Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 41 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 41 Part 3
کیا بات ہے میری جان کا موڈ کیوں اوف ہے؟؟
قاسم نے غصہ میں پیکنگ کرتی زرغہ کو کمر سے تھام کے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اکیلے اکیلے جارہے ہیں نیویارک یہ نہیں ہوا کے بیوی کو بھی لیجائے۔۔۔۔
ادھر دیکھو میری طرف تمہیں نیویارک جانا ہے میرے ساتھ قاسم نے حیران ہوکے پوچھا۔۔
ہاں تو ۔۔۔
تو چلو کس نے منع کیا ہے میں تو سمجھا تو خود نہیں جارہی اس لیے میں نے نہیں پوچھا۔۔
ہیںن سچی میں چلو واقعی ۔۔۔زرغہ نے خوشی سے قاسم کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔۔
ہاں کیوں نہیں قاسم نے اسے تھوڑا اونچا اٹھاتے ہوئے کہا۔۔
مگر میرا پاسپورٹ بننے میں تو ٹائم لگ جائے گا اور اپکی فلائٹ تو اج شام کی ہے۔۔۔۔
پاسپورٹ تو بنا ہوا ہے تمہارا۔۔
قاسم نے اسکے لبوں کو چومتے ہوئے کہا۔۔
اچھا مگر کب بنا ؟؟
جبھی جب تمہارا شوہر بگڑا ہوا تھا جب تمہیں دبئ لے کے جانا تھا قاسم نے انکھ مارتے ہوئے دوبارہ اس کے لبوں کو چومتے ہوئے بیڈ پہ لیٹا کے زرغہ کے چہرے پہ ائے بال کان کے پیچھے کیے اور کہا۔۔۔
اب تو ایسا راستہ ملا ہے کے سارے بگڑے کام سیدھے ہوگئے۔۔
اچھاا جی
زرغہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
ہاں جی اب مجھے اچھی سی چائے پلاو پھر پیکنگ کرو اپنی بھی۔۔
ابھی لائی زرغہ قاسم کے اوپر سے اٹھتے ہوئے چائے بنانے گئ ادھر قاسم نے زرغہ کے جاتے ہی کسی کو کال کی۔۔۔
کہاں ہے تو ملنا ہے تجھ سے۔۔؟؟
میں نیویارک میں۔۔
اوکے وہی ملتے ہیں۔۔۔۔
چھوڑو میرا ہاتھ کہاں لے کر جارہے ہو۔۔؟؟
راجا نے صاحبہ کو درخت سے لگا کے اسکے قریب اتے ہوئے کہا۔۔
اس بار تمہیں اپنے ساتھ لے کے جاونگا صاحبہ یہ یاد رکھنا ۔۔
میں شادی شدہ ہو اور ہزار بار بول چکی ہو کسی قیمت پہ بھی زرقان کا ساتھ نہیں چھوڑونگی۔۔
ٹھیک ہے کرلو فیصلہ زرقان کی موت یہ اپنی ضد کیونکہ اسکے مرنے کے بعد تو تم میری بنوگی نہ یہ رہا میرا نمبر راجا نے اسکی طرف ایک کارڈ کیا اور کہا۔۔
تین دن کا ٹائم دیتا ہو تمہیں لٹل گرل یہ کہہ کے راجا نے صاحبہ کے گال چھونے چاہے جیسے صاحبہ نے بیچ میں ہی جھڑک دیا۔۔
تین دن کے اندر اندر فیصلہ کرلو میرا ساتھ قبول کرنا ہے یہ زرقان کی موت ۔۔
تم اسے کچھ نہیں کروگے راجا ۔۔۔صاحبہ نے اسکی گرین آنکھوں میں بلا خوف جھانکتے ہوئے کہا۔۔
۔
ہاں نہیں کرونگا کچھ اس صورت میں جب تم میرا ساتھ قبول کروگی۔۔
تین دن ہیں سوچ لو اور پھر کال کرنا مجھے۔۔۔
یہ کہہ کے راجا چلا گیا اور صاحبہ نے دوبارہ رونا شروع کردیا۔۔
جیسے تیسے وہ گھر پہنچی تو غفران کو اپنا منتظر پایا۔۔..
