84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

صاحبہ میں معزرت چاہتا ہو تم سے یہ ۔۔۔
خرم صاحب اور صاحبہ ائیرپورٹ پہ بیٹھے تھے جب صاحبہ کی گردن جھکی دیکھ کے خرم صاحبہ نے کہا۔
نہیں نہیں تایا ابو ایسا مت بولے میں اپ سے معذرت کرتی ہو اپی کی وجہ سے ۔۔
ارے نہیں بیٹا میں تم سے یہ بھابھی سے خفا نہیں ہو شاید قسمت میں لکھا تھا ایسا بس افسوس اس بات کا ہے کے زرغہ نے غلط راستہ چنا ایک بار مجھ سے تو کہتی کے تایا جان میں زرقان سے شادی کرنا نہیں چاہتی میں اسکے لیے اسٹینڈ لیتا ہر قیمت پہ لیتا ۔۔
پتہ ہے تایا ابو اس وقت مجھے پاپا بہت یاد ارہے ہیں ماں کیساتھ اولاد کو باپ کی ضرورت ہوتی ہے بیشک اپنے ہمیں پاپا کی کمی کبھی محسوس ہونے نہیں دی مگر تایا ابو پاپا کو ہمارے یاد نہیں آتی اپی تو انکی۔گودھ میں کھیلی ہے مگر میں میں تو انکے احساس سے بھی محروم ہو ایسا بھی کیا شوق تھا تایا ابو انہیں جو وہ اپنی دوسری اولاد کی شکل بھی دیکھنے نہیں آئے۔۔
جانتا ہو صاحبہ کئ سوال تمہارے دل میں ہیں مگر جیسا تم سمجھ رہی ہو وہ آدھا سچ ہے تمہارے پاپا بیشک غلط راستے پہ چلے مگر واپسی کا سفر ابھی انکا جاری ہے۔۔
میں سمجھی نہیں تایا؟؟
اس سے پہلے خرم صاحب کچھ اور بولتے فلائٹ اناونس ہوگئ۔۔
تایا ابو اپ جائے ابھی گھر میں سب ہو اپکی ضرورت ہے ۔۔میں ٹھیک ہو چلی جاونگی وہاں پہنچ کے اپکو کال کرونگی۔۔
ٹھیک ہے بیٹا اپنا خیال رکھنا بہت ذیادہ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو مجھے لازمی بتانا خرم صاحب نے یہ کہہ کے صاحبہ کے سر پہ ہاتھ رکھا تو خرم صاحب کیساتھ ساتھ صاحبہ کی بھی آنکھیں جھلک پڑی ۔۔
خرم صاحب جانے لگے جب انہوں نے مڑ کے کہا۔۔
جس شہر تم جارہی ہو صاحبہ میری دعا ہے وہاں تمہیں تمہارے سارے سوالوں کے جواب مل۔جائے۔۔۔

#

ادھر آو میرے پاس لٹل گرل آو نہ۔۔
راجا مسلسل صاحبہ کو اپنے پاس بلا رہا تھا مگر صاحبہ تھی کے اس سے دور جارہی تھی ۔۔۔
ایک دم راجا کی آنکھیں کھل گی۔۔۔
اس نے ایک سیکنڈ کیلیے ہسپتال کی چھت کو گھورا اور تیزی سے بیڈ سے نیچے اترا ڈرپ کی سوئ کھیچنے کی وجہ سے راجا کے ہاتھ سے خون نکلنے لگا گلنار بیگم جو راجا کے بیہوش ہوتے ہی ڈاکٹر کو بلانے گئ تھی واپسی پر راجا کو ایسا کھڑا ہوتا دیکھ وہ ڈور کے اس کے پاس آئ ساتھ میں انکے ڈاکٹر بھی تھے۔۔
راجا تم کہاں جارہے ہو؟؟
مجھے جانے دیں ماما وہ چلی جائے گی جانا دیں مجھے۔۔
راجا تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہے میرے بیٹے پلیز لیٹ جاو دیکھو تمہارے ہاتھ سے کتنا خون نکل رہا ہے۔۔
نہیں نہیں راجا نے ایک دم چیخ کے کہا۔۔
مجھے جانا ہے سنا نہیں اپنے گلنار بیگم راجا کی چیخ پہ ایک دم ڈر گئ اور ڈاکٹر کو کچھ اشارہ کیا۔۔
ڈاکٹر نے اگے بڑھ کے دو تین وراڈ بوائے کیساتھ راجا کو قابو کیا اور اسے نیند کا انجیکشن لگادیا۔۔
مجھے۔۔جا۔۔ن۔۔دے صاحبہ۔راجا اتنا بول کے نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔۔

