84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 1

مدہوشی کے لمحوں کو دروازے کی دستک نے توڑا ۔دروازہ بجتے ہی صاحبہ فورا زرقان سے الگ ہوئ اور ادھر زرقان کا بھی سحر توٹا۔۔
دروازے پہ سرورصاحب تھے جنکو دیکھ صاحبہ نے کہا۔
کوئ کام تھا پاپا اپکو مجھے آواز دے لیتے ۔۔
نہیں بیٹا وہ خرم بھائ اپکو کب سے کال کررہے ہیں اپ اٹھا نہیں رہی تو انہوں نے مجبورا مجھے کال کی۔۔
اوہ موبائل سائیلنٹ پہ ہوگا میں دیکھتی ہو۔۔
صاحبہ نے جھکی نظروں سے موبائل زرقان کے پاس سے اٹھایا اور اسکی آواز کھولی خرم صاحب کو کال ملا کے زرقان کو دے دی سرور صاحب بھی کمرے سے جاچکے تھے صاحبہ نے دروازہ بند کیا اور ڈریسنگ کے پاس جاکے اپنے بال سکھانے لگی اور ادھر فون پہ بات کرتے زرقان کی نظریں صاحبہ کے سراپے پہ تھی کال۔کٹ ہوئ تو صاحبہ نے زرقان کو میڈیسن دی جب زرقان نے کہا۔۔
تمہیں برا تو نہیں لگا میرا مطلب ہے ایسے تمہیں چھونا میرا مطلب ہے زرقان کی سمجھ میں نہیں ارہا تھا کے وہ کیسے صاحبہ سے پوچھے کے ابھی تھوڑے دیر پہلے جو ان دونوں کے درمیان زرقان کی پیش قدمی سے ہوا اس سے صاحبہ ناراض تو نہیں۔۔
اج بھی زرغہ اپی سے محبت کرتے ہیں اپ؟؟
زرقان اپنی سوچوں میں گم تھا جب اچانک صاحبہ نے سوال کیا۔۔
نام مت لو اسکا۔
کیوں اس لیے کے اس نے اپکو دھوکا دیا۔۔
نہیں بس میں اسے یاد نہیں کرنا چاہتا نہ اچھے خیال میں نہ برے خیال میں وہ جہاں رہے خوش رہے۔۔
تو پھر اب اپکے دل میں کون ہے؟؟۔
صاحبہ نے ایک اور سوال داغا۔۔
تم
بچپن سے تم ہی تھی زرغہ ایک پرچھائ تھی ایک دھوکا تھا تمہارے ساتھ رہنا ،تم سے دور ہونا تو غصہ آنا تمہاری ہر پسند کو اپنی پسند ماننا صاحبہ مجھے تو محبت تم سے تھی میرے دل کی آواز تم تھی زرغہ تو بس ایک وقتی اٹریکشن تھی یہ پھر یہ بول لو کے اسکا میری زندگی میں آنا میرا ایسا معزور ہونا تمہارا میری بیوی بننا یہ سب اللہ کے بنائے راستے تھے جس پہ چلے جس پہ چل کے میں نے پہچانا میری محبت کون ہے ؟
زرقان چپ۔ہوا تو صاحبہ کو غور غور سے دیکھنے لگا جب صاحبہ سے پوچھا۔۔
تم سے تو پوچھا بھی نہیں تھا چاچی نے نکاح کرتے وقت تم تو حالات کی بھینٹ چڑھ گئ پھر ایک معزور انسان کی بیوی بن کے اسکا ساتھ دیا ۔۔
ان سب میں صحبو تمہاری خوشی کہاں گئ یہ تو کسی نے سوچا نہیں تم بھی تو راجا سے اگے بات کہنے سے زرقان نے خود کا باز رکھا۔۔
