Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
میں کیا بولو پاپا ؟؟
میری خود کچھ سمجھ میں نہیں ارہا ۔
اگر ماما کو تارا کے بارے میں بتایا تو انکی طبیعت کا ڈر ہے اور تارا مجھے تو ابھی تک یہ نہیں پتا کے وہ ہے کیسی؟؟ اسکو تنہا چھوڑ کے میں آگیا اج 6 دن ہوگئے ہیں پاپا۔۔
6 دن بعد میں جاو اور جاکے اسکو بولو کے اس مہینے کے آخر میں میں شادی کررہا ہو سوری تارا میں تمہاری محبت میں شریک کررہا ہو کسی کو ۔۔
یہ بول کے ازان نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا اسکے سامنے بیٹھے زمان صاحب کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئ کئ وہ اتنا بے بس اس سے پہلے کب ہوئے۔۔۔
۔سر اپکی مینٹنگ ہے دو بجے۔۔۔
زمان صاحب کی سیکٹری نے ازان کے کیبن میں آکے انہیں اطلاع دی۔۔
اوکے تم سب فائنل کرو میں آتا ہو۔
زمان صاحب کے بولنے پہ سیکٹری چلی گئ۔
تم اج چلے کیوں نہیں جاتے تارا کے پاس ازان میں سنبھال لونگا تمہاری موم کو۔۔
ہاں پاپا میں بھی یہ ہی سوچ رہا ہو اج جارہا ہو میں تارا کے پاس رکھتا ہو اسکے سامنے بھی اپنی بے بسی کی داستان دیکھتے ہیں آگے کونسا راستہ اللہ نے میرےلیہ چنا ہے۔۔
#
راجا کب تک ایسے رہوگے پورا ایک دن ہوگیا ہے تمہیں ہسپتال سے آئے نہ کھاتے ہو نہ پیتے ہو بس آسمان کو تکتے رہتے ہو یہ پھر اپنے ہاتھوں کو ۔۔۔
راجا نے گلنار بیگم کی کسی بات کا جواب نہیں دیا ڈھلتے سورج کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر اسکی آنکھیں بھیگنے لگی۔کچھ سوچتے ہوئے راجا نے اپنے آنسو صاف کیے اور گلنار بیگم سے کہا۔۔
اب میری نیویارک کی ٹکٹ کنفرم کروائے آج ۔۔
کیوں نیویارک کیا کرنے جارہے ہو اس لڑکی کے پیچھے جس نے نکاح پہ سائن کرتے ہوئے ایک بار تمہارا نہیں سوچا بھاگی اسکی بہن تھی سزا کے طور پہ۔اس نے خود کو کیوں پیش کیا نہیں کرتی وہ تم سے محبت راجا اگر کرتی تو صاف انکار کرتی نکاح سے
گلنار بیگم کی کسی بات کا راجا نے جواب نہیں دیا وہ خاموشی سے پیکنگ کرنے لگا ۔۔
تم سن رہے ہو میں کیا بول رہی ہو راجا؟؟
اپ سے جو میں نے کہا ہے وہ کرے اپ مجھے پتہ ہے وہ مجھ سےبہت محبت کرتی ہےاور اس بات کا ثبوت میں اپکو دونگا ۔۔
تمہیں کیسے پتہ صاحبہ نیویارک گئ ہوگی لازمی کیا پتہ اتنے بڑے حادثے کے بعد اس نے اپنا جانا فلحال۔کینسل کردیا ہو؟؟
گلنار بیگم نے جانچتی نظروں سے راجا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
گلنار بیگم کی بات پہ راجا نے مسکرا کے کہا۔۔
وہ نیویارک گئ ہے موم کیوں کے اس کو مجھ سے بھاگنا تھا ،چھپنا تھا ،تاکے میرے سوالوں کا جواب نہ دینا پڑے ۔۔
مگر وہ بھول گئ ہے کے راجا اشفاق اسکو دنیا کے کسی کونے سے بھی ڈھونڈ کے لاسکتا ہے۔۔
لڑکیاں بہت ہے راجا ایک صاحبہ کے چھوڑنے سے دنیا رک نہیں جائے گی تمہاری ۔۔گلنار بیگم نے غصیلیے لہجے میں کہا۔۔
انکے اس لہجے پہ راجا نے پہلے انہیں گھورا اور کہا۔۔
اج تو اپنے کہہ دیا ہے اج کے بعد نہیں کہنا دوبارہ۔
“راجا اشفاق کی محبت کسی اور کی دنیا نہی سجائے گی۔۔”
(بہت بدقسمت ہے وہ مرد جیسے عورت چھوڑدے کیونکہ جب عورت چھوڑتی ہے تو کہی کا نہیں چھوڑتی)
گلنار بیگم ہار مانتے ہوئے راجا کی نیویارک کی ٹکٹ کنفرم کروادی۔۔..
