84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29 part 2

قاسم نے فورا زرغہ کے لبوں پہ پانی کا گلاس لگایا اور کہا ۔۔
اب بتا دو کونسا آپشن تمہیں بیسٹ لگتا ہے؟؟
میں تم سے کبھی شادی نہیں کرونگی۔۔
زرغہ نے قاسم کو گھور کے کہا۔۔
قاسم نے زرغہ کی اس ہمت پہ دل سے داد دی اور کہا۔۔
ویسے ہمت کی داد دیتا ہو تمہاری اس وقت تم مکمل طور پہ میرے رحم وکرم پہ ہو مگر تمہارا اٹیٹیوڈ کمال کا ہے۔۔
ٹھیک ہے کوئ بات نہیں نہ کرو مجھ سے شادی اج سے تمہیں دوپہر کا کھانا نہیں ملے گا اور روز تم ایک گھنٹہ واک کروگی۔
کس خوشی میں ؟؟؟
زرغہ نے فورا سوال داغا۔۔
کیونکہ کافی بھرے ہوئے جسم کی مالک ہو اپ اور اس جسم کیساتھ تم بار ڈانسر تو بن نہیں سکتی ڈانسنگ پائپ پہ کیسے گھوموگی۔۔
قاسم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
اور ادھر قاسم کی بات پہلے تو زرغہ کی سمجھ میں نہیں آئ اور جب آئ تو اس نے رونا شروع کردیا۔۔
زیادہ رونے کی ضرورت نہیں میرے سامنے گھر سے بھاگتے ہوئے تو تمہیں رونا نہیں آیا غیر مردوں کیساتھ راتی۔۔۔
زبان کو لگام دواپنی قاسم زرغہ قاسم کی بات پوری ہونے سے پہلے چیخ پڑی۔۔
میں نے راجا کیساتھ گھر سے بھاگنے کے علاوہ کوئ اور گناہ نہیں کیا اور یہ بات تم بھی اچھے سے جانتے ہو کے میں پاک ہو کیونکہ تمہارے گھٹیا دوست نے میرے ساتھ بتائے لمحوں کی پل پل کی خبر دی ہوگی۔۔
اوہ ہو اب وہ گھٹیا ہوگیا کل تک تو وہ محبت تھی تمہاری جس کے ساتھ تم اپنے ماں باپ کی عزت روندھ کے اگئ اج وہ گھٹیا ہوگیا۔۔
محبت تھی ہے نہیں اب کل تھا گزر گیا میری انے والی زندگی میں وہ اب کہی نہیں ہوگا مجھے نفرت اس سے بے پناہ اللہ غارت کریگا اسے اسے کبھی سکون نہیں ملے گا کبھی نہیں یہ بول کے زرغہ اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپائے رونے لگی۔۔
قاسم سینے پہ ہاتھ باندھے اس پاگل لڑکی کو دیکھنے لگا جس نے محبت کے پیچھے اپنی عزت تک داو پہ۔لگادی تھی شاید عورت محبت ایسے ہی کرتی ہے جب کرنے پہ اتی ہے تو انجام کی پراوہ نہیں کرتی اور جب چھوڑنے پہ اتی ہے تو پلٹ کے نہیں دیکھتی۔۔
کل صبح تک سوچ لینا تمہیں کس راستے پہ چلنا ہے دونوں آپشن میں سے چن لو کوئ ایک صبح تک جواب دے دینا مجھے اور بھاگنے کی کوشش بلکل مت کرنا ورنہ تمہارا وہ حشر کرونگا کے اپنے اپ سے نفرت کرنے لگوگی۔یہ بول کے قاسم روتی زرغہ کو چھوڑ کے کمرے سے چلاگیا۔۔