صاحبہ نے دو منٹ اسکے چہرہ دیکھا اور کہا۔۔
جو کتاب انکھوں کے ذیادہ نزدیک ہوتی ہے اسی کی۔لکھائ کبھی کبھار ہمارے سمجھ میں نہیں اتی اگر مجھے اتنا ہی جانتے سمجھتے تو یہ سوال کبھی نہیں پوچھتے سوجاو رات کافی ہوگئ کل چیک اپ ہے تمہارا۔۔
صاحبہ اسکے سامنے اٹھی اور غصہ میں اسکے برابر میں لیٹ کے بڑبڑانے لگی اپنی بچپن کی محبت پہچان لی ننھے نے میری نہیں افریقہ کا جن۔۔
کیا ؟؟
تو نے زرغہ سے شادی کرلی۔۔
راجا اور قاسم نیویارک کافی شاپ مین امنے سامنے بیٹھے تھے جب راجا نے قاسم سے زرغہ کا پوچھا اور جو بات قاسم نے اسے بتائ وہ راجا کو شاکڈ کرنے کیلیے کافی تھی۔۔
مگر تونے تو کہا تھا کے تو اسے۔۔
بھابھی بول ۔۔۔
اس سے پہلے راجا زرغہ کے اگے کوئ غلط لفظ لگاتا قاسم نے اسے ٹوک دیا۔
قاسم کے کہنے پہ راجا نے اس ایک آیبرو اٹھا کے دیکھا جب قاسم نے کہا۔
تو مجھے بھائ مانتا ہے اور وہ میری بیوی ہے تو تیری بھابھی ہوئ نہ۔۔
افف ۔۔
یہ سب ہوا کیسے تجھے اس سے محبت ہوگئ کیا ؟؟
راجا نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔
ہاں ۔۔
پر کیسے۔۔؟؟
راجا کے پوچھنے پہ قاسم کے جانے کے بعد زرغہ کا ایک۔ایک رویہ اسکے اگے بیان کیا۔۔
یہ دونوں بہنیں ہی پاگل ہیں۔۔راجا نے بیزرای سے کہا۔۔
کیا مطلب؟؟ قاسم نے ناسمجھی میں کافی کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
راجا نے یہاں نیویارک آنے کا مقصد قاسم کو بتایا تو قاسم نے صرف اتنا کہا۔۔
جتنی بدعائیں تجھے زرغہ دے چکی ہے ناممکن ہے تجھے صاحبہ ملے اور اگر یہاں اتفاق سے ان دونوں بہنوں کی ملاقات ہوگئ تو۔۔
تیری بیوی کی بدعائیں نہیں لگنی مجھے۔۔۔
کہتے ہیں توٹے دل کی دعا اور بدعا دونوں ہی عرش تک جاتی ہیں۔۔
قاسم نے بول کے راجا کو دیکھا جو قاسم کی بات سن کے ساکن رہ گیا تھا۔۔..
صاحبہ کو نیند میں ایسا لگا جیسے کوئ اسکے سرہانے بیٹھا ہے اور اسکے لبوں کو چوم رہا ہے صاحبہ نے منڈی منڈی سے اپنی نیند میں بوجھل آنکھیں کھولی تو ایک سر کو خود پہ جھکا پایا سب سے پہلا خیال اسے راجا کا آیا تو وہ ڈر گئ اس نے گردن موڑ کے اپنے برابر میں سوئے زرقان کو دیکھا تو ساکن رہ گئ وہ وہاں نہیں تھا مطلب اس کا اوپر جھکا زرقان ۔۔
اگے کی بات صاحبہ نے اپنے اوپر جھکے زرقان کے کندھے سے پیچھے کرتے ہوئے پوچھی۔۔۔..
