Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 22 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22 Part 1
کس کو شادی میں بلانے کی باتیں ہورہی ماما؟؟
صاحبہ کے سوال پہ سب نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔
انہیں اندازہ ہوگیا تھا کے صاحبہ نے ادھوری بات سنی۔۔
ارے کچھ نہیں صبحو ایسی ایک خاص ہمارے فیملی میمبر ہے جن سے تم ابھی تک ملی نہیں ہو تو سوچا تمہیں ملوادو۔۔۔
یہ بات بول کے آصفہ بیگم نے ثمرہ کو دیکھا جو نیچے منہ کرکے اپنے آنسو بہارہی تھی ۔
ارے ہماری جان اج تو اپ سب کیلیے گاجر کا حلوہ بنانے والی تھی اسکا کیا ہوا۔۔
خرم صاحب نے جب صاحبہ کو ثمرہ بیگم کو تکتا دیکھا تو اسکا دیھان ہٹانے کیلیے فورا اس سے پوچھا۔۔
ہاں تایا جان اسی کیلیے اپ سب کو بلانے ائ تھی مگر یہ ماما کو کیا ہوا رو کیوں رہی ہیں۔۔؟؟؟
ثمرہ نے کمال مہارت سے اپنے آنسو صاف کیے اور کہا۔۔۔
ارے نہیں میری جان میں رو نہیں رہی بس اج کوئ بے رحم یاد آگیا ۔اپ چلو جلدی سے اپنا حلوہ لے کر ڈائنگ ٹیبل پہ پہنچو میں آتی ہو یہ بول کے ثمرہ تیزی سے اپنے کمرے میں پہنچ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی جب رو رو کے تھک گئ تو الماری میں سے ایک تصویر نکالی جو کپڑوں کے نیچے موجود تھی۔۔تصویر نکال کے کافی دیر تک اسے دیکھتی رہی اور پھر اپنے سینے سے لگا کے شکوہ کر ڈالا۔۔۔
“کاش سرور تم محبت کے کچھ تو وعدے پورے کرتے تو بےوفائ کی یہ خاک اج میرے سر پہ نہیں ہوتی تニتمہاری دوسری بیٹی کا وجود میں اج تم سے نہیں چھپاتی”
دروازہ ناک ہونے پہ ثمرہ نے تصویر فورا الماری میں اسسی جگہ پہ رکھی اور فورا منہ دھونے چلی گئ۔۔
دروازہ نہ کھلنے پہ صاحبہ نے کمرے کا دروازہ کھول کے اندر جھانکا مگر واش روم سے پانی گرنے کی آواز پہ وہ واپس چلی گئ۔۔
#
نیویارک کی ہوٹل براڈو کی وہ علیشان عمارت جس کے پینٹ ہاوس پہ کھڑا وہ 44 سال کا آدمی سخت سردی میں بھی اپنے ہاتھ سینے پہ باندھے اپنی۔الگ ہی دنیا میں گم تھا۔۔۔
مہرون کلر کا ہائ نیک اس پہ برینڈد کوٹ پینٹ پہنے بلا شبہہ وہ ایک حسین مرد کہلانے کا حقدار تھا اگر اسے نیویارک کا سب سے امیر آدمی بولا جائے تو غلط نہیں ہوگا اس کے اس پاس لاکھوں آدمی کام کرتے تھے اسکے سرکل میں کتنی حسین عورتیں تھی جو اس سے شادی کی خواہش مند تھی مگر وہ ایک بار جو غلطی کرکے اپنوں سے 20 سال سے دور تھا اس کا خمیازہ وہ۔اج تک بھگت رہا تھا۔۔دوبارہ کرنا نہیں چاہتا تھا
ڈیڈ ڈیڈ؟؟
پچھلے دس منٹ سے غفران اپنے ڈیڈ کو آوازیں دے رہا تھا مگر سرور خان وہ تو اج ماضی کے ورق الٹنے میں مگن تھا مگر غفران کے کندھے ہلانے پہ اسنے اپنا ارادہ فلوقت ملتوی کردیا۔۔
افف ڈیڈ یہاں اتنی سردی میں اپ کھڑے ہیں کتنی کالز میں نے اپکو کی ہیں مجبورا مجھے اپکو بلانے انے پڑا۔۔
