Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 39
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
کیا ہوا ماما کو؟؟
ازان بھاگتے ہوئے ہسپتال پہنچا زمان صاحب کو جب ڈرائیور کی کال آئ تو وہ کسی میٹنگ میں مصروف تھے مگر انہوں نے ازان کو ہاسپتال پہنچ کے خبر دی۔۔
پتہ نہیں بیٹا مجھے تو ڈرائیور کی کال آئ ۔۔
دونوں باپ بیٹے ابھی کشمکش میں تھے کے ڈاکٹر آئ سی یو سے باہر آئے انہوں نے زمان صاحب سے کہا۔۔
زماں صاحب اللہ نے اپکی مسس کو بال بال بچایا ہے انکا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کرگیا تھا پلیز انکا دیھان رکھے اپ لوگ اگلی بار اگر ایسا ہوا تو اپکی مسس کو بچانا ناممکن ہوگا۔
ڈاکٹر اپنی بات کہہ کے چلے گئے وہاں ازان زماں صاحب کی طرف دیکھ کے کہنے لگا
اج صبح ماما بلکل ٹھیک تھی اور تیار ہوکے کہی جارہی تھی پھر اچانک ایسا کیا ہوا اپ کو کچھ آئیڈیا ہے۔۔
کہی راجا نے تو کچھ کیا پتہ تماری ماما تارا کے گھر گئ ہو۔۔
نہیں پاپا میں نے ڈارئیور سے پوچھا ہے وہ کہہ رہا ہے ماما کو عیشا بی بی کے ہاں لے کر گیا تھا۔۔
دونوں ہی پریشان تھے جب تک نسرین بیگم کو ہوش نہیں آتا کچھ بھی کہنا اچھا نہیں ازان ۔۔
ہمم ڈیڈ۔۔۔
راجا کو اپنا سامنے دیکھ پہلی بار امامہ ڈری نہیں اور نہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے سے کترائ۔۔۔۔۔
کون گینگسٹر سے محبت کر بیٹھا؟؟
کس کو کیا جواب دینا ہے۔۔؟؟
امامہ نے بگڑے منہ کے ساتھ ایک نگاہ راجا پہ ڈالی اور گھوم کے تارا کے پاس سے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئ بڑبڑائ ۔۔
اب انکو بتاو کے گینگسٹر کون ہے نوسو چوہے کھاکے بلا۔حج کو چلا۔۔
بیگ اٹھاتےہی امامہ نے تارا سے کہا۔
جو اسکی بڑبڑاہٹ پہ مشکل سے اپنا قہقہ روک رہی تھی۔۔
تارا مجھے لیٹ ہورہا ہسپتال کیلے پھر آونگی۔۔
راجا امامہ کا ایسا خود کو اگنور کرنا دیکھ چکا تھا ایک آئیبرو اچکا کے پہلے تارا کو دیکھا اور پھر امامہ کو اپنے آنکھوں پہ۔گلاسس لگاتے ہوئے کہا۔۔
آو جاو تمہارا ہسپتال راستے میں پڑتا ہے میں چھوڑ دونگا۔۔
یہ بول کے راجا گھر سے باہر نکل گیا اور امامہ منہ کھولے راجا کو جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔
یار یہ کیا چیز ہے تمہارا بھائ سامنے والے کو تو کچھ سمجھتا ہی نہیں ہے۔۔
دیکھو لو انہیں پہ دل ہاری ہو۔۔۔
اب دل آئے گدھے پہ تو شہزادہ کیا چیز ہے۔۔
اوئے میرا بھائ شہزادہ ہے امامہ ۔۔
جا بھئ آئ بڑی میرا بھائ شہزادہ ہے ہہننن۔
یہ کہہ کےامامہ سیدھا راجا کی گاڑی میں جاکے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئ۔