زرقان تم ادھر کیسی تم وہیل چیئیر اگے کی بات صاحبہ سے بولی نہیں گئ زرقان اسکے لبوں کو قید کرچکا تھا ۔۔
ایک بار پھر زرقان پہ مدہوشی طاری ہونے لگی تھی صاحبہ کی شرٹ کندھھ سے نیچے کرکے وہ وہاں اب اپنے لب رکھنے لگا جب سے اسے اپنی اصل محبت کا یقین ہوا تھا وہ مچل رہا تھا صاحبہ کی۔قربت کیلیے مگر وہ اس قابل نہیں ہوا تھا کے چل کے صاحبہ کے پاس جاسکے کل رات زرقان کو واش روم جانے تھا صاحبہ کی نیند وہ ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے بیڈ کے سائیڈ کارنر پکڑ اس نے کھڑے ہونے کی کوشش کی تھوڑی تکلیف برداشت کرکے تھوڑی ہمت دیکھا کے وہ۔کھڑا ہوگیا تھا کاپنتے پاوں اس نے چلانے کیلیے اگے بڑھائے تو وہ اہستہ اہستہ چلنے لگا۔۔
تم چل سکتے ہو زرقان اتنی بڑی بات تم مجھ سے چھپائ یہ بات بولتے ہی صاحبہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے زرقان کے بال نوچ ڈالے۔۔
افف کیا ہے افریقن چڑیل میرے بال خراب کردیے۔۔
ہٹو میرے اوپر سے افریقہ کے جن اللہ پوچھے تم سانس بند کردی۔میری۔۔
زرقان نے صاحبہ کو چھوڑا نہیں بلکے کروٹ لے کے پوزیشن بدلی اپنی اب صاحبہ زرقان کے اوپر تھی زرقان نے صاحبہ کے چہرے پہ آئے سارے بال کان کے پیچھے کیے اور کہا۔
تمہاری ہی محنت ہے صحبو جو اس میں چل سکتا ہو اور ۔
اور کیا؟؟
صاحبہ نے بیتابی سے پوچھا۔۔
اور یہ کے اپنی محبت کی قربت بھی حاصل کرسکتا ہو۔۔
زرقان کے کہنے پہ صاحبہ شرم سے نگاہیں جھکاگئ۔۔
زرقان نے اسے کمر سے تھام کے اور خود سے لگایا اور کہا۔۔
مجھے یہ احساس ہی نہیں ہوا کے تم میری محبت ہو اور جب احساس ہوا تو دیکھ لو ایک پل نہیں لگایا بولنے میں۔۔..
ہائے میرے سوہنے شوہر مگر مجھے ابھی نہیں ہوئ چھوڑو مجھے صاحبہ نے ایک چٹکی زرقان کے ہاتھ میں بھری ۔۔
زرقان نے فورا صاحبہ کو چھوڑا اور کہا۔
چڑیل اتنی زور سے نوچا مجھے۔۔
ہاں زیادہ شاہ رخ بننے کی۔ضرورت نہیں مجھے تم سے محبت ہے صحبو تم سے
۔زرقان نے ایک آئیبرو اچکا کے صاحبہ کو دیکھا اور کہا۔
بس کردے صحبو شوہر ہو تیرا اچھا نہ ایسے نہ جا ایک کس بس ایک ۔۔
زرقان کی اس کھلم کھلی اجازت لینے پہ صاحبہ ڈور کے واش روم میں بند ہوگئ اور ادھر زرقان کا قہقہ گونجا۔
سرور صاحب غفران زارا سب ہی زرقان کے چلنے پہ۔بے حد خوش تھے مگر خرم صاحب کو اب تک کسی نے خوشخبری نہں دی تھی سب پاکستان جاکے سرپرائز دینا چاہتے تھے اور اس بار صاحبہ غفران اور زارا کو بھی اپنے ساتھ لیجانے کا ارادہ رکھتی تھی یہ بات وہ سرور صاحب کو بتا چکی تھی۔۔
زرقان کے چلنے پہ سب نے ہی باہر جانے کا پروگرام بنایا ۔۔
