Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 40 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 40 Part 1
پلوشہ تم بھاگ جاو۔۔
نہیں بھابھی میں اپ کو اکیلے چھوڑ کے نہیں جاونگی ۔۔۔
بات سمجھو پلوشہ۔۔
ان چاروں نے ان دونوں کو ہر طرف سے گھیر لیا تھا بلال کے منہ سے خون نکل کے زمیںن کو رنگ رہا تھا۔۔پلوشہ اور زرغہ کی آنکھوں آنسو جاری تھے زرغہ نے دل سے اپنے اللہ کویاد کیا تھا
بیشک وہ ستر ماوں سے زیادہ چاہنے والا ہے۔۔
دونوں نے ہی ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا اور الٹے قدم اٹھا رہی تھی پیچھے قدم اٹھاتے ہوئے زرغہ کے پاوں وہاں کی پتھریلی مٹی سے ٹکرائے زرغہ نے ایک نظر نیچے دیکھا اور پھر اپنے برابر میں کھڑی پلوشہ کو پلوشہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی زرغہ نے خالی اپنی آنکھیں بڑی کی جسکا اشارہ پلوشہ سمجھ چکی تھی۔۔۔دونوں نے اور مضبوطی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور اپنوں پاوں سے ان لوگوں کی طرف پھتریلی مٹی اڑائ بس چند منٹ کا کھیل تھا زرغہ اور پلوشہ نے اپنے گاڑی کی طرف ڈور لگائ تاکے قاسم کو کال کرسکے زرغہ اور پلوشہ بھاگ رہے تھے اور وہ لوگ انکے پیچھے زرغہ پیچھے مڑ کے انہیں دیکھ رہی تھی وہ لوگ بلکل پیچھے تھے ایک دم زرغہ نے اپنی گردن اگے کری اور بھاگتے ہوئے کسی سےبری طرح ٹکرائ پلوشہ کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھوتا اس سے پہلے زرغہ ٹکرا کے گرتی کسی نے اسے کمر سے مضبوطی سے تھاما۔۔۔
زرغہ کے سر پہ لگی چوٹ سے دوبارہ خون بہنے لگا مگر جب اس نے نگاہ اٹھا کے اپنے سامنےدیکھا تو روتے روتے سامنے والے کے گلے لگ گئ اور ادھر قاسم جسکے ایک طرف زرغہ لگی تھی اور دوسری طرف پلوشہ سامنے اسکا بھائ بیہوشی کی حالت میں پڑا تھا۔۔
قاسم نے زرغہ کے ماتھے پہ بہتے خون کو اپنی آستیں سے صاف کیا پلوشہ اور زرغہ کو اپنی گاڑی میں گھر بھیجا اسکے گاڑدز نے بلال کو بازوں میں اٹھا کے گاڑی میں ڈالا ۔۔اب وہاں صرف قاسم اور وہ لڑکے تھے جو قاسم کو د دیکھ کے رک چکے تھے ان میں سے ایک جو قاسم کو بہت غور غور سے گھور رہا تھا ایک دم چیخ کے قاسم سے کہا۔۔
قاسم۔۔باھ۔۔اسکے آواز میں لڑکھڑاہٹ صاف تھی ۔۔وہ قاسم کو پہچان چکا تھا جو کوئٹہ کی نام ور شخصیت تھا۔
قاسم بھائ ہمیں سچ میں نہیں پتہ تھا وہ اپکی فیملی ہے بھائ ہمیں معاف کردیں۔۔
اسکے لڑکے گڑگڑانے سے باقی سب بھی گھبراگئے مگر قاسم جسکے سامنے 10 سال پہلے کا لمحہ پھر چلنے لگا اس نے گاڑی میں سے لوہے کا راڈ نکالا اور اندھا دھند ان لڑکوں کو مارنا شروع کردیا شاید وہ ان لڑکوں کو جان سے ماردیتا اگر قاسم کے باقی گارڈز انہیں نہ بچاتے قاسم نے لوہے کا راڈ وہی پھینکا اور تیزی سے گھرکی طرف نکلا۔۔
