Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 36
No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
ہیں نہ ماما یہ راجا جھوٹ بول رہا ہے نہ؟؟
اذان ایک بار پھر پورے یقین سے نسرین بیگم سے پوچھنے لگا۔۔۔
اوہ پلیز آئ ہیٹ میلو ڈرامہ مجھے بہت ضروری کام سے جانا ہے اڈریس تو تم جانتے ہو سو ان پیپر پہ سائن کرکے میرے گھر پہنچا دینا۔۔
یہ کہہ کے راجا نے آنکھوں پہ بلیک گلاسس لگائے اور ازان کے گھر سے بڑی شان سے نکلا۔۔
راجا کے جانے کے بعد زمان صاحب جو کب سے ضبط کیے بیٹھے تھے ایک دم اٹھے اور نسرین بیگم کے کندھوں کو پکڑ کے جھنجھوڑ ڈالا اور کہا
کچھ پوچھ رہا ہے ازان تم سے نسرین راجا جو بول کے گیا کیا وہ سچ ہے ؟
زمان صاحب کے ڈھارنے سے نسرین بیگم ڈر گئ اور انہوں نے ہاں میں گردن ہلائ
ازان جھٹکے سے وہی زمین پہ بیٹھ گیا
زمان صاحب نے ایک زناٹے دار تھپڑ نسرین بیگم کے منہ پہ دے مارا ہر چیز جیسے رک سی گئ پہلی بار زمان صاحب کا ہاتھ اٹھا تھا نسرین بیگم نے بے یقینی سی کیفیت میں زمان صاحب کی طرف دیکھا مگر وہاں کوئ افسوس نہیں صرف غصہ تھا ۔۔
ازان جو زمیںن پہ بیٹھا تھا ایک دم اٹھا اور نسرین بیگم سے کہا۔۔
اج سے اپ میری ماما نہیں ہیں اپ پہلی ماں ہونگی جنہوں نے اپنی۔خواہش کی تکمیل کیلیے اپنے بیٹے کی۔خوشیاں داو پہ لگا دی میں اپکو کبھی معاف نہیں کرونگا یہ بول کے ازان جانے لگا جب زمان صاحب کی آواز ہال میں گونجی ۔۔
رک جاو ازان تمہارا باپ ابھی زندہ ہے ریڈی ہوجاو ہم تارا کو لینے جائینگے اج وہ اس گھر کی بڑی بہو کی۔حیثیت سے رخصت ہوکے اس گھر میں آئے گی اور جسکو تکلیف ہے میرے اس فیصلے سے وہ جاسکتا ہے یہاں سے یہ بول کے زمان صاحب اوپر اپنے کمرے میں چلے گئے اور ادھر ازان صاحب بھی بنا اپنی ماں کو دیکھے اوپر بڑھ گیا نسرین بیگم کا ایک غلط فیصلہ اج ان سے انکے دو انمول رشتہ دور لے گیا۔۔
اج جانا ہے کیا زرقان نے ہاسپٹل صاحبہ۔؟
آصفہ بیگم کمرے میں اکے صاحبہ سے پوچھنے لگی جو زرقان کو بڑی احتیاط سے شرٹ پہنا رہی تھی۔۔
نہں تائ اج نہیں اج ڈاکٹر نے بلایا ہے مجھے زرقان کی ڈائیٹ کے متعلق بات کرنی ہے میں ابھی نکل رہی ہو تاکے جلدی اسکو اپ یہی ہیں نہ زرقان کے پاس۔۔
زرقان صاحبہ کو بس نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اسے شدت سے انتظار تھا اپنے بولنے کا۔۔
ہاں میری جان تم جاو میں یہی ہو اور پلیز اتے ہوئے اپنے لیے کچھ شاپنگ کرتی ہوئ آنا حال دیکھو اپنا ایک بھی ڈھنگ کا سوٹ نہیں پہنتی ہو ۔۔
نہیں تائ ایک بار زرقان ٹھیک ہوجائے اپنے پیروں پہ چلنے لگے گا اس دن اسکی جیب خالی کراونگی ابھی میں نے آڈر کرے ہیں سوٹ لیکن بازار شاپنگ کرنے میں اسی کیساتھ جاونگی ۔۔
