Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 19 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19 Part 2
(پارٹ 2)#
اذان چلتا ہوا تارا تک آیا مگر کمرے میں زیرو کا بلب جلانا نہیں بھولا اذان کا ایسا قریب آنا تارا کیلیے سوہاں روح تھا اذان تارا کے سامنے آکے بیٹھا اور اسکے ہاتھ سے کپڑے لیے۔۔
اذان کے ہاتھ سے کپڑے لیتے ہی تارا بول پڑی۔۔
میں خود بدل لونگی اذان۔۔’
جانتا ہو خود بدل لوگی مگر بہت اذیت اور تکلیف سہنے کے بعد یہ بولتے ہوہے اذان نے بہت آرام سے تارا کے سر کی چادر اتاری چادر اتارتے ہی تارا نے ایک جھرجھری لی۔
ازان نے تارا کے گلے سے ڈوپٹہ اتارا اور گردن جھکائ تارا سے کہا۔
جانتی ہو تارا جس وقت میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا دل نے تمہارا ساتھ پانے کی شدت سے خواہش کی تھی مگر عیشا میری ماں کی پسند تھی یہ خیال آتے ہی میں نے اپنی خواہش کو دبا لیا مگر اس دن پارٹی میں تمہیں دیکھا ۔یہ بول۔کے اذان اگے ہوکے تارا کی کمر کی۔طرف جھکا اور اسکی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔
پل بھر کیلیے تارا نے اذان کا ہاتھ تھاما جیسے کہنا چاہ رہی ہو بس اس سے اگے نہیں۔۔
مگر اذان نے اسکا زخمی ہاتھ بہت احتیاط سے اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور وہی سے دوبارہ اپنی بات شروع کی جہاں سے ادھوری چھوڑی تھی۔۔
پارٹی میں تمہیں دیکھ کے میری ادھوری خواہش پھر سر اٹھانے لگی تمہاری قربت کاایک عجیب سا نشہ میرے سر چڑھنے لگا مگر میں نے پھر بھی تمہیں پانے کی خواہش اپنی ماما سے نہیں کی۔
اذان نے اسکی شرٹ احتیاط سے اتاری مگر نظروں کا زوایہ پل بھر کے لیے بھی اسکے جسم پہ نہیں ڈالا احتیاط سے اس کے جسم کے زخموں پہ ڈریسنگ کرنے لگا۔۔
ہم اکثر اپنے رب سے شکوہ کرنے لگ جاتے ہیں کے ہم نے جس سے محبت کی اسے ہمارا نصیب کیوں نہیں بنایا روتے ہیں بلکتے ہیں مگر پھر بھی فیصلہ اپنے اللہ پہ نہیں چھوڑتے کیوں نہیں سمجھتے اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے وہ ہمیں ستر ماوں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے تو پھر کیوں ہمارے ساتھ زیادتی کریگا میں نے بھی اپنا فیصلہ اپنے اللہ پہ چھوڑا تھا اور دیکھ لو اج تم میری زندگی میں میری شریک حیات بن کے شامل ہو ۔۔
یہ بول کے اذان نے اسے شرٹ پہنائ اور اسکے بکھرے بال سمیٹنے لگا جب تارا نے دھیرے سے کہا۔۔
ہاں شریک حیات بھی وہ لڑکی جو ایک نامحرم کے ساتھ اسکے فارم ہاوس میں موجود تھی جو ناقابل۔قبول تھی اور زبردستی اپکے پاپا نے اپ پہ مصلت کی۔۔
تارا کی بات سن کے اذان کے ہاتھ پل۔بھر کے لیے تھمے جو تارا کے بال سمیٹ رہے تھے مگر دوبارہ اسنے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے تارا کے بال سمیتے اور صحیح ہوکے اس کے سامنے بیٹھا اور اسے دیکھنے لگا۔۔
نائٹ بلب کی روشنی میں بھی تارا کے آنسو اسے دیکھائ دیے اس کے چہرے پہ موجود زخم اذان کو اپنے چہرے پہ محسوس ہوئے۔
