84.5K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26 Part 2

سب رکھ لیانہ بیگ میں؟؟
زرغہ کے گاڑی میں بیٹھتے ہی راجا نے گاڑی زن سےآگے بڑھادی۔۔
ہاں سب رکھ لیا مگر ہم جا کہاں رہے ہیں؟؟۔
اسلام آباد اور پھر وہاں سے دبئ۔۔
واہ دبئ زرغہ یہ بول کے راجا کے سینے سے لگ گئ۔۔۔
راجا نے ایک نظر اس بیوقوف لڑکی کو دیکھا اور طنزیہ مسکرایا۔۔
صاحبہ کے رشتہ سے انکار کیسے کروگے اب تم راجا مجھے تو بہت ٹینشن ہورہی ہے۔۔۔
دیکھو میں شادی میں جاونگا اب جب تم وہاں نہیں ہوگی تو لوگ باتیں منائینگے کے لڑکی بھاگ بلا بلا ۔۔تب میں بھی بولونگا کے جب بڑی بہن ایسی ہے تو چھوٹی بھی ایسی ہوگی یہ بول کے میں رشتہ ختم کردونگا۔۔۔
زرغہ اپنی خوشی میں مگن تھی جبھی راجا کی باتوں پہ دیھان نہیں دے پائ کے راجا نے اسے طنز کیا مارا۔۔
راجا نے اسلام آباد کی ارجنٹ تین ٹکٹ بک۔کروائ تھی واپسی میں وہ اکیلے ہی آنے والا تھا۔۔
دو گھنٹے کے بعد زرغہ اور راجا اسلام آباد میں موجود تھے۔۔
ایک علیشان بنگلے کے اندر وہ دونوں داخل ہوئے جب زرغہ نے بنگلے کو دیکھ کے راجا سے کہا۔۔۔
یہ تمہارا ہے راجا؟؟
نہیں میرے ایک دوست کا ہے اسکی فیملی آنے والی ہے میرے دوست ابھی آنے والا ہے چلو ہم اوپر چلتے ہیں۔۔
دونوں اوپر والے کمرے میں پہنچے زرغہ فریش ہونے گئ جب پیچھے سے راجا نے قاسم کو کال۔کرکے جلدی آنے کو کہا۔۔
کیونکہ اس کو واپس جلدی جانا تھا تاکے وہ وہاں پہنچ کے زرغہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھائے اوران سب کے سامنے اچھا بن کے یہ کہے کے میں اج صاحبہ سے نکاح کرلیتا ہو تاکے اپ لوگوں کی عزت خراب نہ ہو مگر راجا بھول گیا تھا کسی کو دلدل بھرے راستے پہ چھوڑ کے خود بھی دلدل سے بچا نہیں جاسکتا۔۔
زرغہ فریش ہوکے نکلی اتنے میں دروازہ ناکک۔ہوا اور قاسم اندر آیا زرغہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور دل سے قبول کیا کے وہ شخص خوبصورت ہے۔۔
قاسم کے اندر آتے ہی راجا نے زرغہ کا ہاتھ پکڑا اور جھٹکے سے اسےقاسم کی طرف لیجاکے چھوڑا۔۔
زرغہ قاسم کے سینے سے لگتے لگتے بچی۔۔
سنبھال بھئ تیری امانت بہت پکایا اس نے۔۔
راجا نے یہ کہہ کے سگریٹ جلائ قاسم نے اسی وقت زرغہ کی کلائ تھامی ۔۔۔
راجا یہ کیا۔۔۔کہہ۔۔
۔اگے کی۔بات زرغہ سے بولی نہیں گئ اور اسکے گلے میں آنسووں کا پھندا اٹکا اس نے تیزی سے قاسم سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور راجا کے پاس آکے کہا۔۔
یہ۔کیا۔کہہ رہے ہو راجا مزاق کررہے ہو نہ میرے ساتھ۔
تمہیں لگتا یہاں کوئ کامیڈی چل رہی ہے میں تم سے نہیں صاحبہ سے محبت کرتا ہو زرغہ تم جیسی لڑکیاں محبت کے قابل نہیں ہوتی میں تو کب کا تمہارے ساتھ ٹائم پاس کرکے زیادہ سے زیادہ ایک رات تم سے مزے لے کے چھوڑ دیتا مگر یہ میرا دوست ہیں نہ اسکا تم پہ دل آگیا ہے اب تم دبئ اسی کیساتھ جاوگی ۔۔
راجا کی بات سن کے زرغہ نے ایک گھومتا ہوا چماٹ راجا کے منہ پہ دے مارا اور چیخ کے کہا ۔۔
میں اگر محبت کے قابل نہیں تو تم تو نفرت کے بھی قابل نہیں مت بھولو راجا اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے مجھے تو سزا مل گئ گناہ کے راستے پہ چلنے کی مگر اب تمہاری باری یاد رکھنا صاحبہ تمہیں کبھی بھی نہیں ملے گی یہ بددعا ہے میری تمہیں۔۔
راجا کو ٹھپڑ پڑتا دیکھ قاسم کافی شاکڈ ہوا اس نے زرغہ کو بگڑی ہوئ سمجھا تھا مگر وہ تو راجا سے سچ مچ محبت کرتی تھی۔۔
اےے تو کیا منہ میں دہی جما کےبیٹھا ہے ڈانس بار میں کیا خود ناچے گا سنبھال ایسے راجا کے بولنے پہ قاسم ہوش میں آیا اور اگے بڑھ کے ایک زور دار ٹھپڑ زرغہ کے منہ پہ دے مارا اسکے بال اپنی مٹھی میں جکڑ کے کہا۔۔
زیادہ پٹر پٹر مت کر مجھے تجھ جیسی کی زبان بند کرنا اچھے سے آتی ہے۔۔۔
زرغہ نے جاتے ہوئے راجا سے کہا۔۔
راجا میرے ساتھ ایسا مت کرو تمہیں اللہ کا واسطہ مجھے مت چھوڑ کے جاو راجاااااااا۔
راجا اسےاگنور کرکے کمرے سے نکل۔چکا تھا اس سے پہلے قاسم زرغہ کو ایک اور ٹھپڑ مارتا زرغہ قاسم کی باہنوں میں بیہوش ہوچکی تھی۔۔
قاسم نے اسے باہنوں میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا اورکمرے سے باہر نکل گیا۔۔

