Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 84)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 84)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
رات کی تقریبا پونے دو بجے وہ اپنے گھر سے اپنی ساری جولری لے کر بھاگ گئی تھی ۔
جو اس کی شادی کے لئے اس کی ماں اور بھائیوں نے بڑی محنت سے بنائی تھی ۔
وہ لوگ دھوم دھام سے اسکی شادی کرنا چاہتے تھے اپنی اکلوتی بہن کی زندگی میں خوشیاں لانا چاہتے تھے ۔
لیکن وہ محبت کی راہ میں بہت آگے نکل چکی تھی ۔
اتنی آگے کے اسے اس محبت کے سامنے اپنی ماں اور بھائیوں کی محبت بھی بے مول لگنے لگی ۔
ریلوے اسٹیشن پے ابراہیم بے تابی سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
آپ نے جو کہا تھا میں سب کچھ لے آئی ہوں ابراہیم لیکن کاش اگر گھر والے مان جاتے تومیں کتنی خوشی سے آپ کے ساتھ رخصت ہوتی لیکن شاید میرے نصیب میں یہ خوشی لکھی ہی نہیں ہے
تم گھبراؤ نہیں فاطمہ میں تمہارے ساتھ ہوں یہاں سے چلتے ہیں ہم نکاح کر لیں گے ۔
ابراہیم اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے ٹرین میں سوار ہوگیا ۔
جبکہ وہ اپنا شہر اپنے ماں بھائیوں کی عزت کو یہ پیروں تلے روندتے اس کے ساتھ ہوگئی۔
وہ بڑی مسجد کے قاری صاحب کی سب سے چھوٹی اور اکلوتی بیٹی تھی ۔
اس کے تین بڑے بھائی تھے قاری صاحب کے بعد اس کے بھائیوں نے بہت لاڈ پیار سے اسے پالا تھا ۔
اور آج ان بھائیوں کا سر جھکاتے ہوئے فاطمہ نے ایک بار بھی نہ سوچا ۔
شاید محبت ہی ایسی ہوتی ہے باغی کردینے والی ۔یہ بس ایک ہی انسان کے ساتھ جوڑ دیتی ہے جذبات بھی احساسات بھی ۔
یہ اتنی خود غرض ہوتی ہے کہ کسی تیسرے کو بیچ میں شامل نہیں ہونے دیتی
شادی کے بعد کچھ عرصے تک ہی اسے براہیم کی محبت دیکھنے کو ملی ۔
جلد ہی اس پے ابراہیم کی حقیقت کھلنے لگی ۔
ابراہیم ایک نشائی اور جواری انسان تھا ۔
جسے وقتی طور پر فاطمہ کی خوبصورتی نے اپنی طرف راغب کیا تھا ۔
جلدی ہی اس پر سے فاطمہ کا نشہ اتر گیا ۔
اور وہ اپنے پرانے کاموں میں اس حد تک مگن ہو گیا کہ اسے فاطمہ کا ہوش بھی نہ رہا ۔
فاطمہ کی ساری جولری اور پیسہ جو اپنے گھر سے لے کے آئی تھی وہ تو پہلے ہی اس سے لے کر اُڑا چکا تھا
اس کے لیےکسی بھی لڑکی کو اپنی طرف راغب کرنا کوئی بہت مشکل کام نہ تھا ۔وہ اتنا خوبصورت تھا کہ کوئی بھی لڑکی اسے ایک بار دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہو جاتی اس کی آنکھوں میں ایسا سحر تھا جو کسی بھی لڑکی کو آسانی سے اپنا شکار بناسکتا تھا فاطمہ بھی اس کا ایک شکار تھی ۔
