Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 37 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37 Part 1
قاسم نہا کے نکلا تو زرغہ اٹھ کے بیٹھی تھی اپنی ہاتھوں کی لکیروں کو گھورنے میں مصروف تھی قاسم خاموشی سے شیشے میں کھڑے ہوکے اپنے بال بنانے لگا اور وہی سے زرغہ کو دیکھنے لگا جو اب خاموشی سے رونے میں مصروف تھی قاسم نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور دل میں سوچنے لگا۔۔
“اس لڑکی کو سمجھنا بہت مشکل ہے “”
قاسم دھیرے سے چلتا ہوا زرغہ کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تو زرغہ کے رونے میں اور روانگی اگئ۔۔قاسم اٹھ کے اس پاس بیٹھا اور اسکا رخ اپنی طرف موڑ کے کہا۔۔
“ادھر دیکھو زرغہ میری طرف زرغہ کسی بت کی طرح بیٹھی جیسے وہ کچھ سن نہ رہی ہو قاسم نے اسکے چہرے کا رخ اپنی طرف موڑا اور کہا۔۔
“کیا بات ہے زرغہ کیوں بار بار ان آنکھوں کو تکلیف دیتی ہو تمہیں شاید کسی نے بتایا نہیں تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہے۔ قاسم کی بات پہ زرغہ نے اپنی آنکھیں اوپر اٹھائ اور قاسم کو دیکھا قاسم نے کھلے دل سے اعتراف کیا کے واقعی اس نے زرغہ جیسی معصوم آنکھیں کہی نہیں دیکھی۔۔۔۔
“کیا میں کبھی سکون میں رہ پاونگی اپنی ماں کا سکون برباد کرکے زرقان کی محبت کا تماشہ بناکے صاحبہ کی زندگی برباد کرکے”؟؟
قاسم نے اسکے انسو اپنے لبوں سے چنے اور کہا۔
اللہ اپنے بندوں سے ستر گناہ زیادہ پیار کرتا ہے وہ ہماری شہہ رگ سے ذیادہ قریب ہے ہم چاہے کتنے بھی گناہ کرلے وہ ہماری دل سے نکلی ایک معافی پہ سب گناہ معاف کردیتا ہے تم بھی معافی مانگو زرغہ اللہ تمہیں سکون دے گا میں موقع دیکھ کے تمہیں لے کے جاونگا کراچی یہ وعدہ ہے میرا۔۔
سچ میں اپ لے کر جائینگے؟؟
ہاں پکا وعدہ قاسم کو سوال کرتی زرغہ کوئ بہت انمول شہ لگی جسکو قاسم۔کسی قیمت پہ بھی خود سے دور جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔
اب تم جلدی سے فریش ہوجاو ہمیں نکلنا ہے پھر اور مجھے بھوک بھی بہت لگی ہے قاسم کے مسکرا کے کہنے پہ زرغہ فریش ہونے چلی گئ زرغہ کے جاتے ہی قاسم کے مسکراتے ہوئے لب تھمے اور اس نے دھیمے سے کہا۔۔
“کیا مجھے معافی ملے گی میں بھی تو بہت گنہگار ہو زرغہ کی اس حالت کی وجہ میں ہو۔۔
مگر تم نے اسے راجا سے بچایا بھلے طریقہ جو بھی تھا قاسم کے دل نے اسے کہا۔۔
قاسم نے کچھ سوچتے ہوئے ایک لمبی سانس لی اور خود سے کہا۔
چھوڑنا نہیں ہے تمہیں زرغہ تم عادت بنتی جاری ہو قاسم خان کی۔۔۔
راجا نے صاحبہ کو جیسی اندر کھینچا وہ مزاحمت پہ اتر ائ راجا کو مجبورا اسے کلوروفام سونگھانا پڑا۔۔
صاحبہ وہی راجا کی باہنوں میں بیہوش ہوگئ گاڑی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی اور ادھر راجا نے صاحبہ کو کسی قیمتی متاع کی طرح اپنی باہنوں میں سمایا ہوا تھا ۔راجا کی نظر بار بار بھٹک کے صاحبہ کے گلابی ہونٹوں سے ٹکرارہی تھی مگر ہمیشہ کی طرح وہ اپنا دل سنبھال گیا بیہوشی کی دوا ذیادہ مقدار میں نہیں تھی اس لیے راجا کے فام ہاوس پہنچتے ہی صاحبہ کوہوش اگیا تھا ۔۔
گاڑی پوچ میں رکی تو صاحبہ اتر کے چیخنے لگی راجا کے چہرے پہ رومال تھا اس لیے صاحبہ ڈر گئ مگر صاحبہ کے چیخنے پہ جیسی ہی راجا نے اپنا رومال نیچے کیا صاحبہ کے بے ڈھرک ہاتھ اپنے منہ پہ گیا اس نے ایک زناٹے دار تھپڑ راجا کے منہ پہ دے مارا اور اسکا گریبان پکڑ کے چیخ کے کہا۔۔
تم اتنے گھٹیا نکلوگے میں نے سوچا بھی نہیں تھا راجا ایک دفعہ کی سمجھ میں نہیں آتی میں شادی شدہ ہو میرے شوہر کو میری ضرورت ہے۔۔
راجا نے خونخوار نظروں سے صاحبہ کو دیکھا اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹائے گھسیٹتے ہوئے اسے فارم۔ہاوس کے اندر لے گیا۔۔
