Raastay By Mariyam Khan Readelle50214 Episode 41 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 41 Part 1
قاسم نے ایک نگاہ زرغہ پہ ڈالی اور گھر سے باہر چلا گیا۔۔
وہ تو رات میں پانی پینے کے غرض سے کچن میں آئ تھی جب واپسی میں دادو کے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھی وہ پھر بھی اگنور کرکے جانے لگی مگر قاسم کی آواز سن کے ٹھٹکی مگر رکی جب جب اسکی منہ سے کسی لڑکی کا نام سنا۔1۔
زرغہ نے ایک نظر دادو کے ادھ کھلے دروازے کا دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے ہلکا سا ناکک کیا اندر انے کا اشارہ ملتے ہی وہ ڈرتی ڈرتی اندر گئ دادو جو اپنا عینک لگائے اپنے کمرے کے محلق ایک چھوٹی سے لائیبریری سے کوئ کتاب تلاش کررہے تھے جب اندر انے والے کو دیکھا مگر زرغہ کو دیکھ وہ چونکے کیونکہ وہ ان سے ہمیشہ کتراتی تھی
او اج میرے کمرے میں سب خیریت بہو بیٹا؟؟؟
وہ دادو اپ نے برا تو نہیں منایا میں ایسے اپکے کمرے میں۔؟؟
نہیں مجھے کیوں برا لگے گا جیسی پلوشہ ہے میرے لیے ویسے ہی تم ہو۔۔
اپ سے کچھ پوچھنا تھا دادو؟؟
ہاں پوچھو۔۔
زالفقار صاحب نے زرغہ کو غور سے دیکھا اپنی ہاتھوں سے کھیلتی گھبرائ سی واقعی انہیں وہ معصوم لگی۔۔
وہ دادو میں نے اپکی اور قاسم کی باتیں سن لی ابھی وہ کسی نیلم کا نام لے رہے تھے مجھے پوری بات سمجھ نہیں ائ۔۔
اوہ
نیلم قاسم کی پہلی بیوی ہے ۔۔
دادو کے انکشاف پہ زرغہ نے حیران نظروں سے دادو کو دیکھا دادو اسکی حیرانی سمجھ چکے تھے قاسم انہیں بتا چکا تھا کے زرغہ نیلم کی حقیقت سے لاعلم ہے۔۔
تو وہ کہاں ہے دادو قاسم نے پھر میرے۔۔۔
اگے کی بات زرغہ بولتے بولتے رکی دادو نے اسکی بات کو اگے دوہراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیونکہ نیلم مرچکی ہے زرغہ جس رات راجا تمہیں اسلام آباد چھوڑ کے گیا جس طرح تم نے اپنے اپ کو مارنے کی کوشش کی شاید وہی لمحہ تھا قاسم کا سیدھے راستہ پہ چلنے کا۔۔
زرغہ کی نگاہیں شرم سے جھک گئ یہ جان کے دادو اسکی اور راجا کی حقیقت جانتے ہیں ۔۔
نیلم کیسے مری تھی دادو ۔۔۔
زرغہ کے پوچھنے پہ ذوالفقار صاحب نے ایک لمبی سانس لی اور نیلم کے بارے میں اسکی موت کا حادثہ سب اسے بتادیا۔۔
شور شرابے سے جہاں ازان نیند سے جاگا وہی اسکے سینے سے لگی تارا بھی جاگی دیھان لگا کے معلوم ہوا کے عیشا نیچے شور مچارہی تھی۔۔
ازان نے تارا کو کمرے میں رکنے کو کہا اور خود نیچے گیا تو وہاں نسرین بیگم پہلے سے موجود تھی۔
اپ نے اچھا نہیں کیا خالہ قدر نہیں کی اپنے میری محبت کی اپ کیا سمجھتی ہیں میں اس تارا کو برداشت کرونگی بھول ہے اپکی ۔۔
