Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Last Episode pt2
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode pt2
صاحبہ گھر پہنچی تو سب لاونج میں حیران اور پریشان بیٹھے تھے ۔صاحبہ نے ایک نظر سب پہ ڈالی اور کہا۔
کیا بات اپ سب ایسے کیوں بیٹھے ہیں اور زرقان کہاں ہے؟؟
بیٹا زرقان پاکستان چلا گیا ابھی ایک گھنٹے میں اسکی فلائٹ ہے ۔
واٹ صاحبہ شاکڈ کی کیفیت میں چیخی ۔۔
مگر کیوں پاپا؟؟
پتہ نہیں بیٹا بس تمہارے لیے یہ خط دے کرگیا ہے۔۔
صاحبہ نے خط لینے سے پہلے کہا۔
زرقان کی فلائٹ میں ہم سب جائئنگے پاپا اپ لوگوں کے پاس صرف 20۔منٹ ہے جو کرنا ہے کرلے پاپا ٹکٹ بک کروائے ابھی اور زارا تم بھی پیکنگ کرو فٹافٹ ۔۔
زارا نے پہلے ایک نظر غفران کو دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا اور گھورنے کا مطلب صاف تھا کے وہ منع کردے جانے سے اور پھر صاحبہ جو خط پڑھتی جارہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے دانت بھی پیس رہی تھی اور دوسری طرف سرور صاحب ٹکٹ کنفرم کروارہے تھے۔۔
صاحبہ بیٹا ٹکٹ کنفرم ہوگئ ہے
20 منٹ میں جو کرسکتے ہو کرلو ۔۔
زارا تم آو میرے ساتھ صاحبہ زارا کو لے کر اپنے کمرے میں گئ اور ضروری سامان کی پیکنگ کرنے لگی تو دوسری طرف سرور سارے نوکروں کو ہدایت دے رہا تھا اچھے سے گھر کا دیھان رکھنے کی غفران نے بھی اپنی تھوڑی بہت پیکنگ کی اور جلدی سے روم سے باہر نکلا زارا جو تیزی میں نیچے اتر رہی تھی سیڑھی پہ اسکا پاوں ایک دم سلپ ہوا اس سے پہلے زارا سیڑھیوں سے لڑکتی اسکے پیچھے اتا غفران اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے طرف کھینچ چکا تھا ایک چیخ کیساتھ زارا غفران کے سینے سے لگ گئ۔
مگر غفران جو لمہحہ بھر کیلیے مہبوت ہوچکا تھا زارا کے اتنے قریب اکے اسے فورا خود سے دور کیا اور کہا۔۔
“دیکھ کے نہیں چلتی بیوقوف کہی کی”
اور اسے وہی سیڑھیوں پہ چھوڑ کے نیچے چلا گیا صاحبہ جو سب دیکھ چکی تھی دھیرے سے زارا کا ہاتھ تھاما اور کہا۔۔
اگر ایک دن میرے اس بھائ نے تمہیں جانو نہ کہا تو نام بدل دینا میرا۔۔
چلو اب دیر ہورہی ہے۔۔۔..
