Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
ہیلو ؟
ہاں گلنار بولو۔۔
نسرین بیگم نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا۔۔
کیسی ہو نسرین؟
اللہ کا شکر تم۔سناو۔۔
ایک کام تھا نسرین تم سے ؟؟
ہاں بولو گلنار۔۔
وہ۔اصل میں مجھے تمہاری وہ دوست ہے نہ آصفہ اسکا نمبر چاہیے ۔۔
کیوں آصفہ سے تمہیں کیا کام پڑ گیا نسرین بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔
وہ دراصل تمہاری پارٹی میں آصفہ کی بھتیجی ساتھ آئ تھی راجا نے اس کیلیے اپنی پسندیگی ظاہر کی ہے تو اسی سلسلے میں ان سے بات کرنی تھی۔۔
مگر گلنار وہ تو راجا سے تقریبا 7 سے 8 سال چھوٹی ہے۔۔
ہاں مگر نسرین اب میرے اکلوتے بیٹے نے اپنی خواہش ظاہر کی ہے بات تو کرنی پڑے گی۔۔
ہم یہ تو ہے گلنار چلو تم رکھو میں واٹس اپ کرتی ہو نمبر۔۔
اوکے نسرین اینڈ تھینکیو۔۔
گلنار بیگم نے یہ کہہ کے کال کٹ کی اور واٹس اپ سے آصفہ بیگم کا نمبر نوٹ کرنے لگی۔۔۔
#
صاحبہ یونی سے باہر نکلی تو زرقان کو کھڑا پایا مگر تھوڑی دور اسے راجا کی گاڑی بھی دیکھائ دی اور صاحبہ کو دیکھ کے وہ گاڑی سے نکل چکا تھا مطلب صاف تھا راجا چاہتا تھا وہ اس کی گاڑی میں بیٹھے مگر صاحبہ زرقان کی طرف بڑی صاحبہ کو دیکھ کے زرقان نے اپنے بلیک گلاسس اتارے اور مسکراتے ہوئے صاحبہ کی طرف بڑھا بلیک قمیض شلوار میں زرقان کسی شہزادے کو مات دے رہا تھا پل بھر کیلیے صاحبہ کے لب زرقان کو دیکھ کے مسکرائے مگر سامنے کھڑا راجا کی طرف دیکھتے ہی صاحبہ کی ہنسی پل بھر میں اڑن چھو ہوئ۔۔
اج تم کیسے ؟
صاحبہ نے زرقان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ایسی بہت دن ہوگئے تو سوچا اج اپنی مست چڑیل کے ساتھ اچھا سا لنچ کرلو یہ بول۔کے زرقان نے صاحبہ کا ہاتھ تھاما اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھا گیا گاڑی میں بیٹھتے ہی صاحبہ نے ایک معمولی نظر راجا پہ ڈالی مگر اگلا کام جو راجا نے کیا صاحبہ کیلیے کسی پریشانی سے کم نہیں تھا راجا اپنا ہاتھ مکے کی شکل میں زور سے گاڑی کے گیٹ پہ۔لگے شیشے پہ دے مارا بہت سے کانچ راجا کے ہاتھ میں گپ چکے تھے مگر اس کی نظریں ابھی بھی زرقان کی گاڑی پہ ہی تھی۔۔
گاڑی آگے بڑھتے ہی صاحبہ نے اپنی آنکھیں کرب سے بند کی ۔کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟؟
زرقان نے صاحبہ کو بند آنکھیں کیے گاڑی کی سیٹھ سے ٹیک لگاتے ہوئے دیکھا تو بول پڑا۔۔
مگر اگے سے جو جواب زرقان کو سننے کو ملا وہ زرقان۔کیلیے حیران کن ہونے کیساتھ ساتھ تکلیف دے بھی تھا۔
شاید اب ہمارے درمیان ایسا کوئ رشتہ بچا نہیں جو اپ مجھ سے یہ سوال پوچھے؟؟
کیا مطلب اب ہم دوست نہیں زرقان نے گاڑی موڑتے ہوئے کہا۔
زرقان کی بات سن کے صاحبہ نے اس کی طرف رخ موڑا اور کہا۔۔
رئیلی ہم واقعی دوست ہیں؟؟
یہ بات بولتے ہوئے نجانے کیوں صاحبہ کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے مگر صاحبہ کے آنسو دیکھ کے زرقان پریشان نہیں ہوا بلکے اپنی ہنسی روک رہا تھا کیونکہ یہ بات زرقان جانتا تھا جب صاحبہ غصہ میں ہوتی ہے تو بس رونے لگتی ہے۔۔
صاحبہ نے زرقان کو اپنی ہنسی دباتے دیکھا تو اور رونے لگی اور زور زور زرقان کو مارنے لگی۔
ارےارے مست چڑیل گاڑی چلا رہا ہو پاگل ۔۔
