Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 65)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 65)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
روح کی طبیعت بہت خراب تھی ۔
اسے بہت بخار ہو رہا تھا ۔
ڈر کے مارے وہ نیند میں بھی کانپ رہی تھی
یا رم سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی ۔
جبکہ اس کے ڈر سے وہ فوراً اپنا کھانا کھا لیتی ۔
یارم ا سے جودوائی کھانے کو بولتا فوراً کھا لیتی اسے ڈر تھا کہ یارم اسے واپس اس کمرے میں نہ چھوڑ آئے
جبکہ اس کے ڈر کی وجہ سے یارم شرمندگی سے اس کے قریب نہ جاتا ۔
وہ یارم سے ڈرنے لگی تھی ۔
ہر وقت ہی اسے کسی نے کسی چیز کا ڈر رہتا ۔
وہ شفا اور میری کو بھی عجیب نظروں سے دیکھتی تھی اسے ان دونوں سے بھی خوف آنے لگا تھا ۔
جبکہ وہ دونوں ہر ممکن طریقے سے اس کا خیال رکھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
رات اچانک ڈر کے مارے روح کی آنکھ کھل گئی اس کا پورا جسم پسینے سے شربور تھا ۔
وہ اپنے ہاتھ پاؤں پر تیز تیز ہاتھ مارنے لگی ۔اور ساتھ رونے لگی
روح کچھ نہیں ہوا میں یہاں ہوں تمہارے ساتھ ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے دیکھو میں یہاں ہوں ۔
وہ لائٹ آن کرتا ہے اسے اپنے قریب کرتے کہنے لگا ۔
یارم وہ سانپ یہاں میرے پیر پر۔ یہاں میری گردن پر ۔یہاں دیکھیں نہ میرے بازو پر وہ اپنے جسم پہ ہاتھ مارتے اسے نہ جانے کیا دکھا رہی تھی
روح کچھ نہیں ہے ۔تم کیوں گھبرا رہی ہو دیکھو یہاں کچھ نہیں ہے ۔
صرف میں تمہارے ساتھ ۔۔تم ٹھیک ہو کوئی سانپ نہیں ہے یہاں پر وہ اسے سمجھانے لگا جبکہ وہ سانپ روح کو ابھی بھی اپنے جسم پر رینگتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔
یارم میں آپ کی ساری باتیں مانوں گی پلیز مجھے واپس وہاں بند مت کرنا ۔
مجھے پلیز وہاں بہت ڈر لگتا ہے بہت اندھیرا ہے وہ سانپ ۔
یارم پلیز مجھے وہاں بند مت کرنا
وہ ڈری سہمی اس کے سینے سے لگتے ہوئے کہنے لگی ۔
آج چار دن سے روح کو بخار تھا ۔وہ اس سب سے اتنا ڈر چکی تھی کہ اس کا ذہن ابھی تک اسی سانپ میں اٹکا ہوا تھا
وہ اکثر رات میں ڈر کر اٹھ جاتی آپ نے ہاتھ پیروں پر کسی چیز کو محسوس کرتی .
اس دوران جو چیز سب سے اچھی ہوئی تھی کہ وہ یارم کو اپنے قریب سے ہلنے نہیں دیتی تھی ۔
چار دن سے یارم نہ تو اپنے کام پر گیا تھا اور نہ ہی گھر سے باہر نکلا تھا ۔
یارم چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ رہتا ۔آج صبح اٹھتے ہی روح نے کہا کہ وہ اس سانپوں والے گھر میں نہیں رہے گی ۔
یارم کو اندازہ نہیں تھا کہ روح سانپ سے اتنا ڈرتی ہے مگر اسے یہ بات پتہ چل چکی تھی کہ وہ یارم کے علاوہ ہر چیز سے ڈرتی ہے ۔
یارم نے اسے بہت سمجھایا کہ وہ سانپ قید ہے وہ وہاں سے نہیں نکل سکتا لیکن روح نے اس کی ایک بات نہ مانی ۔
اور بس اسے ہر وقت اپنے ساتھ چاہتی تھی اس وقت وہ اپنی ساری ناراضگی اور یارم کی حقیقت کو بھلا چکی تھی۔