سرور صاحب غصہ میں اپنے کمرے میں پہنچے اور خرم صاحب کو کال کی جو ایک بار میں ہی پک کرلی گئ
ہاں سرور۔۔
بھائ اتنا بڑا سچ اتنی بڑی سچائ اپنے مجھ سے کیوں چھپائ ۔۔
خرم صاحب سرور صاحب کی آواز سن کے اندازہ لگاسکتے تھے کے وہ رو رہے ہیں۔۔۔
میں مجبور تھا جو تم نے نیویارک میں کیا ثمرہ ٹوتھ سی گئ تھی اوپر سے صاحبہ کی پیدائش ایسی تھی کے دونوں کا بچنا نہ ممکن تھا ۔۔
جیسے میں تمہارا بھائ ہو ویسے ہی میں ثمرہ کا بھی بھائ ہو۔۔
میں نے نیویارک میں کوئ حرام کاری نہیں کی نکاح کیا تھا بھائ اور مجبوری میں اپ جانتے تھے ایک لاکھ بار ثمرہ سے میں نے معافی مانگی تھی اسکی خوشی کی خاطر میں اپنے گھر والوں سے دور ہوگیا فائدے میں تو وہ رہی اور ہوتی کون ہے وہ مجھ سے میری اولاد کا وجود چھپانے والی ارہا ہو پاکستان میں چند دن اور چلنے لگا گا زرقان اپنے پیروں پہ۔
ابھی اپ ثمرہ کو فون دے اور بتائیے گا نہیں اپ کے میں ہو۔۔
مگر سرور؟خرم صاحب نے پریشان ہوکے کہا۔۔
میں جو کہہ رہا ہو بھائ کرے ورنہ میرا مرا ہوا منہ دیکھنگے۔۔۔
خرم صاحب لاونج میں بیٹھی ثمرہ کے پاس گئے جو آصفہ سے باتیں کررہی تھی۔۔
ثمرہ تمہارے لیے کال ہے۔۔
کس کی کال ہے بھائ؟؟
سن لو خودی ۔۔
خرم صاحب نے ثمرہ کو فون دیا اور آصفہ سے کہا۔
اوپر آو آصفہ مجھے کام ہے تم سے ۔۔۔
خرم صاحب کو سنجیدہ دیکھ کے آصفہ فورا اٹھ کے چلی گئ ادھر ثمرہ بھی خرم صاحب کی سنجیدگی نوٹ کرچکی تھی خاموشی سے فون کان سے لگا کے ہیلو کہا۔۔
اگے سے سرور صاحب ثمرہ کی آواز سنتے ہی غصہ میں کہنا شروع کیا۔۔
کیا سمجھتی ہو تم کیا سوچ کے تم نے صاحبہ کا وجود مجھ سے چھپایا ہوتی کون ہو تم مجھ سے میری اولاد کا وجود چھپانے والی بہت چلالی تم نے اپنی بہت بار تم سے معافی مانگی میں نے اپنے اپنوں کو چھوڑا تمہاری ضد کی وجہ سے مگر تم تو اپنے کو پتہ نہیں کیا سمجھنے لگی۔۔
آرہا ہو پاکستان میں ثمرہ اس بار تمہیں میرے ہر سوال کا جواب دینا ہوگا سنا تم نے ۔۔
میں اپکو کسی بات کا جواب دینے کی پابند نہیں ۔۔
ثمرہ جو سرور کے غصہ سے ڈر گئ تھی سنبھل کے بولی۔۔
جواب دینے کی پابند ہو تم اج بھی مسس سرور ثمرہ بھول رہی ہو میرے نکاح میں ہو ابھی تک میرے ساتھ ساتھ دینا جواب اب اپنی بیٹی کو اب تم سے پاکستان اکے ہی بات ہوگی۔۔۔۔سرور صاحب کے کال رکھتے ہی ثمرہ بیگم دھرم سے صوفے پہ گرگئ۔۔