زرقان آنکھیں بند کرکے پلین ٹیک اوف ہونے کا ویٹ کررہا تھا کئ آنسو اسکے گالوں پہ بہہ رہے جب کوئ اسکے برابر میں اکے بیٹھا۔۔
زرقان نے سرسری سی نظر اپنے برابر بیٹھنے والے پہ ڈالی مگر چونک کے سیدھا ہوا اور کہا۔۔
“غفران تم یہاں کیا کررہے ہو”؟؟؟
ارے بھائ رک جائے ابھی سے شاکڈ ہوگئے اپ تو زرا گردن گھما کے دیکھا شاید پل بھر کیلیے اپکی سانس بھی رک جائے۔۔۔
زرقان نے گردن گھما کے دیکھا تو صاحبہ خونخوار نظروں سے اسے ہی گھور رہی تھی اور اسکے برابر میں بیٹھی زارا نے تو باقاعدہ ہاتھ بھی ہلایا۔
اور چاچو کہاں ہے؟؟
تمہارے اگے ہے تھمہارے چاچو زرقان کی اگے سیٹ پہ بیٹھے سرور صاحب نے گردن موڑ کے کہا۔۔
بیٹا جتنے خطرناک تیور سے صاحبہ نے مجھے 20 منٹ کا ٹائم دیا تھا پاکستان کی ٹکٹ کنفرم کروانے کیلیے اب تو ایسا کیا خط میں لکھ کے ایا ہے جواب دینا اسے۔۔
زرقان نے دوبارہ گھوم کے صاحبہ کو دیکھا جو انکھیں موند کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا چکی تھی۔۔
مسلسل فون کی رنگ سے قاسم کی نیند میں خلل پڑا زرغہ بھی تھوڑی ڈسٹرب ہوئ مگر کروٹ لے کے سو گئ۔۔
فون کان سے لگا کےجو خبر قاسم کو سننے کو ملی قاسم نے بس اتنا کہا۔
اپ آپریشن شروع کرے میں ارہا ہو ۔۔
زرغہ قاسم کی پریشانی پہ اٹھ کے بیٹھ گئ اور کہا۔۔
“کہاں جارہے ہیں قاسم اس وقت ؟؟
زرغہ راجا کو بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ابھی میرے دوست کا فون آیا تھا جو پولیس میں ہے فورن اسکے کا اپریشن کرنا پڑے گا ورنہ اسکو بچانا ناممکن ہے۔۔
کوئ ضرورت نہیں کہی جانے کی اچھا ہے مرجائے۔۔۔
زرغہ ۔۔۔۔
قاسم اتنی زور سے چیخا کے پل بھر کیلیے زرغہ ڈر گئ قاسم اپناوولٹ اور گاڑی کی چابی اٹھا کے تیزی سے باہر نکلا۔۔۔۔
3 گھنٹے بعد اپریش ٹھیڑ کا دروازہ کھلا ۔۔
ڈاکٹر نے قاسم کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔۔۔
You friend is not fine but opretion is successful
ڈاکٹر کے جانے کے بعد راجا کو روم میں شفٹ کیا گیا وہ فلحال بیہوش تھا مگر جب قاسم نے اسے دیکھا تو بہت مشکل سے اپنی چیخ کا گلا گھونٹا۔۔۔
راجا کا آدھا چہرہ بری طرح ڈیمج ہوچکا تھا ۔۔
گاڑی جیسی ہی ڈس بیلنس ہوئ راجا گاڑی سے باہر گرا مگر دھماکہ اتنا شدید تھا کے کچھ لوہے لے ٹکڑے راجا کے چہرے پہ اکے لگے لوہے کے ٹکڑے گرم تھے جبھی راجا کے چہرے کی چربی تک باہر لے آئے تھے۔۔
راجا پوری رات ہسپتال میں رہا قاسم بھی اسکے ساتھ رہا راجا کے خالی چہرے کو شیشے کے ایک باکس میں رکھا تھا ۔۔
صبح راجا کو ہوش آیا ایک نرس نے اکے اسکا باکس ہٹایا اور اسکو دوائ دی جب راجا نے قاسم کو دیکھا تو بلک بلک کے روپڑا اپنے یار کی ایسی حالت دیکھ کے قاسم کی بھی انکھوں سے انسو جاری تھے راجا نے قاسم کو اشارے سے پاس بلایا اور کہا۔۔
“زرغہ کو لا”
قاسم بنا دیر کے زرغہ کو لینے پہنچا۔۔