اور اسی ڈر کی وجہ سے ابھی تک اس کا بخار نہ ٹوٹا تھا ۔
یارم ہم یہ گھر چھوڑ دیتے ہیں مجھے یہاں نہیں رہنا آپ کو پتہ ہے وہ سانپ بہت برا تھا ۔
وہ ایسے ایسے میرے بازو پر لیپٹا ہوا تھا وہ اسے اپنا ہاتھ دکھاتے ہوئے بتا رہی تھی ۔
جبکہ اس کی ہر بات یارم کو شرمندہ کر رہی تھی ۔
یارم ہم واپس اپنے اس فلیٹ میں چلتے ہیں مجھے نہیں رہنا یہاں ۔
روح نے پھر سے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھے کےاسے اپنی طرف متوجہ کیا جو نجانے کہاں کھویا ہوا تھا ۔
جبکہ روح کو مکمل اپنے حصار میں قید کی وہ اس کے ساتھ بیٹھا تھا ۔
نہیں روح ہم یہی رہیں گے ۔اور وہ سانپ قید ہے جب تک میں اسے نہ کھولو ں وہ باہر نہیں آسکتا ۔
اور اب تم مزید اس کے بارے میں بات نہیں کرو گی پچھلے چار دن سے روح کی ہر بات سانپ سے شروع ہوکر سانپ پے ختم ہورہی تھی ۔
یارم میں بات نہیں کرتی وہ خود آ جاتا ہے ۔ہر بات میں پلیز ہم یہ گھر چھوڑ دیتے ہیں نہ اس نے یہ بات کوئی ہزار بار دہرائی تھی ۔
ٹھیک ہے بابا ہم جلدی یہ گھر چھوڑ دیں گے ۔اگر تم اجازت دو تو میں ذرا آفس سے ہوآوں ۔
وہ پیار سے اسے بہلاتے ہوئے پوچھنے لگا جبکہ روح نفی میں گردن ہلاتی اس کے سینے پر سر رکھ گئی۔
نہیں نہیں آپ مت جائیں کہیں پر بھی نہیں یہی رہے میرے پاس وہ اسے زور سے پکڑتے ہوئے کہنے لگی جیسے وہ ا سے چھوڑ کر چلا جائے گا ۔
میرا بچہ میں جلدی آ جاؤں گا ۔اور میری اور شفا تو یہی ہے تمہارے پاس بالکل ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔میں بس کچھ ہی دیر میں واپس آ جاؤں گا
پلیز تھوڑی دیر اجازت دے دو ۔وہ اسے بہلانے لگا ۔جب روح کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر خاموش ہوگیا ۔
اچھا میرا بےبی تم رو نا بند کرو نہیں جا رہا میں کہیں بھی وہ اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرتے اسے اپنے سینے سے لگا گیا ۔
ہاں ڈیول میں پورے یقین سے کہتا ہوں فرقان اور ملک ملے ہوئے ہیں ۔اور ملک فرقان کا ہی آدمی ہے ۔
جو تمہاری اور شان کی خبریں اس تک پہنچا رہا ہے یہ صرف ایک جاسوس ہے ۔
اور میرے خیال سے یہ بات ہمیں شان کو بتانی چاہیے شارف نے کہا ۔
نہیں یہ بات اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہمیں پتا چل گیا اتنا ہی کافی ہے ۔
لیکن شان ہمارے لئے کام کرتا ہے اسے یہ بات بتا ہونی چاہیے آخرامانداری بھی تو کوئی چیز ہے شارف نے کنفیوز ہوتے ہوئے کہا ۔
شارف وہ ہماری ٹیم کا آدمی نہیں ہے جس کے ساتھ ہمیں وفادار ہونا ضروری ہے اور ہمارے کام میں کوئی وفادار نہیں ہے یہ بات یاد رکھو ۔
ملک کو خضر ہینڈل کرلے گا کہاں ہے وہ ۔۔۔؟ یارم کچھ دن سے آفس نہیں جا رہا تھا اس کے سارے کام خضر سنبھال رہا تھا ۔
خضر تو لیلیٰ کے ساتھ ڈیٹ پر گیا ہے میرا مطلب ہے وہ دونوں لنچ کرنے گئے ہیں ۔
شارف نے جلدی سے بات بدلی ۔
ایسی ہی ایک ڈیٹ تم بھی مار لیتے ۔شارف پچھلے کچھ دنوں سے یار م کے غصے کا شکار ہو رہا تھا آج یار م بہت اچھے موڈ میں تھا اس لیے اس سے کہنے لگا ۔
