Raastay By Mariyam Khan Readelle50214
Last updated: 12 September 2025
Raastay
By Mariyam Imran Khan
قاسم نے کمرے میں گھسنے سے پہلے اپنی جیب پہ ہاتھ مارا مطلوبہ چیز کا یقین ہونے پہ۔وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔ زرغہ قاسم کی موجودگی سے انجان ڈوپٹہ سے بے نیاز اپنے بال کھولنے پہ لگی تھی ایک پن رہ گئ تھی جیسے ہی زرغہ نے پن نکالی آبشار کی طرح زرغہ کے گھنے بال اس کی کمر پہ چھا گئ۔۔ سمجھتا کیا ہے خود کو آیا بڑا دغا رورا والا پٹھان ۔۔ زرغہ اپنا غصہ اب بول کے نکال رہی تھی اس بات سے انجان کے قاسم کمرے کے اندر اچکا ہے۔۔ داغارورا والا لقب سن کے قاسم کا تو مانو منہ ہی کھل۔گیا۔ نہیں سمجھتا کیا ہے کیسے بول رہا تھا۔۔ تمہارے پاس دو آپشن ہیں۔زرغہ نے باقاعدہ منہ ٹیڑھا کرکے قاسم کی نکل اتاری۔ کوئ فلم کی شوٹنگ چل رہی ہے کوئ نول۔کا سین تھا کے ایک بیچنے کیلیے لایا اور دوسرے نے خرید لیا میں کیا کوئ کھلونا ہو ۔۔ میں نے خریدا نہیں ہے تمہیں اپنا بنایا ہے جائز رشتے سے جو بیچ کے گیا وہ ناجائز تھا۔۔ زرغہ جو غصہ میں اپنی شرٹ کی بیک اوپن کرنے والی تھی پل بھر کیلیے اس کے ہاتھ کمر پہ ہی رک گئے۔۔ زرغہ نے فورا مڑ کے قاسم کو دیکھا ۔۔ قاسم کو دیکھ کے زرغہ کے غصہ کا میٹر اور تیز چلنے لگا اور اس نے قاسم کے روبرو اکے کہا۔۔ ہاں یہ ہی میں پوچھ رہی ہو کیوں بنایا مجھے بیوی اور کوئ نہیں ملی تمہیں؟؟ زرغہ ڈوپٹہ سے بے نیاز قاسم کے سامنے لڑاکا عورتوں کی طرح کھڑی تھی ۔ہاف آستینوں سے اسکے جھلکتے سفید بازو گہرا ڈیپ گلا جس پہ قاسم کی نظریں ٹک گئ تھی ۔۔ میں نے تمہیں آپشن دیا تھا نہ بننتی میری بیوی۔۔۔ ہاں تو دوسرا آپشن دیکھا تھا اپنا بار ڈانسر استغفراللہ ۔۔ بات سنو مسٹر قاسم میں تمہارے ساتھ ذیادہ دن رہونگی بھی نہیں موقع ملتے ہی بھاگ ابھی زرغہ کی بات منہ میں ہی تھی کے قاسم نے اسکو پکڑ کے اپنے پاس کھینچا اور اسکے لبوں پہ جھک گیا۔ زرغہ نے اپنے ہونٹ اپس میں جوڑنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہی مدہوشی کا سما کچھ ایسا بنا کے قاسم نے پیچھے سے زرغہ کی شرٹ اوپن کردی کھلی کمر پہ قاسم کا ہاتھ پڑتے ہی زرغہ کے مزاحمت کرتے ہاتھ تھم سے گئے۔۔ قاسم نے زرغہ کے لبوں کو ازاد کیا زرغہ کی آنکھوں میں نمکین پانی بڑھنے لگا مگر قاسم نے اسے ابھی بھی نہیں بخشا ایک بار پھر اگے بڑھ کے اسے گھما کے اسکی گردن پہ اپنے لب رکھے مگر لبوں کی جگہ کب دانتوں نے لی قاسم کو پتہ نہیں چلا کندھے سے نیچے جاتی زرغہ کی شرٹ کو ایک نظر قاسم نے دیکھا اور پھر زرغہ کو جو آنکھیں بند کرکے سہمی سے کھڑی تھی قاسم۔نے اسکی ۔شرٹ کو کندھے سے اوپر کرا اور کہا۔۔ مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت ورنہ ساری زندگی خود کے پیدا ہونے پہ۔افسوس کرتی رہوگی۔ بدنامی کا راستہ چنا تھا تم نے مگر میں تمہیں عزت کی راہ پہ چلانا چاہتا ہو عزت سے رہو تمہارے لیے بہت اچھا ہے ورنہ ایسی بہت سے جگہیں ہیں جو گھر سے بھاگی ہوئ لڑکیوں کا ٹھکانہ ہوتی ہے۔