اذان تارا کے تھوڑا اور قریب ہوا اور اسکا چہرہ احتیاط سے اپنے ہاتھوں میں تھاما ۔
ایک منٹ کے لیے اسکا چہرہ دیکھا مگر تارا نے اپنی نگاہیں اٹھا کے پل بھر کےلیے اسے نہیں دیکھا۔۔اذان نے بہت احتیاط سے اپنے لب تارا کے چہرے کے ہر زخم پہ رکھے اور اخر میں اسکی گردن کے زخم پہ اپنے لب رکھے تو بلاشبہ جہاں اذان کے اس عمل سے تارا لرزی وہی اذان کی انکھوں سے بہنے والے چند آنسو کے قطرے تارا کی گردن پہ گرے۔۔
اذان نے دھیرے سے اپنے لب اسکی گردن سے ہٹائے اور کہا۔
تم زبردستی میرے سر پہ مصلت کی گئ ہو یہ میری دلی خواہش ہو یہ تمہیں میں فرصت سے سمجھاونگا ابھی تم اس کنڈیشن میں نہیں کے میری قربت سہہ سکو اس لیہ چاپ چاپ میڈیسن کھاو اور سوجاو۔۔
یہ بول کے اذان نے اسکو دودھ کا گلاس دیا اور پینے کو کہا۔۔
دودھ کا گلاس دیکھ کے تارا نے سڑی ہوئ شکل بنائ جو اذان دیکھ چکا تھا تارا کی شکل دیکھ کے اذان نے اپنی ہنسی روکی اور کہا ۔
جلدی پیو تارا جانی دودھ کو انکھوں سے پینے کو نہیں کہا۔
مجھے دودھ نہیں پسند۔۔
تارا نے کمال معصومیت سے اذان کو دیکھا اور کہا۔۔
پسند تو میں بھی نہیں تمہیں مگر پھر بھی مجھے برداشت کروگی نہ ۔۔۔
میں نے کب کہا اپ مجھھ پسند نہیں۔۔
اذان کی بات کو جواب جتنی اسپیڈ میں تارا نے دیا تھا اس سے ذیادہ اسپیڈ میں تارا اپنی بات بول کے دودھ کا گلاس لبوں سے لگا چکی تھی تارا کی بات پہ اذان کے لب مسکرائے مگر اس نے تارا پہ ظاہر نہیں کیا اور اسے دوائ پلاکے آرام کا بول کے خود کمرے سے باہر نکل گیا۔
کمرے سے باہر نکلتے ہی اذان نے اپنا سائلنٹ پہ لگا موبائل چیک کیا جو کب سے وائبریٹ ہورہا تھا اس نے چیک کیا تو ماما کالنگ لکھا ارہا تھا
جی ماما بولے۔۔
کہاں ہو اذان کب سے کال کررہی ہو؟؟
نسرین بیگم نے کال پک ہوتے ہی اذان سے شکوہ کیا۔۔میں ضروری کام سے شہر سے باہر ہو ماما پرسوں تک اجاونگا۔۔
تم شہر سے باہر جارہے تھے اور مجھے بتایا بھی نہیں۔۔
میں نے ضروری نہیں سمجھا ماما اور بتاتا بھی کسے ماما انہیں جنکو صرف اپنی ذات سے مطلب تھا اپنی بات کا بھرم رکھنے کی عادت ہے ۔۔
اذان یہ تم کسطرح بات کررہے ہو مجھ سے ایسی بات نہیں ہے تم۔میرے اکلوتے بیٹے ہو اذان نسرین بیگم نے اذان کی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔
جانتا ہو میں اپکو کتنا عزیز ہو ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی اپکی محبت میں دیکھ چکا ہو بہرحال ماما میں ابھی مصروف ہو بعد میں بات کرتا ہو یہ بول۔کے اذان نے نہ صرف کال۔کٹ کی بلکے موبائل ہی اوف کردیا۔۔
اذان کی کال کٹ ہوتے ہی نسرین بیگم جیسے ہی پلٹی تو سامنے زمان صاحب کو کھڑا پایا۔۔
اسکی زندگی اسے اپنے طریقے سے گزرانے دو نسرین عیشا اسکی پسند نہیں جو ماں باپ اپنا فیصلہ زبردستی اپنی اولاد پہ تھوپتے ہیں وہ اپنی اولاد کی خوشیاں تو نگلتے ہی ہیں اور تو اور اپنی اولاد کو ہمیشہ کیلیے خود سے باغی بھی کردیتے ہیں۔۔باقی تو تو کافی سمجھدار ہو یہ بول کے زمان صاحب چینج کرنے چلے گئے۔۔
جاری ہے ۔۔۔