#

فلائٹ اناونس ہوتے ہی صاحبہ اندر کی جانب چل پری جہاز میں بیٹھ کے اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔اس کے دماغ میں راجا کی باتیں چلنے لگی۔۔
ویسے جانی۔۔
اوہ ہیلو یہ جانی کون ہے؟؟۔
صاحبہ راجا کے جانی بولنے پہ ایک دم بولی دونوں فون پہ لگے تھے۔۔
ارے تم ہونا میری جان جگر جانمن اچھا سنو تو پتہ ہے مجھے تم سے پورے پورے 11 بچے چاہیے پوری کرکٹ ٹیم بناونگا۔۔۔
راجا کچھ تو شرم کرلے آپ افف میں فون رکھ رہی ہو۔۔
اچھا رکھو تم فون دو منٹ میں تمہارے گھر اجاونگا۔۔
تو ایسے باتیں نہیں کرے نہ پلیز ۔۔
اچھا پھر کیسے باتیں کرو پتہ ہے مجھے بہت بے چینی سے تمہارے لبوں کو چومنے کا انتظار ہے ہائے جب تم میرے گلے میں اپنی باہنوں ڈالی ہوگی اور میں تمہیں کمر سے تھام کے تمہارے لبوں پہ جھکا ہوگا۔۔
بہت ہی کوئ بیہودہ انسان پے اپ راجا شرم کی کوئ گولی ہی کھالے آپ ۔۔
کیوں بھئ میں شرم کیوں کرو اپنی ہونے والی بیوی سے رومینس کرو گا۔۔
ہاں تو ابھی بیوی بنی تو نہیں نہ زیادہ خیالی پلاو مت بنائے ایسا نہ ہو اپ سےپہلے مجھے کوئ اور اڑا لے جائے ۔۔
صاحبہ یہ بول کے ہنسنے لگی مگر اگے سے صرف خاموشی تھی صاحبہ کو بھی احساس ہوا کے وہ غلط بول گئ جب اس نے دھیرے سے کہا۔۔
“راجا”؟؟
جان سے ماردنگا تمہیں بھی اور جو تمہیں مجھ سے چھینے گا اسے بھی تم صرف میری ہو صاحبہ ۔۔
یادوں سے ملاقات کرکے جیسے ہی صاحبہ نے اپنی آنکھیں کھولی آنسوں نے اسکی آنکھوں کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔۔جہاز اپنی اڑان بڑھنے کیلیے تیار ہوا سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے اچانک اسکے کانوں میں آواز گونجی۔۔
صاحبہ سرور کیا اپکو زرقان خرم سے نکاح قبول ہے۔۔
پل کیلیے صاحبہ کے ہاتھ تھمے۔
زندگی کی اتنی بڑی حقیقت تو وہ بھول ہی گئ تھی ۔۔
صاحبہ نے سیٹ بیلٹ باندھ کے فلحال اپنی ساری سوچوں کو اپنے دماغ سے نکالا بس ایک ہی جملہ اس کی زبان پہ رہا۔۔
“مجھے معاف کردینا راجا “”
“تیری یادوں میں لکھے جو لفظ دیتے ہیں سنائ۔۔
بیتے لمحے پوچھتے ہیں کیوں ہوئے ایسے جدا۔۔خدا۔۔
خدا ملا جو یہ فاصلہ ہے۔خدا تیرا ہی تو فیصلہ ہے۔۔۔
خدا ہونا تھا وہ ہوگیا ہے۔۔جو تونے تھا لکھا۔ ۔۔۔”
اور جہاز نے تیزی سے پاکستان کی سر زمین کو آخری الوداع کہا۔۔