قاسم کام سے جب گھر آیا تو اسکی ے ماما نے بتایا کے سارے جھیل پہ گئے ہیں قاسم نجانے کسی احساس کے تحت وہاں کیلیے نکلا اج صبح سے ہی قاسم کے دل میں بار بار نیلم کا خیال آرہا تھا اسکے ساتھ ہوا حادثہ بار بار اسے یاد آرہا تھا۔۔
اور اوپر سے جھیل کا سن کے قاسم اور پریشان ہوگیا کیوں کے وہاں اکثر سناٹا رہتا تھا۔۔
قاسم تیزی سے گھر میں داخل ہوا تب تک بلال بھی گھر اچکا تھا اچھا خاصا قاسم نے بلال اور پلوشہ کو ڈانٹا وہاں موجود ہر شخص قاسم کے اس عمل کے پیچھے کی وجہ جانتے تھے سوائے زرغہ کے زرغہ قاسم کے غصہ سے کافی ڈری ہوئی تھی ۔۔دادا بھی خاموش تھے انہیں قاسم کے ڈر کا اندازہ تھا۔۔
قاسم بول کے چپ ہوا اور زرغہ کا ہاتھ پکڑ کے ہال سے اپنے کمرے میں لے گیا۔۔۔
اسے اپنے سامنے بیٹھا کے اسکا ڈوپٹہ اتارا سایئڈ ڈرار سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کے زرغہ کا زخم صاف کرنے لگا زرغہ قاسم کے سامنے بیٹھتے ہی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی۔سر پہ ڈیٹول لگاتے ہی زرغہ کی سی آواز نکلی اس نے آنکھیں کھولی مگر سامنے کا منظر دیکھ کے شاکڈ ہو گئ قاسم کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے اس نے زرغہ کے زخم پہ پھونک ماری اور دیوانہ وار اسے اپنے گلے سے لگالیا۔۔
تمہیں اگر اج کچھ ہوجاتا تو میں مرجاتا زرغہ ۔۔
میں ٹھیک ہو قاسم دیکھے اپکے سامنے ہو زرغہ بھی قاسم کے اس اعتراف سے کافی شاکڈ ہونے کیساتھ ساتھ ڈر بھی گئ تھی ۔۔
قاسم زرغہ سے الگ ہوا اور کمرے سے چلا گیا۔۔
اج نسرین بیگم گھر اچکی تھی اور اتے ہی انہوں نے جو کام کیا ازان اور زمان کیلیے شاکڈ تھا مگر نسرین بیگم کے اصرار پہ وہ۔لوگ تارا کے گھر گئے تارا جس نے ازان کی طرف نگاہ بھی نہیں ڈالی اور اندر چلی گئ۔۔
نسرین بیگم نے گلنار بیگم سے اپنے رویے کی معافی مانگی اور تارا کی رخصتی کا کہا۔۔
مگر راجا کے کہنے پہ نکاح دوبارہ ہو اس لیے یہ بات طے ہوئ کے دھوم دھام سے تارا کی بارات آئے گی جس پہ۔سب راضی ہوگئے مگر ازان وہ اداس تھا ایک جھلک بھی وہ تارا کو دوبارہ دیکھ نہ پایا۔۔
بہت خوب زبردست صاحبہ زرقان نے بہت جلد امپرو کیا ہے اب اسکا آپریشن کیا جاسکتا ہے ۔۔ڈاکٹر کےکہنے پہ جہاں صاحبہ خوش تھی وہی گھر کا ہر فرد بھی زرقان کی نظریں مسلسل صاحبہ پہ تھی ایک الگ خوشی زرقان اسکے چہرے پہ دیکھ رہا تھا آصفہ اور ثمرہ دائ جان نے فورا گھر میں قرآن خوانی رکھوائ اور خرم صاحب نے ٹھیک 5 دن بعد نیویارک کی فلائٹ بک۔کروائ۔۔۔