زرقان چلے گا نہ صاحبہ اپنے پیروں پہ۔۔
آصفہ بیگم نے زرقان کی طرف دیکھ کے ایک آس سے پوچھا۔۔
انشاءاللہ تائ جان اللہ اہنے بندوں کو اتنی ہی تکلیف دیتا ہے جتنی وہ برداشت کرسکے اپ مایوس نہ ہو مایوسی کفر ہے ۔۔
اب میں چلتی ہو لیٹ ہورہا ہے۔
اوکے بیٹا دیھان سے جانا۔۔
دم گھٹنے کے احساس سے زرغہ کی آنکھ کھلی کمبل۔کے اندر وہ قاسم کے سینے سے چپکی ہوئ تھی ۔
زرغہ کا قاسم کی قربت سے حال برا ہونے لگا اتنی ٹھنڈ میں بھی اسے پسینے انے لگے نگاہ اٹھا کے اس نے قاسم کو دیکھا بیشک وہ ایک خوبصورت مرد تھا رات کا سارا منظر زرغہ کی نگاہوں میں گھومنے لگا ۔
کیوں میں اس شخص پہ بھروسہ کرنے لگی ہو؟؟کیوں کل رات مجھے اس شخص کی باہیں سب سے محفوظ جگہ لگی؟؟
یہ وہی شخص ہے جس نے راجا کیساتھ ملکے میری زندگی کو اس موڑ پہ لاکے کھڑا کردیا میں پھر اسکی طرف کھینچی چلی جارہی ہو کونسا روپ اس آدمی کا سچا ہے اے میرے اللہ اس بار میرا راستہ غلط نہ ہو۔۔
زرغہ اپنی سوچوں میں گم۔تھی جب قاسم ہلکا سا کسمایا زرغہ نے قاسم کو جاگتا دیکھا تو فورا اپنی آنکھیں بند کرکے سوتی بن گئ۔۔
قاسم کی آنکھیں کھلی تو زرغہ کو خود سے لگا پایا قاسم کے چہرے پہ ایک جاندار مسکراہٹ اآگئ۔۔۔۔۔
قاسم کی نظریں بھٹک کے زرغہ کے دیپ گلے پہ پڑی مگر وہ اپنے جزبات کو دبا گیا احتیاط سے زرغہ کے نیچے سے ہاتھ نکالا اور دوسرا ہاتھ اسکے سر کے بیچے رکھا اور ایک دم اسکے اوپر اکے اسے احتیاط سے تکیے پہ لیٹایا زرغہ کا چہرہ دیکھ کے قاسم کے لبوں پہ مسکان آگئ وہ زرغہ کے لبوں پہ جھکنے لگا مگر رک گیا اور زرغہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے فریش ہونے چلا گیا۔۔
قاسم کے جاتے ہی زرغہ نے اپنی آنکھیں کھولی اس نے واش روم کے بند دراوزے کو دیکھا اور اسکا ہاتھ اپنے ماتھے پہ گیا۔۔
ہاں نکل گئ گھر سے راجا نے اپنے مخبر سے پوچھا جو اس نے صاحبہ کی ہر مومنٹ کیلیے رکھا تھا۔۔
جی۔سر ابھی ابھی ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔
ازان کے گھر سے نکل کے راجا نے ہاسپٹل کی راہ لی۔۔
ارے امامہ تم آنٹی کیساتھ سب خیریت گلنار بیگم کمرے میں جاچکی تھی جب وہ دونوں آئے۔۔
ارے یار یہ رات سے تم سے ملنے کا بول رہی تھی اب رات تک تو سنبھال لیا مگر صبح اب تو سنبھال میرا انٹرویو ہے اوکے یہ بول کے امامہ بنا تارا کی بات سن کے باہر کو بھاگی۔۔
جی ڈاکٹر میں سمجھ گئ انشاءاللہ ایک ہفتے بعد میں لے آونگی زرقان کو۔۔
اوکے صاحبہ سی یو۔۔
صاحبہ ڈاکٹر کے کمرے سے نکلی ابھی ہاسپٹل سے باہر نکلی تھی کے ایک بلیک رنگ کی پیجارو اسکے پاوں کے پاس اکے رکی گاڑی کا گیٹ کھولا اور کسی نے صاحبہ کا ہاتھ پکڑ کے اسے ایک دم اندر کھینچا اور گاڑی آگے بڑھ گئ۔۔
جاری ہے۔
