Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
✍مریم عمران۔۔
قسط نمبر 33
صاحبہ یونی سے نکلی راستے میں سے زرقان کی میڈیسن لے کے گھر پہنچی ۔
اپنے کمرے میں اکے وہ فرہش ہوئ اور خاموشی سے زرقان کے بیہوش وجود کے پاس اکے بیٹھ گئ۔
اچانک اس کے کانوں میں راجا کے الفاظ گونجنے لگے۔۔
“تمہیں بیوی بنانے سے ذیادہ اسان اسے معزوری کو گلے لگانا لگا۔۔”
صاحبہ کی انکھوں سے انسو جاری ہوئے اور بلا جھجھک زرقان کے سینے پہ سر رکھ کے چپ چاپ رونے لگی ایسا نہیں تھا وہ راجا کی باتوں سے اپنی امید کو کمزور کررہی تھی بات ساری یہ تھی جب زرقان کو ہوش ائے گا وہ ٹھیک ہوگا تو کیا صاحبہ اس کے دل میں ہوگی یہ پھر زرغہ ہمیشہ اسکے دل میں جگہ بنا گئ۔۔
صاحبہ زرقان کے سینے سے کافی دیر تک سر رکھ کے سوتی رہی کب اسکی انکھ لگی اسے پتہ نہیں چلا مگر زرقان 15 دن بعد جاگ پڑا تھا بھلے اسکا جسم مفلوج تھا مگر اسکا دماغ جاگ چکا تھا اس کی انکھیں کھل چکی تھی۔۔..
راجا صاحبہ کی یونی سے نکلا ارادہ اسکا قاسم سے ملنے کا تھا پوچھنا تھا زرغہ کو پہنچا دیا دبئ مگر اسکا نمبر مسلسل بند جارہا تھا راجا یوہی سڑکیں ناپتا رہا اچانک اس کے سامنے کوئ لڑکی اگئ بروقت راجا نے بریک لگا دی تھی مگر پھر وہ گاڑی سے ہٹ ہوچکی تھی راجا تیزی سے گاڑی سے اترا مگر اپنا سر تھامتی ہوئ لڑکی کو دیکھا تو غصہ کی ایک شدید لہر اس کی اندر ڈوری اور ادھر تارا جو اپنا سر تھام کے کھڑی ہوئ مگر راجا کو دیکھ کے اسکی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئ۔۔
راجا نے اگے بڑھ کے جیسے ہی تارا کو تھپڑ مارنا چاہا تارا تیزی سے راجا کے گلے لگ گئ اتنا روئ اتنا روئ کے ہوا میں مہلک راجا کا ہاتھ نیچے گرگیا ایک دم تارا کا جسم نیچے گرنے لگا جب راجا نے اسے تھاما مگر تب تک تارا بیہوش ہوچکی تھی۔۔۔
راجا نے اسے گاڑی میں لیٹایا اور گھر کی طرف بڑھا۔۔
میں سچ کہہ رہا ہو ڈیڈ وہ تارا ہی تھی۔؟
نجانے کہاں گئ ہوگی میں نے بہت غلط کرا اسکے ساتھ ڈیڈ اسکو تحفظ نہ دے سکا بس رشتہ جوڑ لیا اسکو نبھانا نہیں آیا مجھے ڈیڈ ۔۔
ازان تم فکر مت کرو میں ڈھوندونگا کچھ تو ایسا ہوا ہے جو وہ فلیٹ سے نکلی تمہاری ہدایت کے باوجود پہلے بھی تو تم 6 دن فلیٹ نہیں گئے تھے مگر وہ جب تو کہی نہیں گئ تو ایک دن میں ایسا کیا ہوا جو فلیٹ چھوڑ کے ہی نکل گئ اور اسے کیسے پتہ تمہاری شادی ہے اس دن تم۔نے کچھ بتایا تھا اسے۔۔
ہاں ڈیڈ میں نے یہ ضرور بتایا تھا کے ماما شادی فکس کررہی ہیں اور یہ بھی بولا تھا کے ماما کو منالونگا تمہارے لیے مگر یہ نہیں بتایا کے اس دن میری شادی ہے۔۔
دونوں باپ بیٹے اسی کشمکش میں تھے کے تارا ایسے کیوں نکلی فلیٹ سے اور ادھر کمرے کے باہر کھڑی نسرین بیگم شاطرانہ مسکرائ اور ازان کے کمرے میں گئ جہاں عیشا دلہن بن کے بیٹھی تھی۔۔
دروازہ ناک ہونے پہ عیشا جو کسی سے فون پہ بات کررہی تھی ایک دم موبائل بند کےکر سائیڈ پہ رکھا وہ سمجھی ازان ہوگا مگر سامنے نسرین کو دیکھ کے اسکا اچھا خاصا موڈ خراب ہوا مگر وہ مصنوعی مسکراہٹ لیے نسرین بیگم کو دیکھنے لگی۔۔