یہ تو انہوں نے سوچا نہیں تھا جب صاحبہ کو اپنے باپ کا پتہ چلے گا تو وہ کیسا ریکٹ کریگی۔۔۔
غفران کی آنکھوں میں آنسو تھے اس نے صاحبہ کو صوفے پہ بیٹھایا اور خود اسکے گھٹنوں میں بیٹھ کے کہا۔
تم بھی مجھے بھائ ماننے سے انکار کروگی جسے ثمرہ آنٹی نے اپنا بیٹا ماننے سے انکار کیا تھا؟؟
نہیں بھائ ایسا نہیں ہے اپ اٹھے میرے پاوں سے بھائ بہنوں کے پاوں میں نہیں پکڑتے اپ بھائ ہو میرے بس بات ختم میں تو ہمیشہ ترستی تھی کے کاش میرا کوئ بھائ ہوتا اور دیکھو تھا بھی بسس چھوڑے۔۔
صاحبہ اور غفران دونوں ہی رونے لگے جب سرور صاحب وہاں آئے اور کہا۔۔
مجھے نہیں پتہ ثمرہ نے تم سے کیا کہا بیٹا ہاں مگر مجھے ہمیشہ سے بیٹیاں پسند تھی اور اسے بیٹے۔۔
سرور صاحب کے بولنے پہ غفران اور صاحبہ دونوں نے بیک وقت دیکھا ۔۔
پاپا صاحبہ اچانک سرور صاحب کے گلے لگ کے رونے لگی باپ کی آغوش سے بے خبر صاحبہ اسے جیسے سکون میں اگئ تھی۔۔۔
میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہو صاحبہ سرور صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے بات شروع کی۔۔
تمارے دادا کا بہت بڑا بزنس تھا مگر مجھے ماڈلنگ کا شوق تھا یہ ہی شوق لے کے میں نیویارک آیا جس لیڈی کے گھر میں رینٹ پہ تھا انکی ایک ہی معزور بیٹی تھی اس لیڈی کے شوہر کا اچھا خاصا بزنس تھا جو وہ خود سنبھالتی تھی انکے شوہر کو کسی نے زہر دے کے مارا تھا میرے کسی دوست نے مجھے وہاں کمرہ دلوایا اپنی معزور بیٹی کیلیے انہوں نے ایک آیا رکھی تھی جو انکے دشمنوں میں سے تھی ایک دفعہ نہ میں گھر پہ تھا نہ وہ لیڈی اس آیا نے انکے دشمنوں کو گھر میں بلایا جو انکی معزور بیٹی کی عزت خراب کرکے اسے مارنا چاہتے تھے اللہ کا فیصلہ کہہ لو اس دن میرا شو جلدی ختم ہوا اور میں گھر ایا اس معزور لڑکی نے اپنے اپکو جیسے تیسے کمرے مین بند کیا مین جب گھر میں داخل ہوا تو وہ لوگ اسے دروازہ توڑ کے باہر لا چکے تھے میں نے یہ دیکھ کے پہلے پولیس کا کال کی اور پھر جینیفر کو ان سے بچایا۔۔
مگر اس لیڈی کے دشمنوں نے انہیں بخشا نہیں اور انکا ایک بہت سیریس ایکسیڈینٹ کروایا تھا جس سے انکا بچنا بہت مشکل تھا مگر وہ جاتے جاتے جینیفر کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گئ۔۔
میں نے ایک بے سہارا معزور لڑکی کو اپنا نام دیا اسے مسلمان کرکے اس سے شادی کی مگر غفران کی پیدائش پہ وہ بھی مجھے چھوڑ گئ۔۔
