Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 76)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

خضر کی آنکھ کھلی تو لیلی آئینے کے سامنے کھڑی اپنی خوبصورت لمبے بال سنوار رہی تھی ۔

وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگا اور نہ جانے کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا جب لیلی کا دھیان اس کی طرف گیا

خضراچھا ہوا تم جاگ گئے یہ ڈریسز دیکھو کون سا پہنوں اسے جاگتا پا کر وہ فورا ہی اپنے مطلب کے کام پر آگئی ۔

پہلے خضرنے مسکرا کر اسے دیکھا لیکن جیسے ہی دھیان اس کی ڈریس پرگیا دل چاہا ۔ دونوں ڈریسز اس کے ہاتھ سے چھین کر آگ لگا دے

لیلی تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے تم ایسی ڈریس پہنو گی وہ چاہنے کے باوجود اپنا غصہ کنٹرول نہ کر سکا

ہاں کیا خرابی ہے اس ڈریس میں اس کے غصے کی وجہ لیلی سمجھ نہیں پائی تھی

سہی کیا ہے اس ڈریس میں جو تم مجھ سے پوچھ رہی ہو

پیچھے سے سارا پھٹا ہوا ہے آگے سارا پھٹا ہوا ہے خضر کے سرسےدھماکے نکلنے لگے اس کے کپڑے دیکھ کر

حضر یہ پھٹا ہوا نہیں ہے یہ میرا ڈیزائنر ڈریس ہے ۔لیلی نے غصے سے اس کے ہاتھ سے اپنا اڈریس چھینا

لیلی ڈیزائنر ہاہاہا اسے ڈیزائنر ڈریس کون کہتا ہے حالت دیکھو اس کی ۔اس کے سامنے ڈریس کو الٹ پلٹ کر کے دکھانے کی کوشش کرنے لگا ۔

یہ میں نے ا سپیشل شادی کے بعد پہنے کے لیے بنوایا تھا اور تم ۔۔۔۔

لیلی نے روٹھنے والے انداز میں کہا

ہاں کیونکہ یہ انتہائی بے ہوا اور بکواس ڈریس ہے ۔حضر اب بھی باز نہ آیا

کیا خرابی ھے اس میں ذرا بتانا پسند کرو گے مجھے اب لیلیٰ کو اس کی باتوں پر غصہ آنے لگا

اس میں اچھا کیا ہے لیلیٰ کیا یہ ڈریس پہننے کے لائق ہے ایسے کپڑے پہننے کا کیا فائدہ جس میں تمہارا جسم چھپنے سے زیادہ نمایاں ہو خضر نے اسے وجہ سمجھا ناچاہی

خضر میں شادی سے پہلے بھی ایسے ہی کپڑے پہنتی تھی تب تو تم نے کبھی اعتراض نہیں کیا

کیونکہ تب میں تمہیں روکنے کا تمہیں منع کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا لیکن اب رکھتا ہوں

اور میں اپنی بیوی کو پوری دنیا کے سامنے تماشہ نہیں بننے دونگا ۔خضر نے اس کے ہاتھوں ڈریس چھینی اور ونڈوز سے باہر پھینک دی

تم نے میرا اتنا مہنگا ڈریس اٹھا کر باہر پھینک دیا ۔

لیلیٰ غصے سے اسے دیکھنے لگی ۔

میں تمہیں اس سے زیادہ خوبصورت اورمہنگا ڈریس لے کر دوں گا اور اس لائق ہوگا کہ پہنا جا سکے ۔

خضر نے مسکراتے ہوئے کہا اب اس کا ارادہ اسے منانے کا تھا ۔

خبردار خضر بات مت کرو مجھ سے وہ اسے مسکراتے دیکھ کر اور برہم ہوئی ۔

اچھا نہ بابا سوری بول تو رہا ہوں اب کیا نئی زندگی کی پہلی صبح ہی مجھ سے لڑنے ہوئے کرو گی ۔

وہ ا سے پیار سے منانے لگا

جبکہ لیلیٰ کا بھی اس سے ناراض ہونے کا کوئی موڑ نہ تھا ۔

کیا بات ہے آج تو آپ صبح صبح یہاں تشریف لے آئی شارف نے اسے آفس سے اندر آتے دیکھ کر کہا

