84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31 Part 2

تم جانتے ہو تم نے ایسا جوا کھیلا ہے جسمیں تم اندھا دھند اپنے جزبات احساسات داو پہ لگاو گے۔
نکاح کے بعد قاسم کو دادو نے اپنے کمرے میں بلایا وہ زرغہ کی اصلیت سے واقف تھے مگر قاسم کے زرغہ کیلیے جزبات فلحال انکی سمجھ سے باہر تھے۔۔
جانتا ہو دادو مگر اتنے سال گناہ کےراستے پہ چلتے چلتے کتنی لڑکیوں کیساتھ شامیں گزار چکا ہو مگر دادو میں نے کبھی ایسا راستہ نہیں اپنایا جس پہ چل کے میں اپنے ضمیر سے دور ہوجاو ۔ مڑ کے کبھی نہیں دیکھا کے اپنے پیچھے کتنے گناہ چھوڑ کے اگے چل رہا ہو بہت لڑکیاں آئ اپنی۔مرضی سے آئے دادو مگر کبھی انکا فائدہ نہیں اٹھایا زنا جیسے گناہ سے میں اج بھی پاک ہو ۔۔
زرغہ کیساتھ ہی کیوں نکاح کیا درخشاہ(خالہ کی بیٹی) میں کیا برائ تھئ۔۔۔؟؟،
درخشاہ مجھ سے 15 سال چھوٹی ہے دادو اور نیلم کی چھوٹی بہن میرے نزدیک وہ میری پلوشہ جیسی ہے میں اسکی معصومیت روندھ دو اپنے اکیلے پن کی خاطر ابھی اتنا بے حس نہیں ہوا ۔۔
زرغہ راجا سے محبت کرتی ہے ایک ایسی لڑکی پہ بھروسہ کر سکتے ہو جو کسی انجان کیلیے اپنا سب کچھ داو پہ لگا چکی ہو یہاں تک کے اپنے ماں باپ کی عزت بھی غیر مردوں کیساتھ گھومتی پھرتی ہو کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے راجا نے اسے بخشا ہوگا وہ پاک ہوگی۔؟؟
راجا نے اسکے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرا ایسی میری قسمت کہہ لے یہ پھر زرغہ کے ماں باپ کی کوئ نیکی جو اسکے کام آئ۔۔
راجا کو اس میں انٹرسٹ نہیں تھا دادو۔۔۔
اور تم ؟؟
میں شاید اس سے محبت کرنے لگا ہو اسکا میرے سامنے منتیں کرنا خود کو مارنے کی دھمکی دینا مجھے ایسا لگا دادو جیسے ایک بار پھر نیلم کھڑی ہے اور ان لڑکوں کی جگہ میں ہو مجھے نہیں پتہ مجھے کیا ہوا بس جب اس نے اپنے ہاتھ کی نس کاٹی نیلم کی جھلک اسمیں دیکھی مجھے ایسا لگا اگر اج میں نے اس کے ساتھ غلط کیا تو ایک اور نیلم زندگی کی بازی ہار جائے گی ۔۔
ہمممم ۔۔
دادو کیا وہ مجھ سے محبت کرپائے گی ؟؟ساری زندگی رہے گی میرے ساتھ؟؟۔
قاسم کسی چھوٹے بچے کی طرح دادو سے سوال کرنے لگا۔۔
دادو نے مسکرا کے قاسم کو گلے لگایا اور کہا۔۔
“عورت ایک چکنی مٹی کی مانند ہے کریگر کے ہاتھ میں ہوتا ہے چکنے مٹی کو چاہے جس شکل میں ڈھال دے۔
