Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 55)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 55)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
اس وقت روح اور یارم صارم کے گھر پر ڈنر کر رہے تھے ۔اسے صارم کی بیوی عروہ بہت اچھی لگی لیکن اب اسے صارم اچھا نہیں لگتا تھا ۔
جبکہ ان دونوں کی بیٹی مائرہ یارم کے ساتھ بہت فرئنگ تھی ۔
عروہ نے ان کے نکاح کے بارے میں پوچھا ۔۔۔ جس پر روح بتانے لگی کہ ان کا نکاح فون پر ہوا ہے لیکن اس سے پہلے ہی یارم بول اٹھا ۔
پہلے ہمارا نکاح فون پر ہوا تھا پھر ایک دوسرے کو سمجھنے کے بعد ہم نے پھر سے نکاح کیا ہے ۔کیونکہ ہم دونوں ہی اس نکاح کو قبول نہیں کر پا رہے تھے کیوں روح میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔۔
یارم نے کہا اور روح نے دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائی ۔
جبکہ صارم جو ان کی ہر بات کو نوٹ کر رہا تھا ۔یہاں یارم کی روح کی بات کاٹ کر خود بولنا اسے شک میں مبتلا کر گیا ۔
صارم نے روح سے اکیلے میں بات کرنے کی بہت کوشش کی ۔لیکن یارم نے اسے ایسا کوئی موقع نہ دیا ۔
مائرہ کتنی پیاری ہے کتنی پیاری باتیں کرتی ہے نہ روح گاڑی میں مسلسل مائرہ کے بارے میں بات کر رہی تھی ۔
مجھے بھی بالکل جیسی ہی بیٹی چاہیے ۔یارم کے کہنے پر کی بولتی بند ہوگئی ۔ا سے امید نہ تھی کہ یار م اسے اچانک یہ بات کرے گا ۔
کیا ہوا تم چپ کیوں ہوگئی کیا تمہیں مائرہ جیسی بیٹی نہیں چاہیے یارم نے مسکراتے ہوئے اس کا شرمایا ہوا روپ دیکھا ۔
یارم آپ نا۔ ۔۔پتا ہے پتا ہے بہت برا ہوں یارم اس کی بات کاٹ کر بولا ۔
بہت اچھے ہیں آپ ۔وہ اس کے بازو پر سر رکھتے ہوئے بولی ۔
اچھا پھر بتاؤ نہ مائرہ جیسی بیٹی کب دے رہی ہو مجھے ۔وہ پھر سے شرارتی انداز میں پوچھنے لگا
یارم آپ۔ ۔خاموش ہو کر گاڑی چلائیں آپ کو یاد نہیں ہے ڈرائیونگ کے دوران آپ کو بات کرنا پسند نہیں ہے ۔روح نے سے اسی کی بات یاد دلائی جس پر یار م قہقہ لگا کر ہنسا
ہاں بھائی چپ ہو کر گاڑی چلانی چاہئے ۔بلکہ خاموشی سے اپنا فیوچر پلان کرنا چاہیے ۔
لیکن آئس لینڈ تو ہم اپنے بچوں کو لے کے جا نہیں سکتے تو پھر تم کیا کہتی ہو ہم کہاں لے کے جایا کریں گے انہیں یارم پھر شرارتی انداز میں پوچھنے لگا ۔
یارم ۔۔۔۔روح نے گھور کر اس کا نام پکارا جس پر ایک بار پھر سے یارم کا قہقہ گھونجا ۔
یارم اپنے آفس روم میں ناجانے کیا کر رہا تھا ۔یارم نے اس سے کہا تھا کہ سب کچھ چھوڑ نے میں اسے وقت لگے گا ایک ایک چیز کا خیال رکھنا پڑے گا وہ اچانک یہ سب کچھ نہیں چھوڑ سکتا
روح کافی دیر اس کا انتظار کرتی رہی پھر سو گئی ۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب اسے اپنے اوپر کچھ بھاری سا محسوس ہوا ۔
آنکھیں کھولی تو دیکھا یارم اس پر جھکا اسے مکمل اپنی قید میں لے چکا تھا ۔
بےبی میں نے تو اپنے بچوں کے نام بھی سوچ لیے ہیں ۔
وہ سرگوشی سے کہتا ۔اس کی صراحی دارگردن پر اپنے لب رکھ گیا ۔
یارم نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا جہاں شرم و حیاسے وہ خود میں سمٹ رہی تھی یارم بے اختیار اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنے پیار کی مہر ثبت کی
ہمیں جلدی سے جلدی بچے کا انتظام کرنا ہوگا اتنے پیارے پیارے نام سرچ کیے ہیں میں نے ۔کہیں ویسٹ نہ ہوجائیں ۔وہ اس سے ہونٹوں کو آزادی بخش کر پھر سے بولنے لگا جبکہ گستاخیاں ابھی تک جاری تھی ۔