ابے یار ہم دوست تھے اور رہینگے کسی کے آنے یہ نجانے سے ہماری اہمیت جو ایک دوسرے کے دلوں میں ہے بدلے گی تھوڑی اور رہا سوال جو میں تمہیں ٹائم نہں دے پارہا تھا تو یار تو خود سوچ اتنی مشکل سے تو وہ میری طرف بڑھنے لگی ہے زرقان نے اپنی وجہ بتائ تو صاحبہ منہ موڑ کے بیٹھ گئ۔۔
زرقان اس کے اس انداز کو دیکھ کے مسکرایا اور اسکے بال سنوارتے ہو کہا جو اسکی پرانی عادت تھی ۔مگر صاحبہ نے غصہ میں اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔
صاحبہ کی اس حرکت پہ زرقان پھر مسکرایا اور کہا۔
اوہ یار اب تو ہمارے درمیان ڈبل رشتہ ہوگیا سالی تو ویسے بھی آدھی گھر والی ہوتی ہے میری مست چڑیل یہ بول کے زرقان نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کےاسے اپنے قریب کیا اور ایک ہاتھ سے گاڑی چلانے لگا زرقان کی اس حرکت پہ صاحبہ نے مسکراتے ہوئے اپنا اپ چھڑوایا اور کہا۔
جلدی چلو اب مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔
جو حکم مست چڑیل یہ کہتے ہوئے زرقان نے گاڑی کی اسپیڈ اور بڑھا دی۔۔
#
راجا مسلسل صاحبہ کو کال۔کررہا تھا مگر صاحبہ نے اس کی ایک بھی کال ریسو نہیں کی راجا اپنے کمرے کا نقشہ بگاڑ چکا تھا اسے اندازہ نہیں تھا کے صاحبہ زرقان کیساتھ جانا پسند کرے گی۔۔..
راجا نے نجانے کتنی ہی کال صاحبہ کو کری تھی مگر صاحبہ نے راجا کی گاڑی والی حرکت دیکھ کے اسی وقت اپنا موبائل وائبریٹ پہ لگا دیا تھا ۔۔
رات کے 12 بجے کے قریب راجا کا موبائل بجنے لگا راجا جو ابھی ابھی نیند کی وادی میں اترا تھا اپنا موبائل بجتا دیکھ فورا اٹھا شاید اسکے دل کی آواز تھی کے فون شاید صاحبہ کو ہو اور دل کی آواز ہمیشہ کی طرح صحیح تھی فون صاحبہ کا ہی تھا۔۔
راجا نے کال اٹھاتے ہی چیخنا شروع کردیا ۔۔
کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے میں کتا ہو تمہارا جو تمہاری حکم۔کی تعمیل کرونگا کیوں بولایا تھا مجھے یونی جب تمہیں اپنے عاشق کیساتھ ہی جانا تھا ہمت کیسے ہوئ تمہاری مجھے اگنور کرکے اس کیساتھ جانے کی ۔۔۔راجا پل بھر کیلیے چپ ہوا اور پھر بولا ۔۔
میری محبت ہو تم صاحبہ اج پہلی بار راجا نے اسکا نام لیا تھا کیسے تم نے میرا ساتھ چھوڑ کے اسکا ہاتھ تھاما شرم نہیں آئ تمہیں اپنے بہنوئ۔۔۔۔۔اس سے پہلے راجا اور کچھ بولتا کب سے خاموش صاحبہ بول پڑی۔۔
بس بہت کرلی اپنے بکواس اب ایک لفظ نہیں بولنا ائ سمجھ ہمت کیسے ہوئ اپکی مجھ سے اس انداز میں بات کرنے کی میں بھی اپکی زرخریز غلام نہں ہو میری زندگی میری مرضی جسکے ساتھ جاو جدھر جاو اپ ہو کون مجھ پہ حکم چلانے والے محبت کری اپنے میں نے نہیں میرے پیچھے اپ آئے میں نہیں اور وہ کوئ نہیں میرے بچپن کا دوست اپ سے پہلے وہ میری زندگی میں آیا ہے ہم ایک ہی گھر میں پلے بڑھے ہیں وہ کوئ پہلی بار مجھے یونی لینے نہیں آیا ہمیشہ آتا ہے اور بھول رہے ہیں اپ میں نے نہیں اپنے مجھے رات کو کال۔کرکے صبح یونی کے باہر ملنے کو کہا اگر میں نے اپکی ہاں میں ہاں ملائ تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کے اپ میرے حاکم ہوگئے اپنی زندگی گزارنے کا اختیار صرف مجھے میں اپنی۔زندگی کی۔خود مالک ہو آی سمجھ اپکے میں کسی کو حق نہیں دونگی کے میری زندگی کی ڈور تھامے اپ مجھ سے کرتے ہیں محبت میں نے ابھی تک اپکی محبت پہ کوئ مہر نہیں لگائ اپنی محبت کی راجا صاحب اج کے بعد مجھے کال کرنے ہمت نہیں کریگا۔۔اور یہ جو اپنے گاڑی کے شیشے پہ اپنا ہاتھ مارا تھا میری بلا سے اپنا سر ماریے یہ بول کے صاحبہ نے موبائل بند کیا تو ادھر راجا نے اپنا موبائل دیوار پہ۔دے مارا۔۔
