Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 67)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

تم مجھ سے ناراض ہو روح وہ ڈنر کے وقت اس سے پوچھ رہا تھا جومنہ پھیلائے آرام سے بیٹھی کھانا کھا رہی تھی

روح تم سے پوچھ رہا ہو کیا تم مجھ سے ناراض ہو وہ کچھ نہ بولی تو یارم نے پھر سے پوچھا ۔

کیوں ناراض ہو مجھ سے اب یارم سیریس انداز میں اس سے پوچھنے لگا ۔

میری مرضی .روح منہ بنا کر بولی اور پھر سے کھانا کھانے لگی اس کی اس حرکت پر یارم مسکرائے بنا نہ رہ سکا ۔

لیکن مرضی کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے اب ایسے ہی تو روٹھنے نہیں دوں گا تمہیں ۔

وہ بہت دنوں اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہا تھا لیکن آج وہ خود کھا رہی تھی

کل رات کی وجہ سے ناراض ہو ۔

سوری روح میں نے غصے میں پتہ نہیں ہال کا کیا حال کر دیا ۔لیکن تم بھی تو ایسے مجھ سے دور ہوئی تھی مجھے غصہ آگیا ۔آئندہ ایسا نہیں کروں گا

آپ کے پیپرپے چوٹ کیسی لگی یارم ۔ یارم ابھی بول رہا تھا کہ وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی

ارے یہ آج تھوڑی لگی ہے یہ تو کل لگی تھی پیر دروازے کے بیچ آ گیا تھا وہ مسکرا کر بتانے لگا

دروازے کے بیچ گیا تھا یا آپ خود لے کے آئے تھے ۔وہ غصے سے پوچھنے لگی

میرا بچہ میں ایسا کیوں کروں گا ۔ یارم اسے بہلانے کی کوشش کرنے لگا

کیوںکہ آپ نے میرے پیر پر چوٹ لگائی تھی میں جانتی ہوں آپ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کرتے ہیں ۔یارم مجھے اتنا بھی درد نہیں تھا کہ آپ اپنے آپ کو تکلیف دیں غلطی میری اپنی تھی لیکن جو آپ کر رہے ہیں

تو تم اتنی لا پرواہ کیوں ہو روح جب تمہیں تکلیف ہوتی ہے تب مجھے تکلیف ہوتی ہے تمہارا درد میری جان لے لیتا ہے کیوں نہیں سمجھتی ہو تم تمہیں تکلیف میں دیکھ کر سکون سے نہیں رہ سکتا ۔پلیز اب یہ سب کچھ قبول کر لو میں اب تمہیں صفائیاں نہیں دوں گا ۔

میں ایسا ہی ہوں اور تمہیں ایسے ہی انسان کے ساتھ ساری زندگی رہنا ہے ۔

اب موڈ ٹھیک کرو اپنا وہ اس کا ہاتھ چوم کر بولا ۔

مجھے فاطمہ بی بی سی بات کرنی ہے ۔

تھوڑی دیر کے بعد وہ کرسی اس کے قریب گھسیٹ کے قریب ہوکے بولی ۔

کچھ دن بعد بات کروا دوں گا ۔ یار م مسکرا کر بولا

یارم میں انہیں آپ کے بارے میں کچھ نہیں بتاؤں گی آپ کیا کام کرتے ہیں آپ بالکل بے فکر رہیں میں کہیں نہیں جاؤں گی روح جلدی سے بولی جیسے یارم کو فاطمہ بی بی کا ڈر لگا ہوں ۔

بےبی تم انہیں بتا بھی دو تو وہ میرا کیا بگاڑ لیں گی ۔اپنے دماغ سے یہ سوچ نکال دو کی کوئی میرے خلاف کچھ کرسکتا ہے یا تم یہاں سے جا سکتی ہو ۔

کچھ دن بعد بات کرواں دوں گا ۔

مجھے ابھی بات کرنی ہے ررح ضدی انداز میں بولی

روح کھانا کھاؤ ضد مت کرو

نہیں کھانا مجھے کھانا روح اٹھ کر جانے لگی ۔

روح واپس آؤ ٹھیک سے کھانا کھاؤ آرام سے ورنہ تم جانتی ہو میں کیا کرسکتا ہوں ۔وہ غصے سے بولا

روح نے پلٹ کر گھور کر ایک نظرا سے دیکھا اور پھر آ کر اس سے سائیڈ والی کرسی پر بیٹھ گئی

جتنا چاہے ناراض ہو لیکن ناراضگی میں کھانا کھانا کبھی مت چھوڑنا ۔مجھے یہ حرکت بالکل پسند نہیں

یہ وقت صرف میرا ہے ۔تمہیں اس وقت میرے ساتھ ہونا چاہیے ۔ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو اور بہتر طریقے سے سمجھ سکے

بات نہیں کر رہی میں آپ سے۔ میں ناراض ہوں اور جب میرا دل ہو گا میں خود ہی راضی ہو جاؤں گی ۔بار بار مجھے منانے کی ضرورت نہیں ہے ۔فی الحال مجھ سے بات کرنے کی ضرورت ہی آرام سے بیٹھ کر اپنا کھانا کھائیں وہ غصے سے منہ پھلا کر بولی