جس دن تارا کی برات آنی تھی اسی دن صاحبہ کی فلائٹ تھی تارا دلہن بن کے غصب ڈھا رہی تھی تو ادھر راجا اپنی بہن کی خوشی میں مگن فلحال صاحبہ کے پیچھے جانے کا ارادہ ترک کرچکا تھا امامہ کو دیکھ کے راجا کافی شاکڈ ہوا تھا جو بلیک شراے میں کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
دھوم دھام سے تارا کی برات آئ اور شاندار اسکا استقبال کیا گیا۔راجا بھی سارے گلے شکوے بھلا کے ازان سے بغل گیر ہوا نسرین بیگم بھی تارا کے واری صدقے ہورہی تھی جو ازان سے ہضم کرنا کافی مشکل تھا۔۔
رخصتی پہ تارا راجا سے لگ کے خوب روئ ادھر امامہ بھی اپنی سہیلی کی۔خوشیوں کیلیے دعا گو تھی اور رو رہی تھی راجا نے اپنے بہن کو رخصت کیا ساتھ ساتھ گلنار بیگم کو بھی سنبھالا اسے ایسا لگا اج اس نے اشفاق صاحب کی جگہ لے لی گلنار بیگم نے امامہ اور اسکی امی۔کو بھی روک لیا ۔۔
ساری رسموں کے بعد تارا کو ازان کے کمرے میں پہنچایا تارا نے پورے کمرے کا جائزہ لیا اور ازان سے غصہ کے چکر میں بنا ازان کا انتظار کیے اپنی جیولری اتارنے لگی۔۔۔
جب ازان کمرے میں داخل ہوا اور تارا کو ایسے جیولری اتارتے دیکھا تو وہ فورا ڈور کے اسکا چوڑی اتارتا ہاتھ تھاما۔
ہاتھ نہیں لگائے مجھے۔۔
کیوں بیوی ہو میری ۔۔
ہاں وہی بیوی جسکو جھوٹا دلاسہ دے کر چلے گئے تھے تارا نے اپنی کمر پہ سے ازان کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا ۔۔۔
میں مجبور تھا نہ جانمن ادھر او پاس میرے ازان نے اسکا دلہن بنا سراپا دیکھ کے اپنی طرف کھینچا۔۔
جو محبت کرتے ہیں وہ مجبور نہیں ہوتے۔۔
تارا نے ازان کی باہنوں میں مچلتے ہوئے کہا۔
اچھا یہ کس کتاب میں لکھا ہے ازان نے شوخ سے لہجے میں کہتے ہوئے تارا کے لبوں کو نشانہ بنایا۔ازان کی اس پیش رفت سے تارا ایک دم بوکھلائ۔۔
وہ چھد۔۔۔ر۔۔مج۔۔۔تارا نے گھبرا کے کہا۔۔
تارا ازان کی قربت پہ۔مچلنے لگی۔۔
چھوڑنے کی بات تو اج جانے دو پتہ ہے پہلے جب میں تمہارا قریب آیا تھا نہ جب اتنا سرو نہیں تھا نہ کمرے میں گلاب کی مہک تھی نہ تمہارا ایسا سجا سراپا نہ ہی مجھے تمہارے ساتھ وہ اس سے پہلے ازان پوری بات کہتا تارا نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا اور کہا۔۔
بہت ہی بے شرم ہیں اپ میں تو اپکو بہت معصوم سمجھتی تھی۔۔
ازان نے تارا کا ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹایا اور اسکی شرٹ کندھے سے نیچے کرتے ہوئے کہا۔۔
جسکی بیوی پلس محبوبہ اسکے سامنے سجی سنوری کھڑی ہو جائز رشتے کیساتھ اس آدمی کو معصوم سمجھا دنیا کا سب بڑا پاگل پن ہے جانمن۔۔
ازان میں ناراض ہو اپ سے ۔۔
تارا نے ایک اور بے مقصد سا جواز دیا۔۔
اچھا دیکھاو زرا کیسی ناراض ہو۔۔
یہ بول۔کے ازان تارا کے لبوں پہ۔جھک گیا۔۔
جاری ہے