ہاں کیوں سر نے مجھے کہا تھا کہ بیچارے تم اکیلے کام کر رہے ہو تو مجھے تم پر ترس آگیا تو سوچا کیوں نے تمہاری تھوڑی سی ہیلپ کردوں ۔

معصومہ نے مسکراتے ہوئے اسے جواب دیا ۔

تو کیا کیا ہیلپ کرو گی تم میری شارف اس کے بال کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا

کیا کیا ہیلپ چاہیے تمہیں میری وہ اسی کے انداز میں بولی

ہیلپ تو بہت ساری چاہیے ۔

جیسے کہ خضر کے ولیمے کی تیاری کرنی ہے جس میں تمہاری بہت ساری مدد چاہیے ہوگی شارف اب بالکل سیریز انداز میں بولا ۔

اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں حال چل کے وہاں کی ڈیکوریشن دیکھنی ہے ۔

شارف نے اسے راستہ دیتے ہوئے کہا ۔

تو وہ بھی مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ چل دی

کل رات صارم نے اس سے اپنے کیے کی معافی مانگی تھی

اس نے کہا تھا کہ اس نے معصومہ کے جذبات کے ساتھ کھیل کر ٹھیک نہیں کیا

جس کی وجہ سے وہ بہت شرمندہ ہے

نجانے کیوں معصومہ کو اس کا معافی مانگنا برا نہ لگا

شاید وہ اس سے یہی امید رکھتی تھی

جب اس نے کل رات شارف کا ہاتھ تھام کے اسے معاف کیا نجانے کیوں اسے شاردف اپنا مضبوط سہارا لگا شارف نے اس سے وفا نبھانے کا کوئی وعدہ نہ کیا تھا لیکن پھر بھی معصومہ کو یقین تھا کہ وہ اسے کبھی دھوکا نہیں دے گا ۔

وہ کب سے روح کو جگانے کی کوشش میں لگا تھا لیکن شاید اس شادی کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ تھک چکی تھی سارے کام بھی تو اس نے خود کیے تھے

زیادہ مہمانوں کے نہ ہونے کے باوجود بھی یہ شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی تھی۔

اور اس میں سب سے زیادہ اہم ذمہ داری روح نے سنبھالی تھی

میری جان اٹھ جاؤ کتنا سونا ہے تم نے ۔وہ جوگنگ کرکے واپس آیا تب بھی وہ مزے سے سو رہی تھی ۔

روح اب تم نہیں جاگی تو میں تمہیں اپنے طریقے سے جگاؤں گا ۔

یار م نے ہمیشہ کی طرح دھمکی دی لیکن شاید وہ گھوڑے گدھے بیچھے سو رہی تھی

لڑکی اب میری کوئی غلطی نہیں ہے

اب تم خود مجھے مجبور کر رہی ہو کہ میں تمہارے ساتھ کچھ ایسا ویسا کروں وہ مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ لیٹ گیا

روح میں آخری بار کہہ رہا ہوں یارم نے اسے آخری دھمکی دی اب مجھ سے کوئی شکایت مت کرنا

یارم کہتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا اور بھرپور اسقحاق سے اس کے لبوں پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی ۔

اپنے اوپر وزن محسوس کرکے روح فوراً جا گی ۔

بہت ہی گندے انسان ہیں آپ روح اسے دھکا دیتے ہوئے بولی جب کہ یارم کا قہقہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا

میرے پاس تمہیں جگانے کا اتنا اچھا طریقہ ہے تو میں سوچتا ہوں میں اتنی محنت کیوں کرتا رہتا ہوں

وہ اب بھی ہنستے ہوئے بول رہا تھا ۔

یارم آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں وہ اسے خود سے دور کرتی اٹھ کو واش روم میں جانے لگی جب یارم کا فون بجنے لگا ۔

ُہاں صارم بولو کیوں فون کیا مجھے

یارم کا موڈ صبح صبح بھگڑ گیا

پہلے اپنا موڈ ٹھیک کرو پھر بتاتا ہوں صارم خوشگوار لہجے میں مخاطب ہوا ۔

صارم میرا اس وقت تم سے بات کرنے کا بالکل بھی کوئی ارادہ نہیں ہے ۔

میں تمہاری بکواس سننے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہوں وہ فون بند کرنے لگا کہ صارم بول پڑا ۔