#

ایک حسین صبح کا آغاز تھا تارا کی آنکھیں کھلی تو وہ ازان کی باہنوں میں تھی ۔ جو کچھ ہوا تارا نے سوچا نہیں تھا کے ازان اس اتنا معتبر کرے گا تارا نے گردن گھما کے ازان کو دیکھا جو کسی معصوم بچے کی طرح تارا سے چپک کے سورہا تھا۔
تارا نے دھیرے سے ازان کی قید سے خود کو چھڑوانا چاہا جب ازان کی اواز ائ۔۔
ہممم اممم لیتی رہو یار ۔۔
ازان اٹھ جائے دس بج رہے ہیں۔۔
ہاں تو بجنے دو روز بجتے ہیں یہ بول کے ازان نے تارا کے بالوں میں اپنا منہ چھپایا۔۔۔
آنٹی غصہ کرینگی اپ پوری رات گھر سے باہر تھے انہیں شک نہیں ہوگا؟
یار تم آنٹی کے بیٹے کی فکر کرو نہ ازان نے تارا کے اوپر دوبارہ جھکتے ہوئے کہا اور اس کے لبوں کوپھر اپنے لبوں میں قید ایک سرورو سا پھر چھانے لگا دونوں کے درمیان کے جبھی ڈور بیل بجی ازان نے بہت ہی سڑے ہوئے منہ کیساتھ کہا۔۔۔
اس وقت کون آگیا ہمیں ڈسٹرب کرنے۔۔؟؟
ماسی ہوگی ازان اب جاکے دروازہ کھولے مین فریش ہونے جاتی ہو پلیز۔۔
تارا کے کہنے پہ ازان نے پہلے تارا کو دیکھا اور پھر ایک بار دوبارہ بجتے ہوئے دروازے کو اور نہ چاہتے ہوئے بھی دروازہ کھولنے چلا گیا۔۔
دونوں ناشتہ کررہے تھے جب ازان نے کہا۔
تارا ابھی کچھ دیر میں میں نکل رہا ہو گھر کیلیے اور بتاونگا ماما کو اپنے اور تمہارے بارے میں تم۔پریشان نہیں ہونا شام تک میں اونگا یہ پھر تمہیں موبائل ٹی سی ایس کروادونگا۔
ٹھیک ہے ازان مگر اپ آئینگے نہ ؟؟
ہاں میری جان بس اب تم میری بیوی کی حیثیت سے میرے گھر میں رہوگی ماما کو میں منالونگا تمہارے لیے۔۔
سچ کہہ رہے ہیں اپ؟؟
بلکل اب میں چلتا ہو کل اونگا میں تمہیں لینے ۔۔
یہ بول کے ازان اٹھا اور تارا کو اپنے سینے میں بھینچ کے چلا گیا ایک بار پھر تارا کو دلاسہ دیے کے۔۔۔