فیصلہ کرلو تم نسرین خالدہ بیگم بھی بول پڑی۔۔
تمہیں اپنی بہن ذیادہ عزیز ہے یہ پھر وہ کل آئ لڑکی۔
خالدہ بیگم کی اس بات پہ اذان اور زمان صاحب دونوں نے بیک وقت نسرین بیگم کو دیکھا جواپنے سینے پہ ہاتھ بندھے ان دونوں ماں بیٹیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
تارا اس گھر کی بہو ہے اور رہے گی اپ کو اگر کوئ ایشو ہے اس سے تو ٹھیک ہے اپ بھی یہ ہی چاہتی ہیں اپی اور اب میں بھی ہمارا ہر تعلق یہاں ختم۔۔
نسرین بیگم بول کے چپ ہوئ زمان صاحب اور ازان تو نسرین بیگم کی اس باتوں میں ابھی تک حیرت کے غوطوں میں تھے ۔۔
اپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی خالہ میں اپ کو چھو۔۔۔۔
اس سے پہلے عیشا اپنی بات پوری کرتی نسرین بیگم کا زناٹے دار تھپڑ عیشا کی بولتی بند کرگیا۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئ نسرین میری بیٹی پہ ہاتھ اٹھانے کی اج تک میں نے اس کو ایک انگلی تک نہیں لگائ۔۔۔
انگلی نہیں لگائ اسے اسی بات کا تو نتیجہ ہے کے یہ کسی کا ناجائز بچہ اپنی کوکھ میں لیے گھوم رہی ہے۔۔
نسرین بیگم کی بات پہ عیشا اور اسکی ماں کی پیروں کے نیچے کی ذمین کھسک گئ۔۔
اسے کوئ ازان سے محبت نہیں یہ تو اپنے یار اس ثاقب کے کہنے پہ کررہی تھی تو ابھی جیل میں سڑرہا ہے تاکے اسکے بچے کو ازان کا نام مل جائے
اگر چاہتی ہو اتنے نوکروں کے سامنے تمہاری عزت کا مزید تماشہ نہ بنے عیشا تو دفعہ ہوجاو اپنی ماں کو لے کر یہاں سے ورنہ انجام کی ذمیدار تم۔خود ہوگی کیا سمجھا تھا تم نے میں ساری زندگی اس دھوکے میں رہونگی مجھے تو تم پہلے بھی اپنے بیٹے کیلیے تم پسند نہیں تھی اگر میں مجبور تھی تو صرف اس لیے کے تم میرے بیٹے سے محبت کرتی ہو اور اپ اپا اپکو شرم نہیں آئ اپنی سگی بہن کیساتھ ایسا کرتے ہوئے کسی کا گناہ اپ اپنے بھانجے کے سر پہ ڈال رہی تھی ۔۔
بروقت میرے اللہ نے مجھے صحیح راستہ دیکھایا آپا ورنہ ساری زندگی میں اپنے بیٹے اور شوہر کی نظروں میں مجرم بنی رہتی برائے مہر بانی چلی جائے اپ ۔۔
نسرین بیگم کے الفاظ تھے یہ خنجر دونوں ماں بیٹیوں نے اسکےبعد کوئ بات نہیں کی جیسی وہ جانے لگی نسرین بیگم نے کہا۔۔
ایک منٹ عیشا۔۔
ازان ادھر آو نسرین بیگم کے کہنے پہ اذان ان تک آیا نسرین بیگم نے ایک نظر آزان کو دیکھا اور پھر عیشا کو اور کہا۔
ابھی کے ابھی ازان تم عیشا کو طلاق دو۔۔
ازان جو پہلے ہی ساری باتوں سے طیش میں تھا نسرین بیگم کے ایک بار کے ہی کہنے پہ عیشا کو طلاق دے دی۔۔
۔
