Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 93)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

ارے فاطمہ بی بی آئیں نہ تعظیم نے انہیں دروازے پر دیکھ کے کہا

ڈاکٹر نے تو آپ کو آرام کرنے کے لیے کہا تھا آپ اس طرح تعظیم انہیں دیکھ کر حیران ہوئیں تھی۔

ہاں میں اپنے بیٹے یارم کا رشتہ مانگنے آئی ہوں تمہاری بیٹی روح کے لئے

ویسے تو یہ دونوں ایک دوسرے سے مل ہی چکے ہیں اور پسند بھی کر چکے ہیں ۔

تو میں نے سوچا نیک کام میں دیر کیسی ۔۔

میرے بیٹے کو تو تمہاری بیٹی بہت پسند آئی اپنی بیٹی سے بھی پوچھ لو کہ اسے میرا بیٹا پسند ہے یا نہیں پھر ہم باقی باتیں بھی کر لیتے ہیں فاطمہ بی بی نے ڈراتے ہوئے کہا تو تعظیم مسکرا دیں

آپ اندر چل کے بیٹھیں تو سہی پھر ساری باتیں آرام سے کرتے ہیں تنظیم نے انھیں ویلکم کیا

لڑکیوں روح کو جلدی سے لے کے آؤ تعظیم نے کہا ۔

ایسے ہی نہ لے کے آؤ چائے لے کے آؤ چائے بتاؤ سے کہ ساس آئی ہے اس کی فاطمہ بی بی نے اونچی آواز میں کہا ۔

باہر کی طرف دوڑ لگا تی روح کچن کی طرف بھاگی۔

اور پھر کچھ ہی دیر میں چائے لے کے آئی ۔

یار م نے نظر بھر کر اس کی طرف دیکھا

ہاں تو کھانا بنانا آتا ہے تمہیں سوال پوچھا

جی آتا ہے روح نے شرماتے ہوئے کہا

برتن جھاڑو کپڑے وغیرہ

جی ۔ جی سب آتا ہے روح نے جلدی سے بتایا

اچھی بات ہے بُلاو مولوی کو فاطمہ بی بی نے دھماکہ کیا

اتنی جلدی مولوی یارم نے پوچھا

ہاں سب سے پہلے نکاح ہوگا سب سے ضروری تو نکاح ہی ہوتا ہے اگر نکاح ہو جائے تو سمجھو شادی ہوگئی اب باتیں مت بناؤ جاؤ جاکر مولوی کو بلاؤ

انہوں نے سختی سے کہا اور خضر اور صارم کو پاس والی مسجد میں مولوی صاحب کو بُلانے کے لیے کہا تو وہ فورا ہی حاضر ہو گئے اور پھر کچھ ہی دیر میں نکاح کی رسم ادا کی گئی

ہاں تو تعظیم اب سے تمہاری بیٹی میری ہوئی آج رات مہندی کی رسم ہوگی

پھر کل صبح ہم بارات لے کے آتے ہیں فاطمہ بی بی نے فیصلہ سنایا

لیکن فاطمہ بی بی اتنی جلدی میرا مطلب ہے پورا محلہ مدعو ہے تعظیم نے پریشانی سے کہا

تعظیم میری صحت اس بات کی اجازت نہیں دے رہی مجھے میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے نہیں لگتا کہ میں چند دن بھی ابھی وہ کچھ کہہ ہی رہی تھی کہ یار م نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔تو وہ خاموش ہو گئی

پھر بولی بس تم لوگ تیاری کرو مہندی کی رسم آج ہی ہوگی اور صبح بارات دھوم دھام سے لے کے آؤں گی اس بار تعظیم کچھ نہ بولی

مہندی کا سن کر مریم بھی آج ہی پہنچ آئی اور سب تیاریوں میں ان کا ساتھ دینے لگی

روح کو بیچی ہوئی رقم میں انہوں نے مریم کی شادی تو اچھے طریقے سے کر دی لیکن اس کے لیے خوشیاں نہیں خرید پائی

لیکن ہمیشہ کی طرح آج وہ اداس نہیں تھی

مریم بیٹا سب کچھ ٹھیک تو ہے آج تم بہت خوش لگ رہی تعظیم نے پوچھ ہی لیا کیونکہ ان کی بیٹی اکثر اداس ہوتی تھی

وہ شادی کا ماحول تھا اسی لیے میں آپ کو بتا نہیں پائی میں آپ کو بتانا کچھ چاہتی تھی مریم نے شرماتے ہوئے کہا ۔

امی میں ماں بننے والی ہوں اور اب راحیل میرا بہت خیال رکھتے ہیں

انہیں نے اپنی ماں بہن سب سے کہا اگر کسی نے مجھے کچھ کہا تو وہ گھر چھوڑ دیں گے اس کے بعد سے کچھ ٹھیک ہو گیا ہے