نسرین بیگم اسکے پاس ائ اور بہت مان سے پیار سے اسکے ماتھے پہ۔پیار کیا اور کہا ۔۔
تمہاری محبت کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے بیٹے کی محبت کو ٹھکرایا ہے ہمیشہ اسے خوش رکھنا اسے عیشا اسے اتنا پیار دینا کے وہ تارا کو بھول جائے اور میں ایک دو دن کے اندر اندر اسے طلاق نامہ بھجواتی ہو اسکی ماں کی بھی اکڑ دو منٹ میں نکل جائے گی جو اس دن بہت اکڑ سے بول رہی تھی میری بیٹی کا نام اپنے منہ سے مت نکالو ۔۔
تم ریلکس کرو میں ازان کو بھیجتی ہو۔۔یہ بول کے نسرین بیگم کمرے سے نکلی اور عیشا نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا۔۔
“بیوقوف بڑھیا”
زرغہ واش روم سے چینج کرکے نکلی لائٹ پنک کلر کے سادہ سے سوٹ میں جو قاسم برات کے سوٹ کیساتھ لایا تھا قاسم کو وہ واقعی کوئ پٹاخہ لگ ہی تھی۔
بالوں کو ڈھیلا سا جوڑا بنائے چہرے پہ غصہ سجائے اس نے بیڈ پہ سے تکیہ اٹھایا اور صوفے پہ لیٹنے لگی قاسم سر کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے خاموشی سے اسکی ساری کاروائ دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا زرغہ کی۔کیفیت پہلے محبت میں دھوکا اور پھر ان چاہا رشتہ قاسم نے اسکو چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا مگر اپنے پاس بلانے کا ایسا پلان سوچا کے وہ خود اٹھ کے قاسم کے پاس اتی۔۔
صاحبہ نے منہ تک چادر تانی اور صوفہ کے بیک کی طرف منہ کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی تب قاسم نے دھیمی آواز میں کہا۔۔
زرغہ صوفے کے پیچھے والی کھڑکی اچھی طرح بند کرکے سونا اکثر بھیڑیے وغیرہ اجاتے ہیں پھر مارکے بھگانا پڑتا ہے جنگل کی طرف ہے نہ یہ بنگلہ اس لیے۔۔یہ بول کے قاسم نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کروٹ بدلی اور ادھر زرغہ جو قاسم کی بات اگنور کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی تھی قاسم کی۔پوری بات سن کے جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اور کھڑکی کی طرف دیکھا جو بند تو تھی مگر اسکے باہر کا منظر خوفناک لگ رہا تھا زرغہ برق رفتاری سے بیڈ پہ اگئ زرغہ بہت ڈرپوک ہے یہ بات راجا نے ایک بار زرغہ کا مزاق اڑاتے ہوئے قاسم کو بتائ تھی جسکا اس نے اج فائدہ اٹھایا تھا۔۔
زرغہ نے اپنا تکیہ تھوڑا اور قاسم کے پاس رکھا اور سونے کی کوشش کرنے لگی زرغہ کو اسطرح دیکھ کے قاسم کے لب اج برسوں بعد کھل کے مسکرائے۔۔
10 منٹ ہی گزرے تھے کے زرغہ کی گہری سانوں کی اواز انے لگی جس سے قاسم سمجھ گیا کے زرغہ سوچکی ہے ۔۔
قاسم نے اپنی مطلوبہ چیز جیب میں سے نکالی زرغہ کے پاوں میں احتیاط سے پہنا نے کے بعد زرغہ کے پاوں پہ اپنے لب رکھے بے مروت انسو قاسم کے اس سے پہلے زرغہ کے پاوں پہ گرتے وہ وہاں سے ہٹ کے زرغہ کے برابر میں لیٹ گیا۔۔
جاری ہے۔۔
