84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29 Part 1

کیا ہوا خرم ؟کس کا فون تھا؟
زرقان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے آصفہ وہ ہسپتال میں ہے ۔۔
ہائے میرا بچہ ۔۔
اچانک بی جان نے رونا شروع کردیا تو ادھر آصفہ بلکل خاموش تھی جیسے کسی سکتے میں ہو۔۔۔
خرم صاحب ایک دم اٹھے اور تیزی سے ہسپتال جانے کیلیے نکلنے لگے جب آصفہ نے کہا۔۔
میں بھی چلونگی اپکے ساتھ۔۔
ہاں ہم بھی چلینگے۔۔بی جان بھی بول پڑی۔۔
ثمرہ گردن جھکا کے کھڑی تھی اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ کچھ بول سکے جب آصفہ اس کے قریب آی اور اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔
تم نہیں چلوگی اپنے بیٹے کو دیکھنے ۔؟؟
آصفہ کا ایسا بولنا تھا کے ثمرہ آصفہ کے پیروں میں گرکے معافی مانگنے لگی۔۔
“مجھے معاف کردے بھابھی یہ سب میری وجہ سے ہوا اگر میں نے اپنی بیٹی کی تربیت اچھی کی ہوتی تو اج ہمیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا زرقان کی ایسی حالت نہیں ہوتی۔۔۔۔
یہ کیا کررہی ہو ثمرہ تم پاگل ہو اٹھو فورا آصفہ نے تیزی سے اسے اپنے پیروں پہ سے اٹھایا۔۔جو ہونا تھا ثمرہ ہوگیا زرقان کی قسمت میں زرغہ نہیں صاحبہ تھی تم بس دعا کرو زرقان کیلیے۔۔
وہ سب ہسپتال پہنچے تو خرم صاحب کے ایس پی دوست وہاں موجود تھے۔۔
خرم صاحب کو دیکھ کے ایس پی صاحب کی ساتھ ڈاکٹر بھی آئے۔۔
دیکھو خرم زرقان کی گاڑی پل سے نیچے گری ہے گاڑی کی حالت ایسی تھی کے بہت مشکل سے وہاں موجود لوگوں نے گاڑی میں سے زرقان کو باہر نکالاہے کوئ دعا کہہ لو یہ پھر معجزہ کے زرقان زندہ بچ گیا۔۔
مگر مردہ ہونے کے برابر۔۔
اگے کی بات وہاں کھڑے ڈاکٹر نے کہی۔۔۔
باڈی کے کافی پارٹ مکمل طور پہ ڈیمیج ہوچکے ہیں خرم صاحب ہاتھوں اور پاوں کی ہڈیاں بری طرح ٹوتھ چکی ہیں زرقان کی ریڑھ کی ہڈی بھی بری طرح متاثر ہوئ ہے اور اسکے چہرے پہ بہت زخم ہے اتنا شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ زندہ ہے سانسیں چل رہی ہیں اسکی ہمیں اسکے دو بڑے میجر آپریشن کرنے پڑینگے ایک گردن کا اور ایک ریڑھ کی ہڈی کا اگر اپ لوگوں کی اجازت ہوتو۔۔
ڈاکٹر کی باتیں سن کے بی جان نے جہاں رونا شروع کرا تو انکی طبیعت بھی خراب ہونے لگی اور دوسری طرف آصفہ کا بھی کچھ ایسا ہی ہال تھا۔اس وقت خرم صاحب کو اپنے بھائ کی کمی بہت شدت سے محسوس ہوئ انہوں نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا اور ڈاکٹر کو آپریشن کی اجازت دے تھی۔۔