#

قاسم تھوڑی دیر بعد کمرے میں آیا تو زرغہ ہوش وخروش سے بیگانہ بیڈ پہ لیتی تھی۔۔۔۔۔
قاسم دھیرے سے چلتا ہوا اس کے بیڈ تک آیا اسکا ڈوپٹہ سے بے نیاز حسین سراپا قاسم کا دل بے ایمان کرنے لگا کوئ گناہ کرنے کیلیے اکسانے لگا قاسم نے جھک کے ایک نظر سوئ ہوئ زرغہ کے چہرے پہ ڈالی اس سے پہلے قاسم کوئ گستاخی کرتا زرغہ نے ایک دم اپنی آنکھیں کھولی کچھ وقت لگا اسے سمجھنے میں کے وہ کہاں ہے جیسی اسے سمجھ میں آیا اپنے اوپر جھکے قاسم کو دیکھ کے وہ ایک دم چیخ پڑی اور اپنی پوری طاقت سے اس نے قاسم کو دھکا دیا قاسم کے نیچے گرتے ہی وہ بیڈ سے نیچے اتری قاسم نے ایک غصیلی نظر اس کے چہرے پہ ڈالی اور اگے بڑھتے ہو کہا۔۔
زیادہ ڈارمے کرنے کی ضرورت نہیں میرے سامنے جانتا ہو میں تم جیسی لڑکیوں کو پہلے یاروں کیساتھ گل چھرے اڑاتے ہوئے اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکالتی ہو اور جب وہی یار جب دھوکا دے تو اپنے اپکو سب سے زیادہ معصوم سمجھتی ہو کیسے یہ سمجھ لیتی ہو کے جب ماں باپ کو دھوکا دوگی کسی اور کے پیچھے تو وہ بھی دھوکا دے گا تمہیں کسی اور کے پیچھے۔۔
میرے قریب مت آنا یہ بول کے زرغہ نے ادھر ادھر نگاہ ڈورائ تو اسے فروٹ پہ رکھی چھری نظر آئ اس نے ڈور کے وہ چھری اٹھائ اور قاسم کو دیکھاتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں میں ہو اس قابل کے میرے ساتھ راجا نے دھوکا کیا مگر میں تم جیسے کے آگےنہ تو اپنی زندگی کی بھیک مانگوگی اور نہ ہی تمہارے بستر کی زینت بنوگی۔۔
میں اپنی زندگی ختم کرلو حرام موت مجھے مرنا منظور ہے مگر تمہارے بستر کی زینت بننا نہیں۔۔
قاسم جو اسکو شیطانی نظروں سے دیکھ رہا تھا زرغہ کے لفظوں پہ قاسم کے لب سکڑے زرغہ کے جملے اسے 10 سال پیچھے لے گئے۔۔
قاسم نے ساکن لہجے اور آنکھوں سے کہا۔۔
چھری نیچے رکھو زرغہ لگ جائے گی میں کچھ نہیں کرونگا تمہیں ۔۔
زرغہ نے قاسم کی بات سن کے نفی میں گردن ہلائ اور چھری اپنی ہاتھ کی کلائ پہ چلادی۔
زرغہ۔۔۔
قاسم نے اگے بڑھ کے اسکے گرتے وجود کو تھاما اور تیزی سے ہاتھ اسکی کلائ پہ رکھا جدھر سے تیزی سے خون جاری تھا۔۔
زرغہ نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے صرف اتنا کہا۔۔
میرے قریب مت آنا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