لیکن فاطمہ کی خوبصورتی نے ہی اسے شادی کرنے پر مجبور کیا تھا جس پر اب وہ پچھتا رہا تھا کیونکہ فاطمہ کی ذمہ داری اٹھانا اس کے بس سے باہر تھا وہ بھی تب جب وہ ماں بننے والی تھی ۔
اس نے فاطمہ کو بہت مجبور کیا کہ وہ ابرشن کروا لے ۔لیکن فاطمہ نے اس کی ایک بات نہ مانی ۔
خود ہی گھرمیں محلے کے بچوں کو پڑھا کر اپنے بیٹے کی ذمہ داری اٹھائی۔
ابراہیم تو نے اصغرکے پیسے واپس نہیں کیے ۔اب وہ تجھے نہیں چھوڑے گا ۔
وہ تجھے ہر طرف ڈھونڈ رہا ہے ۔
جا بھاگ جا یہاں سے اس سے پہلے کہ وہ تیری جان لے لے ۔
جب نشے کی طلب حد سے زیادہ بڑھنے لگیں تو وہ لوگوں سے ادھار لینے لگا انہیں میں سے ایک اصغر بھی تھا ۔
جو کہ ایک بہت ہی بد نام غنڈا تھا
لوگوں کا قتل کرنا اس کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا لیکن اس کی سب سے بڑی کمزوری تھی خوبصورت عورت ۔
جس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا ۔
وہ لوگوں کو ادھار دیتا اور جب لوگ اس کا ادھار نہ چکا پاتے تو وہ اکثر ان کی عورتوں کے ساتھ اپنی راتیں رنگین کرتا تھا ۔
اور اسی طرح سے ایک بار اس نے فاطمہ کو دیکھ لیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ایک بارہ سالہ بیٹے کی ماں ہے زبردستی اس نے ابراہیم کو اتنا پیسہ دے دیا جسے وہ چکا نہ پائے ۔
اور ایک نشائی انسان کے لیے پیسہ اڑانا کوئی مشکل بات نہیں ہوتی ۔
ابراہیم نے وہ سارا پیسہ نشے میں اڑا دیا ۔
اور اب اصغر اسے ہر طرف ڈھونڈ رہا تھا ۔
اصغر بھائی مجھے تھوڑا سا وقت دیں میں آپ کے سارے پیسے چکا دوں گا ۔
اور کتنا وقت چاہیے تجھے چھ مہینے سے تو وقت دے رہا ہوں اب مجھے میرا پیسہ ابھی اسی وقت چاہئے نہیں تو میں تیری جان لے لوں گا
نہیں خدا کے لئے مجھے مت ماریں میرا ایک بچہ ہے میرے بعد وہ یتیم ہو جائے گا ۔
کس کے سہارے جئے گی میری بیوی رحم کریں مجھ پر میں آپ کے سارے پیسے چکا دوں گا ۔
اگر ایسی بات ہے تو میرے سارے پیسے ایک ہی رات میں چکا سکتا ہے ۔اصغر نے اپنے شاطرانہ دماغ سے چال چلتے ہوئے کہا ۔
تو اپنی بیوی کو ایک رات کے لیے میرے پاس بھیج دے وہ ایک ہی رات میں تیرا قرضہ چکا دے گی ۔
اصغر ہوس زدہ لہجے میں بولا ۔
نہیں میری بیوی ایسی نہیں ہے وہ بہت پاکیزہ ہے ۔وہ ایسا گھٹیا کام کبھی زندگی میں نہیں کرے گی ۔
تیری جان بچانے کے لئے تو کرے گی نا ۔اگر تجھے اپنی جان پیاری ہے تو جا اپنی بیوی کو میرے پاس لے آ بلکہ آج رات میں تیرے گھر آؤں گا۔
اگر مانتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ تیرے بیوی بچے کے سامنے تیری جان لے لوں گا ۔
اور پھر اسے ایک رات نہیں بلکہ جب تک چاہوں اپنے پاس رکھوں گا
ہاہاہا اصغر قہقہ لگاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
فاطمہ نے ایک زوردار تھپڑ ابراہیم کے منہ پر دے مارا ۔