چن لو اب تمہیں کونسا راستہ چننا ہے عزت والا یہ پھر گمنامی کا راستہ ۔ زرغہ کو جھٹکے سے چھوڑ کے قاسم کمرے سے جانے لگا جب کچھ یاد انے پہ دوبارہ زرغہ کے پاس آیا اور کہا۔۔ اس دغارورے والے پٹھان کیساتھ ساری زندگی گزرانی ہے تمہیں۔۔ زرغہ نے قاسم کو نگاہ اٹھا کے دیکھا مگر قاسم جسکی آنکھوں میں صرف غصہ تھا زرغہ نے تقریبا بھاگتے ہوئے واش روم کی راہ لی اور زور سے دروازہ بند کیا اور ادھر قاسم زرغہ کی اس حرکت پہ مسکرا اٹھا۔۔ تم بات کرو ازان سے تارا۔۔ تارا کی بیسٹ فرینڈ امامہ۔نے کہا۔ نہیں امامہ مجھ میں اب ہمت نہیں تم نے مجھے اجازت دی یہاں رہنے کی۔میرے لیے یہ ہی کافی ہے تمہارا احسان میں زندگی بھر نہیں بھولونگی۔۔ کیسی باتیں کررہی ہو یار تم۔نے میرا مشکل وقت میں کتنا ساتھ دیا میں تو خود تمہارے اچانک غائب ہونے سے بہت پریشان ہوگئ تھی تمہاری مام سے بھی پوچھا مگر انہوں نے مجھے اتنی بری۔طرح ڈانٹا کے بس دوبارہ۔ہمت نہیں ہوئ۔۔ کل شادی ہے امامہ ازان کی؟؟ میں پھر تمہیں بولونگی تم ازان کو سب سچ بتا دو ۔۔۔ نہیں امامہ انکی ماما جو میری بےعزتی کرکے گئ بہت ہے جو شخص صرف رشتہ جوڑنا جانتا ہو نبھانا نہیں جانتا ہو اس شخص سے دوری اچھی میں ساری زندگی انکے نام پہ گزرادونگی ۔۔ امامہ۔کیا تم۔مجھے اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے سکتی ہو۔ کیسی باتیں کررہی ہو تارا یہ گھر تمہارا ہی ہے اس کالی رات میں اگر تم۔مجھے اور امی۔کیلیے کچھ نہیں کرتی تو شاید اج ہم زندہ نہیں ہوتے میں جس طرح اپنی عزت اپنی پھپھو کے گھر سے بچا کے نکلی تھی اور کس طرح میں نے اپنی ماں کو بھی بچایا یہ میں جانتی ہو ۔۔ تم یہی رہو مگر تارا ایک بار راجا سے میرا مطلب راجا بھائ سے بات کرکے دیکھو۔۔ تارا نے گھوم کے امامہ کو دیکھا اور کہا۔۔ اج بھی بہت چاہتی ہونا راجا بھائ کو۔۔ اوہو یار دیکھو اج میرا انٹرویو تھا دعا کرنا میرے لیے اچھا شام میں بات ہوگی۔۔یہ بول۔کے امامہ نے فرار کا راستہ اپنایا اور تارا تین دن پہلے ہوئے قصہ کا سوچنے لگی ۔۔ ازان کے جانے کے بعد تارا بیچینے سے ازان کا ویٹ کرنے لگی اگلے دن ڈور بیل پہ تارا نے یہ سوچ کے دراوزہ کھولا کے ازان ہوگا مگر وہ اپنی خوشی میں یہ بھی بھول گئ کے ازان لاک کھول۔کے اجاتا ہے۔۔ دروازہ کھلتے ہی عیشا اور نسرین بیگم کو سامنے دیکھ کے تارا ساکن رہ گئ۔۔ نسرین بیگم نے اگے بڑھ کے تارا کے منہ پہ ٹھپر مارا اور خوب سنائ عیشا مسکرا کے یہ سارا تماشہ دیکھ رہی ۔۔ نسرین بیگم نے زمان صاحب کو فون پہ باتیں کرتے سن لیا تھا جب سے ہی وہ ازان اور تارا کے رشتے سے واقف تھی بیماری کا ڈرامہ کرکے انہوں نے ازان کو ایموشنلی شادی کیلیے راضی کیا مگر دوبارہ ازان کا رات کو غائب ہونا نسرین بیگم سے برداشت نہیں ہوا اور انہوں نے تارا کو اس فلیٹ سے نکال دیا اور یہ بھی بتایا کے ازان کی شادی ہونے والی ہے اب اس کی زندگی میں اس کی کوئ جگہ نہیں۔اور تارا وہاں سے امامہ کے گھر اگئ ۔۔