ہائے بھائی ہماری ایسی قسمت کہاں ہمیں تو گرل فرینڈ ہی نہیں ملتی ڈیٹ کس کے ساتھ ماریں۔ شارف نے ایک نظر سامنے سے آتی معصومہ کو دیکھا ۔
جسے دیکھتے ہی وہ منہ پھیر گیا جبکہ معصومہ قریب سے گزر گئی وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو اگنور کیے ہوئے تھے ۔
کیوں معصومہ کا کیا ہوا۔۔ یار م نے کہا
وہ مجھے منہ نہیں لگاتی میں اسے منہ نہیں لگاتا حساب برابر ۔۔۔ اس کی بات سن کر یارم مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
میں تو سوچ رہا تھا کہ میں اور روح تمہارا رشتہ پکا کر دیں معصومہ کے ساتھ لیکن تم تو انٹرسٹڈ ہی نہیں ہو ۔
یارم نے مسکرا کر کہا ۔
میں نے کب کہا کہ میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں آپ نے تو اس بارے مجھ سے بات ہی نہیں کی ۔اگر بات کرتے تو میں کہتا مجھے دل و جان سے قبول ہے ۔
پلیز کچھ جگاڑ کر لیں ۔ وہ ایک اسٹائل میں کہتا ہوا اینڈ پر منتوں پر اتر آیا ۔
جس پر یار م قہقہ کگا کر ہنس دیا۔
پہلے لیلیٰ اورخضرکا کچھ ہوجائے پھر تمہارے بارے میں سوچتا ہوں ۔یارم نے تسلی دی
ارے ان دونوں کا کچھ نہیں ہونا دونوں ڈیٹے مارتے ہوئے دوسرے کو بیسٹ فرینڈ بول رہے ہیں ۔
جیسے ہم عقل کے اندھے ہیں ہمیں کچھ سمجھ ہی نہیں شارف نے منہ بسور کر کہا ۔
ہاں میں جانتا ہوں لیکن جب تک وہ دونوں خود سے بات نہیں کرتے میں یہ بات نہیں چھیڑنا چاہتا ہمیں ان دونوں کو وقت دینا چاہیے ۔تاکہ وہ ٹھیک سے ایک دوسرے کو سمجھ کر فیصلہ کریں ۔
اب تم اپنے کام پر دھیان دو ۔ اور آج سب ڈنر میرےگھر پہ کرنا ۔روح کا تھوڑہ دھیان بٹ جائے گا ۔
وہ فون بند کرتے ہوئے بولا
وہ روح کو ڈھونڈتے کچن میں آیا ۔شارف کو کال کرنے سے پہلے اس نے روح کو کچن میں آنے کا کہا تھا ۔
وہ کچن میں آیا تو روح چولہے پر کچھ رکھے بنانے میں مصروف تھی ۔
روح تم یہ کیا کر رہی ہو میں نے تمہیں یہاں کھانا کھانے کے لئے بلایا ہے کھانا بنانے کے لیے نہیں وہ اتنے اچانک بولا کہ وہ چونک گئی
اور اچانک کرائی ہلنے کی وجہ سے اس کا تھوڑا سا گھی اس کے ہاتھ پر گر گیا ۔
سس۔ ۔۔روح نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا جبکہ یارم اس تک پہنچ چکا تھا ۔
یہ کیا کیا ہے تم نے کتنی بار منع کیا ہے خود کو تکلیف مت پہنچایا کر بہت سکون ملتا ہے تو مجھے درد میں دیکھ کر ۔روح میں تمہیں آخری بار سمجھا رہا ہوں آج کے بعد تم ایسی کوئی غلطی نہیں کرو گی جس سے تمہیں کوئی تکلیف ہو ۔
ورنہ میں ساری نرمی بھلا دوں گا ۔
اب تو یہاں سے چلو وہ اس کے ہاتھ کو نرمی سہلاتا سخت غصے سے اسے ڈانٹ رہا تھا ۔
جب کہ روح ایک لفظ بھی نہ بولی ۔یارم کا یہ غصہ اسے یہ بات یاد دلاتا تھا کہ یارم کبھی بھی اس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے
وہ سمجھ چکی تھی وہ اس سے جتنا پیار کرتا ہے ۔اتنا ہی اس کے معاملے میں پرزوسیوہے ۔روح کو خود بھی اپنے آپ کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہ تھی