اور گاڑی کی چابی اٹھا کے باہر نکلا ۔۔
صاحبہ نے فون رکھتے ہی سانس لیا ایسا کرنا ضروری تھا کیونکے راجا بھی وہی حرکت کرنے لگا تھا جو کبھی زرقان نے کی تھی ۔محبت انسان کرتا ہے کسی سے تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کے سامنے والا اپکے ہاتھ کی۔کتھ پتلی بن جائے اسے بھی حق دے سانس لینا کا اپنے زندگی جینے کا سات سمندر پار بھی اگر اپکی محبت چلی جائے تو اتنی طاقت اپکی محبت میں ضرور ہونی چاہیے کے سات سمندر پار بھی وہ۔اپکی۔محبت کو سیپی میں موجود کسی موتی کی۔طرح رکھے۔۔۔
صاحبہ تھوڑی دیر تک ایسی بیڈ پہ بیٹھی رہی اور پھر اٹھ کے واش روم چینج کرنے چلی گئ ۔۔
چینج کرکے باہر آئ اور لائٹ بند کرکے جیسی ہی پلٹی کسی نے اسکے بال مٹھی میں لیے اس سے پہلے صاحبہ درد سے چیختی راجا اسکے منہ پہ۔ہاتھ رکھ کے اسے دیوار سے لگا چکا تھا ۔۔
صاحبہ نے جب کلون کی خوشبو سونگھی تو اپنے ہاتھ جو وہ اپنے اپ۔کو چھڑوانے کے لیے چلا رہی تھی روک چکی تھی راجا نے اس کے منہ پہ سے ہاتھ ہٹایا اوراس کے اتنے قریب ہوا کے صاحبہ اس کی گرم سانسں اپنی گردن پہ محسوس کررہی تھی ۔۔
کچھ دیر ہی گزری تھی جب صاحبہ نے کہا۔۔
مجھے درد ہورہا ہے راجا پلیز بال۔چھوڑے۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئ مجھے اتنا سنانے کی۔۔۔
اپنے نے بھی میرے کردار پہ انگلی اٹھائ تھی ابھی ہمارا ایسا رشتہ نہیں بنا کے میں سب کے سامنے اپکا ساتھ قبول۔کرکے اپکے ساتھ چلی جاو۔۔۔۔
۔صاحبہ کی بات سن کے راجا نے اسکے بال چھوڑے صاحبہ نے جاکے کمرے کی لائٹ کھولی مگر راجا کے ہاتھ کی حالت دیکھ کے بلا شبہ اسکا ہاتھ اپنے منہ گیا۔۔
راجا کا پورا ہاتھ خون سے رنگا تھا ۔۔
صاحبہ کی انکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے راجا نے ایک نظر اسے دیکھا اور کھڑکی طرف بڑھنے لگا جانے کیلیے مگر صاحبہ نے اسکا ہاتھ تھام کے روکا ۔۔
راجا نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو جو صاحبہ کے ہاتھ میں تھا اور جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور دوبارہ جانے لگا جب صاحبہ نے کہا۔۔
اگر ایک قدم بھی اپنے بڑھایا تو بھول۔جائیگا صاحبہ کو۔۔
صاحبہ کے بولنے پہ راجا رکا اور دھیرے سے چل کے صاحبہ کے قریب آیا صاحبہ یہ دیکھ کے حیران رہ گئ کے راجا کے گرین آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔
صاحبہ نے راجا کے زخمی ہاتھ کی بیندیج کرتے ہوئے کہا۔۔
محبت کو محبت رہنے دے مجبوری نہیں بنائے نہیں تو میں ساری زندگی بھی اگر اپکے ساتھ رہ لی تب بھی اپ سے محبت نہیں کرپاونگی۔۔
صاحبہ کی بات سن کے راجا نے اسکی گدی پہ ہاتھ رکھ کے اسکا سر اور اپنا سر ایک ساتھ جوڑا اور کہا۔۔
مجھے ڈر لگتا ہے صاحبہ تمہارے دور جانے سے میں پوری دنیا کو اگ لگا دونگا اگر تم مجھ سے دور ہوئ جانتا ہو میں کرتا ہو محبت تم نہیں کرتی مجھ سے مگر کوشش تو کروگی نہ مجھ سے محبت کرنے کی۔۔؟؟
راجا کے پوچھنے صاحبہ نے ہاں میں گردن ہلائ راجا نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے اس سے اپنے رویے کی معافی مانگی اور چلا گیا۔۔
جاری ہے۔۔