مرد کی مثال بھی اسی کریگر کی جیسی ہے ۔جس شکل میں چاہے ڈھال لے کیونکہ چکنی مٹی سوکھ کے ایک مضبوط مٹی بن جانتی ہے اسے پھر کسی چیز میں ڈھالنے کیلیے اسے توڑنا پڑے گا۔۔
اور ایک بار اگر عورت کسی مرد کے ہاتھوں ٹوتتی ہے تو پھر اسے جوڑنا مشکل ہوتا ہے۔ “
باقی ابھی وہ کچھا گھڑا ہے اب سوچ لو پکا کیسے کروگے ۔۔وییسے عمر میں تم سے بہت چھوٹی ہے برخودار۔
ہاں مگر دادو ہے پوری پٹاخہ ۔۔
اخر کی بات پہ وہ دادا پوتے دل کھول کے مسکرائے۔
قاسم نے دادو کے ہاتھ چومے اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا اپنی پٹاخہ کے پاس۔۔
راجا پاکستان واپس اچکا تھا صاحبہ کی بارے میں سب کچھ جان چکا تھا دل تو اسکا چاہ رہا تھا کے دو چماٹ صاحبہ کے لگائے اور اس کو ہوش میں لائے کے ساری زندگی ایک معزور کیساتھ گزاری نہیں جاسکتی راجا نے زرقان کے ڈاکٹر سے اسکا کزن بن کے اسکی ایک ایک ڈیٹیل لی تھی۔۔
ڈاکٹروں کے مطابق اسکے ٹھیک ہونے کے جانسس نہ ہونے کے برابر تھے۔۔
راجا کے پاس ایک اور موقع تھا صاحبہ کو راضی کرنے کا اسے اپنا منانے کا مگر یہ اسکی خام خیالی تھی۔۔
تین دن سے وہ صاحبہ کے گھر کے باہر تھا اسکے باہر نکلنے کا انتظار کرتا تھا تاکے جس دن وہ باہر نکلے اس سے اپنے ساتھ بیوفائ کی سزا دے اس سے پوچھے کے کیوں اس نے اسکی جگہ کسی اور کو دی۔۔۔۔
اج بھی ایسی صبح وہ باہر اسکا ویٹ کررہا تھا جب وہ باہر نکلی لائٹ فیروزی سوٹ میں ہم۔رنگ اسکارف پہنے ۔۔
راجا کے دل جیسے ساکن رہ گیا اتنے ٹائم بعد اسکو دیکھ کے اپنی پیاس بجھا رہا تھا وہ فائل سے الجھتی ہوئ گاڑی میں بیٹھ گئ۔
بہت زیادہ آصفہ کے اصرار پہ اج وہ اپنی یونی میں اپنے ڈاکومینٹ جمع کرانے آئ تھی یونی سے وہ فارغ ہوچکی تھی مگر فورمیلیٹی باقی تھی۔۔
صاحبہ یونی کے اندر داخل۔ہوئ اور راجا بھی مگر اندر جاکے راجا رک گیا صاحبہ ایک دم غائب ہوگئ تھی راجا تیز تیز اگے بڑھ رہا اور پلر کے پیچھے کھڑی صاحبہ نے سکھ کا سانس لیا ۔۔
صاحبہ اترنے لگی جب اس نے راجا کی گاڑی دیکھ کے بھی ان دیکھی کری وہ راجا کو ظاہر کو کرنا نہیں چاہتی تھی کے وہ ایسے دیکھ چکی ہے۔۔ صاحبہ نے فٹافٹ اپنے ڈاکومینٹ جمع کروائے اور یونی کے پیچھے بنے حال سے یونی سے باہر جانے لگی جب ایک دم راجا اسکے سامنے ایا آنکھوں میں آنسو ہزاروں شکوے لیے وہ صاحبہ کو گھور رہا تھا ۔۔
صاحبہ نے ایک۔نظر اسکی بھیگتی آنکھوں میں دیکھا اور سائیڈ سے نکلنے لگی جب راجا نے اسکو اپنی طرف کھینچ کے اسے ہال کی دیوار سے لگایا۔۔