ان کی ماں بھی بچے کی خبر سن کر آج کل بہت خوش رہنے لگی ہیں

اور سب میرا بہت خیال رکھے رہے ہیں اب تو ماشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے مریم نے خوشی خوشی بتایا تو تعظیم نے شکر خدا کا کیا اللہ کے کرم سے اب انکی بیٹی بھی اپنے گھر میں خوش تھی

مشکل تھا لیکن پھر بھی لڑکے اور لڑکیوں نے مل کر سارا انتظامات سنبھال لئے

یارم کی رسم اپنے گھر میں کی گئی جس میں خضر نے دوست کا فرض نبھاتے ہوئے اس کے گھر آ کر خوب بھنگڑے ڈالے

اورتو اور خضر نے اپنی مہندی کا بدلہ لیتے ہوئے پورا تیل کا پیالہ اس پر انڈیل دیا جب کہ شارف کو جیسے ہی پتہ چلا کہ دلہے کی بچی ہوئی مہندی لگانے سے شادی جلدی ہوتی ہے تو شار ف نے یارم کو بھی مہندی نہ لگانے دی بلکہ ساری کی ساری خود لگا لی ۔

جس کی وجہ سے اس کے دونوں ہاتھ ہی مہندی سے رنگے ہوئے تھے اور پھر تصویر بنا کے معصومہ کو سینڈ کر دی صارم اورمائرہ نے بھی بھنگڑے ڈالے

یارم کی رسم ادا کرنے کے بعد وہ سارے روح کی طرف آگئے

لیلیٰ نے خضر کے نام کی مہندی لگا کر اس کا دل خوش کردیا جبکہ معصومہ نے اپنی مہندی کی تصویر واٹس اپ پر شارف کو سینڈ کر کے اسے بھی خوش کردیا

جبکہ روح یارم دونوں بچھڑے ہوئے عاشقوں کی طرح بیٹھے تھے سب کے سامنے تو وہ خوش تھے لیکن اصل میں بہت اداس تھے ۔کیونکہ وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پائے تھے جبکہ سب ہی ان کی تعریفیں کیے جارہے تھے

آج صبح سے ہی فاطمہ بی بی کی طبیعت بہت خراب تھی یار م نے بارات کنسل کرنے کے لیے کہا لیکن فاطمہ بی بی نہیں مانی

اور اب دھوم دھام سے بارات لے کر اس کے ساتھ آئیں لیکن یارم کو آج صبح سے ہی عجیب سی بے چینی ہورہی تھی

اس کا دل گھبرا رہا تھا لیکن فاطمہ بی بی کو بتا کر وہ انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا

وہ فاطمہ بی بی کو اپنے ساتھ رکھ رہا تھا اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی انہیں خود سے دور کرے ۔

فاطمہ بی بی نے بہت سمجھایا

یارم میں بالکل ٹھیک ہوں

آپ بالکل ٹھیک ہیں میں جانتا ہوں لیکن آپ میرے ساتھ رہیں یارم ابھی بھی اپنی بات پر اڑا ہوا تھا

جب محلے کی عورتوں فاطمہ بی بی کے پاس آئی تو نہ چاہتے ہوئے بھی یارم کو ان سے دور ہونا پڑا

لیکن پھر بھی اس کا سارا دھیان انہی کی طرف رہا

پھر روح کو لاکر یارم کے پہلو میں بٹھایا گیادلہن کے سرخ لہنگے میں روح غضب ڈھا رہی تھی تو دلہےکے لباس میں یارم بھی اپنی مثال آپ تھا ۔

وہ عربی شہزادہ آج اپنی دلہن کا دل دھڑکارہا تھا

روح بے اختیار اسے دیکھتی ہی رہ گئی اسے اس طرح سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے یا رم نے آنکھ ماری ۔

جس پر روح شرما دی

پھر شروع ہوا محلے کے لوگوں کے ساتھ فلم بنانے کا سلسلہ جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا یار م بری طرح سے اکتا چکا تھا جب کہ روح اس کی حالت پر ہنس رہی تھی ۔

ہنس لو بےبی ہنس لو رات کو بتاتا ہوں تمہں وہ اس کے کان میں بولا تو روح نے اسے گھور کر دیکھا

گھورو مت مجھے لوگ کیا سمجھیں گے کتنی بےشرم دلہن ہے جو اپنی شوہر کو گھور رہی ہے یار م نے مزے سے کہا ۔

یارم آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں روح نے ہمیشہ والے ڈائیلاگ بولا

ہاں ہاں بابا جانتا ہوں میرا صرف ڈمپل ہی اچھا ہے یارم نے اپنے ڈمپلز کی بھرپور نمائش کرتے ہوئے کہا تووہ مسکرا دی