زرغہ نے بھی قاسم کی آنکھوں میں آنسو دیکھ لیے تھے اس لیے بنا بحس کیے قاسم کے ساتھ چل پڑی راجا کے روم میں جاکے جیسے ہی اس نے راجا کا چہرہ دیکھا چیخ کے قاسم کے سینے سے لگ گئ۔۔۔
قاسم اسکا ہاتھ پکڑ کے راجا کے پاس لایا ۔۔
زرغہ کو دیکھ کے راجا نے زرغہ کے اگے ہاتھ جوڑ دیے اور رونے لگا بلا جھجھک زرغہ نے قاسم کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے قاسم نے ہاں میں گردن ہلائ زرغہ نے بلا جھجھک راجا کے جڑے ہاتھ تھام لیے اور کہا ۔۔
“میں نے تمہیں معاف کیا تمہیں راجا”
اور ڈور کے قاسم کے سینے سے لگ گئ۔۔۔
وہ سب ایک ساتھ گل شیر ولا پہنچے۔۔
سب ہی سکتے میں تھے قاسم کو اپنے پاوں پہ کھڑا دیکھ کے اور بہ جان وہ تو اتنے سالوں بعد اپنے لخت جگر کو دیکھ کے روتے روتے ہوئے اسکے گلے لگ گئ غفران اور زارا چپ چاپ کھڑے تھے اور ثمرہ جسکی نظریں سرور پہ تھی اتنے سالوں بعد وہ بھی سرور کو دیکھ کے ٹھٹک گئ خرم بھائ آصفہ بھابھی صاحبہ کے صدقے واری جارہی تھی ۔
اچانک سب کی نظر غفران پہ پڑی۔۔
بی جان نے اسے اشارے سے بلایا ۔۔
غفران نے پہلے سرور صاحب کو دیکھا جنہوں نے ہاں میں گردن ہلائ غفران بی جان کے پاس گیا تو انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگالیا غفران بھی کب سے سب کے پیار کیلیے ترس رہا تھا دادی کے سینے سے لگتے ہی بلک پڑا بی جان بھی سرور کے نکاح کی سچائ جانتی تھی مگرخاموش تھی تو صرف ثمرہ کی وجہ سے سب ہی اپس میں مل رہے تھے زارا کو بھی سب نے برابر کا پیار دیا سب کو اس یتیم بچی سے دلی۔ہمدردی تھی۔۔
ثمرہ نے ایک نظر سب پہ ڈالی اور خاموشی سے وہاں سے جانے لگی جب سرور نے تیزی سے اکے اسکا ہاتھ تھام اور اپنے اور اسکے محلق کمرے میں لے گیا سب نے ہی یہ سرور کا یہ عمل دیکھا مگر بولا کوئ کچھ نہیں
زرقان بھی اپنے کمرے میں چلا گیا غفران اور زارا کو بھی اپنے اپنے کمرے دیکھا دیے۔۔۔
سرور صاحب نے کمرے میں اکے ثمرہ کا ہاتھ چھوڑا اور کمرے کا دروازہ بند کرکے ثمرہ کی طرف بڑھا وہ سائیڈ میں سے گزرنے لگی جب سرور نے پھر اسکا راستہ روکا ۔۔
ثمرہ نے نگاہ اٹھا کے سرور کو دیکھا انکھیں آنسووں سے لبریز گلے میں پھندا سا لگ رہا تھا بہت مشکل سے ہمت جتا کے کہا۔۔
میرا راستہ چھوڑے سرور ۔۔
تمہارے سارے راستے مجھ تک اتے ہیں ثمرہ یہ کہہ کے سرور نے ثمرہ کو سینے سے لگالیا اور کہا۔۔
سب بھول جاو ثمرہ جانتا ہو تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئ مگرتم نے بھی تو میرے ساتھ ناانصافی کی میں پچھلا سب کچھ بھول کے آیا ہو ثمرہ تم بھول۔جاو۔۔
ورنہ موت اگے کی بات اس سے پہلے سرور مکمل کرتا ثمرہ تیزی سے الگ ہوئ اور کہا۔۔
ہاں بس یہ ہی اتا ہے اپکو میری محبت میں شراکت کرتے ہوئے اپنے نہیں سوچا کے میرا کیا ہوگا اس شراکت کی نشانی کو اپ میرے سامنے لے آئے میری محبت کی دھجیاں اڑا دی اپنے مجھ میں حوصلہ نہیں اب سرور میں تھک گئ ہو یہ کہتے ہوئے ثمرہ روتے ہوئے بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔
سرور سمجھ سکتا تھا ثمرہ کیساتھ غلط ہوا۔۔