#

تارا کو اج ماسی کیساتھ رہتے ہوئے 6 دن ہوگئے تھے وہ کافی ڈری ہوئ رہتی تھی ایک تو انجان علاقہ اوپر سے تنہا لڑکی وہ بھی اتنے بڑے فلیٹ میں ماسی دوپہر تک اپنے حصے کا کام کرکے چلی جاتی اسکے بعد تارا اپنے کمرے سے ہی نہیں نکلتی۔۔
ابھی بھی سردی کی وجہ سے ٹائم کا پتہ نہیں چلتا تھا 7 بج رہے تھے مگر ایسا لگتا تھا کے 12 بج رہے ہو اج تارا کو لگا جیسے اسے ہلکا سا بخار ہے وہ اج صبح سے ہی رو رہی تھی اپنے گھر والوں کو یاد کرکے ازان کو یاد کرکے اس کے پاس نہ موبائل نہ ازان سے رابطہ کرنے کا کوئ زریعہ۔۔
تارا نے اج دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا وہ ایسی ہی ٹیبل پہ پڑا رہا اور وہ کمرے میں جاکے بلینکٹ اوڑھ کے لیٹ گئ۔۔
ازان 8 بجے تک تارا کے پاس پہنچا اپنے پاس موجود چابی سے وہ فلیٹ کے اندر داخل ہوا۔۔
فلیٹ مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
ازان نے لائٹ اون کرکے تارا کے کمرے کا رخ کیا وہاں بھی اندھیرا دیکھ کے اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا ٹائم اتنا ذیادہ تو نہیں ہوا تھا ازان نے کمرے کی۔لائٹ اون کی تو تارا کو منہ تک کمبل تانے سویا پایا۔۔
ازان نے اپنی جیکٹ اتاری شوز وغیرہ اتار کے وہ فریش ہونے چلا گیا ۔
فریش ہوکے وہ تارا کے پاس بیڈ پہ آیا اور دھیرے سے اسکا بلینک ہٹایا ۔۔
تارا کے سارے بال اسکے چہرے پہ آئے ہوئے تھے اذان نے اسکے چہرے پہ۔سے بال ہٹائے مگر وہ پریشان ہوگیا جب اسکی انگلیاں تارا کے گرم چہرے پہ لگی اس نے تارا کا ماتھا چیک کیا تو اسے تیز بخار تھا۔۔
ازان نے فورا ڈاکٹر کو کال کرکے بلایا اور خود تارا کو اٹھانے لگا۔۔
تارا تارا؟؟؟
اپنے نام کی پکار پہ تارا نے بخار کی شدت سے اپنی بوجھل آنکھیں کھولی سامنے ازان کو دیکھ کے وہ پوری آنکھیں کھول کے ازان کو دیکھنے لگی اور پھر اچانک ازان کے سینے سے لگ کے رونے لگی اور کہا۔
ازان اپ کہاں چلے گئے تھے مجھے چھوڑ کے ۔۔۔؟؟
تارا تارا میری جان یہ تم نے اپنی کیا حالت بنالی ہے ادھر دیکھو ازان نے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
ائ ایم سو سوری میری جان مجھ سے غلطی ہوگئ مجھے تمہیں ایسے نہیں چھوڑنا تھا مجھے معاف کردو ابھی ڈاکٹر ارہے ہیں پلیز اب رونا نہیں تم نے کچھ کھایا ؟؟
ازان کے پوچھنے پہ تارا نے نفی میں گردن ہلائ تارا کو دیکھ کے ازان کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔۔۔
اتنے میں ڈور بیل کی آواز پہ ازان نے جاکے دروازہ کھولا تو سامنےڈاکٹر کھڑا تھا ..
ڈاکٹر نے چیک کرکے تارا کو میڈیسن دی اور چلا گیا ڈاکٹر کے جاتے ہی ازان تارا کیلے کھانا اور میڈیسن لایا..