وہ سب ایک ہوٹل میں تھوڑا گھومنے کے بعد لنچ کررہے تھے جب وہاں اکے کسی نے صاحبہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا صاحبہ نے جب پلٹ کر دیکھا تو زرغہ کو دیکھ کے حیران رہ گئ کچھ ایسا ہی حال وہاں سب کا تھا زرقان نے زرغہ کو دیکھا اور سب کے روکنے کے باوجود وہاں سے چلا گیا اسکے پیچھے غفران بھی تیزی سے گیا۔
قاسم اور زرغہ بھی اسی ہوٹل میں لنچ کرنے آئے تھے جب ایک جانی پہچانی آواز پہ زرغہ نے پلٹ کر اپنی ٹیبل کے پیچھے والی ٹیبل پہ دیکھا اور صاحبہ کو دیکھ کے تیزی سے اٹھ کے اس ٹیبل تک آئ۔۔
اپی تم یہاں ۔۔؟؟
یہ بول کے صاحبہ زرغہ کے گلے لگ مگر کچھ یاد اتے ہی تیزی سے زرغہ کے سے الگ ہوئ اور سرور صاحب سے کہا چلے پاپا۔۔۔
پاپا زرغہ جو صاحبہ کے ایک دم رویہ بدلنے پہ رونے والی ہوگئ تھی صاحبہ کو کسی کو پاپا بولنے پہ ایک دم چونکی۔۔
ہاں میں ہو اسکا اور تمہارا پاپا سرور۔۔۔
قاسم بھی یہ سین دیکھ کے کافی شاکڈ تھا ۔
مگر ماما نے تو۔۔
زرغہ ڈور کے سرور صاحب کے گلے لگ گی۔مگر انہوں نے اسے نہیں تھاما۔۔
صاحبہ۔میری بات تو سنو پلیز پاپا اپ تو سنے۔۔
کیا سنو اپی یہ ہی کے تم برات والے دن بھاگ گئ تニتمہاری وجہ سے زرقان نے ایک عرصہ اپاہجگی کیساتھ گزارا تمہارے جگہ مجھے زرقان کی بیوی بننا پڑا اور ماما ایک بار بھی تم نے انکا نہیں سوچا۔۔
زرغہ صاحبہ کی ساری باتیں خاموشی سے سن رہی تھی جب صاحبہ بول کے چپ ہوئ توزرغہ نے کہا۔۔
تمہیں پتہ ہے صاحبہ میں کس کیساتھ بھاگی تھی؟؟
انہیں کیساتھ بھاگی ہونگی جو اپکے ساتھ ہیں صاحبہ نے ایک غصیلی نظر قاسم پہ ڈالی اور رخ موڑ گی۔قاسم نے اپنی غصیلی سالی کو دیکھا اور دل میں راجا کو مخاطب کرتے ہوئے سوچا ۔۔
“صحیح ٹکرائ ہے تجھے بیٹا”
میں راجا کیساتھ بھاگی تھی کے کیونکہ میں راجا سے پیار کرتی تھی۔اسکے بعد زرغہ نے ایک ایک بات صاحبہ کو بتادی سوائے اسکے کے قاسم زرغہ۔کیساتھ پہلے کیا کرنے والا تھاا ۔۔
صاحبہ تو زرغہ کی بات سن کے ساکن رہ گئ زرغہ نے سرور سے بھی معافی مانگی اورصاحبہ سے بھی وہ دونوں ہی اسے معاف کرچکے تھے مگر ابھی زرقان کی۔معافی۔باقی تھی جو اسے پاکستان جاکے ملنی تھی سرور صاحب نے اسے بتایا کے وہ سب دو تین دن میں ہمیشہ کیلیے پاکستان جانے والے ہیں ۔۔
صاحبہ جو پورا رستہ شاکڈ کیفیت میں گزرا کے گھر ائ تو زرقان کو زرغہ کے جانے کے بعد کی ساری کہانی سنائ جیسے سن کے وہ بھی شاکڈ ہوا۔
زرقان واش روم میں گیا جب صاحبہ نے راجا کو کال۔کی دو تین بیل کے بعد کال پک کرلی گی۔۔
ہاں میں صاحبہ
میں ملناا چاہتی ہو تم سے۔۔
ہاں چھوڑ دونگی زرقان کو ٹھیک ہوگیا ہے وہ ۔۔