روح اس کی اس گستاخیوں کی تاب نا لاتے ہوئے اس کے سینے میں منہ چھپا گئی
وہ بھاگتے ہوئے جا رہی تھی ۔یارم تیز تیز قدم اٹھاتا اس سے دور ہو رہا تھا وہ اس کے پیچھے بھاگتی اسے پکار رہی تھی ۔
اور پھر یارم اس سے دور چلا گیا اور اس کی آنکھ کھل گئی اس نے اپنے آگے پیچھے دیکھا جہاں کمرے میں وہ بالکل اکیلی تھی ۔
وہ تیزی سے باہر آئی اس وقت وہ صرف یارم کو دیکھنا چاہتی تھی
باہر آکر اس نے شفاء سے پوچھا تو اس نے کہا کہ یارم کام پر جا چکا ہے ۔اس کے بے چینی حد سے زیادہ سوار ہونے لگی
یارم اپنے کام پر جا چکا تھا ۔اس نے اپنا فون نکالا اور باہر آکر یارم کا نمبر ملانے لگی ۔
دو تین بار فون بجنے کے بعد بند ہو جاتا ۔لیکن یارم آگے سے فون نہ اٹھاتا ۔اسے مزید گھبراہٹ ہونے لگی اس وقت اسے صرف یارم کو دیکھنا تھا ۔
یا اللہ یارم بالکل ٹھیک ہوں وہ اللہ سے دعا مانگتی بار بار فون ملاتی لیکن یارم آگے سے فون نہ اٹھاتا پھر اس نے ایک فیصلہ کیا اور قدم باہر کی طرف اٹھائے ۔
باہر آکر ملازم سے کہا کہ اسے یار م کے افس جانا ہے ۔
اس نے ایک منٹ سوچا پھر اسے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنے کو کہا
اور کچھ ہی دیر کے بعد وہ یارم کے آفس میں تھی ۔
معصومہ کے علاوہ اور کوئی نہ تھا جسے وہ جانتی تھی
اس نے معصومہ سے یارم کے بارے میں پوچھا تو اس نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ سائیڈ پر گئے ہیں ۔اور وہ فون اس لئے نہیں اٹھا رہے کیونکہ ان کا فون یہاں آفس میں پڑا ہے لیکن تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں معصومہ نے روح سے پوچھا
معصومہ پلیز مجھے یار م کے پاس لے کر چلو میں ایک بار انہیں دیکھنا چاہتی ہوں روح نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے معصومہ کا ہاتھ تھاما ۔
ٹھیک ہے روح تم گھبراو مت میں تمہیں ابھی سر کے پاس لے چلتی ہوں ۔معصومہ نے کہا اور اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہا روح بنا کچھ بولے اس کے ساتھ چل دی ۔
میں نے تمہیں سمجھایا تھا نا کہ یارم کے ساتھ غداری کرنے والے کو یارم نہیں بخشتا لیکن تم نے میری بات نہیں سنی ۔
اب تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی ۔
ڈیول خدا کے لئے مجھے معاف کر دو میں آئندہ تمہاری خبر کسی تک نہیں پہنچاؤں گا میں یہ سب کچھ چھوڑ دوں گا میں پاکستان چلا جاؤں گا خدا کے لئے میری جان بخش دو
وہ روتے ہوئے اس کے پیر پکڑنے لگا ۔
یارم کے قانون میں غدار کے لیے کوئی معافی نہیں ہے ۔صرف ایک سزا ہے ۔یارم نے ہاتھ میں پکڑے بلیڈ کی طرف اشارہ کیا ۔
اوراس کے ساتھ ہی وہ بلیڈ اس کی کلائی پر چلانے لگا ۔
آدمی درد سے تڑپنے لگا ۔
اس کے چیخنے چلانے کی آوازیں دور دور تک جا رہی تھی یارم کا بلیڈ کسی سانپ کی طرح رینگتا ہوا اس کے جسم پر چل رہا تھا ۔
اس کے جسم پر سرخ لکیریں بن رہی تھی۔ وہ اونچی اونچی آواز میں رو رہا تھا لیکن یہاں ترس کھانے والا کوئی نہ تھا ۔
ڈیول پلیز جلدی کرو میرے کان میں درد ہونے لگا ہے شارف نے کہا ۔
جلدی نہیں مجھے مزا نہیں آئے گا یار م نے مسکراکر کہا
ڈیول پلیز جلدی کرو مجھے اور بھی کام ہیں خضر نے کہا ۔
تم لوگ کبھی بھی سکون سے مجھے میرا کام نہیں کرنے دیتے یہ کہتے ہوئے یارم نے بلیڈ اس آدمی کی گردن پر دے مارا ۔
پھر آدمی کے چیخ کے ساتھ ایک اور چیخ بلند ہوئی یا رم نے پلٹ کر دیکھا جہاں روح زمین پر بے ہوش پڑی تھی