یہ تو پتہ تھا کہ تم گھٹیا ہو نشائی ہو لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تم میرا ہی جوا کھیل کے آ جاؤ گے ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے بیچنے کی ۔
گھٹیا انسان تمہارے ساتھ آکر میں پچھلے چودہ سال سے پچھتا رہی ہوں۔
لیکن تم مجھے کبھی اتنے گرے ہوئے نہیں لگے کہ یہ حرکت کرو ۔
میں آج تک تمہیں چھوڑ کر اس لیے نہیں گئی کیونکہ مجھے تمہاری نظروں میں اپنے لیے عزت نظر آتی تھی ۔
ورنہ تم جیسی نشائی اور جواری انسان کے ساتھ ایک پل گزارنا نہ ممکن ہے ۔
میں نے تمہارے ساتھ اپنی زندگی کے 14 سال گزار دیئے ۔
اورر اب تم مجھے یہ صلہ دے رہے ہو ۔
ارے کب کی چھوڑ کر چلی جاتی تمہیں اپنے بچے کو لے کر صرف اس لیے میں نہیں گئی ۔
کیونکہ تم میرے بچے کے باپ ہو میں اس پر سے تمہارا سایا چھین نہیں سکتی تھی ۔
لیکن تم نے ہمیشہ مجھے غلط ثابت کیا ایک بار اس کی طرف مڑ کر محبت سے نہیں دیکھا ۔
لیکن آج تم اپنی ہر حد پار کر چکے ہو ابراہیم ۔تمہارے ساتھ ایک پل نہیں رہ سکتی میں جارہی ہوں اپنا بچہ لے کر ۔
ابھی اس نے آگے بڑھ کر یارم کا ہاتھ تھاما ہی تھا کے زور دار دھماکے سے دروازہ کھلا ۔
ابراہیم اپنے بیٹے کو لے جا یہاں سے اس نے یارم کو پکڑ کر ابراہیم کی طرف دھکا دیا ۔
جبکہ اگلے ہی لمحے اس کا باپ اسے اپنے ہاتھوں میں قابو کر چکا تھا ۔
اور فاطمہ کو اصغر زبردستی کمرے کی طرف لے کر جانے لگا ۔
چھوڑمجھے گھٹیا انسان میں کہتی ہو چھوڑ مجھے فاطمہ زور زور سے چلانے لگی۔
ارے میری بلبل اتنی آسانی سے چھوڑ دوں تجھے اتنی قیمت دی ہے تیری ۔قسم سے اتنے بڑے بچے کی ماں ہے پھر بھی کمال دیکھتی ہے ۔
چھوڑ میری ماں کو ورنہ جان سے مار ڈالوں گا یارم غصے سے آگے بڑھا لیکن ابراہیم اسے بری طرح اپنی قید میں لیے ہوئے تھا ۔
خون جوش مار رہا ہے تیرے بیٹے کا ابراہیم سنبھال اسے بچوں کی جان نہیں لیتا میں وہ فاطمہ کو گھسیٹ کے کمرے میں لے جاتے ہوئے بولا ۔
جبکہ ابراہیم زبردستی یار م کو کمرے کی طرف لے جا رہا تھا ۔
ابا چھوڑ دو مجھے وہ میری ماں کو مار دے گا ۔بچاؤ امی کو یارم ہر ممکن طریقے سے اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
جب اس کے ماں کی چیخیں بلند ہونے لگی وہ زور زور سے دروازہ بجا رہی تھی جبکہ وہ شیطان اصغر اس پر ہنسے جا رہا تھا ۔
ابراہیم اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے آیا جب یارم دروازے کو پکڑ کر چابیوں کا گچھا اتارا جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا چاقو کی چین کے طور پر لٹکا تھا ۔
چیخیں بلند ہونے لگی ۔اس کی ماں اونچی آواز میں رو رہی تھی ۔اور اس کے باپ کو مدد کے لیے پکار رہی تھی جب یارم نے کی چین سے چاقو نکال کر اپنے ہی باپ کے پیٹ میں گھوپ دیا ۔
