Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 40 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 40 Part 1
میں نے کہا چھوڑے مجھے تارا نےجھٹکے سے اذان کو خود سے دور کیا۔۔
یار کیا ہے اب تو آفشیلی سب کے سامنے دھوم دھام سے تمیں لے کے آیا ہو اس سے اچھا تو تم فلیٹ میں تھی کم ازکم قریب تو آنے دیتی تھی ازان نے بہت خراب موڈ سے کہتے ہوئے اپنی شیراونی اتاری اور اندر موجود ڈھیلے سے کرتے میں ملبوس بیڈ پہ گر گیا تارا نے اسکی کسی بات کا جواب نہیں دیا اور خاموشی سے الماری میں سے اپنے کپڑے نکال کے واش روم جانے لگی۔تب ایک بار پھر وہ ازان کی گرفت میں تھی اذان نے اب کی بار اسے بیڈ پہ لیٹا کے اسکے فرار کے سارے راستے بند کردیے۔۔
تارا گھور کے ازان کو دیکھنے لگی مگر ازان نے اسکے گھورنے کی پراوہ کیے بغیر اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔۔
اتنے دن مجھ سے دور رہی دل نہیں بھرا جو پھر دوری رکھ رہی ہو۔۔
دور رہنے کا راستہ اپنے چنا اذان میں نے نہیں دلاسہ اپنے دیا مجھے میں نے اپ کو آپشن دیا تھا آنٹی کی بات مان لے اور اپ نے مان بھی لی عیشا سے شادی کر بھی لی تو پھر اب کس بات کی اپ صفائیاں دے رہے ہیں۔
ہاں یہ سچ ہے کے میں نے ماما کے کہنے پہ عیشا سے شادی کی مگر ماما کی بات میں نے انکی طبیعت کی وجہ سے مانی باخدا تمہارے سر کی قسم مجھے نہیں معلوم تھا کے ماما اور عیشا تمہارے اور میرے نکاح کے بارے مین جانتی ہیں یہ پھر انہوں نے تمہیں فلیٹ سے نکالا چاہو تو پاپا سے پوچھوا سکتا ہو میں نے تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا اگر راجا خلا کے پیپر لے کر نہیں آتا مجھے کبھی پتہ نہیں چلتا کے تم کہاں ہو پلیز یار سمجھو میں جھوٹ نہیں بول رہا۔۔
اذان بھر پور طریقے سے تارا پہ حاوی تھا دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے کے دل کا حال بیان کررہی تھی تارا ازان کی باہنوں میں ہلکا سا کسمسائ اور کہا۔
اچھا نہ مان لیا اپ سچ بول رہے ہے مگر ابھی تو اوپر سے ہٹے مجھے چینج کرنا ہے نیند آرہی ہے بہت۔۔
ہاں تو اس میں کونسی بڑی بات ہے لیٹے لیٹے میں تمہارے کپڑے چینج کردیتا ہو اس میں کونسی بڑی بات ہے اس سے پہلے تارا اسکی بات کا مفہوم سمجھتی ازان اسکی شرٹ کندھے سے نیچے کرچکا تھا ۔تارا کچھ بولتی اسکے لبوں کو بھی اپنے لبوں میں قید کرچکا تھا تارا کی مزاحمت ازان کے منہ زور جزباتوں کے اگے دم توڑنے لگی۔۔.