#

راجا دوبارہ کراچی پہنچا اور گلنار بیگم کو لے کر ہال۔پہنچا مگر وہاں اسکی محبت اسکا عشق کسی اور کی محرم بن چکی تھی راجا نے بے بسی سے صاحبہ کو دلہن بنی دیکھا اس کے کانوں میں زرغہ کے الفاظ گونجنے لگے۔۔
“تمہیں صاحبہ کبھی نہیں ملے گی”
اچانک اسکے دل میں درد اٹھا اور وہ بیہوش ہوگیا۔۔
کوئ ایمبولینس بلاو جلدی گلنار بیگم کی چیخنے پہ خرم صاحب نے ایمبولینس کو کال کرلے بلایا۔۔۔۔
ایک عجیب سا ماحول بن گیا تھا ۔۔
سب ہی مہمان باتیں کرنے لگے تھے ایک عجیب سا تماشہ لگ چکا تھا یہ کیسی رخصتی تھی جو بنا دلہن کے ہوئ تھی زرقان فورا وہاں سے چلا گیا ایک صاحبہ بنا جرم کے مجرم بن کے کھڑی تھی۔۔
زرقان گھر پہنچ کے سیدھا اپنے کمرے میں پہنچا پھولوں سےسجی سیج کو تار تار کردیا ۔۔
“مجھے اس رشتے کیلیے تھوڑا وقت چاہیے زرقان۔۔
زرغہ کے الفاظ زرقان کے کانوں میں گوجنے لگے۔۔۔
میرا حق نہیں تم پہ ۔۔
زرقان کے سامنے زرغہ کا خود سپردگی کا لمحہ جب اس نے زرغہ کے لبوں کو اپنی سانسوں سے سراب کرا تھا چلنے لگا۔۔
نہیں تم۔میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی زرغہ زرقان چیخ چیخ کے رونے لگا۔۔
جبھی گاڑیوں کا ہارن سنائ دیا ۔۔
زرقان کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔
صاحبہ اپنے کمرے میں آئ اور چینج کرکے اپنا پاسپورٹ وغیرہ لے کے نکلی سب ہی ہال میں تھے سوائے زرقان کے صاحبہ بی جان سے ملکے جانے لگی جبھی زرقان تیزی سے کمرے سے باہر آیا اسکا حلیہ قابل رحم تھا نہ اس نے ایک نظر بیٹھے وہاں ہر نفوس کو دیکھا اور باہر نکل گیا آصفہ بیگم اسے آوازیں دیتی رہ گئ۔۔
ادھر خرم صاحب بھی صاحبہ کو ائیرپورٹ چھوڑنے نکل پڑے۔۔
زرقان کی گاڑی کی اسپیڈ بہت تیز تھی بار بار اس کے سامنے اپنے اور زرغہ کے قربت کے لمحہ چلنے لگے تیزی سے اسکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے گاڑی نے اپنا توازن کھویا اور گاڑی پل سے نیچے گر گئ۔۔۔

@

ڈاکٹر میرا بیٹا کیسا ہے؟؟
دیکھے اتنے ینگ ہیں وہ۔پھر بھی انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔۔
ابھی وہ۔خطرے سے باہر ہیں اپ مل سکتی ہیں ان سے مگر دیھان رہے وہ پھر سے ڈسٹرب نہ ہو۔۔

گلنار بیگم کمرے میں داخل ہوئ تو راجا بچوں کی طرح رونے لگا۔
ایسا نہیں ہوسکتا وہ صرف میری ہے ۔
اسکی چیخیں عرش تک جا رہی تجی مگر قبولیت کا وقت نہیں تھا رو رو کے اسکی آنکھیں سوج چکی تھی۔۔
ایسا ہو چکا ہے سمجھ کیوں نہیں رہے وہ کسی اور کی ہوچکی میرے بچے۔۔
میں چھین لونگا اسے ماردونگا اسے جب وہ میری نہیں تو کسی کی نہیں۔۔
دیوانگی میں تم صرف اپنا نقصان کروگے اور تم نے ہی تو کہا تھا کے تم محبت کرتے ہو اس سے تو پھر اسے برباد کیسے کروگے۔۔
نہیں ماما میں اس سے محبت نہیں عشق کرتا ہو ماما دیکھے اس نے معصوم بچے کی طرح اپنی آنکھیں صاف کی اور پھر کہا۔۔
پلیز ماما ایک بار لادینا میں میں کچھ نہیں مانگونگا ۔۔۔
گلنار بیگم اپنے 26 سالہ بیٹے کو دیکھ رہی تھی بلک بلک کے راجا دوبارہ بیہوش ہوچکا تھا۔۔
جاری ہے۔۔