“ایک عورت سب برداشت کرسکتی ہے سرور مگر اپنی محبت میں شراکت نہیں اور اپنے تو میرے حصہ میں حق میں ہی شراکت کردی جائے مجھے نہیں کرنی بات ۔۔
میں تو آیا تھا نہ تمہیں منانے معافی مانگنے تم نے مجھے قبول ہی نہیں کیا سرور بھی اسکے برابر میں بیٹھ کے کہنے لگا۔۔
ہاں تو میرے ایک بار کے کہنے پہ اپ چلے گئے مجھے اکیلا چھوڑ کے یہ بھی نہیں سوچا کیسے رہونگی اپ کے بغیر اپکے ساتھ کے بغیر ۔۔
سرور نے غور سے صاحبہ کو دیکھا وہ واقعی کئ سالوں کی تھکی ہوئ لگ رہی تھی سرور نے تھوڑا اگے ہوکے اسے گلے لگانا چاہا تو ثمرہ نے اسکے ہاتھ جھٹک دیے سرور کے چہرے پہ ایک شریر سے مسکراہٹ ائ اور اس نے کہا۔۔
ثمرہ تمہارا پیچھے لال بیگ۔۔۔
کہاں کہاں سرور بھگائے اسے یہ کہتے ہوئے ثمرہ سرور کے سینے سے چپک گی مگر جب احساس ہوا کے سرور نے مزاق کیا ہے تو فورا الگ ہونے لگی مگر سرور نے اب کی بار ایسا ہونے نہیں دیا اور کہا۔۔
بس اب نہیں جانا دور ثمرہ پلیز ۔۔۔
ثمرہ نے بھی اپنی آنکھی بند کی اور سرور کی کمر کو تھام۔لیا۔۔
صاحبہ کمرے میں ائ تو زرقان اپنی شڑت اتار کے بیٹھا تھا صاحبہ نے اکے کمرے کے سایئڈ میں رکھا ریکٹ اٹھایا اپنی آستینیں اوپر کی اور زرقان کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
ہاں بھئ کیا لکھ کے آئے تھے خط میں کے راجا سے شادی کرلینا میں تمہاری خوشی میں خوش ہو گھر والوں کو میں سنبھال لونگا۔۔
زرقان کو صاحبہ کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے اس نے بیڈ پہ سے اترتے ہوئے کہا۔
صاحبہ دیکھو بیٹھ کے بات کرتے ہیں یہ ریکٹ کیوں اٹھایا ہے تم نے۔۔
اوہ یہ۔ریکٹ ابھی بتاتی ہو یہ کہہ کے جیسی ہی صاحبہ نے ریکٹ زرقان کی ٹانگ پہ مارا زرقان ایک دم اچھلا اور کہا۔۔
اوہ چڑیل کیا پاگل ہوگئ ہے ۔۔
ہاں جیسے تم ہوئے تھے ادھوری بات سن کے ۔۔
صاحبہ نے جیسی ہی دوبارہ ریکٹ مارنا چاہا زرقان نے تیزی سے اسے کمرے سے تھام کے بیڈ پہ گرایا اور اسکے لبوں پہ جھک کے اسکے ہاتھ سے ریکٹ دور پھینکا ریکٹ دور جاتے ہی زرقان نے صاحبہ کے لبوں کو آزاد کیا تو صاحبہ کی۔آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔۔
زرقان جیسی ہی اپنے لبوں سے اسکے انسو چنے کیلیے جھکا صاحبہ نے آنکھیں بند کرلی۔
یار صحبو میں سمجھا تم راجا سے میں نے کال پہ سنا تھا تم ۔۔
اور پھر زرقان نے جہاں اپنی پوری کی وہی صاحبہ نے راجا کی۔دھمکی سے لے کر صاحبہ نے راجا سے کہا وہ سب بتا دیا۔۔
اوئے تو مجھ سے محبت کرتی ہے۔۔
ہاں۔۔۔
نہیں میرا مطلب پتہ نہیں صاحبہ نے شرم سے آنکھیں جھکاتے ہوئے کہا۔۔
اچھا پتہ نہیں ابھی پتہ کرتے ہیں زرقان نے یہ بول کے ہاتھ بڑھا کے لیمپ اوف کیا اور صاحبہ کے لبوں پہ جھکتے ہوئے کہا۔۔
چلو میں اپنی صحبو کو بتاتا کے میں اسے کتنا چاہتا ہو ۔۔
زرقان دھیرے سے صاحبہ کے وجود پہ چھاکے اسے اپنی محبت کا جنون بتانے لگا صاحبہ نے بھی مزاحمت چھوڑ کے زرقان کی محبت کا جواب محبت سے دیا۔۔
جاری ہے۔۔