جھٹکے سے اسے ہال میں رکھے صوفے پہ دھکا دیا اس سے پہلے کے صاحبہ سنبھالتی راجا اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کے اسکے بھاگنے کے سارے راستے فرار کرچکا تھا راجا صاحبہ کے اتنے قریب تھا کے اسکی سانسیں صاحبہ کے چہرے کا طواف کررہی تھی
۔
اور میں تمہیں نہیں دیکھتا جو تمہیں جنون کی حد تک چاہتا ہے وہ۔معزور ہے تمہارے کسی کام کا نہیں سمجھ نہیں آتی تمہیں۔۔
راجا اتنی زور سے ڈھارا کے صاحبہ ڈر کے رونے لگی صاحبہ کے آنسو دیکھ کے راجا کو اپنے لہجے کا احساس ہوا اس نے دیوانہ وار صاحبہ کا چہرہ تھاما اور کہا۔۔
اچھا سوری لٹل گرل یہ دیکھو میں کان پکڑتا ہو اب نہیں چیخو گا مگر دیکھو سمجھو نہ مجھے میں نہیں رہ سکتا تمارے بنا یہ دیکھ رہی ہو راجا نے اپنا ہاتھ اسکے آگے کیا اور اس پہ پاکٹ میں رکھے چوٹے چاقو سے وار کیا راجا کے ہاتھ سے تیزی سے خون نکلتے دیکھ صاحبہ ڈر گئ راجا نے لہولہان والا ہاتھ صاحبہ کے سامنے کیا
صاحبہ راجا کی اس حرکت سے کافی ڈر گئ اسے اس وقت وہ۔کوئ جنونی پاگل لگا راج نے اپنے بہتے آنسو صاف کیے اور کہا۔۔
اس جسم میں اس خون کی طرح شامل۔ہوگئ ہو تم تم سے دوری اب ناممکن ہے یہ۔کہہ کے راجا نے اپنی پینٹ کے پیچھے سے ایک پیپر نکل کے صاحبہ کے آگے کیا اور کہا اس پہ۔سائن۔کرو ابھی۔۔
کیا ہے یہ ؟؟
صاحبہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔
خلہ نامہ۔تم۔ابھی کے ابھی زرقان سے خلا لے رہی اور ہم۔کل۔شادی کررہے ہیں۔۔
صاحبہ نے ایک نظر غصیلی راجا پہ ڈالی اور پیپر کی۔دھجیاں اڑا دی اور چیخ کے کہا۔
زرقان میرا شوہر ہے مرجاونگی مگر اسکا ساتھ کبھی نہیں چھوڑونگی جان لے لو میری بھلے مگر میں تمہاری کبھی نہیں ہونگی یہ بول کے صاحبہ نے راجا کا گرا چاقو ایک دم اٹھا کے اپنے ہاتھ پہ وار کیا۔
یہ۔کیا کررہی ہو لٹل گرل راجا ایک دم۔چیخ کے صاحبہ کی طرف بڑھا۔۔
وہی رک جاو راجا ورنہ میں اپنے آپ کو جان سے مارلونگی صاحبہ نے اپنی شہہ رگ پہ چاقو رکھتے ہوئے کہا۔۔
راجا صاحبہ کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کے سہم گیا اس نے پیچھے ہوتے ہوئے کہا۔۔
ٹھیک ہے میں نہیں آرہا قریب تم چاقو نیچے رکھو ۔۔
نہیں پہلے مجھے گھر چھوڑ کے آو۔۔
کبھی نہیں راجا پھر مکرا ۔۔
ٹھیک ہے یہ بول کے صاحبہ نے ایک اور کٹ اپنے ہاتھ پہ لگایا۔۔
ہےےےے صاحبہ نہیں کرو میری جان پلیز نہیں کرو مجھے تکلیف ہورہی ہے راجا نے بے بسی سے کہا۔۔
جانے دو مجھے پھر ۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں چلتا ہو چھوڑنے تمہیں چلو مگر یہ۔چاقو نیچے رکھو۔۔
نہیں چاقو میرے پاس رہے گا۔۔
مجھ پہ بھروسہ نہیں صاحبہ ۔۔
نہیں میں اب تم پہ بھروسہ نہیں کرسکتی۔۔۔۔
اففف اچھا چلو راجا صاحبہ کو لے کر فارم ہاوس سے نکلا۔۔
تمہیں پتہ ہے تم کیا کہہ رہی ہو امامہ ؟؟
ہاں تارا میں نے اپنی ان۔آنکھوں سے راجا کو ہسپتال کے باہر اس لڑکی کو زبردستی گاڑی میں ڈالتے ہوئے دیکھا وہ گاڑی راجا کی۔ہی تھی اور انکی آنکھیں تم جانتی ہو میں دھوکا نہیں کھا سکتی۔۔
میں ابھی چلتی ہو تارا میرا دماغ سن ہورہا ہے ۔۔امامہ اپنی مام کو لے کر چلی گئ تارا کو حیران اور پریشان چھوڑ کے۔۔
ادھر صاحبہ پورا راستہ چاقو ہاتھ میں پکڑی رہی جیسی ہی گاڑی صاحبہ کے گھر کے پاس رکی صاحبہ تیزی سے اندر بھاگئ۔۔
تارا کافی دیر سے ٹیرس پہ کھڑے راجا کا انتظار کررہی تھی۔امامہ والی بات نے اسکو پریشان کردیا تھا۔۔
راجا گاڑی کو دیکھ کے امامہ نیچے آئ راجا کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی جب راجا کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے راجا کی آواز ارہی تھی۔
غلطی ہوگئ بہت بری اس زرغہ کیساتھ اس زرقان کا بھی کام تمام کرنا تھا تو اج صاحبہ میری ہوتی راجا اپنی شرٹ اتارتے ہوئے بڑبڑا رہا تھا جیسی پلٹا تو تارا کو دیکھ کےسٹپٹا گیا۔۔
جاری ہے۔۔
