نفرت سے نظر نہ پھیرو میں جی نہیں پاؤں گا
آئی لو یو۔ ۔۔ ہائے میری طرف دیکھو ۔ آئی لو یو ۔
یارم نے بہت محبت سے کہا۔
مگر اب میں نہیں کرتی۔ وہ چلائی تھی۔
اور بھاگ کر اندر چلی گئی ۔
لیکن تمہیں کرنی ہوگی۔ تمہیں مجھ سے محبت کرنی ہوگی روح۔ وہ پاگلوں کی طرح کہتا شیشے کے میز پر ہاتھ مارتا سے کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر چکا تھا