اوکے یو ہاینز ۔

یارم اپنا ڈمپل چھپاتا کھانا کھانے لگا

وہ کافی دیر آفس روم میں بیٹھا اپنا کام کرتا تھا

ہر تھوڑی دیر میں اسے روح کا پھولا کا چہرہ یاد آجاتا ۔کام زیادہ تھا اس لیے وہ سارا کام ختم کرکے ہی بیڈ روم میں جانا چاہتا تھا ۔

اس نے جلدی جلدی اپنا کام ختم کیا وہ خوش تھا کہ روح نے اسے قبول کرلیا ہے ۔

روح اس کی ہر تکلیف کو محسوس کرتی تھی یار م نے اپنا زخم خود سے بھی چھپا رکھا تھا نہ جانے کب روح نے دیکھ لیا ۔

اس دن روح کا پیر کچل کر وہ بہت بے سکون تھا ۔

اس لیے اسی رات اس نے اپنا پیر دروازے میں دے کر خود کو تکلیف پہنچائی تھی ۔

پھر کیا تھا یارم پر ثابت ہوا کہ روح کا ڈراس کی محبت سے مقابلہ نہیں کرسکتا ۔

وہ اس سے کتنا بھی ڈرے لیکن وہ اس سے محبت بھی کرتی تھی ۔

یارم کو جو پچھلے دنوں لگ رہا تھا کہ روح کا ڈر روح کی محبت پر حاوی ہو رہا ہے اب یارم اس بے چینی سے آزاد ہو چکا تھا

وہ ہنستے ہوئے اٹھ بیڈروم میں آیا

اب تک ناراض ہو روح کروٹ لیے سورہی تھی جب وہ اس کے قریب آیا ۔

میری جان کیوں روٹھتی ہو مجھ سے تم جانتی ہو میں کتنا پیار کرتا ہوں ۔ اور یہ وقت صرف میرا ہے اس وقت تمہیں مجھ سے باتیں کرنی چاہیے ۔تم مجھے فاطمہ بی بی سے بات کر کے سارا ٹائم ویسٹ کرنا چاہتی ہو وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا کہنے لگا ۔

جب اسے احساس ہوا کہ روح سو ہورہی ہے

آج میں لیٹ ہو گیا یاروح جلدی سو گئی ۔

یارم نے خود سے بڑبڑاتے اس کا گال چوما۔

پھر اسے اپنی باہوں میں بھر کر کمبل ٹھیک کرکے خود بھی آنکھیں بند کر گیا ۔

اب زندگی آسان لگنے لگی تھی ۔

روح نے اسے قبول کرکے اسے ایک نئی زندگی دی تھی ۔وہ بہت خوش تھا

روح کی آنکھ کھلی تو ہر روز کی طرح اپنے آپ کو یارم کی باہوں میں قید پایا ۔

وہ کتنی ہی دیر اسے اسی طرح دیکھتی رہی ۔

ہاتھ بڑھا کر اس کی پیشانی سے سارے بال پیچھے کیے ۔

وہ اتنا خوش رہنے لگا تھا کہ نیند میں بھی اکثر مسکراتا رہتا

آپ بالکل اچھے نہیں ہو۔بس یہی جوآپ کا ڈمپل ہے نہ ۔وہ اس کے ڈمپل پر انگلی پھیرتے ہوئے سوچ رہی تھی

او میں تو ناراض ہوں اس نے جھٹ اپنی انگلی اٹھائی

اور ایک جھٹکے سے یارم کا ہاتھ خود سے الگ کیا کہ یارم کی آنکھ کھل گئی ۔

اپنا ہاتھ سنبھال کے رکھیے میں ناراض ہوں آپ سے وہ غصہ دکھاتے ہوئے اٹھ کر واش روم چلی گئی ۔

ہائے یہ معصوم ناراضگیاں ۔وہ مسکراتا ہوا کروٹ لے کر پھر سو گیا

کچھ پتہ چلا میں نے تمہیں اس کے بارے میں پتا لگانے کے لیے کہا تھا

نہیں کچھ پتہ نہیں چلا جو کوئی بھی ہے بہت ہوشیاری سے اپنا کام کر رہا ہے ۔خضر نے جواب دیا

شارف تمہیں میں نے کام دیا تھا ملک کا پیچھا کرنے کا تو تم یہاں کیا کر رہے ہو اس نے شارف تو دیکھتے ہی پوچھا ڈیول میں بس جا رہا تھا

بہت غیر ذمہ دار ہو تم شارف میں تمہیں جو کام دیتا ہوں نہیں کر پاتے ہر وقت کسی نہ کسی مستی میں لگے رہتے ہو تم چاہتے کیا ہو کچھ سیکھو خضر سے

کس طرح سے اپنا کام وقت پر ختم کرتا ہے اور ایک تم ہو کہ نہایت افسوس ہوتا ہے تمہیں اپنی ٹیم میں دیکھ کر