خاموشی سے راستہ طے ہورہا تھا جب راجا نے امامہ سے کہا۔۔
اپنا راستہ بدل لو امامہ میری منزل کوئ اور ہے۔۔
راجا کی بات پہ امامہ جو رخ موڑ کے بیٹھی تھی جھٹکے سے مڑی اور حیران کن نظروں سے راجا کو گھورنے لگی۔۔اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کے راجا اسکی محبت سے واقف تھا۔۔
راستہ تو اپکو بھی بدلنا چاہیے اسکی منزل اپ نہیں کوئ اور ہے۔۔
میں اس سے محبت نہیں عشق کرتا ہو۔۔
زبردستی تو انسان پیدا نہیں ہوتا اپنے عشق پال لیا۔
اچھی لڑکی ہو کوئ بھی مل جائے گا۔۔
جب دل اپ کے نام پہ ڈھرکتا ہو تو کوئ بھی نہیں چلے گا۔۔
راجا نے غصہ میں گھور کے امامہ کو دیکھا اور کہا۔۔
میرے معملات سے دور رہو امامہ ۔۔
اپ بھی مجھے راستوں پہ چلنے کا نقشہ نہ بتائے مجھے پتہ ہے میرا درست راستہ کونسا ہے۔۔
ٹھیک ہے کانٹوں بھرے راستوں پہ چلنا کا شوق ہے تو مجھے کیا راجا نے بے فکری سے اپنے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
کانٹوں کیساتھ گلاب بھی تو ہوتا ہے امامہ نے بھی دوبدو جواب دیا ۔
راجا نے پھر امامہ۔کو گھورا اور کہا۔۔
بہت ضدی ہو۔۔۔
بلکل اپنے یار کی۔ہرچھائ ہو امامہ نے ایک ادا سے کہا۔
اسی دوران راجا نے گاڑی ہسپتال پہ رکی امامہ بنا راجا کو دیکھے اندر چلی گئ
راجا نے ایک نظر جاتی امامہ کو دیکھا اور گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
سارے پاگل مجھے ہی ٹکرائے ہیں۔۔۔
زرغہ کو کوئٹہ آئے پانچواں دن تھا پلوشہ اور بلال نے زرغہ کو کوئٹہ گھمانے کا پلین بنایا اج وہ تینوں ایک خوبصورت پہاڑ سے منسلک جھیل کی طرف جارہے تھے قاسم اپنے کام میں بزی تھا اس لیے وہ انکی اس پکنک سے انجان تھا۔۔
واہ پلوشہ یہ جھیل تو بہت خوبصورت ہے۔۔۔
زرغہ جھیل کی خوبصورتی میں کھوگئ۔۔۔
بلیک اور شاکنگ پنک کلر کے کنٹراس کا پٹھانی سوٹ پہنے وہ اسی جھیل کا حصہ لگ رہی تھی بلال زرا دور ان دونوں کیلیے چائے لینے گیا تھا۔۔
مگر یہ جھیل اپ سے زیادہ خوبصورت نہیں ہائےے۔
دو تین اوباش لڑکوں نے ان دونوں کو گھیرا۔۔
زرغہ اور پلوشہ ان لوگوں کو اگنور کرکے جانے لگی جب ان لڑکوں میں سے ایک نے زرغہ کا ہاتھ پکڑا لڑکے کی اس حرکت پہ زرغہ نے گھومتا ہوا ٹھپڑ اس لڑکے کے منہ پہ مارا ۔
لڑکے تھپڑ کھاکے غصہ میں پاگل ہوگیا اس نے زرغہ کے منہ پہ پلٹ کے تھپڑ مارا زرغہ لڑکھڑا کے پتھر پہ گری وہ لڑکا اس سے پہلے دوبارہ زرغہ کو پکڑتا بلال ایک دم آگے ایا بلال اکیلا ان چاروں سے لڑ رہا تھا مگر بلال زیادہ ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کر پایا اور بیہوش ہوگیا۔
بلال کے بیہوش ہوتے ہی وہ لڑکے زرغہ اور پلوشہ کی طرف بڑھے
جاری ہے