اور پھر مسلسل مارتا ہے گیا یہ حتیٰ کہ چاقو کا چھوٹا سا ٹکڑا ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آ گرا ۔
باہر سے رونے چلانے کی آوازیں سن کر اصغر گھبرا کر باہر نکلا اور وہاں ابراہیم کو زمین پر تڑپتے دیکھ کر بوکھلا گیا ۔
فاطمہ جلدی سے اس کے پیچھے آکر ابراہیم کو دیکھنے لگی ۔
اس بچے نے قتل کر دیا اس سے پہلے پولیس یہاں پر آجائے نکلو یہاں سے ۔اصغر جلدی سے باہر کھڑے اپنے آدمی کو حکم دیتا بھاگ گیا ۔
یارم تو جا یہاں سے اس سے پہلے کہ پولیس یہاں پہنچ آئے بھاگ جا یہاں سے ۔
وہ یارم کو سمجھاتے ہوئے بولی جبکہ آنسو مسلسل بہہ رہے تھے ۔
اس کا شوہر ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ کر جا چکا تھا جس نے اسے کبھی کوئی اچھی یاد تو نہ دی تھی ۔بلکہ اسے بیچ کر اس کی زندگی کے سیا صفات پر اپنا نام لکھ دیا تھا
نہیں امی آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا
بےشک پولیس آکر مجھے پکڑ کر لے جائے ۔یارم اپنی ماں کے گلے لگ کر روتے ہوئے بولا لیکن اسے اپنے باپ کے مرنے کا کوئی دکھ نہ تھا ۔
نہیں یارم تجھے یہاں سے جانا ہوگا تجھے اپنی ماں کی بات ماننی ہوگی ۔
تو اپنی ماں کا بچہ ہے نہ جا چلا جا یہاں سے میں سب سنبھال لونگی ۔
وہ اس اپنے پاس رکھے کچھ پیسے یار م کے ہاتھ کی مٹھی میں دباتی اسے زبردستی باہر کی طرف بھیجنے لگی جب کہ دور سے اسے پولیس کی گاڑی کی آواز آنے لگی ۔
وہ یارم کے چہرے پر جابجا پیار کرتی اسے باہر بھیج چکی تھی ۔
پولیس کو خبر یقینناً اصغر نے ہی دی تھی ۔
اسے اپنےشوہر کی موت کا دکھ تھا لیکن وہ اپنے بچے کو اس سزا میں ساری زندگی مرتے نہیں دیکھ سکتی تھی ۔
اسی لئے اس نے اپنے شوہر کی موت کاالزام اپنے سر لے لیا
یہ قتل سیلف ڈیفنس میں کیا گیا تھا ۔
اس کیلئے فاطمہ کو کم سزا دی گئی ۔
سات سال بعد جب وہ جیل سے واپس آئی ۔سب سے پہلے یارم اس سے ملنے آیا تھا ۔
لیکن جب یارم نے اسے یہ بتایا کہ وہ کیا کام کرتا ہے تو اسے بہت افسوس ہوا وہ اپنے بیٹے کی اچھی زندگی کے لئے جیل گئی تھی اور اس کے بیٹے نے کیا کیا اپنے ہی راہ میں اپنے ہاتھوں سے کانٹے بھر لیے ۔
فاطمہ نے اسے واپس بھیج دیا اور کہا کہ وہ اب اس کی کبھی شکل نہیں دیکھنا چاہتی ۔
جب تک وہ یہ سب کچھ چھوڑ کر نہیں آتا ۔
اور پھریارم کبھی واپس نہ آیا وہ اپنی ماں کو بہت سارے پیسے بھیجتا ۔
جسے وہ ایک الماری میں بند رکھتی اس نے کبھی یارم کی رقم خرچ نہیں کی تھی ۔
وہ محلے کے بچوں کو ٹیوشن اور قرآن پڑھاتی ۔
اور اپنا گزارا کرتی ۔