کھانا اور میڈیسن کھاکے تارا کافی بہتر فیل کررہی تھی۔ازان اس کے پاس ہی بیٹھا تھا مگر تارا نے اسکے چہرے سے اندازہ لگایا جیسے وہ۔کچھ کہنا چاہ رہا ہو۔۔
آنٹی کی طبیعت کیسی ہے ازان؟؟
ہم ٹھیک ہے اب ۔۔
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد تارا پھر بولی ۔۔
کچھ کہنا ہے اپنے ازان اپ پریشان لگ رہے ہیں؟؟؟
کچھ نہیں تم آرام کرو میں یہی ہو تمہارے ساتھ یہ بول کے ازان لیٹنے لگا جب تارا نے اچانک اسکا ہاتھ اپنے سر پہ رکھا اور کہا۔۔
اپکو میری قسم سچ سچ بتائے کیا بات ہے؟؟
ازان نے مجبور ہوکے نسرین بیگم کی خواہش بتادی۔۔
ازان کی بات سن کے تارا ساکن رہ گئ ازان اسکے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا جب اچانک تارا اٹھی اپنے اردگرد چادر لپیٹی اور کمرے سے جانے لگی جب ازان نے تیزی سے اٹھ کے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھینچا تو وہ اسکے سینے سے لگتے لگتے بچی۔۔
کہاں جارہی ہو تم ؟؟
میں اپ کے اوپر اور بوجھ نہیں بننا چاہتی اپ آنٹی کی بات مانے پلیز بس ایک ریکویسٹ ہے میرا نام اپنے نام سے جدا نہیں کرنا ازان ورنہ میں مرجاونگی نہ اتنا حوصلہ ہے مجھ میں کے اپکو کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھو اس لیے یہاں سے جارہی ہو تاکے اپ میری وجہ سے کمزور نہ پڑے
۔یہ بول کے تارا رونے لگی ۔۔
ازان نے ایک نظر اسے دیکھا کمرے کا دروازہ بند کرکے اسے بیڈ پہ بیٹھایا اور پانی پلایا۔۔
مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو تارا؟؟
محبت کا کوئ پیمانہ نہیں ہوتا ازان یہ تو جزبوں کیساتھ پروان چڑھتی ہے ۔۔۔۔اسکا وزن دنیا کی ہر بھاری چیز سے زیادہ ہوتا ہے جو محبوب کو ساری عمر اٹھانا پڑتا ہے کوئ عاشق کوئ محبوب اپنے عشق کو بتا نہیں سکتا کے وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔
جیسے سمندر کی گہرائ ناپنا ناممکن ہے ایسے کیسی کی محبت کو ایک مخصوص لفظ میں بھی بتانا نہ ممکن ہے۔۔
تو پھر مجھ پہ بھروسہ نہیں ؟؟
اپ پہ تو خود سے زیادہ ہے ۔۔
پھر ابھی کہاں جارہی تھی؟؟
پتہ نہیں تارا نے گردن نیچے کرتے ہوئے روتے ہوئے کہا۔
تمہیں پتہ ہے میں تم سے کتنی محبت کرتا ہو؟؟ یہ بول کےازان نے تارا کی چادر اتار کے سائیڈ پہ رکھی اور اسکی شہہ رگ پہ جھکتے ہوئے کہا۔۔۔
ازان وہ میں ۔۔۔۔۔۔تارا ازان کی قربت سے تھر تھر کانپنے لگی۔۔
ازان نے اپنی شرٹ اتار کے تارا کو لیٹا کے اس کے وجود پہ جھکا اور اسکے نازک لبوں پہ اپنے لب رکھے کبھی آنکھیں ۔کبھی ناک ،کبھی گال چومتا تارا نے ایک پل۔کیلیے بھی اپنی آنکھیں نہیں کھولی ۔۔
ازان پلیز۔۔۔تارا نے جب اپنے جسم پہ ازان کو قابو کرتے دیکھا تو اسکی باہنوں میں مچلنے لگی ازان نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پھنسا کے تکیے پہ رکھے اور تارا کے جسم سے اٹھنی والی خوشبو کے نشے میں بہکتے ہوئے تارا سے کہا۔۔
اج نہیں روکو تارا اج مجھے اپنے عمل سے ثابت کرنے دو کے تم میرے لیے کیا ہو۔۔