تمہارا حق مہر کل تم تک پہنچ جائے گا۔۔
عیشا اور اسکی ماں کے جاتی ہی نسرین بیگم نے سکھ کا سانس لیا تبھی ازان نسرین بیگم کے گلے لگا گیا اہک دیوار تھی دونوں ماں بیٹوں کے درمیان جو گر گئ تھی زمان صاحب نے بھی اپنی شریک حیات کو اپنے گلے سے لگایا ۔۔
ازان خوشی خوشی اپنے کمرے میں گیا اور پریشان سی تارا کا نیچے کا سارا ڈرامہ سنایا جیسے سن کے وہ بھی حیرت میں مبتلا تھی۔۔
ایک ایک موومنٹ پہ اسکی نظر رکھنا پرسوں میں پہنچ جاونگا نیویارک ۔۔
ہاں صاحبہ نام ہے میں نے پک بھیجی ہے تمہیں اسکی ۔۔
راجا اور بھی نجانے کیاکیا باتیں کررہا تھا مگر اسکے کمرے کے باہر کھڑی امامہ اچانک کمرے میں داخل ہوئ اور کہا۔۔
اگر اپکا ٹاک شو ہوگیا ہو تو نیچے میں ویٹ کررہی ہو۔۔
راجا جو اپنی باتوں میں مگن تھا امامہ کے اچانک کمرے میں انے پہ۔اسے غصہ تو بہت آیا مگر وہ ضبط کرگیا ۔۔
تارا کے گھر وہ۔لوگ ناشتہ لے کر پہنچے تو نسرین بیگم نے انکا اچھے سے استقبال کیا تارا کو خوش دیکھ کر راجا کافی پرسکون ہوا۔۔
امامہ کا اترا چہرہ دیکھ کے تارا سمجھ چکی تھی مگر سب کے سامنے وہ۔خاموش رہی تارا ناشتہ کرکے امامہ کو اپنے کمرے میں لے آئ۔۔
کیا بات ہے امامہ کوئ پریشانی ہے مجھے بتہ تجھے میری قسم۔۔
تارا کا پوچھنا کے امامہ کی آنکھیں بھیگنے لگی اس نے کمرے میں سنی راجا کی ساری باتیں امامہ کو بتادی۔۔
تو صبر رکھ امامہ ایک دن بھائ سمجھ جائینگے تیری محبت کو۔۔
تمہارا بھائ جانتا ہے محبت کو میری صاف بولا ہے انہوں نے کے اپنا راستہ بدل لو۔۔
زبردستی نہیں چاہیے اب تارا میں نے اپنا معملہ اللہ پہ چھوڑا جو میرے حق میں بہتر ہو اللہ وہی کرے اور جو راجا کے حق میں بہتر ہو اللہ وہی کرے ۔۔وہ۔جارہے ہیں نیویارک دعا ہے میری مل جائے انہیں صاحبہ میرا کیا ہے تارا میں اپنی زندگی میں مگن ہو بس مشکل۔ہے راجا کو دل سے نکالنا ان سے محبت کرنا چھوڑنا۔یہ بول کے امامہ طنزیہ مسکرائ اور کہا۔۔
ویسے بھی ہماری رائیٹر مریم عمران کہتی ہیں۔۔
“جانے والے کو راستہ دو واسطہ نہیں۔”
تارا امامہ کے سامنے ائ اور اپنے سینے سے لگا کے کہا۔۔
سچی محبت کرنے والوں کا ساتھ اللہ بھی دیتا ہے امامہ ۔۔
ہممم ۔۔۔۔
دروازے کی ناکک پہ وہ دونوں ایک دم چونکی
دراوزہ کھلتے ہی راجا اندر آیا اور کہا۔۔
اگر ٹاک شو ہوگیا ہو تمہارا تو چلے۔راجا کے کہنے پہ امامہ نے گھور کے راجا کو دیکھا تارا سے ملی اور نیچے چلی گی
تارا راجا کے گلے لگی اور کہا۔۔
قدر کرلو بھائ سچی محبت قسمت والوں کو ملتی ہے۔۔۔
تم اپنا سسرال سنبھالو اور اپنے ڈرپوک شوہر کو ۔۔
چلتا ہو میں۔۔۔
جاری ہے