صاحبہ کا دل تھا کے حلق میں اچکا تھا وہ جس چیز سے بچ رہی تھی اپنا نمبر تک بدل چکی تھی اپنا کمرہ تک بدل چکی تھی کھڑی دروازے ہمیشہ لاک کرکے رکھتی تھی تاکہ راجا کا سامنا نہ ہو مگر پھر وہ اسکے سامنے کھڑا تھا اس کے اتنا قریب کے راجا کی سانسی صاحبہ کے چہرے کو چھو رہی تھی۔۔
راجا۔مدہوشی کے عالم میں صاحبہ کے لبوں پہ جھکنے لگا تبھی صاحبہ اسے اپنے اپ سے دور کیا اور رکھ کے راجا کے منہ پہ چماٹ مارا اور کہا۔۔
شرم آنی چاہیے اپ کو یہ کیا کررہے تھے اپ میرے ساتھ؟؟
شادی شدہ ہو میں۔۔
راجا نے ایک۔زخمی مسکراہٹ کیساتھ اسے دیکھا اور دوبارہ اسے پلر سے لگایا راجا کی آنکھوں سے تواتر آنسوجاری تھے۔۔
راجا نے بھی کہا۔
اور تمہیں شرم نہیں آئ کسی اور کا ہاتھ تھامتے ہوئے۔۔
میں مجبور تھی۔۔
تو میرا کیا قصور تھا۔۔
مجھے جانے دے زرقان کو میری ضرورت ہے ۔
اور مجھے میں کہاں جاو ۔۔
اب کو کوئ اور مل جائے گی۔۔
اس معزور کو بھی مل جائے گی۔
میں اسے چھوڑونگی تب نہ ۔۔
صاحبہ نے بے خوف ہوکے کہا۔۔
عزت کی زبان سمجھ میں نہیں آرہی تمہارے؟؟
چاہتی کیا ہو کیوں ہر بار میرا امتحان لیتی ہو ؟؟
دیوار سے لگائے وہ صاحبہ کے روبرو کھڑا تھا۔۔مگر آج وہ یہ دیکھ کے حیران تھا کے سامنے کھڑی لڑکی جو اسکے سائے سے بھی ڈرتی تھی آج اسکی آنکھوں میں ڈر نہیں تھا۔۔
یہ دیکھ کے راجا جہاں حیران تھا ۔وہی پریشان بھی۔۔
تمہارے قابل نہیں ہے صاحبہ وہ سمجھتی کیوں نہی تم؟؟
تم ہوتے کون ہو مجھے سمجھانے والے وہ میرا شوہر ہے میں مرتے دم تک اسکے نام سے اسکی ذات سے جڑی رہونگی۔۔صاحبہ نے اپنی پوری طاقت سے راجا کو خود سے دور کیا۔۔۔اور راجا کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کے کہا۔۔
صاحبہ کا کہنا تھا کے راجا کا قہقہہ پورے ہال میں گونجا۔۔
اچھا اچھا وہی شوہر نہ جس نے تمہیں اپنی بیوی کا مقام دینے سے زیادہ اسان معذوری کو گلے لگانالگا۔۔۔۔
جو چاہے سمجھو میں تمہیں صفائ دینے کی پابند نہیں۔۔
ٹھیک ہے تو پھر تم نے اپنا راستہ چنا میں اپنا چنونگا دیکھتے ہیں تم کتنا چل۔پاتی ہو اس راستے پہ انا تمہیں مجھ تک ہی ہے کیونکہ تم۔صرف میری ہو صاحبہ کہا تھا نہ میں اگ لگادونگا پوری دنیا کو اگر تم مجھ سے دور ہوئے راجا نے الٹے قدم اٹھاتے ہوئے بے دردی سے اپنے آنسو پونچے اور کہا۔۔
تم صرف میری ہو یہ یاد رکھنا اور یونی سے چلا گیا۔۔
جاری ہے۔۔