ڈیول میں ابھی جا رہا ہوں

نہیں ابھی جانے کی کیا ضرورت ہے یہی پر رہو یارم غصے سے کہتا اپنے آفس میں چلا گیا

جبکہ خضر نظر نیچے کیے ہنس رہا تھا

اسے اپنی بےعزتی پر بہت غصہ آیا

ایک دن آئے گا جب ڈیول کو میں بیسٹ لگونگا اور خضر زیرو وہ خضر کو گھورتے ہوئے بولا جو ابھی بھی اس پر ہنس رہا تھا

بیٹا گھورنا بند کر جو کام دیا ہے وہ کر یا میں کچھ سیکھا دوں اس نے یارم کی بات دہراتے ہوئے کہا تو شارف کو اور غصہ چڑھ گیا

اپنے کام سے مطلب رکھو خضر میں اپنا کام اچھے سے جانتا ہوں وہ سے کہتا باہر نکل گیا جبکہ خضر اسے دیکھ کر رہ گیا وہ تو صرف مذاق کر رہا تھا

کیا خبر ہے ۔ملک نے پوچھا

سر جی آج صبح صبح شارف کی ڈیول کے ہاتھوں بے عزتی ہوئی ہے ۔

جس پر خضر نے اس کا مذاق اڑایا ۔

یقین کریں شارف خضر کو ایسے گھور رہا تھا جیسے اس کی جان لے لے گا ۔

گڈ ۔یہ تم نے واقعی بہت اچھی خبر سنائی ۔اب فون بند کرو ان لوگوں پر نظر رکھو ملک فون بند کر چکا تھا ۔

اگر شارف میرے ہاتھ لگ جائے ۔تومیں اسے خضر کے خلاف استعمال کر سکتا ہوں ۔

اور اگر میں خضر اور شارف کو بیچ سے نکال دو ں پھر ڈیول کی سب سے بڑی کمزوری ہوگی اس کی بیوی میں اس کی بیوی کو لے کر ڈیول سے کوئی کام بھی کروا سکتا ہوں ۔

اور پھر دبئی کاڈان ہوگا ملک ۔ملک خود ہی اپنے خیالات پر کھل کر ہنسا

تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ملک ہم آفس میں آج ویسے بھی ملے ہیں والے تھے شارف سائیڈ پر ملک سے ملنے آیا تھا ۔

شارف مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب ڈیول تمہاری اس خضر کی وجہ سے اتنی بےعزتی کرتا ہے ۔

جانے تم کیسے یہ سب کچھ سہ لیتے ہو

اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو خضرکو جان سے مار دیتا ملک نے اس کے تاثرات جاننے کے لئے کہا ۔

یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم یہ سب باتیں کرنے کے لئے تم نے مجھے یہاں بلایا ہے شارف غصے سے بولا ۔

نہیں میں نے تمہیں خضر کی جگہ دلوانے کے لیے یہاں بلایا ہے وہ آخر ایسا کیاکرتا ہے جس کی وجہ سے وہ ڈیول کی نظروں میں اتنی اہمیت کا حامل ہے جب کہ تم اس سے زیادہ اور اس سے بہتر کام کرتے ہو ۔لیکن پھر بھی تمہیں وہ اہمیت نہیں ملتی جو اس کی ہے وجہ جانتے ہو وجہ یہ ہے کہ وہ بچپن سے اس کے ساتھ ہے ۔

وہ اس کا ورکر ہونے سے پہلے اس کا دوست ہے ۔اور وہ اس کا دوست کیسے بنا یقینا ڈیول کی دوستی حاصل کرنے کے لیے اس نے کچھ تو ایسا کیا ہوگا ۔

اگر تم اس کی نظر میں اہمیت پانا چاہتے ہو اگر تم خضر کی جگہ لینا چاہتے ہو تو تمہیں بھی اس کے لئے کچھ ایسا کرنا پڑے گا جس کے بعد ڈیول یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ تم اس کے اصل وفادار ساتھی ہو

لیکن میں ایسا کیا کروں شارف کو اس کی بات ٹھیک لگی اسی لئے پوچھنے لگا ۔

تم ڈیول کی بیوی کو اغوا کرلو

تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا شارف نے اس کا گر بان پکڑا ۔

ارے میں بس یہ کہہ رہا ہوں کہ تم اس کی بیوی کو کڈنیپ کر لو یہ نہیں کہہ رہا کہ اسے کوئی نقصان پہنچاؤ ۔

وہ لڑکی ڈیول کی کمزوری ہے جب وہ ڈیول کی نظروں سے دور ہو گی تو وہ پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈے گا ایسے میں تم اس کی بیوی کو واپس لے کے آؤ گے تو وہ تمہیں خضر سے زیادہ اہمیت دے گا

اور پھر حضرکا پتا کٹ اور تمہارا پتا ان ملک مسکرایا تو شارف بھی مسکرا دیا

یارم کی نظروں میں اہمیت حاصل کرنے کا پلان برا نہیں ہے ۔

شارف نے ملک کو اپنے گلے لگاتے ہوئے کہا