تم سوئ نہیں ابھی تک؟؟
امامہ جو کچن میں رات کے 3 بجے اپنے لیے کافی بنارہی تھی راجا کی آواز پہ ایک دم چونکی اور راجا کو گھورا اور دوبارہ اپنا کام جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اپ سوئے نہیں ابھی تک؟؟
امامہ نے بھی راجا کی طرح ہی اسی سے سوال کیا۔۔
امامہ کے سوال پہ راجا نے ایک آئیبرو اٹھا کے اسکی پشت کو گھورا اور چلتا ہوا اس تک آیا ۔۔
امامہ نے کافی پھینتے ہوئے نگاہ اٹھا کے راجا کو دیکھا رات کے نائٹ سوٹ جو سادھی بلیک شرٹ جس سے اس کے دودھیا کسرتی بازو جھلک رہے تھے سادے بلیک ٹراوزر میں ماتھے پہ بال گرائے وہ۔کسی کو بھی اپنے حسن سے مات دینا کا ہنر رکھتا تھا امامہ نے فورا اپنی نگاہ جھکائ اور دل میں کہا۔۔
ماں باپ نے نام راجا رکھا اللہ نے حسن راجا جیسا دے دیا واہ سے اللہ تیری قدرت ایک ایسی معجزہ میری قست میں دیکھا دے اسے میرا نصیب ہی بنا دے
اور بعض دعا جلدی پوری ہوجاتی ہیں۔۔
تم ہر بات کا الٹا جواب کیوں دیتی ہو؟؟
راجا نے روبرو اکے سوال کیا۔۔
کافی پییینگے آپ ؟؟
امامہ نے پھر سوال کیا۔
ہمم بنا دو وہی بنانے آیا تھا۔۔
اوکے۔۔۔
امامہ نے کافی کا ایک کپ راجا کے ہاتھ میں دیا اور خود اپنا کپ لیے کے کچن سے نکلنے لگی جب راجا نے کافی کا سپ لے کے جاتی امامہ سے کہا۔۔
اچھی بنالیتی ہو کافی ۔۔
امامہ نے پلٹ کر راجا کو مسکرا کے دیکھا اور شکریہ کہا۔۔
دوبارہ جانے کیلیے مڑی جب راجا نے پھر کہا۔۔
پتہ ہے رات کے اس پہر کافی یہ چائے کون لوگ پیتے ہیں؟؟
“وہی جیسے عشق ڈھونڈ چکا ہو یہ پھر انہیں برباد کرچکا ہو”
وہ ایک بار پھر راجا کو لاجواب کرکے جاچکی تھی۔۔۔
بیٹا میں نے سارا انتظام کردیا ہے نیویارک میں میرا دوست اپکو آئیرپورٹ پہ ریسیو کرنے آئے گا یہ اسکی کا پرائیوٹ جیٹ ہے ۔۔
جی تایا ابو اب بے فکر رہے میں سب سنبھال لونگی۔۔
صاحبہ خرم صاحب کے سینے سے لگی تو اسکی آنکھیں بھیگ گئ کچھ ایسا ہی حال خرم صاحب کا بھی تھا انہیں نہیں پتہ انکی کس نیکی کے بدلے اللہ نے صاحبہ کو زرقان کی زندگی میں شامل کیا۔۔
خرم صاحب نے صاحبہ کو الوداع کیا اور دل سے دعا کی کے اسے اسکے باپ کی حقیقت پتہ چل جائے۔۔۔
تم سمجھتے کیوں نہیں ہو قاسم بہت مسئلہ بن گیا ہے وہ لڑکے موت کے منہ میں ہیں۔۔
تو اپ کیا چاہتے ہیں دادو جو ان لوگوں نے کیا اس کے بعد کیا میں انہیں پھولوں کے ہار پہناتا۔۔
میں یہ نہیں بول رہا بچے مگر پولیس ہے ان سب کیلیے۔۔
اپ پولیس کی بات کررہے ہیں اور کونسی پولیس وہی پولیس جو نیلم کو انصاف نہیں دلا سکی اگر نیلم کو انصاف ملتا دادو تو اپکا قاسم گناہ کا راستہ کبھی نہیں اپناتا میری نیلم کو جو دردناک موت ملی شاید اسکا دکھ کم ہوجاتا اگر اسے انصاف مل جاتا ۔۔
یہ کہہ کے قاسم دادو کے کمرے سے جیسی نکلا زرغہ کو کھڑا پایا۔۔
جاری ہے۔