دو سال مجھے یہاں سب سنبھالنے میں لگ گئے جب غفران دو سال کا ہونے والا تھا زارا کے والدین کے پاس غفران کو چھوڑ کے گیا تھا پاکستان مگر مجھ میں حوصلہ نہیں ہوا ثمرہ۔کو کچھ بتانے کا جب غفران پورے دو سال کا ہوا میں پھر غفران کو لے کے گیا مگر تماری ماں نے غفران کی حقیقت جاننے کے بعد نہ صرف مجھے کسی ایک کو چننے کو کہا بلکے خود کو مارنے کی بھی دھمکی دی تمہاری دادی نے بھی ثمرہ ساتھ دیا اور اس وقت مجھے میں نے غفران کو چنا۔۔
سرور کی آنکھوں سے انسو جاری تھے رو تو سب پی رہے تھے وہاں بیٹھے ۔۔
پاپا مجھے اپ سے کوئ شکوہ نہیں اور کوئ مانے یہ نہ مانے اپ میرے پاپا ہیں اور غفران بھائ میرے بھائ اور۔۔
اور کیا۔؟؟
غفران نے تجسس سے پوچھا۔۔
زارا میری بھابھی ۔۔۔
ایمپوسیبل ۔۔صاحبہ ترس کھاو اپنے بھائ پہ معاف کرو مجھے۔۔
بھائ وہ چاہتی ہے اپکو ۔۔
تو میں کیا کرو دوبارہ اس ٹوپک پہ بات نہیں ہوگی ۔
غفران نے صاحبہ کو تنبی کی تو وہ چپ ہو کے سرور صاحب کو دیکھنے لگی انہوں نے بھی صاحبہ کو چپ۔رہنے کا اشارہ کیا۔۔
صاحبہ اوپر اپنے کمرے میں گئ تو زرقان سویا ہوا تھا زرقان کو دیکھ کے صاحبہ کے کانوں میں راجا کے الفاظ گونجنے لگے اس نے فلحال راجا کی باتیں ترک کی اور فریش ہونے چلی گئ۔۔
وہ ابھی ابھی فریش ہوکے نکلی تو دیکھا وہ بیڈ سے آدھا لٹکا تھا صاحبہ دور کے اس تک ائ کمر سے تھام کے اسے سیدھا کیا بے ڈھرک صاحبہ اسکے سینے سے لگی تھی مگر یہ بات صاحبہ نے غور نہیں کی مگر بیڈ پہ بیٹھا نفوس ایک۔دم ساکن رہ گیا۔۔
صاحبہ اسکے پیچھے رکھا تکیہ صحیح کررہی تھی مگر کانپی جب جب اس کی گرم سانسوں نے صاحبہ کی گردن کا طواف کیا۔۔
تکیہ صحیح کرتے وقت صاحبہ کے ہاتھ باقاعدہ کانپ رہے تھے ۔صاحبہ تکیہ صحیح کرکے پیچھے ہوئ تو اسکی چین اس کے کرتے کے بٹن میں اٹک گئ دونوں کی نظریں ملی ایک عجیب جہاں اس کی آنکھوں میں آباد تھا۔۔
الٹے ہاتھ سے اس نے صاحبہ کے چہرے پہ آئے بال کان کے پیچھے کیے صاحبہ کو لگا اس کی ایسی قربت صاحبہ کا دل بند کردیگی مگر اصل اسکے اوسان خطا جب ہوئے جب وہ صاحبہ کے لرزتے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبا چکا تھا ۔۔ صاحبہ کے گلے میں پڑا ڈوپٹہ اب وہ اتار چکا تھا۔۔صاحبہ اس سے الگ نہیں ہوئ بلکے اسکے کرتے کے کالر اور مضبوطی سے تھاما۔۔۔