#
نیلم نیلم نیچے اجاو میری جان۔۔۔
ارے قاسم تم بھی اوپر او نہ دیکھو یہ پہاڑ اوپر سے بہت زیادہ خوبصورت ہے۔۔
افف ۔۔
قاسم اور نیلم کی شادی کو ابھی چند دن ہی ہوئے تھے۔کوئٹہ کے امیر خاندان سے تعلق رکھنے والا قاسم اور اسکی خالہ کی بیٹی نیلم دونوں ہی ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔۔۔دونوں ہی گھومنے کاغان آئے تھے۔
اوہ وہ نہیں ارہا تو ہم اجائے ۔۔۔
تیں چار لڑکوں کا گروپ نیلم کے پاس موجود تھا کافی دیر سے نیلم انکی نظروں میں تھی اور وجہ اسکی بلا کی خوبصورتی تھی ۔۔
نیلم انکو اگنور کرکے جانے لگی جب ان میں سے ایک نے نیلم کا ہاتھ پکڑا اس سے پہلے وہ لڑکا کوئ گستاخی کرتا ایک زور دار مکا اس لڑکے کے منہ پہ پڑا اور مارنے والا قاسم تھا دیکھتے ہی دیکھتے وہاں تماشہ لگ گیا۔۔
جیسے تیسے قاسم نیلم کو لے کے وہاں سے نکلا۔۔
اور واپسی جانے کی تیاری کرنے لگا نیلم۔بھی۔کافی ڈر گئ تھی بیشک قاسم پٹھان تھا مگر کاغان میں اسکے اپنے نہیں تھے قاسم اور نیلم 5 بجے کے قریب کاغان سے نکلے مغرب کے وقت انکی گاڑی گھنے جنگل کے راستے پہ تھی جب انکے پیچھے کچھ گاڑیاں لگی۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے ان میں سے دو گاڑیوں نے قاسم کو اوور ٹیک کرا اور قاسم کی گاڑی کے اگے لگادی وہی لڑکے ان گاڑیوں میں سے نکلے مگر ان سب کے پاس اسلحہ تھا انہوں نے قاسم کو گاڑی میں سے گھسیٹ کے باہر نکالا اور خوب مارا قاسم کومار کھاتا دیکھ نیلم بھی گاڑی سے باہر نکل آی اور رونے لگی قاسم نے جب نیلم کو باہر دیکھا تو چیخ چیخ کے نیلم سے کہا۔۔
بھاگو نیلم میری فکر مت کرو بھاگو۔۔
میں تمہیں چھوڑ کے نہیں جاونگی قاسم۔۔۔
ادھ مرے قاسم۔کے وجود کو وہ۔لوگ وہی چھوڑ کے انہوں نے نیلم کو پکڑا وہ چیختی رہی چلاتی رہی مگر اسے سننے والا وہاں کوئ نہیں تھا قاسم نے اپنی آنکھوں کے سامنے نیلم کو دیکھتا رہا ان سب نے اسی سنسان روڈ پہ نیلم کی عزت کو روند ڈالا قاسم نے جیسی اٹھنے کی۔کوشش کی جبھی ان میں سے ایک نے قاسم کے کندھے پہ گولی ماری ۔۔
جب دو تین گاڑیوں اس روڈ پہ ان لوگوں کو اتی دیکھی انہوں نے قاسم اور نیلم دونوں کو اپنی گاڑی میں ڈالا اور پہاڑ پہ بنے اپنے کاٹیج پہ لے گئے۔۔۔
قاسم کے زخمی وجود کو وہی کاٹیج کے زمین پہ ڈالا اور پھر نیلم کو زیادتی کا نشانہ بنایا ۔۔
نیلم چیختی رہی مگر اس کا مسیحا اسکا شوہر زخمی پرندے کی طرح صرف پھڑپھڑاتا رہ گیا۔
نیلم کے ننگے وجود کو ان سب نے وہی چھوڑا اور کاٹیج سے باہر نکل گئے۔۔۔۔
نیلم نے پاس پڑی چادر اپنے گرد لپیٹی ایک نظر قاسم کے زخمی وجود کو دیکھا اور کاٹیج میں بنی کھڑکی پہ گئ جہاں سے نیچے دیکھنے پہ زندگی کی کوئ امید نہیں تھی۔۔