یار م آج میں بہت خوش ہوں آج میں مر جاؤں تو بھی مجھے غم نہیں تو نے میری آخری خواہش پوری کردی میں نے تیری شادی دھوم دھام سے کی یہی تو خواہش تھی میری جب سے تو پیدا ہوا تھا تب سے ہی تیری شادی کے خواب دیکھنے لگی تھی

بس آج میری ہر خواہش پوری ہوگئی ۔فاطمہ بی بی نے خوشی سے کہا

لیکن ایک خواہش ہے وہ بھی پوری کرے گا فاطمہ بی بی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو یارم ان کی طرف دیکھ کر مسکرایا

آپ حکم کریں امی ۔

میری خواہش ہے کہ میں مر جاؤں نہ تو کسی کو رونے مت دینا یارم میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے کسی کی آنکھوں میں آنسو آئے میں نہیں چاہتی کہ میں کسی کے غم کی وجہ بنوں کسی کے درد کا سبب بنوں بس تو میری یہ خواہش پوری کردینا کسی کو ایک آنسو مت بہانے دینا ۔

تو پوری کرے گا نہ میری یہ خواہش فاطمہ بی بی نے یقین سے پوچھا تو اس نے اثبات میں گردن ہلا دی

میں وعدہ کرتا ہوا میں کسی کو نہیں رونے دوں گا لیکن کیا میں رو سکتا ہوں اس نے پوچھا اس کے لہجے میں غم تھا درد تھا تکلیف تھی لیکن اس کی ماں نے نہ میں گردن ہلا دی ۔

یار م نے بے دردی سے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے ۔

جو آپ چاہیں گی وہی ہوگا ۔

فاطمہ بی بی نے ساری رسموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔

ہر رسم ادا کی بلکہ محلے کی عورتوں کے ساتھ مل کر نہ جانے کون کون سے پرانی رسم بھی ادا کی ۔

یار م نے مسکرا کر اپنی ماں کی ہر بات کو مانا ۔

اب وہ بالکل بھی نہیں اکتایا ہوا تھا ۔

بلکہ بہت فریش لگ رہا تھا جیسے ان سب چیزوں کو انجوائے کر رہا ہوں ۔

روح کو یارم کے کمرے میں بٹھایا گیا جسے شارف اور معصومہ نے سجایا تھا ۔

یار م کی صبح کی بے چینیاں بھرنے لگی تھی ۔

اس کا دل نہیں کر رہا تھا کہ وہ فاطمہ بی بی کو اپنی نظروں سے دور کرے ۔

وہ اپنے کمرے میں آیا تھا جہاں روح بیٹھی انتظار کر رہی تھی ۔

وہ اس کے قریب آ کر بیٹھا تب بھی پریشان لگ رہا تھا ۔

یارم کیا ہوا آپ اتنے پریشان کیوں ہیں روح نے پوچھا

روح دل بہت گھبرا رہا ہے چلو امی کے پاس چلتے ہیں یارم کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ روح کا انکار نہ کر پائی۔

یہ دونوں فاطمہ بی بی کے کمرے میں آئے تو فاطمہ بی بی سو رہی تھی یارم ابھی تو آئی اتنی جلدی کیسے سوگئی معصومہ اپنا ڈریس چینج کرنے گئی تھی جبکہ فاطمہ بی بی اسی ڈریس میں سو رہی تھی

یارم نے آکر انہیں ہاتھ لگایا تو اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا امی آپ ٹھیک تو ہیں ۔

یارم نے انہیں ہاتھ لگا کر پوچھا لیکن وہ کچھ بھی نہ بولیں ۔

اس دن بھی امی کی طبیعت ایسی ہی خراب ہوگئی تھی یارم نے بیچینی سے کہا جب روح نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔

یارم مجھے لگتا ہے امی کی طبیعت نہیں خراب ۔بلکہ وہ روح کی آنکھ سے بے اختیار آنسو گرا معصومہ جو واش روم کے دروازے پر

کھڑی تھی جلدی سے ان کی طرف بڑھی ۔

فاطمہ بی بی ۔معصومہ نے ان کو ہاتھ لگایا ۔

اسے اچانک۔۔۔۔ معصومہ کچھ کہہ نہیں پائی ۔جب کہ اپنے منہ پے ہاتھ رکھ کے رونے لگی ۔

روح نے اپنا سر یارم کے کندھے پر رکھا

نہیں روح ایک آنسو بھی مت بہانہ میں نے امی سے وعدہ کیا ہے کہ میں ان کی موت پر کسی کو رونے نہیں دوں گا تم بھی چپ کر و معصومہ اس نے سختی سے کہا

کوئی نہیں روئے گا شارف خضر اور صارم کو بلاؤ

ہم امی کو روتے ہوئے رخصت نہیں کریں گے بلاؤ سب کو ۔یارم نے حکم دیا ۔

جبکہ اپنی آنکھ سے گرتے آنسوؤں کو بڑی مشکل سے روکتے ہوئے بے دردی سے اپنی آنکھیں صاف کر رہا تھا