غفران نے اتنا سڑا ہوا منہ بنا کے یہ بات کی کے سرور کے لب مسکرا اٹھے اس نے غور سے اپنے سامنے کھڑے اپنے 21 سالا۔بیٹے کو دیکھا وہ خوبصورتی میں اسے بھی مات دیتا تھا اس پہ اسکی لائٹ بلیو آنکھیں کسی کی۔یاد دلاتی تھی ۔
ارے یار میں سکون چاہتا تھا اس لیے یہاں آگیا۔۔تم بتاو کس لیے مجھے بلا رہے تھے۔۔؟؟
یار ڈیڈ یہ کونسی سیکیٹری اپنے میرے سر پہ مسلط کی ہے کوئ کام دھنگ سے نہیں کرتی اوپر سے اسکی موٹی موٹی آنکھوں پہ اسکا موٹا موٹا چشمہ اففف چار چار آنکھیں ہونے باوجود اسے پاس رکھی چیز دیکھائ نہیں دیتی۔غفران کی باتوں پہ سرور صاحب کا جاندار قہقہ گونجا غفران کی باتیں پلس شکائیتیں سننتے ہوئے وہ نیچے چلے آئے تھے اور پیچھے کھڑا وقت صرف انکے انے والے وقت پہ مسکرا سکا۔۔
#
افف راجا تمہیں اندازہ نہیں میں زرقان کیساتھ پیار کا ناٹک کرکے تھک چکی ہو کبھی وہ کہی سے پکڑنے کی۔کوشش کرتا ہے کبھی کہی سے۔۔
زرغہ ساحل سمندر پہ گاڑی کے اندر راجا کے سینے سے لگے شکوے کررہی تھی تو ادھر راجا بہت بیزاریت سے زرغہ کے شکوے سن رہا تھا ۔۔
ارے یار میں بھی تمہاری بہن کیساتھ پیار کا ناٹک کررہا ہو ۔۔یہ بات راجا نے صرف زرغہ کو اپنے جال میں پھنسانے کیلیے کی حقیقت یہ ہی تھی کے راجا سچے دل سے صاحبہ سے محبت کرتا تھا زرغہ کیساتھ وہ صرف کھیل کھیل رہا تھا جسمیں وہ زرغہ کو قاسم کے حوالے بھی کرے گا اورصاحبہ کو اپنی زندگی مین شامل بھی کرے گا۔۔
اور یہی تو ہمارا پلیںن تھا نہ بے بی۔۔۔
راجا نے زرغہ خو بہلاتے ہوئے کہا۔۔
بس تم اسی طرح زرقان سے پیار کا ڈرامہ کرتی رہو تاکے ہمارے اگے کے پلین میں اسے شک نہ ہو اور میں ایسے ہی صاحبہ سے ڈرامہ کرتا رہونگا ایک بار ہمارا پلیں کامیاب ہوجائے پھر تمہیں کبھی کوئ ڈرامہ کرنا نہیں پڑے گا ۔۔
راجا کے بہلانے پہ زرغہ بہل چکی تھی اور زرغہ کو بہلتا دیکھ راجا کی شیطانی مسکراہٹ قابل دید تھی۔۔
رات گئے راجا گھر میں داخل ہوا تو گلنار بیگم کو انتظار کرتا پایا جو رونے میں مصروف تھی اور انکے پاس ہی ایک ہینڈ کیری رکھا تھا۔۔
راجا گلنار بیگم کو یو روتا دیکھ گھبرایا اور ان سے پوچھا ۔
ماما اپ رو کیوں رہی ہیں؟ اور یہ بیگ کس کا ہے۔
گلنار بیگم نے اپنے آنسو پونچے اور کہا۔۔
بیٹا شام میں تارا ٹوئر سے واپس آئ تھی ابھی اسے آئے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے ایک لڑکا ہمارے گھر آیا اور تارا اس کے ساتھ یہ بول کے گھر چھوڑ کے ہمیشہ کیلیے چلی گئ کے میں اس سے شادی کرنے جارہی ہو برائے مہر بانی مجھے روکنے کی نہ تو کوشش کریے گا اور نہ میرا پیچھا کریے گا اپ لوگ میرے لیے مر گئے۔ یہ بول کے گلنار بیگم پھر رونے لگی اور راجا جھٹکے سے پاس رکھے صوفے پہ بیٹھ گیا۔
جاری ہے ۔۔