نہ۔۔۔۔۔میلم۔ می۔۔ری۔جا۔۔۔ن۔
نہی ۔۔۔
قاسم نے ایک بار پھر اٹھننے کی کوشش کری جب نیلم نے چیخ کے کہا۔۔
میری پاس مت آنا میں تمہارے قابل۔نہیں میری پاس نہیں آنا اور کاٹیج کی بنی۔کھڑکی سے کودھ گئ۔۔
نیلمممم۔۔۔م
قاسم کی دلخراش چیخیں بھی نیلم کو واپس نہیں لاسکی ۔۔
قاسم وہاں سے کیسے بچ کے آیا اسے نہیں پتا پوری خانم حولی سوگ میں تھی قاسم۔دن بھر چیختا رہتا نیلم نیلم پکارتا رہتا مگر بے سود قاسم نے جائز طریقے سے ہر ممکن کوشش کی ان سب کو سزا دلوانے کی مگر وہ لوگ کافی اثرسوراخ رکھتے تھےانکے بڑے کافی اونچے سیاست دان تھے اس لیے قاسم امیر ہونے کے باوجود انکا کچھ نہیں بگاڑ پایا۔
پھر قاسم نے ایک ایسا راستہ اپنایا جس میں اس نے سب سے پہلے ان سب کو جن لوگوں نے اس کی نیلم کو اسسے چھینا دردناک موت دی اسکے بعد قاسم نے شرافت کا راستہ چھوڑ کے غلط راستہ اپنایا جس میں اسکی ملاقات راجا سے ہوئ مگر قاسم کے گھر والے اج تک یہ بات نہ۔جان سکے کے قاسم دبئ میں کیا کام کرتا ہے۔۔
قاسم کی چھوٹی بہن اور بھائ میں اسکی جان تھی اسکے دادا جان اسکے ہر راز سے واقف تھے مگر وہ دیکھ چکے تھے قاسم کی شرافت نے اسے صرف مایوسی دی مگر اسکے ماں باپ اسکے اس دوسرے چہرے سے ناواقف تھے۔۔۔
پانی پانی۔۔
زرغہ کی آواز اسے ماضی سے کھینچ کے باہر لے آئ۔۔
قاسم نے اپنے آنسو صاف کیے اور نیند میں پانی مانگتی زرغہ کو اپنے ہاتھوں سے پانی پلایا ۔۔۔زرغہ پانی پیتے دوبارہ سوگئ۔
قاسم نے اپنا وولٹ نکال۔کے اس میں لگی نیلم کی۔تصویر سے مخاطب ہوکے کہا۔۔
تھک گیا ہو جان اج اللہ نے پھر مجھے ایک اور راستہ دیکھایا ہے زرغہ کی صورت میں اور اب میں یہ ہی راستہ چننے والا ہو جو میرے اللہ نے مجھے دیکھایا ہے۔۔
یہ بول کے قاسم نے زرغہ کے چہرے پہ آئے بال ہٹائے اور اسکے ماتھے پہ اپنے ل لب رکھے اور دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کے اس نے اسکے اس دلدل بھرے راستے سے اسے نکال کے اسے منزل تک پہچایا۔۔۔
#
آصفہ۔کا رو رو کر برا حال تھا پوری ایک دن ہوچکا تھا مگر زرقان کی۔کوئ خبر نہیں تھی خرم مجھے میرا بیٹا لاکے دے مجھے نہیں پتہ۔۔
یااللہ مجھے میرا بیٹا لوتادے خرم صاحب زرقان کا نمبر ملا ملا کے تھک چکے تھے اپنے دوست ایس پی سے بھی انہیں نے رابطہ کیا مگر اب تک انکی طرف سے بھی کوئ خبر نہیں ملی۔۔
سب ہی زرقان کے لیے دعاگو تھے اور وہاں موجود ثمرہ ان سب حالات کیلیے خود کو قصور وار سمجھ رہی تھی۔۔
خرم کے نمبر پہ اسکے دوست کا فون آیا اس نے جو خبر دی خرم صاحب جھٹکے سے نیچے بیٹھ گئے۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