یہ بول کے ازان کی شدتیں بڑھنے لگی تارا کو اج صحیح مانو میں اندازہ ہوا کے ازان تارا سے کتنی محبت کرتا ہےشاید وہ بھی اسکی محبت کی گہرائ ناپ نہیں پائ ہاں مگر ازان کی باہنوں میں وہ کسی قیمتی موتی کی طرح سمائ تھی ازان نے اج اسکے اور اپنے رشتے کو ایک نام دیا تھا اج اس نے تارا سے اپنی محبت کا حق مانگا تھا جائز رشتہ جوڑا تھا ۔۔
ازان نے تارا کے جسم پہ ہی نہیں اسکی روح پہ اپنی چھاپ چھوڑی تھی۔۔

#

رات دس بجے کے قریب بھوک کے احساس سے زرغہ کی آنکھ کھولی جیسی ہی اس نے اٹھنا چاہا ہاتھ پہ زور پڑتے ہی اس کی دردبھری چیخ نکلی جیسے سن کے سامنے صوفے پہ سویا قاسم ایک دم ہڑبڑا کے اٹھا۔۔
تیزی سے وہ زرغہ کے پاس آیا جو اپنے ہاتھ پکڑ کے رو رہی تھی شاید اسکے ٹانکے کھینچ گئے تھے اس میں سے خون نکلنے لگا تھا جو اسکے ہاتھ کی پٹی کو رنگ گیا تھا۔۔
۔ٹانکے لگے ہیں تمہارے ۔۔
آرام کرو ابھی ۔۔
قاسم نے اسکے پاس اکے دھیرے سے کہا۔۔
جب زرغہ نے رونا چھوڑ کے اسے دیکھ کے جلدی سےاٹھنا چاہا قاسم نے اس کے سامنے اکے اسے دوبارہ بیڈ پہ بیٹھنے پہ۔مجبور کیا۔۔
کہاں جاری ہو ابھی کیا میں نے فارسی میں بولا ہے کے آرام کرو۔۔
پلیز مجھے جانے دو پلیز یہ بول کے زرغہ بیڈ پہ ہی اس دور ہونے لگی جب قاسم ایک دم اسکے پاس اکے بیٹھا اور کہا۔۔
یہاں سے تم کہی نہیں جاوگی ۔۔
زرغہ ایک دم اس سے ڈری اور جیسی ہی زرغہ کی نظر اپنے کپڑوں پہ پڑی تو پہلے اس نے قاسم کو دیکھا اور پھر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی جب قاسم نے اسکی بات کا مفہوم سمجھ کے کہا۔۔
ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے تمہہیں اگر تمہیں ہاتھ لگاتا یہ کچھ غلط کرتا تو شاید ابھی تک تم اپنے اندر ہونے والی تبدیلی سے سمجھ چکی ہوتی اب بچی تو ہو نہیں کپڑے خیرن ماسی نے بدلے ہیں ۔۔
قاسم کے بولنے پہ زرغہ شرم سے گردن جھکا گی ۔
جب تھوڑی دیر تک زرغہ کچھ نہیں بولی تو قاسم اسکے پاس سے اٹھ کے جانے لگا جب زرغہ نے دھیرے سے کہا۔۔
مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔
زرغہ کے بچوں کی طرح کہنے پہ قاسم کے چہرے پہ۔مسکان آئ اس نے دروازہ کھول کے ماسی کو اواز لگاکے کھانے لانے کو کہا۔
تھوڑی دیر میں ہی گرم گرم کھانا قاسم نے زرغہ کے سامنے رکھا کھانے کو دیکھ کے زرغہ کی بھوک اور چمکنے لگی زرغہ نے پہلے کھانے کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھوں کو قاسم نے زرغہ کو دیکھ کے پانی ایک ڈونگے میں بھر کے لایا اور اسکے ہاتھ دھلوائے۔۔
زرغہ نے جیسی ہی چمچہ اٹھایا تکلیف سے اس کے ہاتھ سے چمچ گر گیا ۔۔
زرغہ نے بے بسی قاسم کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
قاسم نے اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا اور کہا۔۔
تمہارے پاس دو اپشن ہے زرغہ پہلا آپشن تو وہ ہے جسکی وجہ سے راجا تمہیں مجھ تک لایا اور وہ آپشن ہے میرے دبئ کے ڈانس بار میں ڈانسر بننا۔۔
قاسم کا آپشن سن کے زرغہ لقمہ چبانا بھول گئ۔۔
جب قاسم نے کہا۔۔
دوسرا آپشن سناو یہ پہلا آپشن منظور ہے۔۔
دوسرا آپشن کیا ہے ؟؟
زرغہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔
مجھ سے نکاح ۔۔
قاسم کے اگلے اپشن پہ زرغہ کو پھندا لگ گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