میں باپ بن گیا ہوں ۔۔صارم نے جلدی سے کہا

کیا بول رہا ہے یارعروہ ٹھیک ہے نہ یارم نے فورا پوچھا ۔

میں اور روح دس منٹ میں تیرے گھر پہنچ رہے ہیں یار م نے کہا ۔

ارے گھر نہیں ہم ہوسپٹل میں ہی میں تجھے ایڈریس سینڈ کرتا ہوں ۔

اور اکیلے مت آنا سب کو لے کے آنا میں چاہتا ہوں میری خوشی میرے سب دوست شامل ہوں صارم نے کہا ۔

ٹھیک ہے میں سب کو بولتا ہوں ۔

روح تم جلدی سے تیار ہو جاؤ میں خضر اور شارف کو فون کرلوں ۔

تیار کیوں ہونا ہے روح نے پوچھا ۔

صارم کے گھر بے بی ہوا ہے ہم اسے دیکھنے ہسپتال جا رہے ۔

یارم نے مسکرا کر بتایا اور فون اٹھا کر باہر نکل گیا ۔

ہائے اللہ چھوٹے چھوٹے بے بی تو بہت کیوٹ ہوتے ہیں میں بھی چلوں گی وہ فورا تیار ہونے چلی گئی

یہ کتنا پیارا ہے اس کے گال کتنے ریڈہیں نہ۔ لیلیٰ اس کے چھوٹے چھوٹے گال چھوتے ہوئے بولی ۔

یہ میلا بائی نا ات لیے اتا پالا ہے(یہ میرا بھائی ہے اس لیے اتنا پیارا ہے ) مائرہ نے بیڈ پہ کھڑے ہوکر سے دیکھتے ہوئے کہا ۔

جس پر سارے مسکرانے لگے ۔

سنو مجھے بھی ایسا ہی بےبی چاہیے ۔

خضر نے لیلی کے کندھے پر تھوڑی رکھتے ہوئے پیچھے سے بےبی کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

مجھے بھی کب لا کے دے رہے ہو لیلیٰ اس کی طرف پلٹ کر پوچھنے لگی ۔

میں نہیں لا کے دے رہا تم لا کے دو گی خضر نے فورا کہا

اب میرا دماغ اتنا بھی حراب نہیں ہے کہ میں اپنا بچہ تمہیں دے دوں گی ۔

لیلی اسے گھور کر بولی۔

کیا مطلب ہے لیلی بےبی ہم دونوں کا ہوگا خضر کو آج ہی پریشانی کھانے لگی ۔

بلکل نہیں پہلا بےبی میرا اکیلا ہوگا اس کے بعد تمہیں لے لینا سارے کے سارے لیلی نے دریادلی دکھاتے ہوئے کہا ۔

کیا مطلب کے سارے میں لے لوں خضر پوری آنکھیں کھل گئی ۔

کتنے بچے ہونگے ہمارے ۔۔۔خضر نے انگلیوں پر گنتے ہوئے پوچھا ۔

دیکھو خضر مجھے بہت سارے بچے چاہیے مجھے بچے بہت اچھے لگتے ہیں ۔

اور میں نے تو اتنے سارے نام سوچ کے رکھے ہیں میں سارے کے سارے نام رکھوں گی اپنے بچوں کے لیلیٰ نے ایک نظریے سے دیکھا اور پھر بےبی کی طرف متوجہ ہوگئی ۔

جبکہ خضر صرف سر ہلا کے رہ گیا ۔

ہائے کتنا پیارا ہے نہ معصومہ کب سے اسے لیے اڑے جا رہی تھی

ان شاءاللہ شارف آہستہ سے اس کے کان میں بڑبڑا کر پیچھے ہوا ۔

جبکہ معصومہ شرم و حیا سے اپنا سر تک نہ اٹھا پائی تھی

اب مجھ سے صبر نہیں ہوگا مجھے میرا بےبی چاہیے یارم ضدی انداز میں اس کے کان کے قریب بولا ۔

ہم ہوسپٹل میں ہیں روح نے یاددلاتے ہوئے اسے گھورا ۔

ہاں تو کیا ہوسپٹل میں ہم اپنےبےبی کے بارے میں بات نہیں کر سکتےیارم نے اسے اور زیادہ گھورا ۔

یارم کبھی تو سیریس ہو جایا کریں ۔

روح شرماتے ہوئے عروہ کے قریب جا کر روکی ۔