آج اتنے سالوں کے بعد وہ اپنی پہلی کی زندگی سوچتے ہوئے یارم کا سر اپنی گود میں رکھے ہوئے بیٹھی تھی ۔
آج اسے یار م سے کوئی گلا نہ تھا اتنے سالوں کے بعد اپنا بچھڑا بیٹا دیکھ کر اس کی ممتا جاگ اٹھی تھی ۔
جو اتنے سالوں سے اپنے بیٹےکے لئے تڑپ رہی تھی ۔
یارم کا کمرہ آج بھی ویسا تھا وہ ہر روز اس کمرے کی صفائی کرتی تھی۔
وہ تو انھیں بتانے والا تھا روح کے بارے میں لیکن روح نے انہیں اس طرح سے روتے دیکھ کر یارم کو کچھ بھی بتانے سے منع کردیا روح کا اشارہ سمجھ کر اس نے وقتی طور پر انہیں کچھ بھی نہ بتایا تھا ۔
لیکن روح نے یہ بات کیوں چھپائی وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا ۔روح نے تو اس سے اور بھی بہت کچھ چھپایا تھا
لیکن فی الحال وہ یہ لمحات جی رہا تھا جس میں وہ اپنی ماں کے ساتھ تھا ۔
اسے سوتا دیکھ کر فاطمہ آہستہ سے اس کے قریب سے اٹھی جب اس نے اچانک ان کا ہاتھ تھام لیا ۔
کہاں جا رہی ہیں آپ ۔۔؟یارم نے پوچھا
تو جاگ رہا ہے مجھے لگا توسو گیا وہ لڑکیاں ہیں یہ اکیلے کمرے میں ڈر جائیں گی اس لئے جارہی تھیں ان کے پاس ۔
تو اب آرام کر ۔صبح بہت ساری باتیں کریں گے ۔
وہ پیار سے اس کا ماتھا چومتے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
روح فاطمہ بی بی کا بیٹا کتنا پیارا ہے نا ۔
میں نے تو آج تک اتنا خوبصورت آدمی نہیں دیکھا ۔
فاطمہ بی بی بھی تو بہت خوبصورت ہیں تو سن رہی ہے میں کیا کہہ رہی ہوں تانیہ کو جواب نہ ملا تو وہ روح سے پوچھنے لگی ۔
میں بھی یہی سوچ رہی ہوں ۔روح منمنائی ۔
تو کچھ مت سوچ تو شادی شدہ ہے اس کے بارے میں مجھے سوچنے دے تانیہ نے شرارت سے مسکرا کر کہا تو روح اسے گھور کر رہ گئی ۔
گھور مت یار اتنا خوبصورت ہے کہ اس کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے ۔وی ابھی تک یارم کے سحر میں کھوئی تھی ۔
جبکہ روح کو یارم کے بارے میں تانیہ کی یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں لگی تھی ۔
ابھی اسے یارم سے اکیلے میں بات کرنی تھی ۔
کیونکہ یہ توپکی بات تھی کہ وہ اس کے لیے یہاں آیا تھا ۔
لیکن فاطمہ بی بی سے چھپ کر وہ اس سے کیسے بات کرے گی ۔
یا ہو سکتا ہے یارم ان کو سب کچھ بتا چکا ہوں ۔
لیکن فاطمہ بی بی کو کتنا برا لگتا ہے یہ سوچ کر کہ جس بیٹے سے وہ اتنے سالوں کے بعد ملی ہیں وہ ان کے بغیر ہی شادی کر چکا ہے ۔
فی الحال بس وہ یہ سوچ رہی تھی کہ کس طرح سے یار م سے بات کرے تھوڑی دیر کے بعد فاطمہ بی بی کمرے میں آ کر لیٹ گئی ۔
جبکہ وہ انتظار کرنے لگی کہ کب وہ سو جائیں اور وہ یارم کے کمرے میں اس سے بات کرنے جائے ۔
اور یار م کو یقین تھا کہ وہ آج رات اس سے ملنے ضرور آئے گی ۔اور وہ اس سے اگلے پچھلے تمام حساب بے باک کرے گا ۔