اوکے میں اتی ہو یہ بات بول کے صاحبہ نے بنا یہ دیکھے کے زرقان صاحبہ کی باتیں سن چکا ہے راجا سے ملنے اسے بتائے گئے اڈریس پہ گئ۔۔
اور ادھر زرقان بھی صاحبہ کی ادھوری بات سن کے صاحبہ کے پیچھے گیا۔۔
صاحبہ نے کیب ایک پارک کے سامنے روکوائ اور اندر چلی گئ زرقان جو صاحبہ کے پیچجے پارک کے اندر گیا مگر جب اس نے صاحبہ کی طرف بڑھتے ہوئے راجا کو دیکھا تو رخ موڑ گیا ایک ہونک سی اٹھی زرقان کے دل میں اور وہ واپس گھر اگیا۔
مجھے پتہ تھا لٹل گرل تم مجھے ہی چنوگی۔۔
راجا خوشی خوشی صاحبہ کا ہاتھ پکڑ کے اس کو بینچ پہ بیٹھاتے ہوئے بولا۔
مگر تم نے بتایا نہیں راجا کے مجھے تمہاری محبت قبول کرنے کے بعد کس بار کی ڈانسر بننا ہوگا یہ پھر کسی کوٹھے کی زینت۔۔
صاحبہ زبان کو لگام دو اپنی کیا بولے جارہی ہو؟؟
اب اگر کوئ بکواس کی تو لگاونگا ایک ۔۔
زرغہ تمہارے ساتھ ہی بھاگی تھی نہ؟؟؟
صاحبہ کے بولنے پہ راجا ایک دم گھبرایا وہ بچوں کی طرح صاحبہ کا چہرہ تھام کے بولا۔۔
وہ۔میری ایک غلطی تھی صاحبہ اب تو تمہاری بہن بہت خوش ہے پلیز چھوڑونا تم چلو ابھی میرے ساتھ ہم جلد از جلد شادی کرینگے اور تم ابھی زرقان کو خلا بھیجو گی۔۔
راجا نے جسی اسکا ہاتھ تھاما صاحبہ نے ایک زدور دار ٹھپڑ اسکے منہ پہ مارا اور اسکا گریبان پکڑ کے کہا۔۔
ہمت کیسے ہوئ تمہاری ہم دونوں بہنوں کیساتھ یہ سب کرنے کی تم نے کیا سوچا تھا راجا تم ایک کی محبت کو ٹھکراو گے اور دوسری کی محبت کو حاصل کرلوگے نفرت کرتی ہو میں تم سے گھن اتی ہے مجھے ان لمحوں سے جو میں نے تمہارے ساتھ گزارے ۔۔
نہیں نہیں لٹل گرل ایسا نہیں بولو میں نے تم سے سچی محبت کی ہے راجا نے بہتی آنکھوں سے صاحبہ کو دیکھتے ہوئے کہا اس وقت راجا کی حالت کسی نیم پاگل جیسی تھی۔۔
محبت کا لفظ اپنی گندی زبان سے مت لو میں زرقان سے محبت کرتی تھی، کرتی ہو اور کرتی رہونگی تم میری بلا سے مرجاو راجا اگر اج کے بعد تم میرے پیچھے ائے یہ میری فیملی کو کوئ نقصان پہنچایا تو جان سے ماردونگی تمہیں۔۔
یہ کہہ کے صاحبہ جانے کیلیے مڑی ا
مگر رک کے دوبارہ پلٹی اور کہا۔۔
یاد رکھنا میں تم سے صرف نفرت کرتی ہو راجا آئ ہیٹ یو۔۔
صاحبہ کے جانے بعد راجا جھٹکے سے گھاس پہ بیٹھ اس کی انکھوں سے تیزی سے انسو جاری تھے اس نے انسو سے لبریز انکھوں سے دور جاتی صاحبہ کو دیکھا ۔۔
تھوڑی دیر بعد راجا اپنی گاڑی میں بیٹھ کے ہوٹل جانے کیلیے نکلا بار بار اسکے کانوں میں صاحبہ کے لفظ گونج رہے تھے انکھیں بار بار انسو سے بھر رہی تھی اور اسی دوران راجا سے گاڑی دس بیلنس ہوئ اور سامنے کھڑے ٹرک کیساتھ جا ٹکرائ راجا کی گاڑی ٹرک سے تکراتے ہی ایک زور دار دھماکہ ہوا۔
جاری ہے۔۔