#

تین گھنٹے بعد آپریش ٹھیٹر کا دروازہ کھولا تھا اور ساتھ زرقان بھی اسٹیچر پہ باہر آیا اسکی گردن کا آپریشن ہوا تھا اس کے گلے میں غزا کی نالی میں کانچ گھسے تھے۔ہاتھوں اور سیدھے پاوں پہ پلسٹر چڑھا تھا آنکھوں پہ بھی پتی بندھی تھی ۔خرم صاحب کیساتھ ساتھ انکے گھر کا ہر ایک فرد زرقان کو اس حالت میں دیکھ کے روپڑا جب ڈاکٹر نے زرقان کو اندر کمرے میں بھیجا اور خرم صاحب کو اپنے کمرے میں آنے کا اشارہ کیا۔
دیکھے خرم صاحب گردن کا اپریشن ہم نے کیا ہے مگر زرقان کم از کم ایک ماہ تک صرف دوائیوں کے زیر اثر رہے گا اپ۔لوگ چاہے تو ہم اسے گھر میں شفٹ کردینگے مگر ٹھیک ایک مہینے بعد اسکی ریڑھ کی ہڈی کا اپریشن ہوگا جو کرنے کے بعد ہمیں یہ پتہ چلے گا کے زرقان ساری زندگی معزور رہے گا یہ کبھی اپنے پیروں پہ چل پائے گا اپ لوگ ہر طرح سے ہر صورتحال کو فیس کرنے کیلیے تیار رہے۔۔
ڈاکٹر کے روم سے خرم صاحب کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح باہر نکلے انہیں اندازہ نہیں تھا کے انکے بیٹے کے ساتھ یہ سب کچھ ہوگا انہوں نے ڈاکٹروں کی ایک ایک بات سب گھر والوں کو بتا دی
خرم زرقان کو گھر میں ہی شفٹ کروالے خرم پلیز۔۔
مگر آصفہ 24 گھنٹے زرقان کی نگرانی کرنی ہے میڈیسن سے لے کے ہر چیز کا تم سمجھ نہیں رہی۔۔
اپ خرم کو گھر میں ہی شفٹ کروائے مجھے پتہ پے اسکا ایسا دیھان کون رکھ سکتا ہے۔یہ کہہ کے ثمرہ نے صاحبہ کو کال کی۔۔
نیویارک کی سر زمیںن پہ قدم رکھتے ہی صاحبہ کو ٹھنڈی ہواوں نے ویلکم کیا ۔۔صاحبہ کو لینے اسکی یونی۔کی گاڑی موجود تھی جس نے بہت آرام سے اسے یونی میں محلق ہوسٹل میں پہنچا دیا۔۔
فلائٹ کی تھکن کسی سے بچھڑنے کا دکھ ،کسی ایسے شخص کی من چاہی ہمسفر بننے کی تھکن کب اسے نیند نے اپنے آغوش میں لیا اسے پتہ نہیں چلا۔۔۔۔
صبح اسکی انکھ دیر سے کھولی بنا ناشتہ کے وہ جلدی تیار ہوکے یونی جانے کیلیے نکل رہی تھی جب اسکے نمبر پہ پاکستان سے کال آنے لگی خرم صاحب کا نمبر دیکھ کے صاحبہ نے جھٹ کال ریسو کی مگر اگے سے ثمرہ کی آواز سن کے صاحبہ نے کال کاٹنے لگی ناراضگی کی وجہ سے جب ثمرہ نے صرف اتنا کہا۔۔
اج کوئ زندگی اور موت کے درمیاں جھول رہا ہے صاحبہ اسے تمہاری ضرورت ہے۔۔
یہ کہہ کے ثمرہ نے کال کٹ کردی ادھر صاحبہ نے دیوار کا سہارا لیا اور اسکی نظریں یونے کے راستے پہ تھے۔
مگر صاحبہ کونسا راستہ چنے گی یہ تو صرف وقت ہی بتائے گا۔۔
صاحبہ دوبارہ اپنے کمرے میں ائ اور اسی نمبر پہ دوبارہ کال کی تو خرم صاحب نے اٹھایا جب صاحبہ نے ان سے پوچھا۔۔
تایا یہ ماما کس کی بات کررہی ہیں کون زندگی اور موت کے درمیان ہیں پلیز تایا ابو بتائے اپکو میری قسم۔۔
صاحبہ کا اتنا بولنا خے خرم صاحب نے زرقان کی ساری کنڈیشن اسے بتاکے کال کٹ کردی ادھر صاحبہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کے نیچے گرا۔
اس نے راستہ چن لیا تھا اس نے اسی وقت دوبارہ پاکستان کی فلائٹ بک۔کروائ اور اپنا سارا سامان سمیٹنے لگی زرقان کی قسمت کہہ لو یہ صاحبہ کا چنا راستہ اسے اگلے دو گھنٹے میں پاکستان کی فلائٹ مل گئ تھی۔
وہاں صاحبہ کی پاکستان کی فلائٹ نے اڑان بھری۔۔

وہی راجا کی فلائٹ لینڈ ہوئ ایک بار پھر دونوں کے راستے الگ ہوگئے تھے

جاری ہے۔۔۔